بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی - اسری غوری

ایک دو تین چار، دس، پندرہ، بیس، تیس، پچاس، سو۔!
نہیں آپ ہرگز یہ نہ سمجھیں کہ میں نے ابھی نئی نئی گنتی سیکھی ہے اور آپ کو سنانے لگی ہوں، نہیں۔
یہ تو وہ گنتی ہے جو آج مجھ سمیت اس قوم کے ہر فرد کو گنوائی جا رہی ہے۔ یہ گنتی میں نے کب گنی؟

گاڑیوں اور بسوں کی ایک لمبی نہ ختم ہونے والی قطار، مگر وہاں دور تک کوئی جلسہ جلوس یا کوئی شادی کی تقریب کچھ بھی تو نہ تھا. اسی معمہ کو حل کرنے کی فکر میں تھی کہ گاڑی کچھ اور آگے کو بڑھی، تب یہ راز کھلا کہ یہ تو ایک سی این جی پیٹرول پمپ ہے جس پر گاڑیوں اور بسوں کی الگ الگ لائن لگی ہوئی ہے. میری نظر سب سے آخری گاڑی کے اندر بیٹھے ہوئے شخص کے چہرے پر پڑی، اپنے آگے 34 گاڑیوں کو دیکھ کر اس کے چہرے سے ٹپکتی بےبسی اور جھنجھلاہٹ کوئی بھی بآسانی دیکھ سکتا تھا، مگر دیکھتا کون؟ کہ وہاں تو ہر ایک کا یہی حال تھا۔ میں سوچنے لگی اس کی باری کم ازکم تین گھنٹے سے پہلے تو نہیں آئے گی۔

میں یہ سوچنے لگی کہ یہ لوگ جو یہاں اتنی لمبی لمبی لائنوں میں لگے ہیں، صرف ایک سی این جی کے لیے جو عام روٹین میں شاید پانچ سے دس منٹ کا بھی کام نہیں، مگر اہم اتنا کہ اس کے بغیر آپ ایک قدم بھی گاڑی آگے نہیں بڑھا سکتے. جب یہ یہاں سے فارغ ہو کر لوٹیں گے تو کیا یہ اس قابل ہوں گے کہ اس بات پر کوئی دھیان دے سکیں کہ ملک میں آج مزید کس کس چیز پر پابندی لگا دی گئی ہے، بجلی کے نرخوں میں مزید کتنا اضافہ ہوچکا ہے ،اور یہ کہ آج پڑوس میں کس کو ٹارگٹ کلنگ میں مار دیا گیا، یا آج کہاں کہاں بم دھماکہ ہوا؟

اپنے ان گھنٹوں کے ضائع ہوجانے، اپنے نجانے کتنے ہی اہم کاموں کا حرج ہوجانے، آفس میں باس کی ڈانٹ کھانے کے بعد کیا ان کے اعصاب اس قابل ہوں گے کہ وہ خود پر ہی ہونے والی ان زیادتیوں پر کوئی احتجاج کر سکیں، کوئی آواز اٹھا سکیں؟
ہرگز نہیں! وہ تو اپنی زندگی کی ان مصیبتوں سے ہی نہیں نکل پائیں گے جو ”باقاعدہ پلاننگ کے ساتھ ان پر مسلط کر دی گئی ہیں“ تاکہ وہ اس کے آگے کچھ سوچ ہی نہ پائیں کہ انھوں نے کل پھر اسی طرح کسی سی این جی پمپ کی لائن میں لگنا ہے، اور اس سے اگلے دن سی این جی کی چھٹی کی وجہ سے بچوں کی اسکول کی وین نہیں آئے گی، اس لیے ان کو بھی اسکول چھوڑنے اور لانے کی ڈیوٹی نبھانی ہے۔ ویسے تو چھٹی کس کو بری لگتی ہے مگر مجھے آج تک اس چھٹی کی سمجھ نہیں آئی۔ سمجھ تو اور بھی بہت سی باتوں کی نہیں آئی مگر بہرحال جو بھی ہے، مجھے اس قوم کو ایک بعد ایک مسئلہ میں الجھائے رکھنے والوں کو ان کی ذہانت کی داد دینے پڑتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   خاتون کو برہنہ کرکے تھانے میں بہیمانہ تشدد - رانااعجازحسین چوہان

