خوش خوش یا خودکش؟ فرح رضوان

ماشاءاللہ آپ بہت بااخلاق اور ساتھ ہی بے حد سخی بھی ہیں۔ محلے کے بچے، باہر گیند سے کھیل رہے ہیں، ان کی بال کو چھکا لگانے سے آپ کے چھکے چھوٹ جاتے ہیں کہ اس سے آپ کے ڈرائنگ روم کی کھڑ کی کا نایاب سا شیشہ ٹوٹ جاتا ہے، لیکن آپ کی اعلی ظرفی تو دیکھیے جناب کہ آپ ان کو اس حرکت پر گھڑکی دیتے ہیں نہ کوسنے، الٹا ہنستے ہوئے بال ہی واپس دے دیتے ہیں کہ کوئی بات نہیں، نقصان اتنا بھی شدید نہیں، بچپن میں ہم نے بھی بڑی شرارتیں کی ہیں.

لیکن! کیا بات ہے کہ وہی آپ ہیں، مع اپنی تمام تر تعلیم، تہذیب، اخلاق کے اور وہی محلہ، بچے اور بال اور اسی شدت سے آکر وہ بال آپ کی کار کے ونڈ سکرین کو توڑ دیتی ہے. سوال؟ سوال یہ ہرگز نہیں بنتا کہ اب آپ کا ردعمل یا رویہ کیا ہوگا؟ کیونکہ یہ تو ہم سبھی کو پتہ ہے، البتہ سوال یہ ہے کہ آپ کا اخلاق، تہذیب، تعلیم، مروت اور برداشت کا پیمانہ اس ونڈ سکرین کے ساتھ ہی کیوں ٹوٹ گیا؟

اور جب اس بات کا جواب آپ کو مل جائے، تو پھر مزید ایک سوال، کہ محلے کے معصوم بچوں سے نادانستہ، کار کے ونڈ سکرین کے ٹوٹ جانے پر اتنا زیادہ غم و غصہ! لیکن بہن بیٹی، ماں، بیوی، بھانجی بھتیجی، سب اس ”فیس بک محلے“ میں سیلفی سیلفی اور کمنٹس کمنٹس کھیلتے اللہ کی حدوں کو ہر روز ہی توڑتے ہیں، اور ہم، اسے کسی قیمتی سیٹ کے ایک برتن ٹوٹنے جتنی اہمیت بھی نہیں دیتے!. کیوں؟

وہ جو ایک پڑوسی ہیں نا آپ کے، جو آئے روز آپ سے ٹماٹر، دھنیا، ادرک مانگنے آجاتے ہیں اور ایک رشتہ دار یا دوست جو ہر ماہ ہی ادھار کا تقاضا کرتے تھکتے ہیں نہ جھجھکتے، تو آپ ان کی کتنی عزت کر پاتے ہیں بھلا؟ آپ اسے ان کی مجبوری سمجھتے ہیں یا کوئی خاص نفسیاتی عارضہ؟ تو ہمیں خود اپنی نفسیات کا بھی اکثر جائزہ لیتے رہنا چاہیے کہ، اس قدر سج سجا کر ہم خود ہی جو اپنی ذاتی یا اپنی بہو، بیٹیوں کی تصاویر ”چادر اور چار دیواری“ سے باہر تمام قسم کے نامحرموں کے سامنے بلا جھجک لا ڈالتے ہیں، کبھی شادی پارٹیز میں تو دروازے پر ہی بڑے بڑے البمز اور پروجیکٹرز پر اور اکثر سوشل میڈیا پر۔ تو یہ توجہ، پیار اور تعریف کی نہ مٹنے والی طلب، ہوس، تمنا ہمیں کیسی عزت دلا رہی ہے؟ اور اگر آپ کو لگتا ہے کہ سبھی آپ سے متاثر ہیں یا بس اسی طرح ہی تنہائی سے بچ کر سوشل ہوا جاسکتا ہے، تو کم از کم اتنا تو کریں خدارا ! کہ صرف اور صرف اپنے محرم یا صرف خواتین کا انباکس گروپ بنا لیں، اپنے اس شوق کی تسکین کے لیے.

