فکری یتیموں کے مغالطے - احسن سرفراز

ایک زمانہ تھا جب کیمیونزم ایک مضبوط فلسفہ زندگی کی حیثیت سے سامنے آیا اور اس نے اپنے نظریے کا اسیر ایک زمانے کو بنائے رکھا۔ ہمارے ملک میں بھی ٹیڈی پینٹس پہنے، ہپی بال رکھے اور چی گویرا کو اپنا ہیرو ماننے والے نوجوان اس نظریے کے اسیر تھے جن کے ایشیاء سرخ ہے کے نعروں سے تعلیمی اداروں میں گھمسان کا رن پڑتا تھا۔ اس فلسفے کی جہاں بہت سی فطری و فکری کمزوریاں تھیں وہیں اس نے ایک اور بڑی غلطی دین کی مخالفت کر کے کی۔

الحاد اس فلسفے کا ایک بنیادی جزو تھا جس کے مضر اثرات اخلاق وکردار سے عاری معاشرے کے طور پر نکلنا لازم تھے۔ جب کیمیونزم اپنے گھر ماسکو میں شکست و ریخت سے دوچار ہوا تو یہاں ہمارے ملک میں اس کے چاہنے والوں میں بھونچال آنا فطری امر تھا۔ ان شکست خوردہ کیمیونسٹوں کے ایک گروہ نے اس فلسفے کی ناکامی کا گہرائی سے جائزہ لیا۔ جہاں تک اس فلسفے کا سرمایہ دارانہ اور مادیت پرستی پر مبنی نظام کو چیلنج کرنے کی بات تھی وہ واقعی اثر رکھتی تھی لیکن ساتھ ہی ساتھ یہ نظام اپنے چاہنے والوں سے یہ بھی مطالبہ کرتا تھا کہ جس ملک میں یہ نظام نافذ نہیں، وہاں کی ریاست سے غداری کر کے بھی اس نظام کے حامی ملک کا ساتھ دینا ہے، ساتھ ہی ساتھ اپنے ملک کے عام شہری کے مذہبی عقائد کو بھی تنقید کا نشانہ بنانا ہے، بلکہ اسے مذہب کے خلاف نفرت پر ابھارنا ہے۔ اس گروہ نے نہ صرف ریاست کے خلاف سازش اور مذہب بیزاری کا رویہ ترک کر دیا بلکہ ریاست کی خامیوں کو درست کرنے اور مذہب کے غلط استعمال کے خلاف آواز اٹھانے کو اپنانے کا فیصلہ کیا، جبکہ اپنے پرانے دشمن سرمایہ دارانہ نظام پر کڑی تنقید اسی شدت سے جاری رکھی۔ میری نظر میں یہ گروہ قابل عزت و قابل تعریف ہے اور معاشرے و ریاست کی فلاح کیلیے اس کا موجودہ کردار بھی قابل قدر ہے۔

