فیروزا سائیں (2) - ریحان اصغر سید

‎سورج کا مغرب کی طرف سفر جاری تھا۔ اور میں اس حالت میں بغیر سیمنٹ کے اینٹوں کی بنی کوٹھڑی کے دروازے پر کھڑا تھا کہ میرے دائیں ہاتھ میں ایک بکرے کی رسی تھی، اور میرے سامنے کچھ خطرناک لوگ حالت غضب میں کھڑے تھے کیونکہ میں نے ان کی چوری پکڑ لی تھی۔
”بکرے کی رسی چھوڑ دے اور اپنے ہاتھ سر پر رکھ لے.“
‎نوجوان چوہدری وقاص نے ‎موزر لہرایا۔
‎وہ دھوتی بنیان میں ملبوس تھا۔ میں چپ چاپ کھڑا چوہدری وقاص کی آنکھوں میں دیکھتا رہا۔ میری خاموشی چوہدری وقاص کے اشتعال میں اضافہ کر رہی تھی۔ اس نے جھارے کو گالی دے کر ڈیرے کا لوہے کا مین گیٹ بند کرنے کا کہا، اور مجھے عبرتناک انجام کی دھمکیاں دیں۔ لیکن ابھی تک کسی نے میرے قریب آ کے مجھ پر حملہ کرنے کی جرات نہیں کی تھی۔ اسی لمحے ڈیرے کے باہر کسی گاڑی کے انجن کی آواز سنائی دی۔گیٹ بند کرتے جھارے نے گیٹ کو پھرتی سے دوبارہ کھول دیا۔ اس کے ساتھ ہی ڈیرے میں چوہدری جاوید کی پرانی مٹسوبشی جیپ داخل ہوتی نظر آئی۔ اس کے پیچھے ایک نئی ٹیوٹا کرولا تھی۔ گاڑیوں کو دیکھ کر وقاص کے ماتھے پر بل پڑ گئے۔ اس نے پھرتی سے موزر اپنی دھوتی کے ڈھب میں اڑسا، اور جیپ کی طرف تھوڑا سا بڑھا۔ چوہدری جاوید کے ساتھ دو تین اور لوگ بھی تھے جو اپنے حلیے سے سیاست دان ہی نظر آتے تھے۔ سب نے یکساں حیرت سے اس منظرنامے کو دیکھا۔
‎”او وقاصے! کیا بات ہے؟ یہ کشمیریوں کا لڑکا فیروزا ہے نا؟“
‎چوہدری جاوید اپنا دھوپ کا چشمہ اتارتے ہوئے ہماری جانب بڑھا۔ اس نے سفید لٹھے کا کلف لگا سوٹ پہن رکھا تھا۔
‎”ابا یہ ڈنگر کھولنے آیا تھا، جھارے نے دیکھ لیا تو اسے مارنے لگا، وہ تو شکر ہے ہم وقت پر آ گئے ورنہ یہ تو بھاگ جاتا۔
‎وقاص نے آگے بڑھ کے اپنے باپ سے دونوں ہاتھوں سے سلام لیتے ہوئے کہا۔
‎چوہدری صاحب آپ ٹینشن نہ لیں، اپنے مہمانوں کے ساتھ بیٹھیں اور اسے ہمارے حوالے کریں، پنج منٹ میں آگے پیچھے کے چوری کیے ہوئے سارے ڈنگر مانےگا یہ!
‎شوکے نے بھی چوہدری صاحب کے گھٹنوں کو ہاتھ لگانے کے بعد رکوع کے بل جھکتے ہوئے چوہدری جاوید کے ہاتھ کی بڑھائی ہوئی چند انگلیوں کو بمشکل چھوتے ہوئے چاپلوسی سے ‎کہا۔
‎چل اوئے ووڈا آیا ڈنگر منوانے۔ تجھے ہی تھانےدار کے حوالے نہ کر دوں؟ ‎سارے پنڈ میں امن ہو جائے گا ۔ چل مہمانوں کو بیٹھا اور انکو چاٴ لسی کا پوچھ۔
‎چوہدری جاوید نے شوکے کو بازو سے پکڑ کر اسکی گردن پر چپت لگاتے ہوئے اسے کچھ دور کھڑے مہمانوں کی طرف دھکیلا۔

