کتب بینی کا چسکہ - قاضی عبدالرحمن

میرے کمرے کو سجانے کی تمنا ہے تمھیں
میرے کمرے میں کتابوں کے سوا کچھ بھی نہیں
(جون ایلیا)

تم کیا جانو کتابوں میں ڈوبنا کیا ہوتا ہے. کتاب کے کرداروں کے ساتھ ملک ملک سیاح بن کر سفر کرنے میں کس قدر لطف آتا ہے. داستان کے مہم جو کے ساتھ بحر و بر اور جنگل و صحرا کی الجھنوں سے مردانہ وار نمٹتے ہوئے منزل کی سمت رواں دواں شخص، کیف و مستی کے کس مقام پر ہوتا ہے.

یہ کتاب کبھی الف لیلی بن کر ہارون الرشید کے سنہری دور میں لے جاتی ہے تو کبھی فسانہ آزاد کی شکل میں میاں آزاد کے ساتھ قدامت و جدت کی کشمکش کرتے اور لرزتے ہندوستان کی آوارہ گردی کرواتی ہے. کبھی ابن طفیل کے ”حی بن یقظان“ کی شکل میں گھنے جنگلات کی فضا میں اندلسی فلسفہ سے آشنا کرواتی ہے تو کبھی دور وسطی کے ایران سے ملاقات کروانے کے لیے شاہنامہ میں فردوسی کے ساتھ تاریخ سیاست و شجاعت کے سفر پر روانہ کرتی ہے. کبھی قاری کو راجا وکرمادتیہ کے ساتھ اندھیری رات میں شمشان گھاٹ میں لے جاکر خوفناک ”بیتال“ سے پچیس سبق آموز کہانیوں سے متعارف کرواتی ہے تو کبھی راجا بھوج کے پرہیبت دربار میں سنگھاسن کی زبان سے بتیس کہانیاں بیان کرتے ہوئے حکومت کے نظم و نسق سے آگاہ کرتی ہے. کبھی ”Moby-Dick“ کے اشمائیل کی معیت میں سمندر کی لہروں اور بحری بلا سے نمٹتے ہوئے بحری سفر کے مدوجزر سے روشناس کرواتی ہے تو کبھی ”King Solomon's Mines“ کے کیپٹن گڈ اور سر ہنری کے ہمراہ خزانہ کے تلاش میں ریگستان کے خطرات اور مہم جوئی سے پر سفر پر آمادہ کرتی ہے-

کتاب پڑھتے ہوئے وادی تخیل میں جو مناظر تخلیق ہوتے ہیں اسے کتاب پر مبنی فلم دیکھنے والے کیا جانے. یہ اسکرین پر نظارہ کرنے والے دماغ میں متحرک نظاروں سے ناآشنا ہوتے ہیں. یہ سمجھ بیٹھے ہیں روشنی،خیالات سے زیادہ تیز رفتاری سے سفر کرتی ہے! کتاب کے ہر صفحہ میں ایک سحر ہوتا ہے جو قاری کو اپنا معمول بنالیتا ہے. ہر لفظ میں طاقت ہوتی ہے جو زندگی بدل سکتی ہے. تجسس کو مہمیز دیتی ہے. حس مزاح کو فزوں کرتی ہیں. غمگین لمحات میں اپنے اوراق کے دامن میں پناہ دیتی ہے.

یہ باتیں میں آپ سے اس لیے کررہا ہوں کہ کتب بینی میرا صرف مشغلہ ہی نہیں بلکہ دیوانگی کی حد کو چھوتا شوق ہے. بقول نیل گیمن (Neil Gaiman )،
”I lived in books more than I lived anywhere else.“
(میں اتنا کہیں نہیں رہا ہوں جتنا کتابوں میں رہا ہوں)

Comments

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن

قاضی عبدالرحمن حیدرآباد دکن کے انجینئرنگ کالج میں اسسٹنٹ پروفیسر ہیں، الیکٹرانکس اینڈ کمیونیکیشن میں ماسٹر کیا ہے۔ کتب بینی اور مضمون نگاری مشغلہ ہے۔ دلیل کے اولین لکھاریوں میں سے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.