جبکہ اس کے برعکس سابقہ کیمیونسٹوں ہی کے دوسرے گروہ نے پینترا بدلتے ہوئے اپنے سابقہ اصل حریف سرمایہ دارانہ نظام کی گود میں بیٹھنے کا فیصلہ کر لیا اور دانش مغرب ہی کو اپنی دانش قرار دے دیا۔ اس فریق کی نظر میں مغرب کا ہر فلسفہ خواہ وہ اچھا ہو یا برا آسمانی صحیفے کی طرح مقدس ہے، جبکہ مذاہب میں سے بھی اپنے فکری آقا مغرب کی طرح ہر خرابی کی جڑ اسلام کو قرار دینا ہے۔ آزادی اظہار رائے کی بنیاد پر انبیاء تک کی گستاخی ان کی نظر میں بنیادی حق ہے، جبکہ اگر اسی آزادی کا استعمال کرتے ہوئے کوئی انک ی عریانیت و فحاشی پر مبنی تہذیب پر سوال اٹھائے تو ان کے منہ سے کف نکلنے لگتی ہے، اور یہ اس پر فوراً جاہل اور انتہا پسند کا ٹیگ لگا دیتے ہیں۔ مغربی جمہوریت کی پرستش ان کا مذہب ہے لیکن اگر یہاں کی جمہوری اسمبلی مکمل اتفاق رائے سے اسلامی قوانین منظور کرتی ہے یا باطل عقائد کی بنیاد پر ایک گروہ کو اسلام سے خارج قرار دیتی ہے تو یہ جمہوری فیصلہ ان کا پیٹ درد بڑھانے کا باعث بنتا ہے۔ جس ریاست کا کھاتے ہیں اور جہاں رہتے ہیں، وہاں کے اداروں سے خدا واسطے کا بیر رکھنا ان کا مشن ہے جبکہ اپنے ملک کی دشمن ریاستوں کی یہاں ریشہ دوانیوں کو یہ افسانہ یا ہمارے ریاستی اداروں کی پالیسیوں کا ردعمل قرار دیتے ہیں۔ برصغیر کی تقسیم کو غلط فیصلہ کہتے ہیں اور پاکستان کی تقسیم کے حق میں بولتے ہیں۔ مغرب چاہے ایک جھوٹ کی بنیاد پر ملک کا ملک تباہ کر دے ان کی پیشانی پر بل نہیں آتا اور اگر کوئی جنونی غلط حرکت کر بیٹھے تو اسلامی تعلیمات کی الف بے کا پتہ نہ ہونے کے باوجود اسلام کو اس کا ذمہ دار ٹھہرا دیتے ہیں۔ بسنت، ویلنٹائن ڈے و ہیلووین جیسی غیر ملکی خرافات پر لاکھوں روپیہ بھی اگر اڑا دیا جائے تو اسے زندہ دلی کی علامت کہتے ہیں جبکہ عیدین جیسے اسلامی تہوار انھیں پیسے کا ضیاع اور ظلم لگتے ہیں۔ عورت کے ذہن میں یہ ڈال کر اس کا استحصال کرنا ان کا محبوب مشغلہ ہے کہ تم جتنی برہنہ ہوگی اتنی آزاد خیال کہلاؤ گی، جبکہ یہی عورت اگر حجاب کی صورت اپنا تحفظ چاہے تو اسے دقیانوسیت کا طعنہ دیتے ہیں۔ بالوں اور داڑھی کے مغرب سے آنے والا ہر بے ہنگھم اور مضحکہ خیز سٹائل بنوانا ان کے نزدیک فیشن ہے اور اسلامی تہذیب کی علامت داڑھی دیکھتے ہی ان کے سینے پر سانپ لوٹنے لگتے ہیں۔ مغرب میں اگر کوئی پٹاخہ بھی پھوٹ جائے تو موم بتیاں جلا کر سینہ کوبی شروع کر دیتے ہیں جبکہ ڈرون حملوں کی زد میں آکر اپنے ہی ملک میں ہلاک ہونے والے عورتیں اور بچے ان کی نظر میں کیڑے مکوڑوں جتنی اہمیت حاصل نہیں کر پاتے۔ ملکی ترقی کے زینے سی پیک سے تو بہت نالاں ہیں لیکن نیٹو کے سپلائی روٹ پر کبھی نہیں بولیں گے۔ ونیورسٹیز میں نشے کا سرعام فروغ اور استعمال ان کی آنکھ سے اوجھل رہتا ہے جبکہ مدارس میں کوئی غیر اخلاقی واقعہ ہو جائے تو یہ اس کی تشہیر کرنے اور اسے اسلام سے جوڑنے کو فرض منصبی ٹھہراتے ہیں۔

الغرض ان فکری یتیموں کے لینے اور دینے کے باٹ اور ہیں، منافقت اور نفس پرستی ہی ان کا عقیدہ ہے۔ معاشرے میں شراب، جنسی بے راہ روی اور مذہب بیزاری ان کی نظر میں ترقی کا پیمانہ ہے۔ اپنے ملک کے ہر منفی پہلو کو نمایاں کرنا اور مثبت پہلو میں کیڑے نکالنا ان کا شیوہ جبکہ مغرب کے گندے فُضلے کو بھی امرت دھارا ثابت کرنا ان کا مشن ہے۔ ان کی ہمدریاں ہمیشہ اپنی ریاست کے بجائے ریاست کے دشمنوں کے ساتھ رہتی ہیں۔ مذہبی انتہا پسندوں کی ماورائے عدالت ہلاکتوں و گمشدگیوں پر یہ تالیاں پیٹتے ہیں، جبکہ اگر ریاست علیحدگی پسندی یا لبرل سیاسی جماعتوں کی آڑ میں قتل و غارتگری کا مظاہرہ کرنے والے دہشت گردوں کے خلاف کوئی قدم اٹھاتی ہے تو اسے یہ بنیادی انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہیں۔

ضرورت اس امر کی ہے کہ جہاں مذہبی انتہا پسندی اور مذہب کی غلط تشریح کے ذریعے دہشت گردی کرنے والوں کا قلع قمع ضروری ہے وہیں ان فکری اور لبرل دہشت گردوں کی ریاست و اسلام دشمن ریشہ دوانیوں کو لگام دینا وقت کی ضرورت ہے ورنہ ان کی اشتعال انگیز حرکات کو کنٹرول نہ کر کے ریاست جانبداری کا ثبوت دے گی اور یہی چیز دوسری طرف کے انتہا پسندوں کو مہمیز دینے کا باعث بنتی ہے۔

Comments

احسن سرفراز

احسن سرفراز

احسن سرفراز لاہور کے رہائشی ہیں. سیاست اور دیگر سماجی موضوعات دلچسپی کا باعث ہیں. ان کے خیال میں وہ سب کی طرح اپنے رب کی بہترین تخلیق ہیں اور کوشش کرتے ہیں کہ رب کی تخلیق کا بھرم قائم رہے.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */