امن کے لیے انصاف ضروری ہے - طاہر فہیم

ایک بار کسری نے مدینہ منورہ میں سیدنا عمر فاروق رضی اللہ کی جانب سفیر بھیجا۔
اس نے مدینہ میں داخل ہو کر کسی شخص سے پوچھا تمھارے بادشاہ کدھر ملیں گے۔
اس شخص نے کہا کہ ہمارا امیر ہوتا ہے بادشاہ نہیں، اور اسے پتہ بتلا دیا۔
سفیر تلاش کرتا ہوا پہنچتا ہے تو دیکھتا ہے کہ امیر المؤمنین سیدنا عمر فاروق رضی اللہ زمین پر سوئے ہوئے ہیں، ان کا عصاء ان کی سرہانے کی جگہ پر ہے۔
نہ محل، نہ کوئی دربان، نہ پروٹوکول، نہ سیکورٹی آفیسر
اس نے دیکھ کر سوچا کہ یہ وہ ہیں جن سے عرب و عجم کے بادشاہ خائف ہیں۔
اس نے کہا کہ اے عمر! (رضی اللہ عنہ) تو نے عدل کیا، امن پایا، (امن سے) سوگیا۔

اب ہم اپنے ملک کی صورتحال کا اس سے موازنہ کریں. چوری، ڈکیٹی، قتل جیسے جرم کی بھی یہاں سزا نہیں ملتی. مغرب کا نظام عدالت مکمل طور پر نافذ ہے نہ اسلامی شرعی نظام، برطانیہ کی عدالتیں ایسا سلوک ہرگز نہیں کرتیں کہ وفات پانے کے بعد معلوم ہو کہ یہ شخص قتل میں ملوث نہیں تھا۔ وہاں جرم ثابت نہ ہونے پر بری کر دیا جاتا ہے، جبکہ دوسری جانب اسلامی نظام عدل جو ہر لحاظ سے کامل اور بہترین ہے، اس میں اگر ملزم پر الزام ثابت نہ ہو تو الزام لگانے والے پر تہمت کی سزا ہوسکتی ہے۔

قوانین کا نفاذ نہ ہونے کی وجہ سے ملک میں جس کی لاٹھی اس کی بھینس کا قانون موجود ہے، جو کہ جنگل کے قوانین سے بھی بدتر ہے. جنگل میں طاقتور پیٹ بھرنے کے لیے کھاتا جبکہ یہاں تو لوگوں سے ظلم کھیل تماشے کے طور پر کیا جاتا ہے۔
غریبوں کا گھر لٹ جائے،
بنت ہوا کی عزت پامال ہو،
آدم کی اولاد کی جان جائے،
یا کوئی بھی جرم ہو، اس پر انصاف تو درکنار ملنا، تھانے اور کچہری کے چکر لگا کر مدعی تھک جاتا ہے، فرد جرم ثابت نہیں کر پاتا۔
انصاف کرے بھی تو کون کرے؟
ہر کوئی چاہتا ہے کہ اپنے احباب کو انصاف کے دائرہ کار سے بچا لے۔
وزیراعظم کیسے چاہیں گے کہ ان یا ان کے خاندان پر پانامہ کیس میں فرد جرم عائد ہو۔
وزیر قانون کیسے چاہیں گے کہ وہ خود قانون کی زد میں آئیں۔
وزیر خزانہ کب چاہیں گے کہ ٹیکس پورا ادا کریں.
وزیر صحت کب چاہیں گے کہ پاکستان کی ادویہ ساز ادارے بہتر طریقے سے کام کریں۔
بقول منو بھائی
کون کہوے میرا پتر ڈاکو
قتل دا مجرم میرا بھائی
میرے چاچے جائیداداں تے قبضے کیتے
تے لوکاں دی عمر کمائی
لُٹ کے کھا گئی میری تائی
میرے پھُپھڑ ٹیکس چرائے
میرا ماما چور سپاہی
دتی اے کدی کسے نے اپنے جرم دی آپ گواہی
کیہڑا پاندا اے اپنے ہتھ نال
اپنے گل وچ موت دی پھاہی

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر سے جڑا جنوبی ایشاء کا امن - چوہدری ذوالقرنین ہندل

ایک بار قاضی شریح رحمتہ اللہ کے بیٹے نے ان سے کہا کہ میرا کسی شخص سے لین دین کا یہ معاملہ ہے۔ اگر آپ مناسب سمجھیں تو میں اسے آپ کی عدالت میں لے آؤں۔ قاضی صاحب نے فرمایا لے آنا۔ عدالت میں فریقین کی بات سنی اور اپنے بیٹے کے خلاف فیصلہ سنا دیا۔

اگر کسی شخص کو انصاف نہ ملے تو وہ قوانین اپنے ہاتھ میں لے کر خود منصف بننے کی کوشش کرتا ہے جس کے نتائج قوم بھگت رہی ہے۔ ایک قتل سے سات پشتیں متاثر ہوتی ہیں۔ کچے کے ڈاکو اس بات کا اقرار کر چکے ہیں۔ قرآن مجید میں سورہ روم میں آیت نمبر 41 میں حکم ربانی ہے
خشکی اور تری میں لوگوں کی بداعمالیوں کے باعث فساد پھیل گیا، اس لیے کہ انہیں ان کے بعض کرتوتوں کا پھل اللہ تعالیٰ چکھا دے (بہت) ممکن ہے کہ وہ باز آجائیں۔

ٹیگز