علمائے کرام کی جدید علوم سے واقفیت؟ عادل لطیف

علمائے کرام یہ بات تو بڑے طمطراق سے کرتے ہیں کہ اسلام تمام مسائل کا حل پیش کرتا ہے، یہ فخر بجا ہے لیکن صرف یہی بات کافی نہیں ہے، بلکہ عملی تطبیق کر کے مسائل کا پیش کرنا بھی ضروری ہے، پھر عملی تطبیق کے لیے جہاں نصوص اور شرعی اصولوں کا علم ضروری ہے وہاں نصوص کے محامل کو بھی جاننا ضروری ہے. صدیوں پہلے فقیہ اعظم امام ابوحنیفہ نعمان بن ثابت رحمۃاللہ عليہ کے تلمیذ رشید حضرت امام محمد بن حسن الشیبانی رحمۃ اللہ عليہ نے ایک قیمتی جملہ ارشاد فرمایا تھا جو کہ آب زر سے لکھنے کے قابل ہے، کہ آج بھی تروتازہ معلوم ہوتا ہے. فرمایا کہ ”جو شخص اہل زمانہ سے واقف نہ ہو (یعنی اہل زمانہ کے طرز زندگی، معاشرت، معاشی مسائل اور مزاج و مذاق سے واقف نہ ہو) وہ جاہل ہے.“ امام محمد رحمۃ اللہ عليہ کے حالات میں یہ بات وضاحت کے ساتھ ملتی ہے کہ فقہ کی تدوین کے دوران وہ باقاعدہ بازاروں میں تاجروں کے پاس بیٹھتے، اور ان کے معاملات کو سمجھتے تھے، اور یہ دیکھا کرتے تھے کہ کون سے طریقے بازار میں رائج ہیں. ظاہر ہے ان کا مقصد خود تجارت کرنا نہیں تھا، وہ صرف یہ جاننے کے لیے ان تاجروں کے پاس بیٹھتے تھے کہ ان کے طریقے کیا ہیں اور ان کے درمیان آپس میں کیا عرف رائج ہے، اس لیے کہ ان چیزوں سے واقفیت ایک عالم کے فرائض میں داخل ہے کہ جب اس کے بارے میں اس کے پاس سوال آئے تو وہ اس سوال کے پس منظر سے اچھی طرح واقف ہو، اس کے بغیر وہ صحیح نتائج تک نہیں پہنچ سکتا.

یہ کہنا درست نہیں کہ ڈاکٹر سے میڈیکل کی تعلیم کے علاوہ کسی اور چیز سے واقفیت کا مطالبہ نہیں کیا جا سکتا لہذا عالم سے بھی قرآن و حدیث کے علاوہ کسی اور چیز کا مطالبہ نہیں کیا جانا چاہیے، اس لیے کہ ڈاکٹر یا انجینئر صرف اپنے خاص شعبہ تک محدود رہتے ہیں، نظام کو نہیں چھیڑتے، جبکہ عالم اپنے فتوی سے پورے نظام کو چھیڑتا ہے، اگر اسے سماجی علوم سے واقفیت نہیں ہوگی تو وہ اپنے مذہبی اثر و رسوخ کی وجہ سے نظام میں بگاڑ کا سبب بننے گا. فقہ میں بہت سے مسائل کا دارومدار ضرورت و حاجت اور عرف پر ہوتا ہے، اور یہ چیزیں بغیر نظام کو سمجھے نہیں سمجھی جا سکتیں. حضرت زید بن ثابت رضی اللہ تعالی عنہ کو حضور عليہ السلام نے عبرانی زبان سیکھنے کا حکم فرمایا تھا اور آپ عليہ السلام کا یہ ارشاد کہ حکمت کی بات مؤمن کا گمشدہ مال ہے، دلالت کرتا ہے رائج الوقت علوم کو سیکھنے پر. مذہبی لوگوں کا المیہ یہ ہے کہ اول تو ان میں سے کوئی رائج الوقت علوم کی طرف جاتا ہی نہیں ہے اور اگر کوئی چلا بھی جائے تو اس کی حوصلہ افزائی کرنے کے بجائے اسے طعن وتشنیع کا نشانہ بنایا جاتا ہے، حالانکہ آج کے دور میں اہل زمانہ کو رائج الوقت علوم سے ہی سمجھا جا سکتا ہے.