کبھی ذرا غور تو کریں کہ آپ کی ان سب تصویروں کو کون؟ کتنی دیر؟ کتنی بار؟ کس زاویے اور نگاہ سے دیکھتا ہوگا؟ اور چھپ چھپا کر یہ کام ان سے بھی وہی کھلا دشمن، شیطان ہی تو کرواتا ہے جو آپ سے آپ کی پکس اینڈ وڈز یوں سرے عام اپ لوڈ کرواتا ہے. ”والد کے جیسے بزرگ“ یا ”بھائی سے بڑھ کرسگے“ اور بیٹے کی طرح کم عمر نوجوان ”تمام پاکیزہ نامحرم“ جو بھی کوئی صاحب لگتے ہیں، آپ کو اور سراہتے ہیں بے حساب، فون پر یا آپ سے ملنے پر، یا پھر کمنٹس میں، یہ تو ایک سامنے، دکھائی اور سنائی دینے والی حقیقت ہے. لیکن ان کا کیا جو ہمیں دکھائی نہیں دیتے؟ جن پر بچبن سے آپ کا ایمان ہے یعنی فرشتے اور نامۂ اعمال! نظر آنے والے انسان تو خواہ مرد ہوں یا خواتین، خواہ وہ اپنی پکس نہ بھی لگاتے ہوں لیکن اپنی عاقبت سے بے پرواہ، وہ آپ کو اللہ تعالیٰ کی حدود اور قیود کو توڑنے پر کس قدر دھڑا دھڑ، اور بے دھڑک لائیک کرتے ہیں، کیا پر مسرت کمنٹس دیتے ہیں، واہ! کتنی دعائیں دیتے ہیں، مگر ہماری نگرانی یا نگہبانی پر مامور فرشتے! سب کچھ ہوتے دیکھ کر، کیا کہتے ہوں گے ہمارے بارے میں؟ ان کے عزت والے رب کی حکم عدولی پر آپ کی شکلیں ان فرشتوں کو کیسی لگتی ہوں گی؟ یہ ملائکہ کیا کمنٹس لکھتے ہوں گے آپ کے نامہ اعمال میں؟ کیا یہ ہمارے حق میں دعا کرتے ہوں گے؟ کیا ہماری مانگی دعاؤں پر صرف آمین بھی کرتے ہوں گے یا غصے میں اتنا بھی نہیں؟

یہ بھی پڑھیں:   تمھیں کہو کہ یہ انداز گفتگو کیا ہے؟ - ماریہ تحسین

ایک لڑکی یا بڑی عمر کی خاتون جب اپنی لش پش تصاویرکو پبلک پراپرٹی بنا رہی ہوتی ہیں، اللہ تعالیٰ کی دیگر فرمانبردار مخلوق، جو پانی میں تیرتی، فضاؤں میں پرواز کرتی سب مسلمانوں کے حق میں دعاگو رہتی ہیں، کیا ان کے حق میں بھی دعا کرتی ہوں گی؟
خواتین کی یہ خوش خوش تصاویر، حقیقت میں خود کش تو نہیں؟
جس طرح کہیں بھی خود کش دھماکا ہو، فوری کسی تنظیم کا نام لے دیا جاتا ہے کہ فلاں کا کام ہے، اسی طرح اپنے گناہوں کے وبال کو ہم نظر لگ جانے پر موقوف کرتے ہیں. خودکش دھماکے میں باقی لوگ تو ایک ہی بار مر جاتے ہیں لیکن خود کش کے تمام خوش کن نظریات ہمیشہ ہمیشہ کی اذیت، ذلت و رسوائی کا سودا ثابت ہوتے ہیں.

خوشی، شوخی، زندہ دلی یا دکھ اور مردہ دلی کتنی ہی ہو، ہم سب کو یہ بات کبھی نہیں بھولنی چاہیے کہ گناہ کا احساس نہ ہونا یا نیکی کی رغبت، حیا اور غیرت کے احساس کا رخصت ہو جانا اپنے آپ میں خود ہی ایک بڑی سزا ہے. اور جو لوگ اپنی زندگی کے مسلسل چلتے سخت حالات کی تلخی کو کم کرنے کے لیے ایسا شغل کرتے ہیں، انہیں بھی سمجھنا چاہیے کہ ایسا تو ہو ہی نہیں سکتا کہ انسان دنیا میں ہو اور کسی بھی رشتے، مال، ماحول، صحت، یا خوف وغیرہ سے اس کی کڑی آزمائش نہ کی جائے، تو بھلا کڑی دھوپ میں ہم کیا کرتے ہیں؟ ٹھنڈی چھاؤں، ٹھنڈے پانی کی تلاش، اس کا انتظام کرتے ہیں نا؟ یا مزید آگ جلا کر اس پر ہاتھ تاپنے بیٹھ جاتے ہیں؟ تو اسی طرح زندگی کی کڑی آزمائشوں کی کڑی توڑنے کا طریقہ بھی، یہ ہرگز نہیں کہ مزید گناہوں کی آلائشوں میں اپنا آپ ڈال دیں، اورکچھ دن کی تلخی سے فرار کے اس غلط انتخاب کے بدلے، مرنے کے بعد ہمیشہ ہمیشہ کی زندگی کے لیے ایک بھیانک سودا کر لیں، بلکہ سچی توبہ کی چھاؤں تلاش کریں اور استغفار کی ٹھنڈک سے لطف اٹھائیں.

