بین الاقوامی دہشت گردی اور اصل مجرم کی نشاندہی - میاں عتیق الرحمن

سیاسی یا سماجی مقاصد کے تحت کسی کو خوف زدہ کرنے کےلیے اس طرح تشدد کرنا کہ اس کا رخ عام شہریوں اور لڑائی میں حصہ نہ لینے والوں کی طرف ہو۔ دہشت گردی عام تشدد سے کہیں بڑھ کر ہوتی ہے، جس میں صرف دو فریقین ہوتے ہیں اور تیسرا اس سے متاثر ہوتا ہے، ایک جارحیت کرنے والا اور دوسرا اس کا شکار (Victim)۔ تیسرا جو اس دہشت زدہ کر دینے والے تشدد سے مرعوب یا خوف زدہ ہو جاتا ہے جو جارحیت کے شکار کے ساتھ پیش آ رہے ہیں۔

کسی حکومت کی طرف سے سیاسی یا معاشی تبدیلی لانے کی خاطر بےگناہ شہریوں کے خلاف طاقت کے استعمال کی دھمکی یا اس کا استعمال دہشت گردی میں شامل ہے جبکہ دوسری طرف کسی حکومت کو ڈرا دھمکا کر اور خوف زدہ کرکے اپنے سیاسی، معاشرتی اور معاشی مقاصد کو آگے بڑھانے کے لیے اس حکومت کی شہری آبادی کے کسی حصے کی جان و مال کے خلاف غیر قانونی تشدد کرنا یا اسے حیاتیاتی، کیمیائی، جوہری ترکیبوں یا سیاسی بنیاد پر قتل کرنا بھی دہشت گردی ہی کہلاتا ہے۔ تھانیدار سمجھی جانے والی دنیا کی بڑی ریاستوں کی طرف سے شام، عراق، فلسطین، کشمیر، لیبیا اور افغانستان وغیرہ میں کیے جانے والے تمام جنگی جرائم بھی اسی تعریف میں داخل ہیں۔

دہشت گردی انسانی عمل، قانون اور تصادم کے اُصولوں کی خلاف ورزی کا نام ہے، اس کا مقصد حادثاتی و سرسری سفاکی کے ذریعے ہمت کو توڑنا، غیر انسانی بنانا، تذلیل کرنا اور خوف زدہ کرنا ہے۔

پہلی مرتبہ لفظ دہشت گردی یا دہشت گرد کو مارچ 1773ء سے جولائی 1794ء تک فرانسیسی حکومت کے برپا کیے ہوئے عہد ِدہشت کے لیے استعمال کیا گیا۔ حکومت مخالف سرگرمیوں کے اظہار کے لیے لفظ دہشت گرد کا استعمال 1866ء میں آئرلینڈ اور 1883ء میں روس کے حوالے سے تحریری شکل میں آیا۔ 1930ءاور 1940ء کی دہائیوں میں زیر زمین کام کرنے والے یہودیوں کو دہشت گرد کہا جاتا تھا۔

اس بات کا تعین ممکن نہیں کہ کون دہشت گرد ہے اور کون نہیں؟ ‏ایک شخص کے نزدیک جو ”دہشت گرد“ ہے، وہی دوسرے کے نزدیک ”مجاہد ِحریت“ ہے۔1980ء کے عشرے میں ڈک چینی جیسے سیاست دان نیلسن منڈیلا کو دہشت گرد قرار دے رہے تھے، عین اس وقت امریکی حکومت اسامہ بن لادن اور اس کے ساتھیوں کو جنگ ِآزادی کے سپاہی قرار دے کر ان کی تعریف کر رہی تھی۔ آئرلینڈ کی سن فین (‏Sinn Fein‏) کے جیری آدمس بھی دہشت گرد تھے، مگر اب وہ بڑے ‏عظیم مدبر اور رہنما ہیں، اور اسامہ دہشت گرد۔

