انسان، گناہ اور توبہ - ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

خدا نے کہا انسان ”ظَلوماً جَھُولاً“ ہے۔
شیطان نے انسان کی پیدائش اور اس کے مجوزہ منصب کی ڈٹ کر مخالفت کی جبکہ اس کے رب نے نہ صرف اسے با تکریم کیا بلکہ رہنے کے بہترین مقام پر بھی رکھا۔ لیکن انسان نے پھر اپنے رب کے بجائے شیطان کی بات مان لی اور اپنے مالک کی حکم عدولی کا مرتکب ہوگیا۔
چونکہ یہ خدا کے ساتھ کیے معاہدے کی خلاف ورزی تھی اس لیے اسے اب جنت سے نکلنا تھا۔ اب جنت میں واپسی کا دارومدار اس کے ان اعمال پر تھا جو جنت سے جلاوطنی کے دوران وہ کرہ ارض پر انجام دے گا۔
جنت سے نکلتے ہوئے اللہ تعالی نے اسے کہا کہ جب تمہارے پاس میری ہدایت پہنچے تو اس کی پیروی کرنے والے پر نہ کوئی خوف ہو گا اور نہ غم۔

آپ کو معلوم ہے کہ اس مکالمہ کے بعد انسان کے لیے پہلی ہدایت کیا آئی؟
ربنا ظلمنا انفسنا و ان لم تغفرلنا و ترحمنا لنکونن من الخسرین۔
اے ہمارے رب ہم نے خود پر ظلم کیا اور اگر آپ نے ہمیں نہیں بخشا اور ہم پر رحم نہیں فرمایا تو ہم نقصان اٹھانے والوں میں سے ہو جائیں گے۔
یعنی پہلی ہدایت یہ آئی کہ خدا سے رجوع کیا جائے، توبہ کی جائے۔
ا س سے آپ توبہ کی اہمیت کا اندازہ لگا لیجیے۔ یہ خدا اور بندے کے درمیاں نہایت قربت کا لمحہ ہوتا ہے اور ان دیکھے خدا پر یقین کا اس سے زیادہ خوب مظہر کوئی نہیں۔ توبہ اللہ تعالی کی ناراضی کو رضا میں بدل دیتی ہے اور توبہ کرنے والے کے لیے صاف سلیٹ کے ساتھ ایک نئے موقع کا آغاز ہو جاتا ہے۔

چونکہ انسان بنایا ایسے گیا ہے کہ وہ کرتا ہے اور سیکھتا ہے، ٹھوکر کھاتا ہے سنبھلتا ہے۔ ٹھوکر کھانے پر حیرت ہونی چاہیے نہ سنبھلنا اصل میں عجیب بات ہے۔ گناہ ہو جانا پریشان کن نہیں۔ گناہ کے بعد توبہ نہ کرنا حقیقی تشویش کا سامان ہے۔ گناہ فطرت کو مسخ نہیں کرتا، توبہ سے گریز دراصل اسے پراگندہ کرتا چلا جاتا ہے۔
آدم اپنی غلطی پر نادم ہوئے تو اللہ تعالی نے دعا بھی خود سکھائی اور پھر خود ہی اسے قبول فرما کر انسان کے لیے یہ راہ پسند فرمائی، جبکہ شیطان نے اس سے متضاد فیصلہ کیا، اپنی انا اور اپنے نفس کی پاسداری کی اور رب سے نادم نہ ہوا، راندہ درگاہ ٹھہرا۔

یہ بھی پڑھیں:   نہیں ہے تنگ یہ دنیا، محنت کشوں کے لیے - عبدالرزاق صالح

ابن آدم کے لیے سب سے کلیدی ہدایت وہ ہے جو اس کے جد امجد کے لیے پہلی ہدایت تھی۔ خدا کے سامنے اپنی غلطی کا اعتراف اور اسی سے اس کی معافی۔ توحید خداوندی و بندگی کے اقرار اور رحمت خداوندی کے اظہار کا اس سے زیادہ پرشکوہ اور دلگداز منظر شاید ہی کوئی اور ہو۔

اللہ تعالی نے ”ریفریش“ اور ”آل کلئیر“ کا یہ راستہ ہر وقت کھلا رکھا ہے اسے بلاجھجھک ہر وقت استعمال کیجیے۔

Comments

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش

ڈاکٹر عاصم اللہ بخش کی دلچسپی کا میدان حالاتِ حاضرہ اور بین الاقوامی تعلقات ہیں. اس کے علاوہ سماجی اور مذہبی مسائل پر بھی اپنا ایک نقطہ نظر رکھتے ہیں اور اپنی تحریروں میں اس کا اظہار بھی کرتے رہتے ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.