دیکھیں! آپ بےحد صاف دل اور بااخلاق، لیڈی ہیں، آپ تو کبھی تصویر بھی نہیں لگاتیں، اور لگائیں بھی تو چہرہ بہرحال چھپا ہی ہوتا ہے. آپ کبھی کسی کے گھر میں فساد ہرگز ہرگز نہیں چاہتیں، آپ کی تو ہر پوسٹ زندگی جینے کا سلیقہ سکھاتی ہے. سب کا بھلا سب کی خیر، جیو اور جینے دو کی پالیسی ہے آپ کی، لیکن! انجانے میں آپ کی ذات گھروں میں فساد کی وجہ بن جاتی ہے، کیسے؟ ایسے کہ ذہانت کی کئی اقسام ہوتی ہیں، کچھ لوگ فقط بک سمارٹ ہوتے ہیں، کچھ ایموشنلی، کچھ گھر گرہستی میں تو کچھ بزنس میں، کچھ ظاہری کچھ باطنی، کچھ مطلوب کچھ غیر مطلوب، غیر مقبول یا سرے سے ناقابل ستائش، اب آپ میں جو ذہانت ہے نا، عین وہی ذہانت ہے مقصود و مطلوب ”مؤمن“ نہ مال غنیمت نہ کشور کشائی، تو آپ کی ذہانت کے معترف، شریف مرد، جب اپنی نجی زندگی سے جوجتے آپ سے ان باکس میں مشورے طلب کرتے ہیں تو واقعی وہ کتنے بھی ضرورت مند ہوں اور آپ انتہائی محتاط، لیکن شیطان، کبھی نچلا نہیں بیٹھتا، آپ یقین رکھیں کہ آپ اپنے مشوروں سے ان کی زندگی نہیں بنا سکتیں، لیکن! ان کا دن بن جاتا ہے آپ سے بات کر کے. آپ کی دلیل اہم ضرور ہو سکتی ہے کہ اعمال کا دارمدار نیتوں پر ہے لیکن! آپ خود ٹھنڈے دل سے غور کریں کہ آپ ان کا یہ معمہ کسی اچھے میل کاؤنسلر کو ریفر کر کے ان کو اس کے پاس بھی بھیج سکتی ہیں، اور ان کو بذات خود انباکس میں وقت دینے کے ان ہی مسائل کو، یکجا کر کے کوئی، تحریر، کوئی آڈیو، اپنی یا کسی اور کی پوسٹ کر سکتی ہیں، لیکن یوں وقت دینا ثواب کا کام بظاہر دکھتا ہو شاید، لیکن اصلا ہے نہیں.

یہ بھی پڑھیں:   واضح کرو کہ اصلی ہو یا نسلی -حبیب الرحمن

اب آجائیں تصاویر کی طرف واپس کہ آپ کی پیاری پیاری تصاویر پر جن حضرات کی بھی نظر ہے نا! ان کو اپنی بیوی ایک تو آپ کی سی شوخ دکھائی نہیں دیتی، پھر آپ کا سا سلیقہ اور وہ تاحیات جوانی اس میں کہیں نہیں دکھتی، آپ تو تصویر میں جیسے مسکراتی ہیں، ہر دم ان کے تصور میں بھی مسکراتی ہی رہتی ہیں، نہ بیمار ہوتی ہیں نہ بیزار، ان بیچارے کی بیوی تو کھانا کم دوائیں زیادہ کھاتی ہے، بات بات پر ٹوکتی ہے بھئی، آپ کی طرح خاموش مسکراتی تھوڑا ہی ہے.گھر کے خرچوں پر فکر میں پڑی ہوتی ہے، بچوں پر چخچخ، سسرالیوں سے کھٹپٹ، میکے کم ہسپتال زیادہ جاتی ہے، بوڑھی جو ہوتی جا رہی ہے نا، اور جاہل اور ضدی تو شروع سے تھی ہی، اب تو کاہل بھی ہو گئی ہے اور پھوہڑ بھی! آپ اپنے لذیذ خوشنما کھانوں کی تصویریں لگاتی ہیں نا تو کھانے کی خوشبو، سچ مانو تو دل و دماغ میں سما جاتی ہے، جبکہ ان کی بیوی کھانا پکائے تو پورے گھر میں، صوفوں میں، ان کے کپڑوں میں، خود بیوی سراپا کچے مسالوں، مٹن اور چکن کی بو بن جاتی ہے. اب اتنی ساری اتھل پتھل کے بعد کسی گھر میں رنجش پل بڑھ کر توانا نہ ہو! ایسا تو ممکن ہی نہیں.