پہلے پہل فلسطین کے رہنما یاسر عرفات کو بھی دہشت گرد کہا جاتا تھا لیکن پھر حالات نے انہیں بھی اس بدنام زمانہ اصطلاح سے نکال باہر کیا۔ تین اسرائیلی وزرائے اعظم خود اپنے اعتراف کے مطابق دہشت گرد تھے یا ان پر دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہونے کا الزام قانونی طور پر لگایا جا سکتا تھا۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ہمارے سب سے نئے حلیف، روس کے صدر ولادی میر پوٹن آج بھی چیچنیا میں ایک ایسی غلیظ جنگ لڑ رہے ہیں، جسے شہریوں کے خلاف بہیمانہ مظالم کی وجہ سے دہشت گردی سے تعبیر کیا جا سکتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف دنیا کا اخلاقی رویہ بھی بڑا ہی تضاد کا شکار ہے، جن گروہوں کو ہماری سرکار یا ہماری سرکار کی سرکار پسند نہ کرے، انھیں دہشت گرد کہہ دیا جاتا ہے جبکہ وہی کام اگر سرکار یا سرکار کی سرپرستی میں اس کے پسندیدہ کر رہے ہوں تو وہ لائق ستائش و تحسین شمار کیے جاتے ہیں۔ اور ذرائع ابلاغ پر دہشت گردی کے بیانیہ کی یہی نظریاتی چھاپ نظر ہوتی ہے۔ اسی نقطہ نظر کے تحت دوست حکومتوں کی طرف سے کی جانے والی دہشت گردی کو برداشت کر لیا جاتا ہے۔

ایک وقت تھا کہ فلسطینیوں کو سب سے بڑا دہشت گرد کہا جاتا تھا، 1948ء میں ان کو وطن سے محروم کر دیا گیا، 1948ء سے 1968ء تک وہ دنیا کی ہر عدالت کا دروازہ کھٹکھٹاتے رہے۔ انہوں نے ہر ملک کے دَر پر دستک دی، لیکن انہیں بتایا گیا کہ ان کی کوئی حیثیت نہیں ہے، اور عرب ریڈیو کے ذریعے انہیں چلے جانے کا حکم دیاگیا، کوئی شخص سچائی سننے کو تیار نہیں تھا۔

مسلمانوں پر جس طرح عرصہ حیات تنگ کیاگیا اوراس کے نتیجے میں ناامیدی اور مایوسی کی ایک کیفیت پیدا ہوئی، جبکہ اس تشدد اور محرومی نے مسلمانوں کے ‏بعض نوجوانوں کو کفر کے ‏اجتماعی تشدد کے جواب میں محدود اور انفرادی تشدد کی کاروائیاں کرنے پر مجبور کر دیا، جس پر مغرب اور امریکہ چیخ اٹھا، اس ‏انفرادی جوابی تشدد کو دہشت گردی کا نام دے کر مزید اجتماعی ‏اور منظم دہشت گردی پر اتر آیا، چونکہ اس کے پاس اسلحہ اور میڈیا کی طاقت ‏ہے، اس لیے مسلمانوں کو اسلامی دہشت گرد قرار دیا جا رہا ہے، اور ان کا خون مباح سمجھا جا ‏رہا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   کشمیر کی صورتحال اور آئی ایم ایف کا بیان، کیا اتفاق ہے؟ انصار عباسی

وہ 19 افراد، جن پر ورلڈ ٹریڈ سینٹر کے جڑواں ٹاورز اور پینٹاگون کا ایک حصہ تباہ کرنے کا الزام لگا، وہ درمیانی طبقے کے تعلیم یافتہ اور اعلیٰ تربیت یافتہ افراد تھے۔ انہوں نے امریکہ کے مختلف حصوں میں موجود فلائٹ سکولوں سے طیارے اُڑانے کی تعلیم حاصل کی تھی۔ انہوں نے اس قدر رازداری کے ساتھ اور غیر معمولی ہتھیاروں کے ذریعے کارروائی کی کہ امریکہ کی ساری خفیہ ایجنسیوں کو اس کی کانوں کان خبر نہ ہوئی اور وہ اس المیے کو روک نہ سکیں۔ یہ اغوا کنندگان کوئی اَن پڑھ، انتہائی مایوس اور ناراض نوجوان نہیں تھے، جو اپنے جسموں سے چند بم باندھ کر کسی شاپنگ مال میں داخل ہوجائیں، جیسا کہ اور جگہ ہوا ہے۔ جو لوگ ان اُنیس افراد کو جانتے تھے، وہ ان کو عام، اوسط درجے کے، اور صحیح دماغ سمجھتے تھے، اور کبھی سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ وہ ایسے ہولناک کاموں کی صلاحیت بھی رکھتے ہوں گے۔