کی گل اے پتر؟خیر نال آئے او نا؟ یہ بکرا کس کا ہے؟
‎چوہدری اب مجھ سے مخاطب تھا۔
‎میں نےاشارے سے سمجھانے کی کوشش کی کہ وقاص اور شوکا یہ بکرا موٹر سائیکل پر اُٹھا لائے تھے، اور میں یہ واپس لینے آیا ہوں۔
‎چوہدری کچھ دیر میرے اشارے سمجھنے کی کوشش کرتا رہا، پھر بیزار ہو کے بولا،
‎پتہ نہیں یار تو کیا کہہ رہا ہے۔ او سائیں جی کوئی مسئلہ تھا تو مجھے بتاتے، ابھی میں نہ آتا تو یہ لڑکے بالے تمھاری ہڈی پسلی توڑ دیتے۔ یہ بکرا تمھارا ہے؟
‎میں نے اثبات میں سر ہلایا۔
‎تو چل پھٹ یہاں سے میرا مُنہ کیا دیکھ رہا ہے۔ آئندہ ادھر کا منہ نہ کرنا۔
‎چوہدری نے منہ بناتے ہوئے کہا۔ اس کے بعد اس نے دیگر لڑکوں کو بھی گالیاں دیں اور وہاں سے دفع ہونے کا حکم جاری کیا۔ میں نے چپ چاپ بکرے کو گود میں اُٹھایا اور اپنے موٹر سائیکل کی طرف بڑھا۔ بکرے کو میں نے ٹنکی پر رکھا اور موٹر سائیکل سٹارٹ کی۔ چوہدری جاوید سگریٹ کے کش لگاتے ہوئے تیزی سے میری طرف آ رہا تھا۔ میرے پاس آ کے اس نے اپنی جیب سے پانچ سو کا نوٹ نکال کر میری جیب میں ٹھونسا۔
یہ رکھ لو۔ یہ تمھارے چاٴ سگریٹ کے پیسے ہیں۔ گھر والوں سے کہنا بکرا بیلے کی طرف بھاگ گیا تھا۔ میں وہاں سے پکڑ کے لایا ہوں۔
‎اس دفعہ میں نے اثبات میں سر ہلانے سے گریز کیا اور کچھ دور کھڑے چوہدری وقاص کو دیکھا جو مجھے ہی گھور رہا تھا۔ اس کی آنکھوں میں بدلے اور نفرت کی آگ روشن تھی۔

‎حسب توقع شبو نے اپنے بکرے کے فراق میں رو رو کے آنکھیں سرخ کر رکھی تھیں اور ابھی تک کھانا نہیں کھایا تھا۔ بکرے اور شبو کا ملن دیکھ کر دوبارہ میرے دل میں بکرا بن جانے کی حسرت جاگی۔ شبو مجھے ایسی نظروں سے دیکھ رہی تھی جیسے میں سکندراعظم ہوں، اور ابھی ساری دنیا فتح کر کے لوٹا ہوں۔ شبو کا باپ چچا حاکم جو مسکرانے کے معاملے میں کنجوس واقع ہوا تھا، وہ بھی کافی خوش نظر آ رہا تھا، اس نے مجھ سے پوچھا کہ میں نے بکرے کو کہاں سے ڈھونڈا ہے۔ میں نے ہاتھ کے اشاروں کی مدد سے چوہدری جاوید کا سکھایا ہوا جواب دے کر اسے مطمئن کر دیا۔