معروف فیس بک لکھاری عظیم الرحمن عثمانی صاحب کی تحریر اس حوالے سے ملاحظہ فرمائیں.
موجودہ نوجوان نسل کی ذہن سازی کرنے والے نمائندہ دانشوروں کی غیرمذہبی علمیت کا ایک مختصر سا خلاصہ پیش کرتا ہوں جو شاید میرے بہت سے احباب کے لیے تکلیف دہ ہو.
ڈاکٹر اسرار احمد نے کنگ ایڈورڈ یونیورسٹی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کی
مولانا طارق جمیل لاہور میں میڈیکل کے طالب علم رہے. ابتدائی علوم بھی اسکول کالج سے حاصل کیے
جاوید احمد غامدی نے بی اے آنرز کیا انگریزی مضمون میں. ساتھ ہی وہ ادب اور فلسفہ کے بیک وقت طالب علم اور استاد رہے.
پروفیسر احمد رفیق ادب ، فلسفہ اور دیگر سبق کے استاد رہے. انہوں نے بھی اسکولوں کالجوں سے تعلیم حاصل کی.
شیخ احمد دیدات اسکول میں خوب آگے تھے مگر معاشی مشکلات کی بناء پر صرف سولہ برس تک تعلیم حاصل کرسکے
.ڈاکٹر ذاکر نائیک نے یونیورسٹی آف ممبئی سے اپنی ایم بی بی ایس کی تعلیم مکمل کی
مولانا وحید الدین خان ، ابتدائی سالوں سے ہی سائنس اور جدید علوم کے زبردست طالب علم رہے
مولانا ابوالاعلیٰ مودودی فزکس، کیمسٹری اور میتھمیٹکس کے بہترین طالب علم تھے
شیخ عمران حسین نے مختلف ممالک سے ڈگریاں حاصل کیں. جن میں ایک ڈگری سوئزرلینڈ سے 'عالمی تعلقات' کے حوالے سے حاصل کی
شیخ الاسلام مفتی محمد تقی عثمانی نے پہلے یونیورسٹی آف کراچی سے آرٹ اور پھر قانون کی ڈگری حاصل کی
.ڈاکٹر طاہر القادری نے اپنا ایل ایل بی 1974 میں مکمل کیا
مشہور صوفی سوچ کے حامل حمزہ یوسف نے واشنگٹن اسکول میں تعلیم پائی
دور حاضر میں قران مجید پر لسانی تحقیق کے شاید سب سے بڑے ماہر نعمان علی خان بھی امریکہ میں تعلیم حاصل کرتے رہے
ملحدین کے خلاف سب سے بہترین سائنسی مباحثہ کرنے والے حمزہ زورٹزس نے انگلینڈ سے سائیکولوجی میں ڈگری حاصل کی
یورپ کی مسلم نوجوان نسل میں نہایت معروف استاد یاسر قاضی نے کیمیکل انجینئرنگ کی ڈگری یونیورسٹی آف ہیوسٹن سے حاصل کی
مفتی اسماعیل مینک نے زمبابوے میں اپنی ابتدائی اسکولنگ وغیرہ مکمل کی
علامہ محمد اقبال نے مورے کالج سے پہلے آرٹ کا ڈپلومہ لیا، پھر اسی سال گوورنمنٹ کالج لاہور سے آرٹ، فلسفہ اور ادب میں ڈگری حاصل کی. پھر اسی میں ماسٹرز کی ڈگری لی. یونیورسٹی آف کیمبرج انگلینڈ سے آرٹ کی ایک اور ڈگری لی. پھر بیرسٹر کی تعلیم مکمل کی. آخر میں جرمنی سے فلسفہ میں ڈاکٹریٹ کی سند حاصل کی.
.
یہ اور ایسے ہی اور بہت سے نام موجود ہیں جو اس وقت اول صف میں کھڑے مسلم نوجوان ذہن کو بیرونی فلسفوں سے پاک کرنے کا کام کر رہے ہیں. ان کے برعکس وہ علماء جو خالص مدرسہ سے ہی تعلیم حاصل کرتے رہے اور جدید تعلیم کا حصول نہ کیا. ان میں سے نوجوان جدید نسل میں قبولیت پانے والے نام گنتی کے ہیں. کچھ مستثنیات کو چھوڑ کر ان کی مقبولیت کا دائرہ صرف مدرسہ کے طالب علموں کو ہی اپنا گرویدہ کرسکا. جدید نوجوان نسل سے ربط پیدا نہ ہوسکا. روایتی علماء کا یہ حال ہے کہ انہیں بخاری شریف تو زبانی یاد ہوگی، مثنوی کے دقیق نقطے تو وہ با آسانی بیان کر سکتے ہوں گے (بخاری شریف اور مثنوی کی تحقیر مقصود نہیں ہے) مگر جدید اذہان میں پیدا ہونے والے سوالات سے وہ ربط پیدا نہیں کرسکتے. وہ نہیں جانتے کہ چارلس ڈارون، کارل مارکس، رچرڈ ڈاکن کون ہیں؟ نظریہ ارتقاء کیا بلا ہے، تھیوری آف ریلٹوٹی کس چڑیا کا نام ہے؟ لہٰذا ان کا ہتھیار یہی ہوتا ہے کہ ایسے کفریہ سوال نہ پوچھو، اسلام سے باہر ہو جاؤ گے. نتیجہ الحاد اور شکوک کی صورت میں برآمد ہوا
.
یہ بات بھی سوچنے کی ہے کہ جن اکابر علماء کی سوچ آج بھی جدید اذہان کو مخاطب بنالیتی ہیں، وہ سب کے سب اپنے دور کے سائنسی اور دیگر رائج علوم میں ملکہ رکھتے تھے. امام غزالی، ابن عربی، ابن تیمیہ، ابن حزم، ابن قیم، ابن رشد وغیرہ سب اسی حقیقت کی غمازی کرتے ہیں.
.
یہ سب لکھنے کا مقصد نہ تو اہل مدرسہ کی دل آزاری ہے اور نہ ہی مقصد ہمارے روایتی علماء کی توہین ہے. اگر ایسا محسوس ہو تو میں دست بدستہ معافی مانگتا ہوں. میرا ارادہ صرف اتنا ہے کہ میں دین کے طالب علموں کو یہ توجہ دلا سکوں کہ ان کے لیے موجودہ جدید علوم بالخصوص سائنس کی تعلیم اتنی ہی ضروری ہے جتنی کے فقہ یا فن حدیث میں مہارت. ان علوم سے آگاہی نہیں پیدا کریں گے تو جدید سوالات کے کبھی جواب نہ دے پائیں گے. یہ جواب نہ دیں گے تو آنے والی نوجوان نسل آپ سے مزید دور ہوگی اور اسلام سے متنفر ہوتی جائے گی.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com