پچھلے 40 سال میں سلسلہ وار قتل اور قتل انبوہ کی سب سے بڑی تعداد ریاست ہائے متحدہ امریکہ میں ہے۔ ”انسان کا شکار“ نامی کتاب میں مصنف ایلیٹ لیٹن نے نکتہ اٹھایا ہے کہ تناسب کے اعتبار سے امریکہ، دنیا میں سب سے زیادہ قاتل پیدا کرنے والا ملک ہے۔ یہ ممکن ہےکہ ان قاتلوں کے ذاتی، سیاسی اور مذہبی نظریات ہوں مگر یہ نہ تو کسی منظم سیاسی یا مذہبی جماعت کے رکن ہوتے ہیں، اور نہ ان کی سرگرمیاں کسی پارٹی کے ایجنڈے کا حصہ، جیسا کہ آج کل دہشت گردوں کے ساتھ ہوتا ہے۔

دہشت گردی کے خلاف عالمی اتحاد، دراصل دنیا کے امیر ترین ملکوں کا گٹھ جوڑ ہے۔ دنیا کا تقریباً تمام اسلحہ یہی ملک تیار اور فروخت کرتے ہیں۔ دنیا میں بڑے پیمانے پر ہلاکت پھیلانے والے کیمیائی، حیاتیاتی اور ایٹمی ہتھیاروں کے سب سے بڑے ذخیرے انھی ملکوں کے پاس ہیں۔ دنیا میں سب سے زیادہ جنگیں ان ہی ملکوں نے لڑی ہیں۔ یہی جدید تاریخ میں نسل کشی، غلامی، نسلی تطہیر اور انسانی حقوق کی خلاف ورزی کے بیشتر واقعات کے ذمہ دار ہیں اور انہوں نے بےشمار آمروں اور مطلق العنان حکمرانوں کو حمایت، مالی تعاون اور اسلحے کی مدد فراہم کی ہے۔
مال و دولت اور وسائل لوٹنے اور جیتنے کے لیے کی جانے والی دہشت گردی کو مذہب کا نام دیا تاکہ وسط ایشیائی ریاستوں کے تنازعے کے اہم پہلوؤں کو چھپالیا جائے۔ انصاف اور جمہوریت کی خاطر جنگ کے بلند بانگ دعوے، در حقیقت بحیرۂ اخضر کے طاس (Caspian Basin) پر پھیلے ہوئے 8 ٹریلین ڈالر مالیت کے تیل اور گیس کے ذخائر پر امریکی اختیار کو مستحکم کرنے کے لیے بنائے ماسٹر پلان کا حصہ ہے۔

1991ء میں بش سینئر کے ”آپریشن ڈیزرٹ سٹارم“ کا مقصد جنوبی عراق میں واقع رومیلا میں تیل کے ذخائر تک رسائی حاصل کرنا تھا اور جنگ کے خاتمے کے بعد اس ذخیرے کو کویت کے علاقے میں شامل کر لیا گیا۔ اسکی مدد سے کویت میں قائم امریکی اور برطانوی تیل کمپنیوں کو تیل کی دگنی پیداوار حاصل ہونے لگی۔

