کیا تمھیں ضرورت ہے؟ ام ربیعہ

زندگی کے میلے کے
بے کراں سمندر میں
پرسکون اجالوں اور
رات کے اندھیروں میں
اک حقیقی عشق کی
کیا تمھیں ضرورت ہے؟

چاہ کی ضرورت ہو یا
سرد تیرے جذبے ہوں،
مہکے من میں چپکے سے
خواہشیں انگڑائی لیں،

دھوپ ہو کہ چھاؤں ہو یا
اوس ہو فضاؤں میں
بارشوں کا شور ہو یا
ان کی گنگناہٹ ہو
اک حقیقی ساتھ کی
کیا تمھیں تمنا ہے؟

باغ خوبصورت سا ہو
تتلیوں کے نغمے ہوں
سر پھری ہواوں کی
شوخ سی ادائیں ہوں کہ
پت جھڑ کے موسم میں
یاسیت کے ڈیرے ہوں
یا
ساحل سمندر پہ دل
آتی جاتی لہروں میں
عاشقوں کی عاشقی کی،
کیا کوئی ضرورت ہے ؟

خاص کی تلاش ہے گر
خاص ہی طریقہ ہوگا
تجھ کو جستجوئے عشق میں
آبلہ پا چلنا ہوگا
قلب جس کا مرکز ہوگا
سانس بھی معطر ہوگی

ملکوتی روشنی میں
روح تیری رقصاں ہوگی
جب تری محبت کا
حکمراں وہ تنہا ہوگا
پھر اسی حصار میں
قید تو ہمیشہ ہوگا

اک طرف کو عالم سارا
اک ترا ہی در ہوگا
آہ سحر گاہی تیرے
ملنے کا مقام ہوگی
سجدے کی تڑپ میں تیرا
دل رقص بسمل ہوگا
اب
نہ خطرہ بے وفائی کا ہے
نہ ڈر بے رخی کا یارو

اس فراق یار میں پھر
کیا تو بہنا چاہےگا ؟
خود کو اس سمندر میں
غرق کر لے ساقی پھر اب
بول کسی بھی عاشقی کی
کیا تمھیں ضرورت ہے؟

Comments

FB Login Required

Protected by WP Anti Spam