نقطہ نمبر تین - ڈاکٹر غیث المعرفہ

نقطہ نمبر تین

سائنس کیا ہے؟ ایک ایسی عقلی اور عملی سرگرمی جس میں اس مادی اور فطری دنیا کے رنگ ڈھنگ کا مشاہدے اور تجربے کی مدد سے منظم مطالعہ کیا جائے۔میں اس کو مزید کھولنے کی کوشش کرتا ہوں رنگ ڈھنگ کی ترکیب بہت سوچ کر استعمال کی گئی ہے کیونکہ اس میں مادے کے اجزائے ترکیبی، ساخت اور بناوٹ کی ہئیت مجموعی، شکل صورت، طور طریق، خصوصیات، حالت اور کیفیت سب شامل ہے۔سائنس میں مشاہدے کی اہمیت مسلم ہے اور یہی وہ تخم ہے جہاں سے تحقیقات کا ایک پورا جہان آباد ہو جاتا ہے۔مشاہدہ کے کئی محرکات ہوتے ہیں جیسے ضرورت، خواہش، تجسس، مجبوری، جبر، مشاہدہ بذات خود اپنا ایک بڑا محرک ہے حالیہ ادوار میں توانائی پیدا کرنا انسانی ضرورت اور جسم کی رنگت سفید کرنا انسانی خواہش ہے انسانی تجسس تھا جب اس نے سوچا کہ یہ جو سفید روشنی لیے رات کے ساتھ انڈہ فضاء میں امڈ آتا ہے، گھٹتا بڑھتا ہے، اچھا یہ چاند ہے، ستارہ ہے، ہماری زمین بھی تو ایک ستارہ ہے، ہاں مگر چاند اس سے بہت چھوٹا ہے۔ کیا؟ زمین سے بڑا ستارہ بھی ہوتا ہے۔ کونسا ہو سکتا ہے، کہاں ہو سکتا ہے ستاروں پر کمند ڈالنے کو ایک ہزار تجسس جو ابھی تک ختم نہیں ہو رہے اور قیامت تک ختم نہیں ہوں گے۔چند سال پہلے ڈینگی بخار نے وبائی شکل اختیار کر لی تھی جس نے مجبور کیا کہ ہم پاکستان میں موجود مچھروں کا مشاہدہ کریں۔ مشاہدہ سے جو معلومات ہمیں حاصل ہوتی ہیں اس سے ہم مفروضہ قائم کرتے ہیں۔ مفروضے کو ہم تجربے سے گزارتے ہیں۔ کوئی فرض کی گئی بات بار بار تجربے سے ثابت ہوتی رہے تو اسے 'تھیوری' قرار دیا جاتا ہے۔ سائنس میں تھیوری بھی کوئی حتمی ثابت شدہ بات نہیں ہے۔ کل کلاں کوئی فیوٹن پیدا ہو سکتا ہے اور دوبارہ تجربہ کرتے ہوئے کہہ سکتا سابقین اپنے تجربات میں اس عنصر بارے سوچ نہیں رہے تھے یا اس وقت انہیں معلومات کی کمی تھی۔ ایسی سینکڑوں مثالیں سائنس میں ابھی بھی موجود ہیں- جو انسان ہر صبح اٹھ کر یہ سوچتا ہو کہ 'اج کی پکائیے تے کی کھائیے' اس انسان کی ضروریات، خواہشات، مجبوریاں اور تجسس رکنے والی چیز نہیں ہے یوں یہ سائنسی عمل رکتا نہیں، پرانی بات ناکارہ، فرسودہ یا غلط ہوتی رہتی ہیں اور نت نئی تخلیقات سامنے آتی رہتی ہیں۔