اسلام کو دہشت گردی سے جوڑنے کا پروپیگنڈہ کرنے والی قوت بھی واضح اور ‏ہماری نظروں کے سامنے ہے، جن بنیادی مقدمات کو سامنے رکھ کر دہشت گردی کا الزام ثابت کیا جا رہا ہے، اس کی جہتیں بھی واضح و نمایاں ہی،ں اور جن اسلوب و مناہج ‏کے سہارے یہ اقدامات کیے جا رہے ہیں، وہ بھی ہمیں صاف نظر آرہے ہیں۔ اگر کچھ نظر نہیں آرہا ہے تو وہ ہے ایمانی ہمت وجرأت، اسلامی شجاعت و بہادری، وہ روح، وہ ‏جذبہ اور مسلمانوں کے وہ فطری تیور جن کے سہارے ان باطل قوتوں کی دسیسہ کاریوں کا مدلل جواب دیا جاتا۔ اور اسلام پر لگنے والے ان الزامات کا تدارک اور ‏مسلمانوں کے عرصہ حیات کو تنگ کرنے کے حوالے سے کی جانے والی سازشوں، معرض وجود میں آنے والی تخریبی کاروائیوں اور مسلم مخالف اقدامات کا تصفیہ ‏ہوسکتا، اس جہت سے امت کے لے جو امر لمحہ فکریہ کی حیثیت رکھتا ہے، وہ یہ ہے کہ اس حوالے سے مضبوط تر ملکی و فوجی نظام ترسیلی سہولیات، صلاحیت و قابلیت اور پھر ‏بنیادی وسائل کے باوجود ہم اس فکر اور نظریہ کے انسداد کا کامیاب عمل انجام نہیں دے پا رہے ہیں، اور ہماری یہ ناکامی اسلام کی ذاتی اسپرٹ، فطری معصومیت اور ‏مسلمانوں کے موجودہ جغرافیے کے لیے کافی خطرناک ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   ترکی کو F-35 طیاروں کی فروخت رکوانے میں اسرائیل کا ہاتھ ہے

دہشت گردی اور اسلام دو ایسے لفظ ہیں، جن کا آپس میں دور کا بھی کوئی تعلق نہ ہونے کے باوجود کئی دہائیوں سے باہم جڑے ہوئے ہیں، اور ‏اس ذیل میں اسلام پر میڈیا کی بڑی مہربانیاں رہی ہیں۔ میڈیا ہمیشہ سے یہ محسوس کراتا رہا ہے کہ اسلام اور دہشت گردی کا چولی دامن کا ‏ساتھ ہے۔ اب اس غلط فہمی کے لیے ہم اپنی کوتاہیوں کو مورد الزام قرار دیں یا پھر میڈیا کے افراد کی تن آسانی اور ان کے اندر تفتیش و ‏تحقیق کی مجرمانہ حد تک کمی کو، یا پھر ہم یہ مان لیں کہ میڈیا خاص نقطہ نظر کے ساتھ تجاہل عارفانہ برتتے ہوئے ان الفاظ کو باہم جوڑ کر پیش ‏کر رہا ہے، اور اس کے پس پردہ جو فکر کام کر رہی ہے، وہ یہ ہے کہ دنیا کو یہ باور کرا دیا جائے کہ اسلام امن و آشتی کا مذہب نہیں بلکہ دہشت ‏گردانہ سرگرمیوں کا مصدر و منبع ہے اور اسلامی تعلیمات کے اندر ہی کچھ ایسی باتیں ہیں جو اس کے پیروکاروں کو دہشت گردانہ اعمال کی ‏انجام دہی پر اکساتی ہیں۔

