کراچی، اصلاح ہی اصلاح چاہیے - قدسیہ ملک

کراچی جو کئی دہائیاں پہلے کلانچی مچیروں کی بستی ہوا کرتا تھا۔ قیام پاکستان کے بعد یہ کراچی جو روشنیوں کا شہر غریبوں کی ماں کا لقب پاتا تھا۔یہاں کی گلیاں، چوبارے اور چوراہے غریبوں کے لیے ہر وقت کھلے رہتے تھے۔ رنگ و رونق چہل پہل یہاں کا خاصہ تھے۔ کراچی کی معیشت پر ملکی معیشت کا انحصار ہوا کرتا تھا۔ مملکت خداداد کا میٹروپولیٹن شہر کا اعزاز ہونے کے ساتھ ساتھ مختلف قومیتوں ، قبیلوں، ذات، برادری اور ملک بھر سے لوگ یہاں روزگار اور تعلیم حاصل کرنے آتے تھے۔ سمندری تجارت کے باعث پورے ملک کی تجارت اور معیشت پر اس کا بلواسطہ و بلاواسطہ انحصار کسی سے پوشیدہ نہیں۔

لیکن رفتہ رفتہ یہاں کی رونقوں کو دشمن کی نظر لگ گئی ، غیروں کی سازشوں اور اپنوں کی بے اعتنائی نے آہستہ آہستہ اس شہر کا امن ختم اور روشنیوں کو ماند کردیا۔دن رات بلا خوف و خطر چلتا رہنے والے شہر پر خوف کے بادلے منڈلانے لگے۔ صفائی اور سادگی کا اعلیٰ معیار رکھنے کے باوجود کچرے کے نام سے موسوم ہوکر رہے گیا۔ وہی کراچی جو ملکی سیاست معیشت معاشرت صنعت وثقافت میں اپنا ثانی نہیں رکھ تھا اپنوں کی رقابتوں انتقام اور غیروں کی سازشوں کی نظر ہوگیا۔ سیاست سے لے کر تعلیمی اداروں تک سب ہی مقتل گاہوں کاروپ دھارنے لگے۔ عصبیت کی بھڑکائی ہوئی آگ ایسی بھڑکی کہ شہر کو جھلسا کر راکھ کر گئی۔

یہاں پر یہ بات اہم ہے کہ کراچی کی موجودہ حالت جو بھی ہو مگر کراچی والوں کے دلوں میں آج بھی محبت ، اپنائیت اور خلوص ویسا ہے جیسے برسوں پہلے ہوا کرتا تھا۔ یہیں وجہ ہے کہ آج بھی جو کراچی میں ایک بار آتا ہے وہ کراچی کا ہو کر رہے جاتا ہے۔ یہ کراچی کے باسیوں کا المیہ رہا ہے یا قسمت کہ ان کے لیے ہر دن ایک امتحان اور ہر دن ایک امید ہوتا ہے۔ کراچی کے شہریوں نے ہمیشہ ہر صبح ایک نئی امید اور امنگوں کے ساتھ کی۔ اس وقت بھی کراچی سمندر کے بیچوں بیچ تیز ہوا کے جھونکوں میں ہچکولی کھاتی کشتی کی ماند ہے۔ شہر میں امن و امان کی صورتحال کچھ کنٹرول ہوتی ہی کہ پھر اگلے دن پتا چلتا ہے کہ کچھ غلط ہوگیا ہے۔ فائرنگ ہوتی ہے تو کہیں آگ بھڑک اٹھتی ہے۔ کہیں حادثہ ہوجاتا ہے تو کہیں شہری اور صوبائی حکومت آپس میں الجھتے نظر آتے ہیں۔ بچی کھچی کثر وفاقی حکومت پوری کردیتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   نصف ایمان بچانا ہوگا - عنایت کابلگرامی

معاشی طور پر مستحکم اور ملکی سطح پر معیشت کو سہارہ دینے والے شہر کراچی میں دیر پا امن کے لیے کچھ اقدامات کرنا ناگزیر ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے ادارے اپنا کردار ادا کرنے کے لیے آگے بڑھیں،عوام میں شعور بیدار کرنے کے لیے سیاسی تنظیمیں بھی اپنا کردار ادا کریں۔ اسکولوں کی سطح پر بچوں کی ذہنی نشوونما کو بہتر بنانے اور بچوں کو معاشرے کا ایک کارآمد شہری بنانے کے لیے سرکاری سطح پر اسکولوں میں غیرنصابی سرگرمیاں کراوئی جائیں۔

شہر کو بنیادی سہولیات کی عدم فراہمی بھی شہر میں مسائل کو جنم دینے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ عورتوں اور بچوں کی صحت کے حوالے سے اسپتالوں اور صحت کے مراکز میں آگاہی پروگرام کا انعقاد ہونا چاہیے۔ اسپتالوں میں شعبہ ایمرجنسی کو بہتر بنایا جانا ، اسٹریٹ کرائم کی روک تھام، زیادہ سے زیادہ روزگار کے مواقع فراہم کرنا بھی ہماری آنے والی نسلوں کو ایک چمکتا دمکتا اور روشن مسکراتا کراچی دیکھ سکیں گے۔حکمران کراچی کے بگڑتے ہوئے حالات پر توجہ دیں۔ کراچی پر پوری ملکی معیشت کا دارومدار ہے لہٰذا کراچی کے حالات کو سدھارنے اور صحیح و درست سمت پر لانے کے لیے ہر ممکن کوششیں کی جائیں۔
قدسیہ ملک

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.