یہاں سے ہم جدیدیت کا رخ کرتے ہیں، بنیادی طور جدیدیت سائنسی فلسفہ کی بنیاد ہے۔ عقل سے مشاہدہ کرو، دلیل سے پرکھو اور تجربہ کرو، ثابت ہو جائے تو اسے اختیار کر لو۔ یورپ میں سائنسی نشاۃ علمی کا جو دور آیا اس سے جدیدیت کو علیحدہ نہیں کیا جا سکتا بلکہ سائنسدانوں کو ہی جدیدیت کا بانی مبانی کہا جانا چاہیے۔روایت سے جڑی ہر چیز کو فرسودہ قرار دیا گیا، اور روایت میں کیا تھا مذہب۔ سو مذہب اور روایت کو ترک کر کے جس چیز پر ایمان لانے کی دعوت دی جا رہی تھی وہ تھی سائنس اور جدیدیت۔ الہامی سچائی کے مقابلے اسے انسانی سچائی کا نام دیا گیا اور کہا گیا کہ یہ حقیقی سچائی ہے کیونکہ اس کا تعلق مادے سے ہے جسے آنکھوں سے دیکھا، زبان سے چکھا، ناک سے سونگھا، کانوں سے سنا اور جلد سے محسوس کیا جا سکتا ہے۔جدیدیت کا یہی ایمان مجمل تھا اور یہی ایمان مفصل۔ لیکن ایک صریح غلطی ہو گئی جس کی وجہ سے 20ویں کے آخر میں مابعد جدیدیت کے دور کا آغاز ہوا۔ غلطی کیا تھی؟ یہاں تک بات بڑی خوبصورت اور دلکش تھی کہ سائنسدان روایت اور مذہب سے جڑی چیزوں کا پردہ چاک کرکے کہتے جا رہے تھے کہ یہ عقل سے خالی، غیر حقیقی اور جھوٹی سچائیاں ہیں اور اس کے بدلے میں سائنسی، حقیقی اور انسانی سچائی اختیار کرنے کا راستہ دکھا رہے تھے۔ لیکن جب اسی سائنسی سرگرمی کو خود سائنس پر آزمایا جانے لگا تو پرانی سچائیاں ٹوٹنے لگیں اور نئی سچائیاں جنم لینے لگیں۔ یہ جدیدیت کی ٹوٹ پھوٹ تھی۔ جو حشر اس نے مذہب کے ساتھ کیا تھا اسی قیامت صغریٰ سے یہ خود گزرنے لگی۔ مابعد جدیدیت، جدیدیت سے تائب ہونا شروع ہو گئی۔ کہا گیا کہ مذہب تو سچائی تھی ہی نہیں، جدیدیت بھی کوئی سچائی نہیں ہے، دنیا میں کوئی چیز بھی سچائی نہیں ہے بلکہ یہ بدلتی سچائیوں کا مجموعہ ہے۔ بعید نہیں کہ کوئی کہہ دے یا کہہ چکا ہو کہ سچ جھوٹ جاننا چھوڑو، ضروریات پوری کرو، خواہشات مٹاؤ، سارا زور سانس لینے پر دو، نکل جائے تو مر کے مٹی ہو جاؤ۔

یہ بھی پڑھیں:   اہل کشمیر نڈھال مت ہوجانا - سید مصعب غزنوی

میں مسلمان ہوں اور میں الہامی سچائی پر ایمان رکھتا ہوں۔ آج سائنس چن چن کے کہہ سکتی ہے کہ یہ سچائی نہیں جھوٹ ہے۔ جھوٹ اس لیے کہ مشاہدے میں نہیں آیا، انہیں فرض کر کے تجربے سے گزاریں تو ثابت نہیں ہوتا۔ میں کہتا ہوں ہو سکتا ہے تمہیں ادراک کی کمی ہو، کسی شعور سے بیگانہ ہوں، تمہارے تجرباتی یونٹ میں نقص ہو۔ ہو سکتا ہے تمہارے بعد آنے والے تم سے کچھ زیادہ ادراک، کچھ زیادہ شعور کے مالک اور نقائص سے پاک ہوں۔ کب اور کتنا؟ تجسس بڑھا ہے ناں؟ بارشوں اور سونامیوں کی پیش گوئیاں تو آتی ہیں، شاید زلزلوں کی بھی دیکھنے لگ جاؤ۔ اس بارے بھی آنے والے دور میں جھانکنے کی کوشش کرو تاکہ تمہارے اور بعد میں آنے والوں کے ادراک و شعور کا غیر حتمی اندازہ ہو سکے۔ جب جھوٹ اور سچائی کا حتمی فیصلہ نہیں ہو سکتا تو پھر اس فیصلے کا اختیار سائنس کو نہیں دیا جا سکتا۔ سائنس کا اصل یہ ہے کہ وہ انسانی ضرورت، خواہش، مجبوری اور جبر سے تخلیقات و ایجادات پیدا کرے اور انسانیت کی خدمت کرے اور سچ، جھوٹ، نیکی، بدی، اچھائی، بُرائی کا فیصلہ الہام کرے جس کی تفہیم خود خدا نے انسان سے کروائی۔ تجربے کے طور پر بھی اور نمونے کے طور پر بھی۔ جس کی روشنی میں آئندہ بھی اس کی تفہیم انسان ہی کرے گا۔

