کیا یہ علاج ہے دہشت گردی کا؟ رضوان اللہ خان

معمول کے کاموں میں مصروف تھا کہ اچانک موبائل پر کسی انجان نمبر سے فون آنے لگا۔ سوچا کہ نظرانداز کردوں لیکن کال ریسیو کی اور موبائل کان سے لگایا تو کسی بڑی عمر کے مرد کی آواز سماعت سے ٹکرائی:
”السلام علیکم ! رضوان بیٹا کیسے ہیں آپ.“
میں پہچان نہ پایا تو بولنے والے نے اپنا تعارف تفصیل سے کروایا۔ یہ رشید صاحب تھے، ہم نے سال قبل بس میں اکٹھے سفر کیا تھا، ہماری سیٹ بالکل ساتھ تھی، تعارف ہوا اور باتوں ہی باتوں میں راستہ کٹ گیا۔ رشید صاحب نے مجھ سے میرا نمبر لے لیا اور آج تقریباََ سال بعد فون کیا تو مجھے حیرت ہوئی۔ وجہ معلوم کرنے پر انہوں نے سرد آہ بھری اور کہنے لگے:
”پنجابی ہوتے ہوئے بھی کل میرا سر شرم سے جھک گیا، جب پولیس والوں نے بس روک کر کہا: پٹھان کون کون ہے، صرف پٹھان نیچے اتر آئیں.“
مجھے یہ ایک معمولی سی بات محسوس ہوئی لیکن اب وہ باقاعدہ مغموم آواز میں کہہ رہے تھے :
”بھلا کیا اس طرح ہم خود عوام کے دِلوں میں نفرت کے بیج نہیں بو رہے؟“

میں نے کام بند کیا اور مضطرب ہوکر عرض کیا،
”سر آپ مجھے کھُل کر بات بتائیے کہ کیا ہوا ہے؟ یہ کوئی معمول کی چیکنگ ہوگی اور اگر نہیں تو آپ تفصیل سے آگاہ کیجیے۔“
فرمانے لگے: ”بیٹا کل شام (یعنی 16 فروری) میں گوجرانولہ سے پنڈی جانے کے لیے کوسٹر میں بیٹھا تھا، قریباََ رات 8 یا ساڑھے 8 بجے ہماری بس دریائے چناب کے پُل کے پاس موجود ایک مستقل ناکے پر پولیس اہلکاروں نے روکی اور ایک انسپکٹر متکبرانہ چال چلتے ہوئے بس کی جانب آیا۔ اُس نے آتے ہی نہایت غصے میں سوال کیا: تم میں سے پٹھان کون کون ہے؟ سب ایک دوسرے کو دیکھنے لگے، ایک بوڑھے نے کہا میں ہوں، تو باقیوں نے بھی ہمت کرکے جواب دیا۔ انسپکٹر نے نہایت حقارت سے پُکارا: صرف پٹھان بس سے نیچے اُتر آئیں۔ یہ پانچ پٹھان تھے اور سب ہی سفید ریش بڑی عمر کے بزرگ۔ پولیس والے نے نہایت تذلیل کے انداز میں ان کی چیکنگ کی اور غراتے ہوئے انہیں واپس بیٹھنے کا کہہ کر ڈرائیور کی جانب بڑھا اور غصیلے اندازمیں مخاطب ہوا: تمہیں خیال نہیں جو پٹھانوں کو بِٹھا لیتے ہو؟“
وہ بات جاری رکھے ہوئے تھے۔ کہنے لگے: ”بیٹا اس وقت میرا سر شرم سے جھک گیا کہ کیا یہ پاکستان ہے؟ کیا یہ اسلامی ملک ہے؟ کیا ہم بھائی بھائی ہیں؟ اگر ہاں تو یہ سب کیا ہے؟ میری آپ سے اور تمام صحافی برادری سے اپیل ہے کہ آپ جس بھی کسی نسل اور قوم سے ہیں اس حوالے سے آواز بلند کریں۔“
میں جواب میں اتنا ہی کہہ پایا تھا، ”سر اگر آج بھی آپ جیسے لوگ زندہ ہیں جن کا سر ایسی باتوں پر شرم سے جھک جایا کرتا ہے تو یقین جانیئے وہ دن ضرور آئے گا جب ہمارا سر فخر سے بلند ہوگا.“

