محبت ذاتی فعل ہے - زینی سحر

جب ہمارا رشتہ کچھ نئے لوگوں سے بنتا ہے اور ہمیں ان سے محبت ہو جاتی ہے تو ہماری خواہش ہوتی ہے کہ جس طرح ہمیں محبت ہوئی ہے دوسری طرف بھی ايسی ہی ہو‫، اور وہ بھی ہمارے بارے میں ايسے ہی سوچیں جيسے ہم سوچتے ہیں، ليکن ايسا ہو نہیں پاتا. ہم يہ سوچنے سے قاصر ہوتے ہیں کہ ان لوگوں کی زندگيوں میں پہلے سے لوگ ہوتے ہیں. اتنا عرصہ وہ ہمارے انتظار میں تو نہیں بيٹھے تھے.

ہميں محبت ہے، يہ ہمارا ذاتی فعل ہے. دوسری طرف کے شخص کو اپنی محبت اپنی پسند سے غرض ہے. کبھی وہ مجبوری میں تو کبھی جان بوجھ کر ہمیں اگنور کرتا ہے. ہم وقت چاہتے ہیں وہ ديتا نہیں تو ہماری فرسٹريشن بڑھتی جاتی ہے. ہم خود سے سوال و جواب شروع کر ديتے ہیں کہ مجھے تو اس سےمحبت ہے، اسے کيوں نہیں؟ اسے بھی ہونی چاہيے.
ہم يہ نہیں سمجھتے کہ اگر دوسرا ہمارے جذبات کی قدر کرتا ہے تو يہ اس کا بڑا پن ہے، اگر نہیں کرتا تو اس کے دل ميں ويسی ہی فيلنگ ڈالنا جيسی ہماری ہیں، اس پر پر ہم قادر نہیں ہیں، کيونکہ قدرت نے ہر شخص کو آزاد پيدا کيا ہے. محبت ضرور کریں لیکن اس کی رضا سے حاصل کريں، نہیں ملتی تو دعا کريں.

محبت بھيک میں مت مانگیں، کيونکہ محبت ايک اعزاز ہے، اسے بھيک ميں ليا اور ديا نہيں جا سکتا، اور زبردستی بھی نہیں لیا جا سکتا. اشفاق احمد نے کہا تھا کہ محبت تصوف کی طرح کچھ مخصوص دلوں پر اترتی ہے. اگر آپ کو محبت ہوئی ہے تو یقیننا آپ بہت خاص ہیں. جس سے ہوئی ہے اگر وہ آپ کی محبت کی قدر نہيں کرتا يا اس کے قلب پر محبت نہيں اتری‫ تو چھوڑ ديں، خود کو خاص سے عام مت کريں.

یہ بھی پڑھیں:   داستانِ نو - مُبشرہ ناز

بلاشبہ وہ لوگ بہت خاص ہوتے ہیں جو آپ سے محبت کرتے ہیں، محبت کا تو جھوٹا دعوی بھی کتنا خوشنما ہوتا ہے، سوچیں اگر وہ سچی ہو تو کيسی ہوگی.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.