‎گھر واپس آ کے میں اس دن جلدی سوگیا کیونکہ مجھے صبح سویرے کہیں جانا تھا۔ کہاں جانا تھا، واپسی کب ہوگی؟ ‎یہ ابھی مجھے بھی نہیں پتہ تھا۔ ماں کو سمجھانا ناممکن تھا، وہ مجھے کبھی بھی اکیلے جانے کی اجازت نہ دیتیں۔
‎اگلی صبح میں بیدار ہوا تو ابھی فجر کی اذانیں ہو رہی تھی۔ میں نے جلدی سے منہ ہاتھ دھویا۔ الماری میں جمع کیے ہوئے اپنے پیسے نکال کر جیب میں ڈالے، اور ماں کے لیے ایک پرچہ لکھ کر سرہانے کے نیچے رکھ دیا کہ پریشان نہ ہونا، میں جلد ہی واپس آ جاؤں گا۔
‎ماں اور ابا صحن میں چارپائیاں بچھائے سو رہے تھے۔ میں دبے قدموں ان کے پاس سے گزرا۔ صحن کی سانجھی دیوار کی دوسری طرف شبو اور اس کے گھر والے بھی چادریں اوڑھے صحن میں سو رہے تھے۔ میں جان بوجھ کر شبُو کو بتا کے نہیں جا رہا تھا ورنہ وہ مجھے کبھی جانے نہ دیتی۔
‎جب ماں اسے میری چھوڑی ہوئی پرچی دکھائے گی تو شبو کی پریشانی ضرور کم ہو جائے گی۔ ‎میں نے گلی میں نکلتے ہوئے دل کو تسلی دی۔
شہر تک کا تین کلومیٹر فاصلہ میں نے جاگنگ کرتے ہوئے پورا کیا۔ بس سٹینڈ پر جا کر پتہ چلا کہ مجھے اندرون سندھ کے ایک گاؤں میں جانا ہے۔ میں ملتان جانے والی بس میں بیٹھ گیا۔ وہاں سے مجھے سکھر کی گاڑی مل جاتی۔ میں سکھر پہنچا تو شام گہری ہو چکی تھی۔ وہاں سے ایک لوکل گاڑی نے مجھے ایک قصبے میں پہنچایا۔ میں گاڑی سے اتر کر ایک جانب چل پڑا۔ میں یہاں پہلی دفعہ آیا تھا لیکن مجھے ایسے لگ رہا تھا میں یہی پلا بڑھا ہوں۔ ایک جگہ پر چند رکشے والے کھڑے تھے۔
‎میں نے ایک پرچی پر لکھا۔
‎مجھے شیکی گاؤں جانا ہے!
‎میں نے وہ پرچی ایک قدرے معقول نظر آنے والے رکشہ ڈرائیور کو دکھائی۔ اس نے پڑی میں سے نسوار نکال کے ہونٹوں میں دباتے ہوئے کہا۔
‎بیٹھو سائیں۔

