پیارے حنیف! کھمبا بلی نوچتی ہے، دانشور نہیں - زبیر منصوری

پیارے حنیف! کھمبا بلی نوچتی ہے، دانشور نہیں

مگر یار حنیف تم تو ٹھیک سے دانشور بھی نہیں، "دان شووور" ٹائپ کی کوئی چیز لگتے ہو، وہ بھی ہلکی پھلکی سی۔ اب ایک ریڑھی ”آم“ بیچ کر تو بندہ دانشور نہیں بن سکتا۔

تم جیسے لوگوں کا مسئلہ یہ ہے کہ حالات کی ستم ظریفی ہاتھ میں قلم تھما دیتی ہے، ویسے ہی جیسے بندر کے ہاتھ میں استرا، اور پھر سب سے پہلی تم اپنی ہی گنجی کر لیتے ہو، مطلب ٹنڈ!

زندگی کا کوئی بڑا اور اعلی و ارفع مقصد تو تمہارے سامنے ہوتا نہیں، بس کچھ نہ کچھ قلم گھسیٹتے رہنا اور اپنی کی ہوئی مشق سخن بیچ کر چکی کی مشقت کی طرح روٹی کمانا، تمہارا واحد مشغلہ ٹھہرا۔

معاشرے کی ناہمواریوں کی پیداوار منفی در منفی سوچ تمہیں بڑوں سے ورثے میں ملی ہے، سو تم اسی کو لفظ اور جملے بدل کر چباتے رہتے ہو، بڑے بھی وہ جن کی زندگی بھر کی کمائی پریس کلب کا شراب خانہ تھی، وہ بھی سنتے ہیں کہ اب ان سے چھن چکی، اب ان کلبوں میں ان بابوں کے سینوں پر مونگ دلتی اذانیں دی جاتی ہیں۔
(کاش میں تم اور تمھاری قماش کے لوگوں کی زندگی کے براہ راست معلومات پر مبنی کچھ اور گوشے یہاں بیان کر سکتا)

سچ تو یہ ہے کہ جو تم نے لکھا ہے وہ اس قابل بھی نہیں کہ اس کا جواب تو کیا، اس پر کوئی سوال بھی اٹھایا جائے، اس بےکار کی لفاظی پر تو تمہارے ذہنی افلاس پر افسوس کا اظہار کر کے آگے بڑھ چکا تھا، مگر بس ایک پیارے دوست نے کی بورڈ پر انگلیاں رکھوا دیں۔

پیارے حنیف!
جماعت اسلامی کے حوالے سے جن امور پر طعن دراز کیا ہے، کیا وہی اس کی کامیابی اور تمھارے قبیلے کی ناکامی نہیں، کیا انھی پر تم آج تک واویلا نہیں کرتے. قرارداد مقاصد آج تک تمھارے گلے کی پھانس نہیں، آئین پاکستان کے اسلامی ہونے پر تمھارا قبیلہ معترض نہیں، اسکولوں کے نصاب پر تمھارا قبیلہ ہاتھ نہیں ملتا، کمیونزم اور سوویت یونین دونوں کو بری طرح شکست نہیں ہوئی، یورپ کے کئی ممالک اور وسط ایشیائی ریاستیں آزاد نہیں ہوئیں، افغانستان سے تو خیر وہ ناکام و نامراد واپس لوٹا، مگر پاکستان میں بھی بوریا بستر گول نہیں ہوا، ایسا کہ کوئی نام لیوا نہ رہا، کوئی ہو تو بتانا، خواہش ہے کہ مل کر ناکامی کی داستان سنوں، آہ! وہ جو بیچتے تھے دوائے دل، وہ دکان اپنی بڑھا گئے.
اور ہاں! کشمیری آج تک مان کر نہیں دیے کہ وہ بھارتی شہری ہیں، آج بھی بھارتی آرمی چیف کہہ رہا ہے کہ پوری وادی مخالف ہوگئی ہے، کیا بھارتی فوج کے ریٹائرڈ افسران نہیں کہہ رہے کہ وادی میں اصل مسئلہ جماعت اسلامی ہے، کیا ابھی حال ہی میں کشمیریوں نے دنیائے تاریخ کی سب سے ہڑتال کرکے بھارت سے اپنی نفرت کا اظہار نہیں کیا، کچھ معلوم ہے کہ یہ سید علی گیلانی اور برہانی وانی کس قبیلے کے لوگ ہیں؟ انگور کی بیٹی کی تلاش میں سرحد پار جانے کے لیے مرنے والوں کو معلوم بھی کیسے ہو؟ ضرور جایا اور لطف اندوز ہوا کرو مگر ایسے بھی کیا کہ اس کی‌خواہش میں حقیقت ہی بدل ڈالو. بغیر پیے اتنی چڑھی ہے، پیوگے تو کیا قیامت ڈھاؤ گے.

