کتاب اور مطالعہ - علی حسین

عرب مصنف ”الجاحظ“ نے ایک پریشان حال شخص کو نصیحت کرتے ہوئے کہا کہ کتاب ایک ایسا دوست ہے جو آپ کی خوشامندانہ تعریف نہیں کرتا اور نہ آپ کو برائی کے راستے پر ڈالتا ہے۔ یہ دوست آپ کو اکتاہٹ میں مبتلا ہونے نہیں دیتا۔ یہ ایک ایسا پڑوسی ہے جو آپ کو کبھی نقصان نہیں پہنچائےگا۔ یہ ایک ایسا واقف کار ہے جو جھوٹ اور منافقت سے آپ سے ناجائز فائدہ اُٹھانے کی کوشش نہیں کرے گا۔ بقول قاسم علی شاہ جس طرح ہم ایک اچھے دوست کا انتخاب بڑا سوچ سمجھ کرکرتے ہیں، اس طرح اگر کتاب کا انتخاب کرنا ہو تو بہت سوچ کرناچاہیے۔ اچھی کتاب وہ ہوتی ہے جو زندگی کے معیار کو بہتر بنائے، اور ساتھ ہی ساتھ آخرت میں بھی نجات کا باعث بنے اس حوالے سے قرآن مجید سے بہتر کوئی کتاب نہیں ہو سکتی۔ جس طرح ہر چیز کی طلب اور پیاس ہوتی ہے، اسی طرح علم کی بھی طلب اور پیاس ہوتی ہے۔

ایک تحقیق کے مطابق وہ افراد جو مطالعے کو اپنا معمول بنا لیتے ہیں، ان میں دماغی تنزلی کا باعث بننے والے الزائمر امراض کا خطرہ دوسرے لوگوں کے مقابلے میں ڈھائی گنا کم ہوتا ہے۔ محقق کرسٹل رسل اپنے تحقیقی مقالےمیں لکھتے ہیں کہ مطالعہ آپ کا ذہنی تناؤ ختم کر کے آپ کی پُرسکون فیصلہ کرنے کی صلاحیت کو جلا بخشتا ہے۔ اچھی کتاب پڑھنے سے آپ کے ذخیرہ الفاظ میں اضافہ اور سوچنے کی صلاحیتوں میں بہتری آتی ہے۔ اگر ایک شخص روزانہ ایک گھنٹہ میں 20 صفحات کا مطالعہ کرے تو وہ ایک ماہ میں 600 صفحہ کی کتاب پڑھ سکتا ہے اور ایک سال میں 7200 صفحات کی 12 کتابوں کا مطالعہ کیا جاسکتا ہے۔ غور کریں کہ اتنی کتابوں کے مطالعہ کے بعد پڑھنے والے کے علم اور نالج کی کیفیت کیا ہوگی؟ اور اس سے اس کی اپنی ذات اور اپنے سے جڑے لوگوں کا کتنا فائدہ ہوگا۔ بقول جاوید چوہدری مطالعہ کو تبھی عادت بنایا جا سکتا ہے جب اپنی زندگی کا ہر اضافی پل، ہر اضافہ لمحہ مطالعے کو دیا جائے۔ جو شخص روزانہ دوگھنٹے مطالعہ نہیں کرتا اسے خود کو پڑھا لکھا نہیں کہنا چاہیے۔

قرآن کریم نے مسلمانوں میں لکھنے پڑھنے کا غیر معمولی ذوق پیدا کیا، یہ ذوق صرف مذہب تک محدود نہیں رہا، بلکہ علم کی تمام شاخوں تک پھیل گیا جس کا نتیجہ یہ نکلا کہ ہزار برس تک مسلمانوں نے دنیا پر حکومت کی لیکن جیسے ہی مسلمانوں نے علم سے منہ موڑا، زوال ان کا مقدربن گیا، اور غیر مسلم علم کی طلب کی وجہ سے دنیا کے حکمران بن گئے۔ پاکستان میں کتاب پڑھنے کا کلچر جدید ٹیکنالوجی کی وجہ سے مزید کم ہوتا جا رہا ہے، اور نوجوان نسل لائبریریوں کی جگہ گیمنگ زون اور ہاتھوں میں کتاب کی جگہ موبائل فونز، ٹیبلیٹ، آئی پیڈ اور لیپ ٹاپ تھامے نظر آتی ہے۔ وہ نوجوان جو پہلے اپنا وقت کتب بینی میں گزارتے تھے، اب وہی وقت جدید آلات اور انٹرنیٹ پر سرفنگ میں ضائع کر رہے ہیں۔ معاشرے میں لوگوں کی اکثریت کتاب کے بجائے عیاشی پر پیسے خرچ کرتی ہے لیکن دوسری طرف یہ بھی ہے کہ انٹرنیٹ پر بیش بہا کتابیں مفت دستیاب ہیں۔ اس کے علاوہ نیشنل بُک فاؤنڈیشن ایک ایسا ادارہ ہے جو کتاب کے کلچر کےفروغ کے لیے اپنا کردار ادا کر رہا ہے، وہاں پر نئی کتابیں آدھی سے بھی کم قیمت پر دستیاب ہیں. اس کےعلاوہ بہت سے مقامات ایسے ہیں جہاں پر پرانی کتابیں آدھی قیمت پر دستیاب ہیں۔ نجی سطح پر کتب میلوں کا انعقاد کیا جا رہا ہے جس میں لوگوں اور بالخصوص نوجوانوں کی کثیر تعداد شرکت کرتی نظر آتی ہے، وہ نہ صرف کتابیں خریدتی ہے بلکہ ان میں مطالعے کا شوق بھی پیدا ہو رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   سراج احمد تنولی کی کتاب "بات کر کے دیکھتے ہیں" - نقاش احمد