یہ بھی پڑھیں:   روشنی کا سفر- ام محمد عبداللہ - قسط نمبر 6

‎رکشہ کچھ دیر شہر میں دوڑتا رہا، پھر دیہاتی علاقہ شروع ہوگیا، یہاں سڑک مفقود تھی، اگر کہیں تھی بھی انتہائی ٹوٹی پھوٹی۔ آخر ایک مٹی کے بنے ہوئے گھروں والے گاؤں میں جا کر رکشہ رک گیا۔ میں نے اسے کرایہ دے کر واپس بھیج دیا۔ پورا گاؤں تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا، میں بغیر بتائے ہی جانتا تھا کہ یہاں بجلی نہیں ہے۔ میں چپ چاپ تنگ و تاریک گلیوں میں چل رہا تھا۔ یہ گاؤں بہت قدیم تھا۔ تقسیم سے پہلے یہاں مکمل آبادی ہندوؤں کی تھی، اب بھی ان کی کثیر تعداد یہاں آباد تھی۔ میری منزل گاؤں کے ایک کنارے پر موجود شمشان گھاٹ کے قریب ایک تنگ و تاریک کوٹھڑی نما مکان تھا۔ میرا اندازہ تھا کہ رات کے گیارہ بج چکے ہیں۔ ہر طرف ویرانی اور ہو کا عالم تھا۔ بس کبھی کبھار گیدڑوں یا کتوں کے بھونکنے کی آواز خاموشی کا پردہ چاک کر دیتی۔ میں شمشان گھاٹ کے درمیان سے گزرتا ہوا اپنے مطلوبہ مکان تک پہنچا۔ مکان کچا اور انتہائی بوسیدہ تھا۔ لکڑی کے خستہ حال دروازے پر لگی کنڈی کھٹکھٹائی۔ اندر سے کسے بوڑھے کے کھانسنے کی آواز سنائی دی۔ پھر لاٹھی ٹیکتا دروازے تک آیا اور دروازہ کھول دیا۔ دروازہ کھولنے والا ایک ستر سالہ بوڑھا شخص تھا، جس کے داڑھی اور سر کے بال برف کی طرح سفید تھے۔ دلچسپ بات تھی کہ وہ بھی میری طرح بے زبان تھا یا یوں کہنا چاہیے کہ میں بھی اس کی طرح بے زبان کر دیا گیا تھا۔ ‎وہ مجھے اندر لے آیا۔ سارے گھر میں ایک ناگوار بو کا راج تھا، بوڑھا شخص بیمار اور اکیلا تھا۔ اس نے مجھ سے اشارے سے کھانے کا پوچھا۔ میں نے انکار میں سر ہلا دیا۔ ‎بوڑھا شخص مجھے ایک تاریک کوٹھڑی میں لے گیا جہاں ایک ٹوٹی پھوٹی سی چارپائی میری منتظر تھی۔ چارپائی پر لیٹتے ہی میری آنکھ لگ گئی۔

میں صبح جاگا تو کمرے میں پھیلے اندھیرے سے یہی لگ رہا تھا کہ ابھی رات باقی ہے، لیکن میں جانتا تھا کہ باہر دن نکل آیا ہے۔ میں نے کمرے سے نکل کر دیکھا، بوڑھا شخص دوسرے کمرے میں ایک لکڑی کے تخت پر آنکھیں موندھے پڑا تھا۔ پہلے میں سمجھا کہ وہ مر چکا ہے لیکن میری آہٹ پا کر اس نے آنکھیں کھولیں اور بمشکل گردن موڑ کے مجھے دیکھا۔ مجھے ایک طرف بیٹھنے کا اشارہ کر کے وہ خود اُٹھ کر باہر چلا گیا۔ کچھ دیر بعد وہ لوٹا تو اس کے ہاتھ میں دو چائے کی پیالیاں اور ایک پلاسٹک کی ٹرے میں رس تھے۔ پیالی گندی اور چائے بدمزہ تھی لیکن میں چپ چاپ کھاتا رہا۔ ناشتے سے فارغ ہو کے بوڑھے شخص نے مجھے اپنے پیچھے آنے کا اشارہ کیا اور لاٹھی ٹیکتا ہوا ایک اندرونی کمرے کی طرف بڑھا۔ اس کمرے میں ایک دیوار کے اندر لکڑی کی ایک بوسیدہ سی الماری بنی ہوئی تھی جس کے پٹ کی کنڈی کے ساتھ چھوٹا سا تالہ لگایا گیا تھا۔ بوڑھے شخص نے اپنے آزار بند کے ساتھ بندھی چابی بمشکل کھولی اور اسے کانپتے ہاتھوں سے تالے میں لگایا۔ الماری کے اندر ایک لکڑی کا قدیم دکھائی دینے والا لیکن انتہائی خوبصورت نقش و نگار والا ایک چھوٹا سا صندوق پڑا تھا، اس کو بھی تالہ لگا ہوا تھا۔ بوڑھے نے لکڑی کا صندوق اُٹھا کے میز پر رکھا اور میری طرف دیکھا، پھر مجھے اپنے ساتھ چارپائی پر بیٹھنے کا اشارہ کیا۔ اپنے گھر سے نکلنے کے بعد سے اب تک میرا رویہ ایک معمول کا سا تھا جسے کسی ماہر نے ہیپناٹائز کر دیا ہو۔ ایسے مواقع پر میرے سوچنے سمجھنے کی صلاحیتیں صفر ہو جاتی تھیں اور دماغ پر ایک دھند کی تہہ سی جم جاتی تھی۔ میں چپ چاپ بوڑھے شخص کے قریب چارپائی پر بیٹھ گیا، اس نے اپنی قمیض کے نیچے پہنی میلی بنیان کی جیب میں سے ایک سنہری چابی برآمد کی اور تالہ کھول کے صندوق کا ڈھکنا اُٹھا دیا۔