مجھے بات کرنا تھی تیسرے نقطے کی، نقطہ نمبر 3 یہ ہے کہ ریاست منبر و محراب کو مذہبی طبقہ کے ہاتھ سے لے لے۔ نقطہ نمبر تین خود نقطہ نمبر ایک کی نفی ہے۔ نقطہ نمبر 1 یہ ہے کہ ریاست کا کوئی تعلق مذہب سے نہیں ہوتا۔ جب ریاست کا کوئی مذہب نہیں ہو سکتا تو وہ کس اصول، کلیے، ضابطے کے تحت منبر و محراب کا نصاب لکھ سکتی ہے؟۔ میاں ہم تو پہلے ہی کہتے تھے کہ تم سے نہ ہو گا۔ آپ بچے ہوتے تو آپ کے ماں باپ سے ضرور کہتے کہ بزرگوں دنیا جہان میں جہاں سے مرضی کونسلنگ کروا لیجئے، آپ کے بچے میں بلا کی قوت مشاہدہ ہے، عقل و برہان سے مالا مال ہے، لکھنے کی خاصیت ہے۔ میڈیکل سائنس میں بھیجئے یا فزیکل سائنس میں آئن اسٹائن سے کم نہیں بنے گا، کئی سائنسی ایجادات کرے گا، کئی انسانی مسائل حل ہو جائیں گے لیکن خدارا اسے روکئے مذہب کا بیڑا غرق کرنے کے بعد اب سیکولرازم کا ستیاناس مت کرنے دیجئے۔ لیکن عزت مآب خود بزرگی سے گزر رہے ہیں۔ خود ہی جدیدیت اور خود ہی مابعد جدیدیت کے تجربات کر رہے ہیں سچائیوں کی تلاش میں عارضی سچائیوں پر فیصلے دے رہے ہیں اور ایک بڑے تعلیم یافتہ حلقے کو جھولے دے رہے ہیں۔ پاکستان میں معلوم نہیں سیکولرازم کو عملی صورت گری کا موقع کبھی ملے یا نہیں، لیکن آپ زبانی کلامی یہ بتانا چاہ رہے ہیں کہ یہاں دوسرا ترکی بنے گا، ایک اور لائیسٹی ماڈل کا تجربہ ہو گا اور اپنے آصف محمود صاحب کے اس فقرے پر مہر تصدیق ثبت ہو گی کہ یہ سیاسی نظریہ دراصل مذہبی ملائیت کے مقابلے میں سیکولر ملائیت کا نام ہے اور اتنی ہی خوفناک ہے جتنی مذہبی ملائیت۔

محترمی بات بڑی واضع ہے کہ اگر ریاست سیکولر ہے تو اسے منبر ومحراب میں کیونکر دلچسپی ہو سکتی ہے، مذہبی آزادی کا اصول تو اسی وقت غارت ہو جائے گا۔ البتہ ضابطہ ہے کہ اجتماعی مفاد اور سماج کے تحفظ کی خاطر منبر و محراب کو اپنے دائرے میں لینے کے بجائے اس پر قانونی قدغنین عائد کر سکتی ہے اور قانونی دائرے میں ہی اثرانداز ہو سکتی ہے۔دہشتگردی کے خاتمے کے لیے صرف نقطہ نمبر تین کافی نہیں رہے گا کیونکہ مجوزہ قانون تو تمام صوبوں میں اب بھی نافذ العمل ہے۔ پھر آپ کو نقطہ نمبر چار، پانچ اور چھ بھی لانے پڑیں گے جیسے دہشتگردی کے خاتمے کے لیے تاجکستان نے حج، حجاب اور داڑھی پر پابندی عائد کی اور رجت پسندی کے خاتمے کے لیے ترکی نے اقدامات اٹھائے۔ اس کے مقابلے میں اسلامی ریاست زیادہ موثر اقدامات اٹھا سکتی ہے وہ منبر و محراب کا نصاب بنا سکتی ہے، آزاد فتویٰ سازی کو مذہبی امور میں ڈال کر فتاویٰ فیکٹریوں کا خاتمہ کر سکتی ہے مدرسوں کو اسکولوں اور یونیورسٹیوں کی طرح اپنے زیر اثر لا سکتی ہے۔ اور ایسی قانون سازی کر سکتی ہے جو حقیقی انداز میں مذہب سے جڑے مسائل کا خاتمہ کر سکیں۔یہ سب اس کے دائرہ اختیار میں آتا ہے کہ وہ دین اسلام کی نمائندہ ریاست ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   جنرل اسمبلی میں حسینہ واجد کے الزامات، حقیقت کیا ہے؟ آصف محمود