اسلامی اسٹرکچر و انفراسٹرکچر کی اندرونی و بیرونی ساخت انتہاپسندی، دہشت گردی اور تشدد پسندی کے جراثیم اور اس کی آمیزش سے بالکل ‏محفوظ ہے گویا یہ ایک بدیہی حقیقت ہے کہ اسلام ایک امن پسند، فطرت سے ہم آہنگ اور قدرتی مظاہر سے بھرپور مذہب ہے اس کی نرم پالیسیوں، انسانیت کے ‏احترام اور ایسے بنیادوں اور طریق کار کی بناء پر جس میں بنی نوع انسان کے حقوق کو تحفظ ملتا ہے اسے دین انسانیت کہا جاتاہے او رپھر اس کی پوری تاریخ انسانیت کے ‏احترام ان کے حقوق کی رعایت اور انسانی اقدار کی حفاظت سے معمور ہے بایں طور کہ پورا اسلام جن بنیادوں پر استوار ہے وہ‎ ‎قرآن‎ ‎وحدیث ہے، اس کا ہر‎ منشور ‏دہشت گردی، فساد فی الارض اور انسانی طبقات کی ایذا رسانی کی سراسر مخالفت کرتا ہے، اور ایسا کرنے والوں کو مجرم اور شرعی حدود و تعزیرات کا سزاوار ٹھہراتا ہے، ‏لیکن پھر بھی اس مفروضے کا عام ہونا کہ اسلام دہشت گردی اور انتہا پسندی کا سبق دینے والا اور اس کی پذیرائی کرنے والا، متشدد اور سخت گیر مذہب ہے، تو انسانی بالخصوص دنیا ‏کے لیے شرم سے ڈوب مرنے کا مقام ہے. پوری دنیا میں اگر اس مفروضے کو حقیقت کے شاکلہ میں عام کیا جا رہا ہے تو وہ سچی انسانیت کا کھلواڑ ور اس کی صداقت پسندی کا کھلا ‏مذاق ہے۔ کیا انسانی دنیا اخلاقی طورپر اس پست ترین مقام تک پہنچ گئی ہے جہاں جھوٹ کو سچ سمجھنا ایک معمولی امر ہوگیا ہو، کیا یہ انسانی دنیا کے لیے لمحہٴ فکریہ نہیں ہے؟ ‏کیا انسانی آبادی کو اس حوالے سے غور و فکر کی ضرورت نہیں ہے؟ عالم اسلام کے لیے یہ واقعہ اس سے زیادہ سنگین اور افسوسناک ہے کہ اسلام کے ماننے والوں اور اس ‏کے پیروکاروں کی اتنی کثیر تعداد بے تحاشا مادی وسائل، مضبوط و مستحکم نظریات اور ٹھوس عقائدی امور ہونے کے باوجود مغربی سازشوں کا شکار ہوجانا اور ان کی ‏شیطانی طاقتوں سے زیر ہوجانا بڑی ندامت کی بات ہے۔

اسلام انسانوں پر چیرہ دستی کرنے والے کی سخت مخالفت کرتا ہے اور ظلم و ستم کرنے سے منع کرتا ہے. ارشاد باری تعالیٰ ہے:
[pullquote] ”یا عبادی انی حرمّت الظلم علی نفسی فلا ‏تظالموا“[/pullquote]

اسلام میں انسانی حقوق کی اہمیت اور اس کا احترام جتنا ہے شاید ہی کسی مذہب میں اس کا عشر عشیر پایا جاتا ہو۔ دراصل اسلام میں کلمہٴ توحید زبان سے ادا کرنے ‏کے ساتھ ہی انسانی حقوق کی رعایت کے ہدایات جاری ہوجاتے ہیں احترام انسانیت کے لئے اخلاقیات کا کافی بڑا درس دیا جاتا ہے اور معاشرتی و سماجی سطح پر حقوق انسانی ‏کی تحدید بھی حقوق انسانی کی محافظت کی غرض سے ہے، انسانیت کو فرعونیت سے محفوظ رکھنے کے لئے شورائیت پر انتہائی زور دیاگیا ہے اور حکمرانوں کو اس کا پابند ‏بنایاگیا ہر انسان کے تحفظ اور اس کے حقوق کی رعایت و حفاظت کے لئے واضح قانون بنائے گئے تاکہ انسانیت کا احترام برقرار رہے اور منصفانہ نظام عدل کی تو اسلام میں ‏اتنی اہمیت ہے کہ کسی بڑے سے بڑے امیر کو بھی اس کے جرم کی بناء پر قانون کے حصار میں بڑی آسانی سے لایا جاسکتا ہے۔ اس نوعیت کے واقعات تاریخ اسلام میں ‏بھرے پڑے ہیں ۔اللہ تعالیٰ سمجھنے کی توفیق نصیب فرمائے۔ آمین