ہم تو ذرا دیر کو باغ کی طرف لگا نیٹ کا دروازہ کھلا چھوڑ دیں تو دنیا بھر کے حشرات الارض گھر میں حق سے گھس بھی جاتے ہیں اور افزائش نسل بھی فرض جان کر فرما جاتے ہیں، تو سوچیں ذرا کہ انٹرنیٹ پر کھلا یہ ”کھلے ذہن“ کا دروازہ کیا کچھ نہیں لے آتا ہوگا ہماری زندگیوں میں؟ اور یہ سادہ لو فیملیز میں اکھاڑ پچھاڑ کا کام فقط تصاویر سے اور صرف خواتین ہی نہیں کر رہی ہیں، مرد بھی فیس بک پر غیر مسلموں کے نقش قدم پر چلتے خود کو زندہ دل سمجھتے، کھلے عام جب اپنی بیگم کے لیے جانو بانو ٹائپ رویہ اور الفاظ اپناتے ہیں تو سلجھے ہوئے با تہذیب حضرات کو بھی ان کی بیگمات کی جانب سے، ایک چین ری ایکشن بے چین کر ڈالتا ہے.

اللہ کے واسطے سب گھر والے بھی اپنے تحائف گھروں میں ہی دے کر آپس کی محبت کو بڑھائیں، ان کی تصاویر اور تفصیلات فیس بک پر نشر فرما کر اوروں کے گھروں اور دلوں میں حشر برپا کرنے سے گریز فرمائیں. کیا آپ گھر والے آپس میں بات نہیں کرتے! فون نہیں آپ کے پاس! تو براہ کرم اس سہولت کو صبر شکر سے استعمال کرنے پر اپنے نفس کو کسی طرح سے راضی فرمالیں.
کرو مہربانی تم اہل زمیں پر
خدا مہرباں ہوگا عرش بریں پر
پتہ ہے نا کہ ہر روز دو فرشتے اترتے ہیں، اور ایک ان میں سے صدقہ نہ کرنے والے کے حق میں بد دعا کرتا ہے دوسرا فرشتہ صدقہ کرنے والے کے حق میں دعا کرتا ہے، اور ہر روز ہم کتنے ہی لوگوں کو کہتے ہیں کہ ہمارے لیے دعا کریں، حالانکہ لوگوں کی دعا کسی سبب سے رد بھی ہو سکتی ہیں، تو اس ہر روز دعائے خیر کرنے والے فرشتے کی دعا کیوں نہ لیں؟ ضروری تو نہیں نا کہ مال ہی صدقہ کریں ! ہم اپنی اس قسم کی خواہشات جو دوسروں کی پرسکون زندگی کو بےسکون کر ڈالتی ہیں، کسی دور پرے کے دوست، کولیگ، یا رشتہ دار کی خوشی کی خاطر خود سچی خوشی حاصل کرنے کے لیے اتنی قربانی دینے پر تو خود کو راضی کر ہی سکتے ہیں نا؟ یاد ہے نا کہ ہمارے خالق نے ہمیں اپنی عبادت ہی کے لیے پیدا کیا ہے اور اس کی اطاعت کے ساتھ ساتھ اس کی مخلوق کی دل جوئی کا لحاظ رکھنا بھی عین عبادت ہے. جب اس سیلف سینٹرڈ ہونے سے اجتناب کریں گے تو خودبخود وہ سب نظر آنے لگیں گے جن پر توجہ دینی ہے، دلانی ہے، مل جل کر قوم کی حالت سدھارنی ہے. اللہ تعالیٰ ہم سب کی عبادات میں اخلاص پیدا فرمائے اور ہم سب سے راضی ہو. آمین

Comments

فرح رضوان

فرح رضوان

فرح رضوان کینیڈا میں مقیم ہیں۔ خالق کی رضا کی خاطر اس کی مخلوق سے لگاؤ کے سبب کینیڈا سے شائع ہونے والے ماہنامے میں قریباً دس برس قبل عائلی مسائل پرلکھنا شروع کیا تھا، اللہ کے فضل و کرم سے سلسلہ جاری ہے۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.