ایک واقعہ یاد آرہا ہے جو میں نے شاید کہیں پڑھا تھا کہ ایک صاحب نے اپنے دوست سے اپنے چھوٹے بیٹے کی شرارتوں کی شکایت کی، وہ کسی لمحہ چین سے نہیں بیٹھتا تھا، کوئی نہ کوئی نئی حرکت پورے گھر کو ہلائے رکھتی تھی، دوست مسکرائے اور کہا کہ اسے کچھ اس طرح مصروف رکھیں کہ اسے ان شرارتوں کے لیے وقت ہی نہ مل سکے، اتنا کہہ کر انہوں نے خود ہی مشورہ بھی دے دیا کہ آپ کل سے اسے اپنے بڑے بھائی کی پینٹ پہنا دیں آپ کا مسئلہ حل، صاحب بڑے حیران، خیر دوسرے دن انھوں نے یہی کیا اور وہ مزید حیران ہوئے اس وقت کہ واقعی بچے کی سب شرارتیں ختم تھیں۔

اس قوم کے ساتھ بھی آج کل صاحب اقتدار ایسا ہی کچھ کر رہے ہیں۔ آپ کہیں گے کہ اب اتنے مصائب کی چکی میں پسی ہوئی قوم جس کو کوئی راہ نہیں سجھائی دے رہی، وہ ان سے نکلے کیسے؟ تو واقعی آپ کا سوال بجا ہے کہ حالات چاہےکتنے بھی خراب کیوں نہ ہوں، ان سے نکلنے کا کوئی نہ کوئی طریقہ تو لازمی ہونا ہی چاہیے مگر یہاں سب سے اہم بات یہ کہ کیا ہم اب بھی اپنے ساتھ اتنا کچھ ہوجانے کے بعد بھی اس غفلت کی نیند سے جاگنے کے لیے تیار ہیں یا نہیں، جس میں پڑے ہونے کی وجہ سے ہی آج یہ نوبت آ ئی. مانا کہ یہ سب حقیقت میں اتنا آسان بھی نہیں مگر آپ یقنا یہ بھی جانتے ہوں گے کہ سوئی ہوئی قومیں جب ایک بڑی نیند لے کر بیدار ہوتی ہیں، تو انھیں اس کا کفارہ بھی بڑا ہی ادا کرنا پڑتا ہے، اور صورتحال آر یا پار کی سی ہوتی ہے جیسے ریسلنگ کے دوران رنگ میں زمین پر پڑا وہ ریسلر جو اپنے مخالف کے مکمل قابو میں ہونے کے باوجود آخری لمحات میں خود کو مخالف کے بازوؤں سے نکانے کی لیے اپنی پوری قوت جمع کر کے آخری زور ضرور لگاتا ہے اور اکثر کامیاب بھی رہتا ہے، کیونکہ وہ جانتا ہے کہ یہ آخری چانس ہے، اس کے بعد اسے یہ موقع کم از کم اس میچ میں تو نہیں مل سکے گا۔ تو بس یہ سمجھ لیں کہ اس قوم کے پاس بھی خود کو ان خونخوار پنجوں سے نکانے کا وقت آیا ہی جاتا ہے، جنھوں نے اس پر زندگی اور موت دونوں ہی تنگ کر دی، اب دیکھنا یہ ہے کہ کیا اب بھی یہ اپنی تقدیر بدلنے کے اپنا آخری زور لگانے کے لیے تیار ہے یا نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   کس نے آپ کی زندگی بدل ڈالی؟ محمد عامر خاکوانی

بانسری کا کوئی نغمہ نہ سہی، چیخ سہی
ہر سکوتِ شبِ غم کوئی صدا مانگے ہے

اگر آپ کا جواب ہاں میں ہے تو پیشگی مبارکباد قبول کیجیے!
کہ چلو دیر آئے، درست آئے.

اور اگر آپ کا ابھی مزید سونے کا اردہ ہے تو بس پھر رونا دھونا چھوڑیے اور خود کو کل آٹے دال اور پانی کی قطاروں کے لیے خود کو تیار کیجیے کیونکہ بخدا کہ جو قومیں اپنا مقدر خود بدلنے کی اہلیت نہیں رکھتیں، بس پھر وہ اسی طرح کبھی سی این جی کی چھٹی، اور موبائل سروس بند ہونے کی، تو کبھی موٹرسائیکل کی سنگل سواری پر بھی پابندی جیسی خبریں ہی سنا اور سہا کرتی ہیں۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.