یہ بھی پڑھیں:   صرف جماعت اسلامی - آصف محمود

اور ہاں! جماعت اسلامی کو بےمثال کامیابی ملی ہے، اس کی پیہم جدوجہد سے نظریاتی دائرہ ایسا سبز ہوا ہے کہ ہر سروے میں 90 فیصد لوگ اپنی اسلامی شناخت پر فخر کرتے اور اسلامی نظام کے خواہاں دکھائی دیتے ہیں، ابھی کچھ دن پہلے کا ڈان اٹھانا اور ویلنٹائن ڈے پر سروے کی رپورٹ پڑھ لینا! (چلو بھر تو کہیں بھی مل جائے گا، مطلب پانی، قبیلہ مگر سخت جاں ہے کہ مرتا پھر بھی نہیں ہے، اس پر داد بنتی ہے تمھارے لیے بھی، قبیلے کےلیے بھی)،
اور ہاں! پاکستان میں سرخی کا بڑا شہرہ تھا، اب مگر ماسکو میں بھی جگہ نہیں مل رہی، سو واشنگٹن کو پیاری ہوگئی. یہ جماعت اسلامی کی کامیابی ہے کہ نظریہ پاکستان اور ملک خداداد کی اسلامی شناخت مسلمہ حقیقت ہیں، ایسے کہ انھیں آئینی تحفظ حاصل ہے، اور برسرزمین کوئی کھل کر ان کے خلاف بات نہیں کر سکتا. البتہ تمھارے قیبلہ کو تو ٹھینگا بھی نہ ملا، کچھ ملنا کیا تھا، نام و نشان ہی نہ رہا. یہی جماعت اسلامی کی کامیابی ہے، اور اسی کا تمھیں غم ہے، جس میں مجھے برابر کا شریک سمجھو.

کاش کبھی تم سوچتے!
کہ قبیلہ ناکام ہوا ہے تو کچھ وجہ ہوگی،
کچھ سبق، کچھ عبرت حاصل کرتے،
مگر افسوس!
کچھ سیکھنے کے بجائے بےکاری کی دھوپ میں بال سفید کیے جاتے ہو،
بے مقصد لن ترانی،
بے کار کی لفاظیاں،
منہ ٹیڑھا کر کے انگلش،
گزرے دنوں کی یاد میں
لایعنی جملہ بازی سے لطف اٹھانا
واہ واہ سمیٹنا اور بس!
یہ وہ زندگی ہے جس کا تم نے خواب دیکھا تھا؟
اور یہ وہ کامیابی ہے جس پر داد سمیٹنی تھی؟

تم سے تو پنڈ دادن خان کی جماعت اسلامی کا وہ کارکن بہت بہتر ہے جو دن بھر محنت مشقت کرتا ہے اور شام میں دروازے کھٹکھٹا کر لوگوں کو اپنے نظریے کی دعوت دیتا ہے، تم سے تو وہ لبرل ورکر بہتر ہے جو لبرل اپروچ کے ساتھ وفاداری سے کھڑا تو ہے اور اس کے سامنے زندگی کا کوئی مقصد تو ہے! وہ اس کے کے لیے کچھ قربانیاں تو دیتا ہے
(اور ایک تم ہو! نہ لیپنے کے نہ پوتنے کے۔)
کیوں کہ
Aimlessness is death

یہ بھی پڑھیں:   زندگی نو، نصف صدی کا تسلسل، تازہ شمارے کا جائزہ - سہیل بشیر کار

اور ہاں!
کیا واقعی کمیونسٹ بدل لبرل بیانیہ اتنا بانجھ ہو گیا ہے کہ اب فکری میدان میں شکست کا بدلہ فاتح کو طعنہ دے کر لے گا؟

(اپنے قارئین سے معذرت، میرا یہ اسلوب نہیں مگر، حنیف جیسے لوگ کبھی کبھی ایسا کروا لیتے ہیں)

Comments

زبیر منصوری

زبیر منصوری

زبیر منصوری نے جامعہ منصورہ سندھ سے علم دین اور جامعہ کراچی سے جرنلزم، اور پبلک ایڈمنسٹریشن کی تعلیم حاصل کی، دو دہائیاں پہلے "قلم قبیلہ" کے ساتھ وابستہ ہوئے۔ ٹرینر اور استاد بھی ہیں. امید محبت بانٹنا، خواب بننا اوربیچنا ان کا مشغلہ ہے۔ اب تک ڈیڑھ لاکھ نوجوانوں کو ورکشاپس کروا چکے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.