موٹی ویشنل سپیکرز پر تنقید ضروری ہے - رضوان اللہ خان

ہر انسان کو اپنی زندگی میں مختلف نوعیت کے لمحات، اوقات اور سانحات سے واسطہ پڑتا رہتا ہے، جن سے کبھی تو وہ سبق حاصل کرتا ہے تو کبھی شکست کھا کر اوندھے منہ پڑا رہتا ہے۔ ایسا ہی کڑا وقت مجھ پر اُس وقت بیتا جب خود کو بدلنے اور زندگی کو ایک نئے زاویے پر جینے کا ارادہ کیا۔ خود کو بدلنا ہی تھا کہ معاشرے کی تنگ نظری اور اپنوں کے طعنوں نے خود اعتمادی چھیننے کے ساتھ شرارتیں، خوشیاں اور اچھے دِنوں کے خواب بھی چھین لیے۔ یہ وہ لمحہ تھا کہ گھر کے اندر گھٹن محسوس ہوتی تو باہر کے ماحول میں کھل کر سانس نہ لیا جاتا۔ دوستوں کی محفل میں عجیب نظروں اور جملوں کا شکار رہتا تو غیر بھی زبان کے تیر، اعتماد کے سینے میں اتارتے چلے جاتے۔

انہی دِنوں جب سٹیج پر آنا، عوام کے سامنے بات کرنا، یہاں تک کہ کسی کے سامنے اپنا مسئلہ پیش کرنا بھی محال ہو چکا تھا، مجھے مزید پڑھنے کا شوق ہوا۔ ایڈمیشن کی خاطر جس بھی یونیورسٹی کے ایڈمن آفس جاتا تو ایک دوست میرے ساتھ ہوتا، جس کے کان میں اپنا مقصد بتاتا اور وہ میری بات کو سامنے بیٹھی خاتون تک پہنچاتا جو ہماری اس حرکت پر حیران ہوکر دیکھا کرتیں۔ یعنی خود اعتماد ی کی اس قدر کمی تھی کہ جنھیں خود اپنی آواز پہنچا اور سُنا سکتا تھا، وہاں مجھے ایک عدد ترجمان یا پیغام رساں کی ضرورت رہی۔

ایسے تمام واقعات کے دوران اپنے اُستاد کی آواز میرے کانوں میں گونجا کرتی کہ ’’رضوان تم کرسکتے ہو، اور مجھے تم پر پورا یقین ہے‘‘ اور میرا عزم پھر سے تازہ ہو جاتا کہ نہیں مجھے اپنی خوداعتمادی پھر سے جگانی ہے، اور اپنے اُستاد کے اس جملے پر عمل کرنے کے بعد جو ارادہ میں نے کیا تھا اُسے ہر صورت پورا کرنا ہے۔ یہی طلب اور خواب مجھے ایک اور اُستاد کے پاس پہنچانے میں مددگار ثابت ہوا۔ جہاں کچھ ہی عرصہ میں اپنا کھویا ہوا اعتماد مجھے واپس نصیب ہوا، اور یہی نہیں بلکہ پبلک ڈیلنگ اور نیٹ ورکنگ کا حوصلہ ملا۔ یعنی ایک اُستاد کا پُراعتماد جملہ میری زندگی بدلنے میں معاون ثابت ہوا۔ اس جُملے کو اگر میں ایک ’موٹیویشنل پُش‘ کہوں تو بات کو سمجھنا آسان ہوگا۔ دراصل موٹیویشنل سپیکنگ یا دوسروں کو حوصلہ دینے کے حوالے سے سیلف ہیلپ پر ہونے والے کام کو آج کل خوب تنقید کا سامنا ہے۔ ذاتی طور پر میں اس تنقید سے خوش ہوں اور اس کی وجہ بہت واضح ہے۔ وہ یہ کہ جب بھی کسی شعبے پر تنقید کی جاتی ہے تو ’چھانٹی‘ کا عمل بھی شروع ہوجاتا ہے اور بعض افراد جو کسی غلط مقصد سے اُس فیلڈ میں آتے ہیں، ان کے حوصلے بھی پست ہونا شروع ہو جاتے ہیں۔

میں تنقید کرنے والے احباب کا دل سے احترام کرتے ہوئے ایک بات واضح کرنا چاہتا ہوں، وہ یہ کہ گذشتہ دِنوں کسی کے منہ سے یہ بات سُن کر شدید دُکھ ہوا کہ ’’موٹیویشنل سپیکرز خود کو خدا سمجھنے لگے ہیں‘‘۔ اللہ ہم سب کے ایمان کی حفاظت فرمائے اور اگر کوئی واقعی لوگوں کی زندگی میں مثبت تبدیلی کی وجہ سے خو د کو خدا سمجھ بیٹھا ہے تو اللہ اُسے ہدایت عطا فرمائے۔

عرض یہ کرنا تھی کہ موٹیویشنل سپیکنگ خدائی دعوی ہرگز نہیں بلکہ اگر ہم تاریخ کے اوراق کنگھالیں یا آس پاس کے معاشرے ہی کی جانب نظریں اُٹھا کر دیکھیں تو بے شمار واقعات اور مثالیں موجود پائیں گے۔ میدانِ جنگ سے بھاگتی ہوئی فوج کو کسی ایک نوجوان کا جذبات کی شدت سے یہ کہہ کر پُکارنا کہ ’’اے لوگو! آج اگر تم میدان چھوڑ گئے تو رہتی دُنیا تک لعنت کے حقدار ٹھہرو گے‘‘، پوری فوج کو جذبات سے لبریز کرکے پھر سے جنگ پر آمادہ کر سکتا ہے اور جنگ کی کایا پلٹ کر اُنہیں فتح یاب کر سکتا ہے، تو یہ ’’موٹی ویشن‘‘ ہے۔ افغانستان کے میدانوں میں جب بیرونی حملہ آور آپہنچیں، قتل وغارت گری جاری ہو، اسلحہ کم پڑ جائے، لاشوں کی کثرت ہو اور لوگ ہمت ہار کر بھاگنے لگیں، تو ایسے میں ایک نوجوان لڑکی ’’ملالئی‘‘ کا اپنی چادر کا عَلم بنا کر بُلند کرنا قوم کو غیرت دلا سکتا ہے تو یہ ’’موٹی ویشن‘‘ ہے۔

