مبہم پالیسیاں اور دہشت گردی - راجہ بشارت صدیقی

ماضی حال کو اور حال مستقبل کو جنم دیتا ہے۔ ہمارا ماضی اتنا شاندار نہیں جس کی وجہ سے ہم اس حال کو پہنچے. قائداعظم اور لیاقت علی خان کے بعد پاکستان میں جتنے بھی حکمران آئے، انہوں نے دور اندیشی سے فیصلے نہیں کیے، دور اندیشی سے کیے گئے فیصلوں سے امن کی کونپلیں پھوٹتی ہیں۔ المیہ مگر یہ رہا کہ مملکت خداداد پاکستان میں جب بھی کسی عفریت نے سر اٹھایا، حکمرانوں نے اس سے نبٹنے کے لیے دور اندیشی کے بجائے ڈنگ ٹپاؤ پالیسی اختیار کی۔

حکمرانوں کی ناقص پالیسی اور کمزور فیصلوں کا نتیجہ ہے کہ مملکت خدادا اس وقت دہشت گردی کی لپیٹ میں ہے، دہشت گرد دندناتے پھر رہے ہیں۔ جہاں ان کا دل کرتا ہے معصوم لوگوں کے خون سے اپنے ہاتھ رنگین کر کے چلتے بنتے ہیں۔ حکومت ان کے سامنے بےبس نظر آتی ہے۔ جنرل ضیاء الحق سویت یونین کی جارحیت کے خلاف مزاحمتی تحریک کی قیادت کر رہے تھے، اگر ہم یہ جنگ مملکت کی طرف سے باقاعدہ لڑتے، ہماری افواج اس میں شامل ہوتیں اور ہم باضابطہ انداز میں سویت افواج کو شکست دیتے تو فتح ہمارے قومی فخر کا حصہ ہوتی، اس کا سہرا امریکہ کے سر سجا اور جنگ سے فراغت پانے والے جنگجوؤں نے واپسی کے بجائے پاکستان کو اپنا مسکن بنالیا۔ ضیاء الحق کے بعد جتنے بھی حکمران آئے انہوں نے ریاستی مفادات پر ذاتی مفاد کو ترجیح دی اور دو ٹوک فیصلہ کرنے کے بجائے مصلحت سے کام لیا. بی بی شہید ہوں یا موجودہ حکمران، مشرف ہوں یا عمران خان، مولوی فضل الرحمٰن ہو یا جماعت اسلامی کی قیادت، ہر ایک نے بوقت ضرورت انہیں استعمال کیا۔ اٹھاسی میں محترمہ شہید نے افغان سیل میں مجاہدین کی ایک میٹنگ کی صدارت بھی کی تھی اور دفتر خارجہ کی طرف سے گیارہ نکات پر مشتمل ایک فہرست بھی افغان مجاہدین کو دی تھی. یہ بھی کہا گیا تھا کہ افغان مجاہدین اگر افغانستان کے کسی بڑے شہر پر قبضہ کر لیں تو پاکستان حکومت انہیں تسلیم کر لے گی اس میٹنگ میں اس وقت کے امریکی سفیر رابرٹ اوکلے بھی موجود تھے۔ مشرف دور میں بھی انتہاپسندوں کو کھلی چھٹی دے دی گئی، اور وہ پورے ملک میں دندناتے پھرتے رہے۔

موجودہ حکمرانوں کے نہ چاہنے کے باوجود سابق آرمی چیف جنرل راحیل نے دہشت گردوں کے خلاف آپریشن ضرب عضب شروع کیا تو کچھ حلقوں کی طرف سے شدید تحفظات کا اظہار کیا گیا۔ شور برپا کرنے والوں میں کرپٹ لوگ آگے آگے تھے جو چند ٹکوں کے لالچ میں بیرونی ایجنٹ اور آلہ کار بنے ہوئے ہیں۔ بلوچستان سے تعلق رکھنے والے ایک چادر پوش سیاست دان جو موجودہ حکمرانوں کے سیاسی حلیف بھی ہیں، ان کے بارے میں خفیہ ایجنسیوں نے مکمل شواہد پیش کیے کہ وہ افغان ایجنسی این ڈی ایس سے ڈالر وصول کرتے ہیں۔

دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ صوبائی تعصب اور تنگ نظری بھی ہے، قومی مفاد کے بجائے صوبائی مفاد کی باتیں کی جاتی ہیں۔ ملک کے چھوٹے صوبوں سندھ، خیبرپختونخوا اور بلوچستان میں ضرب عضب جاری ہے مگر جب پنجاب میں آپریشن کی بات کی جائے تو حکمران آنکھیں دکھانا شروع کر دیتے ہیں. پنجاب حکومت پر مبینہ طور پر ایک الزام یہ بھی ہے کہ وہ جہادی اور انتہا پسند عناصر کو اپنے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتی ہے، اس لیے ان کے خلاف کاروائی کی اجازت نہیں دیتی۔ جھنگ سے حال ہی میں ضمنی انتخابات میں کالعدم تنظیم کے ایک امیدوار کی کامیابی کو پنجاب کے ایک سینئر وزیر کی کامیابی قرار دیا گیا۔

دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ غربت اور بروقت انصاف کا نہ ملنا ہے۔ غربت بذات خود ایک سنگین مسئلہ ہے اور اس سے بہت سے مسائل جنم لیتے ہیں۔ بہت سے لوگ غربت کے ہاتھوں تنگ آ کر شرپسندوں کے ہتھے چڑھ جاتے ہیں جو انھیں پیسے کا لالچ دے کر دہشت گردی پر اکسا رہے ہیں، دہشت گردی میں ملوث دینی مدارس کے طلبہ ہی نہیں بلکہ جدید یونیورسٹیوں سے تعلق رکھنے والے بھی شامل ہیں. یہ ایک مائنڈ سیٹ ہے، اس سوچ کو تبدیل کرنے کے لیے حکومت کو ٹھوس پالیسیاں بنانا ہوں گی۔ پولیس کو غیر سیاسی کرنا ہوگا۔ علمائے حق کو آگے آنا ہوگا اور سچ کو سات پردوں میں چھپا کر رکھنے کے بجائے قوم کے سامنے لانا ہوگا۔ فوجی عدالتوں کی بحالی کی طرف عملی قدم اٹھانا ہوگا۔ حکمرانوں کو قوم کے روشن مستقبل کے لیے سیاست دان نہیں بلکہ لیڈر بن کر فیصلے کرنا ہوں گے.