خواجہ جی کو کون بتائے - خنیس الرحمن

اخبار پڑھنے کے لیے بیٹھے تو ہماری نظریں اچانک ایک خبر آکر رک گئیں کہ خواجہ آصف نے کہا ہے کہ حافظ سعید اور ان کی جماعت امن کے لیے خطرہ ہیں۔ دل ہی دل میں سوچنے لگا ارے خواجہ جی کو کون بتائے کہ ملک پاکستان دہشت گردی کی لپیٹ میں تھا اور پاکستان کو ہر طرف سے بم دھماکوں نے گھیرا ہوا تو پاک فوج نے دہشت گردوں کیخلاف آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا تو دینی جماعتوں میں سب سے پہلے حافظ محمد سعید نے اس آپریشن کی حمایت کی اور اپنے کارکنان کو ان کی اصلیت بتائی اور احادیث قدسیہ کی روشنی میں ان دہشت گردوں کے حوالے سے آگاہ کیا ہے۔

ایک معروف لکھاری فردوس جمال کہتے ہیں کہ فاٹا کے اندر حافظ سعید کی جماعت کے کارکنان کو اس وجہ سے شہید کیاگیا کیونکہ انہوں نے ان کی اصلیت لوگوں کے سامنے واضح کی اور حافظ سعید کو بھی دھمکیاں دی گئیں۔ سندھ حکومت جب سارا پیسہ یوتھ فیسٹیول پر لگارہی تھی اس وقت حافظ سعید کی جماعت خدمت خلق میں پیش پیش تھی اور تھر کی پسماندہ علاقوں میں کنویں کھدوا رہی تھی۔

خواجہ جی کم از کم اپنے سینئر راجہ ظفرالحق سے ہی پوچھ لیتے جنہوں نے مسلم میڈیکل مشن کی تقریب میں اس بات کا برملا اعتراف کیا کہ حافظ سعید صاحب کی جماعت نے خدمت خلق کا کام کرکے بلوچستان میں علیحدگی پسند تحریکوں کا زور توڑ دیا اور اس میں کوئی شک نہیں وہ علاقہ جہاں پاکستان کا نام لینے پر گولی مار دی جاتی تھی اسی علاقے میں حافظ محمد سعید اور ان کے ساتھیوں نے ایسا کام کیا کہ بلوچستان کے ہر علاقہ میں پاکستان زندہ آباد کے نعرے لگائے جاتے ہیں۔

خواجہ جی جماعت الدعوۃ خطرہ ہے نا آپ اور آپ کی حکومت کےلیے جس کے کارکن صلاح الدین کو 14 اگست والے دن پاکستانی پرچم کا سٹال لگانے پر انتہا پسندوں کیطرف سے حملہ کیا گیا اور وہ آج بھی کراچی کے ہسپتال میں وہ زیر علاج ہے۔

جب ملک پاکستان دہشت گردی کی آڑ میں تھا، بھارتی آبی جارحیت کا شکار تھا ،ایل او سی پر فائرنگ جاری تھی تو اسی حافظ سعید نے دفاع پاکستان کونسل کی بنیاد رکھی جس میں سب دینی و سیاسی جماعتوں کو جمع کیا۔

جب پاکستان میں سیلاب آیا، زلزلہ آیا، بارڈر پر نقصان پہنچایا گیا تو یہی جماعت تھی جو ریلیف کے کاموں میں مصروف تھی۔ آپ دیکھیے جب لاہور میں اور سندھ میں دھماکہ ہوا تو یہ پیلی جیکٹوں والے اور داڑھیوں والے لاشیں اٹھاتے ہوئے اور زخمیوں کو ہسپتال پہنچاتے ہوئے نظر آرہے تھے خود سوچیے یہ خطرہ ہیں ہمارے لیے یا نہیں۔

خواجہ جی کو کون سمجھائے کہ آپ کے دلوں کی دھڑکن نواز شریف ہے تو تھر کے عوام کی، چترال کے سیلاب متاثرین کی، جنوبی و شمالی پنجاب کے متاثرین کی اور بلوچستان کے عوام کی اور لاکھوں پاکستانیوں کے دلوں کی دھڑکن حافظ محمد سعید ہے۔