موٹیویشن مثبت بھی ہوسکتی ہے اور منفی بھی، اگر کسی کا جملہ کسی کی زندگی سنوارنے کا باعث بن جائے تو کیا بُرائی؟ موٹیویشن تو یہ بھی ہے کہ کسی لیڈر کی آواز پر عوام جان دینے کو تیار ہوجائے، موٹیویشن یہ بھی ہے کہ باپ کے مرنے کے بعد بیٹے کو ماں کی آہ ہمیشہ یاد رہے اور وہ بڑا ہوکر ماں کے خواب پورے کرے۔ قریباََ پانچ یا چھ ماہ قبل موصول ہونے والا عبدالرحمن کا مسیج بھلا کیسے بھلایا جاسکتا ہے۔ عبدالرحمن کے والد کی اُس وقت وفات ہوئی جب عبدالرحمن ابھی چھوٹابچہ تھا۔ غُربت، تنگدستی اور مایوسیوں کی زندگی گذارتے گذارتے جب وہ اس عمر کو پہنچا کہ شادی ہوئی اور ایک بیٹا پیدا ہوا تو اُس کی خوشی کی انتہا نہ تھی۔ لیکن کیا ہوا کہ کچھ ہی دِنوں میں نیا آنے والا مہمان دم توڑ کر اس فانی دُنیا سے واپس چلا گیا۔ بچپن سے محرومیوں کی زندگی گزارنے والا عبدالرحمن اب اپنی زندگی ختم کرنے کا فیصلہ کرنے کو پَر تول رہا تھا کہ کہیں سے مجھ ایسے چھوٹے لکھاری کے مضامین پڑھنا شروع کیے اور دیکھتے ہی دیکھتے اپنا کاروبار شروع کرلیا۔ یہ کیا تھا؟ کیا آپ اس کا تجزیہ کر سکتے ہیں؟ یہی نہیں ایسے سینکڑوں، ہزاروں بلکہ لاکھوں کروڑوں افراد کی زندگی آپ کے، میرے یا کسی بھی فرد کے ایک جملے سے سنور بھی سکتی ہے اور برباد بھی ہوسکتی ہے۔ بھلا موٹیویشن اس کے سِوا کیا ہے؟

لیکن ہاں! موٹیویشنل سپیکرز پر تنقید ضروری ہے۔ اس لیے ضروری ہے کہ اب لوگ اس فیلڈ کے ذریعے غلط نظریات اور باطل عقائد بھی لوگوں کے ذہنوں میں ڈال رہے ہیں۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ شہرت کی خاطر اس میدان میں کودنے لگے ہیں۔ اس لیے بھی ضروری ہے کہ لوگ وہی غلیظ سوچ لے کر بھی اس میدان میں آچُکے ہیں جس سوچ کو ہم نے ماڈلنگ کی دُنیا میں دیکھا تھا۔ موٹیویشنل سپیکنگ کو اس قدر ’’بوم‘‘ ملنے پر کئی اذہان نے اس فیلڈ کو بھی ’’گلیمرائزڈ ورلڈ‘‘ سمجھ کر اپنا رُخ اس جانب کر لیا ہے۔ ایسے لوگوں پر بھی تنقید ضروری ہے جو پبلک سپیکنگ کے سٹیج اور سیمینارز میں شعائر اسلام کا مذاق اُڑاتے نظر آتے ہیں۔ اُن پر بھی تنقید ضروری ہے جو پی ایچ ڈیز ہوکر خرافات کی ایک نئی دُنیا آباد کر رہے ہیں۔ لیکن کیا تمام موٹیویشنل سپیکرز ایسے ہیں؟ ہرگز نہیں!

ایک بات یہ بھی کہی جاتی ہے کہ موٹی ویشنل سپیکرز ایک دن میں کروڑ پتی بنانے کے دعوے بھی کرتے ہیں۔ ذاتی تجربے میں پورے پاکستان کے کسی ایک بھی موٹی ویشنل سپیکر کو ایسی بے وقوفانہ بات کرتے سُنا ہے نہ پڑھا ہے، اور نہ ہی دیکھا ہے۔ پاکستان میں بڑے بڑے ٹرینرز تعلیمی اداروں اور سیمینارز سے لے کر کارپوریٹ سیکٹرز میں بھی لوگوں کو محنت، کام کرنے اور آگے بڑھنے پر اُبھارنے کے ساتھ ساتھ چند یونیورسل سٹریٹیجیز یا ذاتی تجربات شئیر کرتے ہیں، اور ہم نے کبھی کسی کی زبان سے ایک دن میں کروڑ پتی بننے کا نسخہ نہیں سُنا۔

آخری بات کی جانب آتا ہوں کہ ایسی تنقید اس لیے بھی ضروری ہے کہ وہ لوگ جو ہماری موجودہ اور آنے والی نسلوں کو اسی فیلڈ کے پلیٹ فارم سے بدتہذیبی اور بےحیائی سکھانے کی کوشش میں مگن ہیں، وہ بھی بے نقاب ہوسکیں۔

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.