یہ بھی پڑھیں:   آئینہ :معاشرے کے ایک اہم کردارکا چہرہ دکھاتی کہانی - محمد عنصر عثمانی

‎صندوق میں تین جونک نما کیڑے سے تھے۔ ان کے سر اور چہرے انسانی سر اور چہرے سے بہت مشابہ تھے۔ تینوں کیٹرے بمشکل ڈیڑھ ڈیڑھ انچ لمبے تھے۔ ان کی آنکھیں کالی اور اور چمکدار لیکن چہرے بہت کریہہ تھے۔ وہ ہونٹوں پر زبان پھیرتے بوڑھے شخص کو دیکھ رہے تھے۔ بوڑھے شخص نے اپنی کلائی سے آستین کو ہٹایا تو مجھے اس کی کلائی پر زخموں کے تازہ نشان نظر آئے۔ بوڑھے نے کلائی جونک نما کیڑوں کے آگے کی تو وہ تینوں زخمی کلائی سے چمٹ گئے، اور بے تابی سے خون پینے لگے۔ بوڑھے کے چہرے پر گہری اذیت کے تاثرات تھے۔ کیڑوں کو سیر ہونے میں بمشکل پانچ منٹ لگے۔ پیٹ بھرنے کے بعد انھوں نے کلائی سے چھلانگیں لگائی اور انسانوں کی طرح چلتے ہوئے لکڑی کے صندوق پر چڑھ گئے۔ بوڑھے نے اپنی کلائی پر چمکتے تازہ خون کے تین قطروں کو روئی سے صاف کیا اور کھوئی کھوئی نظروں سے ان کیڑوں کو دیکھنے لگا۔
”یہ سامبی کے بچے ہیں۔ ان میں سے دو نر ہیں اور ایک مادہ۔“
تم مجھے بولتے دیکھ کر حیران ہو رہے ہو نا؟
میں بول سکتا ہوں لیکن سامبی نے ساری عمر مجھے بولنے نہیں دیا۔ اب تو مجھے بھی لگتا ہے کہ میں گونگا ہوں۔
بوڑھے کی آواز میں گہری افسردگی تھی۔ میں چپ چاپ اسے دیکھتا رہا۔ اس کی باتوں نے میرے ذہن میں کوئی ہلچل پیدا نہیں کی تھی۔ کچھ دیر خاموش رہنے کے بعد بوڑھا دوبارہ گویا ہوا۔
”یہ ایک عجیب مخلوق ہے۔ یہ جسامت میں جتنے چھوٹے ہوتے ہیں، ان کے دماغ اتنے ہی شاطر اور تیز ہیں۔ ان کی عمریں بہت لمبی ہوتی ہیں۔ سامبا کسی ٹھنڈے ملک سے ہجرت کر کے یہاں آیا تھا، اس کی مادہ بھی اس کے ساتھ تھی، میں پانچ سات سال کا تھا کہ یہ کان کے راستے میرے دماغ میں گھس گئے تھے۔ ان میاں بیوی نے ساری عمر مجھ پر سواری کی اور مجھے اپنے اشاروں پر چلایا۔ ان کی حکم عدولی کی سزا اتنی دردناک ہوتی ہے کہ انسان باقی ساری عمر چپ چاپ ان کے اشاروں پر ناچتا رہتا ہے۔ یہ عشروں بعد جا کے بچے جننے کے قابل ہوتے ہیں۔ مادہ بیک وقت پانچ سے چھ بچے جنتی ہے۔ اسی صندوق میں سامبا کی مادہ نے بچے جنے۔ یہ دس سال پرانی بات ہے۔ بچے جننے کے بعد ماں خود کو بچوں کے حوالے کر دیتی ہے۔ یہ اس کا خون پی پی کے اسے مار دیتے ہیں۔ ان کی آپسی جنگ بھی جاری رہتی ہے۔ یہ تعداد میں چھ تھے۔ اب تین رہ گئے ہیں آخر میں ایک رہ جائے گا۔ مادہ کے مرنے کے بعد سامبا نے مجھے بچوں کی پرورش پر مامور کیا اور خود نئے ٹھکانے کی تلاش میں نکل گیا۔ میں تب سے ان کو اپنا خون پلا رہا ہوں۔ سامبی تمھیں اس لیے یہاں لایا ہے کہ اب میں قریب المرگ ہوں، یہ اب انھیں تمھارے خون پر لگانا چاہتا ہے۔ اس نے میری زندگی برباد کی، اب تمھاری کر رہا ہے۔ تمھارے مرنے کے بعد یہ کہیں اور ٹھکانا بنا لے گا۔ اور ان میں سے کوئی ایک بھی۔“