کوئی بھی کتاب انسان کو نہیں بدل سکتی جب تک خود اس کے اندر اپنے آپ کو بدلنے اور بہتر بنانےکی خواہش موجود نہ ہو۔ سمجھنے والا نکتہ یہ ہےکہ کتاب نہیں بلکہ خود انسان اپنے اندر تبدیلی کو جنم دیتا ہے۔ جب بندہ پڑھنے کے ساتھ ساتھ غوروفکر بھی کرتا ہے تو اپنے پہلے سے قائم شدہ تصورات کا جائزہ بھی لیتا ہے اور خود کو بدلنے کی کوشش کرتا ہے۔ کتاب صرف اسی وقت اپنا اثر دکھاتی ہے جب اندر مثبت تبدیلی کا امکان ہو۔ جو لوگ کتابوں کوسنجیدگی سے پڑھتے ہیں، وہ اپنی زندگیوں میں حیرت انگیز تبدیلیاں لانے میں کامیاب ہو جاتے ہیں۔ کچھ لوگ کتابوں سے حاصل ہونے والے علم کی بدولت مفلسی کے چنگل سے باہر نکل آتے ہیں، ذہنی سکون سے مالامال ہوتے ہیں اور مہلک بیماریوں پر قابو پا لیتے ہیں۔ کچھ لوگ انہی کتابوں کی بدولت مایوسی کے اندھیروں سے نکل آتے ہیں اور اپنی زندگیاں نئے ولولے اور جوش کے ساتھ نئے سرے سے شروع کرتے ہیں۔ کچھ لوگ انھی کتابوں سے سیکھتے ہیں کہ انسانوں سے محبت کرنا اور ان کی خدمت کرنا زندگی کا اصل مقصد ہے۔ کچھ لوگ انھی کتابوں کی بدولت منفرد سوچ اور تخلیق کے رازوں سے آشنا ہوتے ہیں۔

اگر ہم ترقی کی شاہراہ پر قدم رکھنا چاہتے ہیں تو اس کا ذریعہ صرف یہ ہے کہ لوگوں میں پڑھنے کی عادت پیدا کریں کیونکہ علم کی فصل قلم و کتاب کی جس زمین پر اگتی ہے، اسے پڑھنے کا شوق رکھنے والے لوگ سیراب کرتے ہیں۔ اور جس معاشرے سے مطالعے کا ذوق اور عادت ختم ہو جائے وہاں علم کی پیداوار بھی ختم ہوجاتی ہے۔
کتابیں منتخب کرنے کے حوالے سے سید قاسم علی شاہ فرماتے ہیں کہ:
1۔ اپنے آپ کو جانیے، اپنی شخصیت کو جانیے، اپنے رجحان کو دیکھیں اس رجحان کے مطابق کتابیں تلاش کریں۔
2۔ ان اساتذہ کرام، دوستوں سے جو کتابیں پڑھنے کا شوق رکھتے ہیں ان سے پوچھیں کہ کون سی کتابیں زیادہ فائدہ مند ہیں۔
3۔ یہ دیکھیں کہ اخبارات میں جو کتابوں پر تبصرے لگتے ہیں، ان کو پڑھیں اور کتابیں خرید کر پڑھیں۔
4۔ جب کسی چیز کا شوق بڑھانا ہو تو پھر آپ عمومی طور پر جہاں آپ کا شوق بڑھتا ہے، ان جگہوں کا دورہ کرتے ہیں، آپ گاہے بگاہے لائبریری کا دورہ کریں، کتابوں کی دکان کا دورہ کریں جو خرید سکتے ہیں، ضرورخریدیں۔

یہ بھی پڑھیں:   صدر ایردوان کی طرف سے سربراہان کے لئے کتاب

کسی نے خوب کہا ہےکہ جو ریڈر ہوتے ہیں وہی لیڈرز ہوتے ہیں۔ بقول جاوید چوہدری جس طرح خوراک رزق ہوتی ہے، اسی طرح فقرے اور لفظ بھی رزق ہوتے ہیں، قدرت مختلف حیلوں اور بہانوں کے ذریعے یہ رزق ہم تک پہنچاتی ہے۔ دنیا کا کوئی ملک، کوئی قوم تعلیم کے بغیر ترقی نہیں کرسکتی۔ دنیا کا ہر وہ معاشرہ جس میں صنعتکاروں، شاعروں، عالموں، اور دانشوروں کی تعداد زیادہ ہوتی ہے، اس کا شمار ترقی یافتہ اور خوشحال معاشروں میں ہوتا ہے۔ جب تک کسی قوم کی یونیورسٹیاں، کالج اور سکول آباد رہتے ہیں، ان کے لیکچر ہالوں میں علم اور ادب پر گفتگو جاری رہتی ہے اس وقت تک اس قوم پر زوال نہیں آتا۔