کراچی کی ڈبلیو گیارہ - ببرک کارمل جمالی

سنا تھا کہ جب کبھی کراچی جاؤ تو ڈبلیو گیارہ پر سفر ضرور کرنا۔ اگر کسی نے تاکید نہ بھی کی ہوتی تب بھی ایم این اے عبدالوسیم کا یہ جملہ میرے اندر ڈبلیو گیارہ کو دیکھنے کی حسرت پیدا کردیا گیا تھا۔ انہوں نے قومی اسمبلی میں پی آئی اے کی لاجواب سروس پر طنز کرتے ہوئے کہا تھا ”اس سے تو بہتر سروس کراچی کی ڈبلیو گیارہ بس کی ہے.“ کراچی کی مشہور زمانہ منی بس ڈبلیو گیارہ کبھی شہرت کے بام عروج پر پہنچی کہ امریکہ اور برطانیہ میں اس کے ماڈل بنائے گئے اور اس لاجواب بس کی سجاوٹ، دلفریبی، برق رفتاری کو سراہا گیا۔ برطانیہ میں چلنے والی ٹرام کو ڈبلیو گیارہ کی طرح بنا سجا کر چلایا جاتاہے لیکن کراچی میں اس کی ناقدری کی گئی ہے۔ اب چنگچی کے سامنے اس کا سورج غروب ہو رہا ہے۔ یہ منی بسیں اب پانچ سو سے کم ہو کر صرف دو سو پچاس رہ گئی ہیں، جبکہ بڑی تعداد میں منی بسوں کو ڈبلیوگیارہ کے روٹ سے ہٹائے جانے کی وجہ سے کاروباری لحاظ سے نقصان بتایا جا رہا ہے۔

کراچی کی سب سے خوبصورت اور بہترین لوکل سستی سروس ڈبلیو گیارہ ہی ہے۔ پہلی مرتبہ جب کراچی کے سڑکوں پہ نکلا تو دیکھا سڑکوں پر بیٹھے لوگ اس کا ہی انتظار کر رہے ہیں۔ کوئی عجیب بات نہیں کہ اس بس میں اوپر نیچے مسافروں کو مال مویشیوں کی طرح لاد لیا جاتا ہے اور کراچی کی ہوا کھلائی جاتی ہے۔ اگر خوش قسمتی سے بس میں سیٹ مل جائے تو بھی کئی طرح کی آفات و بلّیات سے نجات نہیں ملتی۔ کھچا کھچ بھری مسافرایک دوسرے میں پیوست ہوجاتے ہیں۔ اگر کراچی کی بسوں کے اندر مسافروں کا رش دیکھنا ہے تو ڈبلیو گیارہ میں دیکھا جا سکتا ہے۔ کراچی کی بسوں کے مسافر ہمیشہ پریشان رہتے ہیں۔ کبھی جیب کتروں سے تو کبھی بھتہ خوروں سے تو کبھی لٹیروں سے۔ شہری جائیں تو جائیں کہاں؟ ڈبلیو گیارہ میں تو اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کھجلی کسی کو ہو رہی ہوتی ہے اور کھجا کسی اور کو رہا ہوتا ہے۔ بعض لوگوں کی انگلیاں دوسروں کے جسموں کو چھو جاتی ہیں۔ یہ تو اکثر ہوتا ہے کہ موبائل فون کی بیل کسی اور کی بجتی ہے اور ہاتھ ہمارا اپنی جیب میں چلا جاتا ہے۔ مسجد کے لیے چندہ وصول کرنے والے مولوی بہت کم آپ کو ڈبلیو گیارہ پہ ملیں گے کیونکہ ان بسوں میں جگہ ہی نہیں ملتی۔ یہ بڑے ستم گر ہیں ۔اگر کبھی بس میں سوار ہوجائیں تو میگا فون مسافر کے کان کے پاس لگا کر چندہ مانگتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں:   راستے ناہموارعوام پریشان -لطیف النساء

ایک روز ہم نے بھی ڈبلیو گیارہ میں معمار چوک سے صدر تک سفر کیا، صرف اس غرض سے کہ ڈبلیو گیارہ کی نظر سے کراچی کو دیکھا جائے۔ آخر بڑی تھکاوٹ کے بعد دو گھنٹوں میں ہم صدر پہنچ گئے۔ صدر کی مشہور قلفی کھائی، کچھ سامان خریدا اور پھر ڈبلیو گیارہ کا رخ کیا۔ ڈبلیو گیارہ جناح روڑ سے گزرتی ہے۔ اس دوران ہم نے مسلسل تین بسیں چھوڑیں کہ شاید کوئی بس خالی آجائے۔ مگر پھر بھی کوئی بس خالی نہ آئی تواگلی بس کے کنڈیکٹر نے ڈبلیوگیارہ کی چھت پہ بیٹھنے کو کہا سو بیٹھ گئے۔ بس کچھ آگے بڑھی تو کنڈیکٹر نے ہانک لگائی ”ارے بس کے اوپر سو جاؤ ورنہ چالان ہو جائے گا“ سوتے ہی بنی۔ جیسے ہی گرو مندر کراس کیا تو ہمیں دوبارہ بیٹھنے کا آرڈر دیا گیا، سو ہم بیٹھ گئے۔ آخر ہم جب اپنی منزل پہ اترے تو ایسے لگا جیسے لاکھوں کلومیٹر کا سفر طے کر کے آئے ہوں۔ اپنا چہرہ شیشے میں دیکھا تو اپنے آپ کو بھی پہچان نہ سکے۔ جلدی جلدی پانی سے ہاتھ منہ صاف کیا تو اصل چہرہ نظر آگیا۔ آج سے پانچ سال پہلے میں نے آکسفورڈ پریس کے لیے ایک کہانی لکھی تھی جس میں یہ جملہ لکھا تھا کہ کراچی کی دوخاص باتیں اور وہ ہیں اس کے دو سمندر۔ ایک پانی کا سمندر دوسرا انسانی آبادی کا سمندر۔ مگر آج میں یہ کہتا ہوں کہ اگر اس میں ڈبلیو گیارہ کا اضافہ کر دیا جائے توکوئی ہرج نہیں ہے۔