اساتذہ کا وقار مجروح نہ کیجیے - مفتی توصیف احمد

پختونخواہ حکومت نے تبدیلی کی ٹھان رکھی ہے چاہے تبدیلی مخالف راستے سے کیوں نہ آئے. مجموعی طور پر دیکھا جائے تو تبدیلی کو محسوس کیا جا سکتا ہے، ضلعی سطح پر انتظامیہ خاصی متحرک رہتی ہے. تحریک انصاف حکومت نے روز اول سے ہی تعلیم، نظام تعلیم، اور نصاب تعلیم کو سدھارنے کی اپنی سی کوشش جاری رکھی ہوئی ہے، اس کے مثبت اور منفی اثرات تو آتے رہیں گے۔ محکمہ تعلیم میں اساتذہ کی حاضری کو بہتر اور مسلسل بنانے کے لیے مانیٹرنگ کا نظام وضع کیا گیا ہے جس کے نتیجے میں اساتذہ کی حاضری کے عمل کو یقینی بنایا گیا، سربراہ ادارہ سمیت تمام ملازمین پر ان کی دھاک بیٹھ چکی ہے، گویا مانیٹرنگ وحشت کی علامت بن چکی ہے. بچپن میں کلاس کے مانیٹر سے جس طرح کا خوف آپ محسوس کرتے تھے، اسی طرح کا یا اس کے قریب کا خوف آج معماران قوم محسوس کرتے ہیں، مانیٹر کا کام ہے شکایت کرنا، پختونخواہ میں ’مانیٹر‘ کی شکایت یہ ہے کہ وہ اساتذہ کو غیر حاضر ظاہر کر کے اپنی نوکری میں وسعت چاہتا ہے، اب جبکہ اساتذہ کی حاضری پہلے کی طرح سو فیصد ہے’سوائے چند کے‘ تو مانیٹرنگ میں مانیٹر کی روزی خطرے میں ہے. اس کی روزی کا مدار اساتذہ کو غیر حاضر ظاہر کرنے میں ہے جو کہ ان کو ملتا نہیں، ایسے حالات میں مانیٹر اوچھے ہتھکنڈوں پر اتر آئے ہیں، گاہے تو اعتراض کرتے ہیں کہ ہم سکول میں وارد ہوئے تو استاذ صیب ’بیٹھے تھے‘، اوہ سوری سر! آئندہ نہیں بیٹھوں گا استاذ کا جواب۔ جی کلاس میں گیا تو اس استاذ کے پاس موبائل تھا مانیٹر کا شکوہ، معذرت کے ساتھ یہ کہ یہ ویسے پڑا ہوا ہے، دوران کلاس استعمال نہیں کرتا، استاذکا جواب شکوہ۔ ہم سکول میں گئے تو بچے زمین پر بیٹھ کر ٹیسٹ دے رہے تھے، اک نیا اسلوب اعتراض۔ جی بات یہ ہے کہ کلاس میں بچوں کی تعداد زیادہ ہے اور کلاس میں شفاف امتحان اور ٹیسٹ کا انعقاد ممکن نہیں اس لیے ان کو ارض پاک پر بیٹھنے کی زحمت دی۔

ارے تعلیم کے ٹھیکیدارو! اے ارباب بست و کشاد! کیا تم اس روئے زمیں پر نووارد ہوئے ہو، ارے سکول میں بچے کیا پی ٹی آئی کے دور میں پڑھنے آئے ہیں، اس سے پہلے کیا سکول یا استاذ نہیں تھے، یقینا سکول و اساتذہ پہلے بھی تھے، حاضری پہلے بھی تھی اب بھی ہے، جوہری فرق کے متلاشی ہیں؟؟ آپ نے کہا مار نہیں پیار، ہم نے مان لیا، آپ نے کہا حاضری اساتذہ حاضر، اب تو آپ استاذ دشمنی پر اتر آئے ہیں، آپ کے اقدامات اساتذہ کی تذلیل ہیں، یا تو آپ کا حکم نامہ تمام سرکاری ملازمین کے لیے ہو کہ کوئی سرکاری ملازم دوران ڈیوٹی بیٹھےگا نہیں، کوئی موبائل نہیں رکھے گا۔ اگر ایسا ممکن نہیں تو اساتذہ کو نشانہ کیوں بنایا جارہا ہے، کیا اس لیے کہ یہ معزز افراد ہیں، آپ کی کڑدی کسیلی سہہ لیتے ہیں۔ نہیں یہ آپ کی بے وقوفی ہے، آپ کا حقائق سے اندھا پن ہے، اساتذہ کے تذلیلی حربے آپ کی حکومت کا خاصا ہیں۔

حال ہی میں مانیٹرنگ کا نمائندہ ایک سکول میں تدریسی اوقات سے پہلے وارد ہوگیا، کوئی شکار ہاتھ نہ لگا تو بچوں کو صفائی کے فضائل و مناقب سنا کر ان کو صفائی کی ترغیب دے ڈالی، بچے کے ہاتھ جھاڑو تھما کر اس کی تصویریں اتار لیں، حیلے بہانے سے ان کی صفائی کرتے ہوئے ویڈیوز بھی بنا ڈالیں اور ڈسٹرکٹ مانیٹرنگ آفیسر کے سامنے ’شکایتی مانیٹر‘ کا کردار ادا کرتے ہوئے سکول کے خلاف کارروائی کا مطالبہ کر ڈالا۔ بات کافی پھیلی، اب تک انکوائری جاری ہے. اس واقعے سے مانیٹرنگ کے کردار کو بخوبی پرکھا جا سکتا ہے. اول ترجیح اساتذہ کو غیر حاضر کرنے کے لیے مختلف شکلوں میں سکول وزٹ، پھر ایک دن کی آئی ایم رپورٹ پر ساری سروس پر کیچر ڈالنا ان کا وطیرہ بن گیا ہے. اساتذہ کی حاضری کی صورت میں اوچھے ہتھکنڈوں کے ذریعے اپنی دھاک بٹھانا بھی ان کی ذمہ داری ہے. معماران قوم مانیٹرنگ کے فرسودہ نظام کے خلاف آواز بلند کرتے رہیں گے، آپ کے تبدیلی کے احکامات سر آنکھوں پر لیکن ایسی تبدیلی جو اساتذہ کی تذلیل کا باعث ہو، قابل قبول نہیں۔