بوڑھے کی آواز لرز رہی تھی۔ اس نے تین کیڑوں کی طرف اشارہ کیا جو اپنے ننھے ننھے بستروں پر سو رہے تھے۔ میرے دماغ میں دھند گہری ہوتی جا رہی تھی۔ مجھے بوڑھے کی باتوں میں کوئی دلچسپی محسوس نہیں ہو رہی تھی۔ بوڑھے نے الماری اور صندوق کی چابی میرے حوالے کی اور خود اُٹھ کے اندر چلا گیا۔ کئی گھنٹے گزر گئے۔ میرے دماغ میں موجود سامبی مجھے بتا رہا تھا کہ ان بچوں کو اب مجھے ہی باپ بن کے پالنا ہے۔ مجھے ایسا لگ رہا تھا کہ یہ میرے ہی بچے ہیں۔ میں جانتا تھا کہ اب اگلے دن ہی ان کو خوراک کی ضرورت ہوگی۔ میں نے شام کو بوڑھے شخص کو جا کے دیکھا تو وہ اپنے تختے پر چت پڑا تھا۔ اس کی آنکھیں کھلی ہوئی تھیں۔ وہ مر چکا تھا۔ سامبی نے مجھے بتایا کہ وہ ہندو تھا۔ اس کی لاش کو جلانے کا بندوبست کرو۔ مجھے لگا کہ سامبی افسردہ ہے کیونکہ میں افسردہ تھا۔ میں نے اس رات لکڑیاں اکھٹی کر کے شمشان گھاٹ میں رکھیں اور بوڑھے کی لاش کو اس میں رکھ کے آگ لگا دی۔ لکڑیوں نے آگ پکڑ لی تو میں تنگ و تاریک مکان میں واپس آیا۔ مجھے فوراً یہاں سے نکلنا تھا۔ میں نے سامبی کے بچوں والے صندوق کو اٹھایا اور بوسیدہ مکان سے نکل آیا۔ میں اندھیری رات میں ویران راستوں سے گزر رہا تھا۔ سامبا کی بدولت میری بینائی اور قوت سماعت غیر معمولی ہو چکی تھی۔ میں اندھیرے میں دیکھنے کے علاوہ میلوں دور کی آوازیں بھی سن لیتا تھا۔ خطرات سے بچتا ہوا میں ساری رات چلتا رہا۔ بھوک، پیاس تھکن خوف کے سارے احساس مفقود تھے۔ صبح مجھے ایک سڑک پر بس مل گئی۔ میں گاڑیاں بدلتا گاؤں پہنچا تو شام ہو چکی تھی۔

Comments

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید

ریحان اصغر سید فکشن اور طنز و مزاح لکھنے میں خصوصی دلچسپی رکھتے ہیں۔ کم مگر اچھا اور معیاری لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.