سیکولر قانون سازی اور اسلامی قانون سازی میں فرق واضع کرنے کے لیے میں ایک مثال دینا چاہوں گا۔گذشتہ ماہ سندھ اسمبلی نے قبول مذہب بالجبر پر قانون سازی کی۔ درست ہے کہ اس معاملے پر بہت سے حلقوں میں خدشات پائے جاتے ہیں جن کا تعلق ہمارے سماج سے بھی ہے اور بین الاقوامی تعلقات سے بھی اور ان سے بڑھ کر خود ہمارے مذہب سے بھی۔ جبر اور خوف سے بڑھا گیا کلمہ تو مسلمان نہیں کر سکتا۔ یہ تو نہ صرف مسلم سماج بلکہ اللہ تعالیٰ کو دھوکہ دینے کی کوشش کا نام ہے۔ کلمہ پڑھانے والے کو مکمل تحقیق اور اطمینان کے بعد ہی ادائیگی کروانا چاہیے۔ جبر اور خوف کے ذریعے مسلمان کرنا ایسے ہی ہے جیسے کوئی بنجر زمین میں بیج بونے کی کوشش کرے۔ لیکن کچھ لوگ ہوتے ہیں جنہیں مسلمانوں کی عددی تعداد بڑھانے کا شوق ہوتا ہے تو قانونی راستے سے اس کا روکا جانا ضروری ہے۔سندھ اسمبلی میں سیکولر نظریات رکھنے والی جماعت پیپلز پارٹی نے قانون تیار کیا۔ اس قانون کے تحت کوئی بھی ایسا لڑکا یا لڑکی، جس کی عمر اٹھارہ برس سے کم ہو، مذہب تبدیل کرنے کا مجاز نہیں ہوگا۔  زبردستی مذہب تبدیل کروانے والے شخص کے لیے کم از کم پانچ سال جبکہ زیادہ سے زیادہ عمر قید کی سزا رکھی گئی۔ سیکولر مزاج کے ساتھ بنایا گیا یہ قانون اسلام سے متصادم تو تھا ہی کہ جس کو پیش کرنے والے نے بچوں کو بھی اسلام قبول کروایا تھا وہیں اس کے غلط استعمال کا راستہ بھی کھول دیا جاتا بالکل جیسے قانون رسالت ﷺ کے معاملے میں بعض اوقات کیا جاتا ہے۔ ایسے کھیل کا آغاز جس سے پاکستان مزید انتشار کی طرف گامزن ہو جاتا۔ ایک طرف مذہبی طبقہ اقلیتوں کو قانون رسالت ﷺ کے ذریعے پھنساتا تو دوسری طرف اقلیتیں روز کسی مولوی کو کچہری چڑھا سکتی تھیں۔

اس کے مقابلے میں اسلامی ریاست کا کیا جوابی قانون ہو سکتا۔ قانونی طور پر ریاست محکمہ مذہبی امور کے تحت ایک سیکشن بنائے جو شہری سطح کے بجائے صوبائی اور قومی سطح پر تبدیلی مذہب کے عمل کو ممکن بنائے۔ یہ محفوظ اور قابل اعتماد راستہ ہے کہ اگر کوئی شخص مذہب تبدیل کرنا چاہتا ہے تو ایک طے شدہ طریقہ سے سرکاری ادارے سے رابطہ کرے۔ مکمل جانچ پڑتال کے بعد شفاف طریقے سے ادارہ اپنی نگرانی میں تبدیلیِ مذہب کو یقینی بنائے۔ اس سے جبر، خوف اور مجبوری کے تمام عناصر کا خاتمہ ہو جائے گا۔ وہی ملا مناپلی بھی ختم ہو جائے گی جو تبدیلی مذہب کے ساتھ ایک مخصوص مسلک کو اختیار کروانے کی راہ ہموار کرتی ہے۔ دہشتگردی کے معاملے پر بھی اسلامی ریاست ہی بہترین حل ہے۔ ہمیں کسی ایک، دو یا تین نقات کی ضرورت نہیں جو لامتناہی نقات کا راستہ کھول دیں۔