یہ کوئی ایک واقعہ نہیں ہے، داڑھی رکھنے والے مردوں اور پردہ کرنے والی خواتین کو بھی میرے پیارے اسلامی ملک پاکستان میں اکثر کسی نہ کسی مقام پر ایسے ہی تذلیل کا نشانہ بنایا جاتا ہے۔ کنیئرڈ کالج میں اُم الہدیٰ کے ساتھ ہونے واقعے سے کون واقف نہیں، لیکن ایسے ہزاروں روزمرہ کے واقعات سامنے آنے سے محروم رہتے ہیں۔ کبھی یہ کہہ کر بھری بسوں سے نکال لیا جاتا ہے کہ: ”شریف لوگ بس میں بیٹھے رہیں اور ڈاڑھی والے نیچے اُتر آئیں‘‘ تو کبھی داڑھی دیکھ کر کلاس رومز میں اساتذہ کی جانب سے سوال اُٹھائے جاتے ہیں کہ :”آپ دہشتگرد تو نہیں؟“

ایسا ہی واقعہ گزشتہ دِنوں پنجاب یونیورسٹی کی طالبہ کے ساتھ بھی پیش آچُکا، لیکن اس شیر کی اولاد نے آگے سے کھری کھری سُنا کر اپنے پردے کا دفاع کیا۔ ہوبہو واقعات آپ کو بے شمار مقامات پر مل جائیں گے لیکن اب پردہ و داڑھی سے بات زبان و قوم پر بھی آچُکی، پہلے شعائر اسلام ٹارگٹ پر تھے اور اب قوم و زبان بھی ٹارگٹ بن چُکی۔ اس طرح کے واقعات اب تک کئی لوگ بیان کرچُکے ہیں مگر میں اس موضوع پر لکھ نہ آسکا۔ آج رشید صاحب کے خلوص اور دُکھ نے واقعی مجبور کردیا ہے کہ میں آواز اُٹھاؤں۔ سو میں قوم سے، حکمرانوں سے، پولیس والوں سے، افواجِ پاکستان سے اور ہر ہر ذمہ دار شخص اور ذمہ دار ادارے سے سوال کرتا ہوں۔ کیا پٹھان ہونا جُرم بن چُکا؟ کیا پنجابی ہونا جُرم ہے؟ کیا بلوچی ہونا اور سندھی ہونا جُرم ہے؟ کیا مہاجر ہونا اور کشمیری ہونا جُرم ہے؟ اگر نہیں تو یہ امتیازی سلوک کیسا؟ اگر نہیں تو مجھے عرض کرنے دیجیے کہ یہ دُکھ بیان کرنے والا کوئی وزیرستانی نہیں تھا، یہ دُکھ بیان کرنے والا کوئی بلوچی یا مہاجر نہیں تھا، یہ دُکھ بیان کرنے والا باجوڑ کا یا میران شاہ کا نہیں تھا۔ یہ پنجابی نسل کا ایک مسلمان تھا کہ جس کے دِل میں ایمان ابھی باقی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ یہ واقعہ اُن کے لیے کسی صدمے سے کم نہیں۔

یعنی مسئلہ تو اب اوپر سے نیچے کی جانب آنے لگا ہے۔ تقسیم کا نیا کُلیہ لاگو ہونے لگا ہے۔ نہایت معذرت کے ساتھ ، فارمز وغیرہ پر مسلکی تقسیم کے بعد اب یہ نئی تقسیم خود آپ کو بھی لے ڈوبے گی۔ میں سوچتا ہوں اور ہاں آپ بھی ضرور سوچیے کہ کیا بنگالیوں کے ساتھ یہی سلوک نہ ہوا تھا؟ آج ہمارا وہ مشرقی بازو کہاں ہے؟ لیکن یہاں وہ قوم کہ جس نے بے تحاشا قربانیاں دیں، جن کے گھر بار تباہ ہو گئے، جنہیں دربدر کی ٹھوکریں کھانی پڑیں، جن کی باپردہ خواتین کو خیموں میں زندگی بسر کرنا پڑی لیکن وہ قوم بغاوت پر نہ اُتری، اُس قوم نے الگ ہوجانے کی سازش نہ کی تو اب یہ نیا سلوک بھلا کس کی چال ہے؟

یہ مُلک ختم ہونے کے لیے نہیں بنا، یہ مُلک ایک ایسی قوت ہے کہ جس کے ساتھ اللہ رب العزت کی واضح مدد موجود ہے، یہی ایک وجہ ہے کہ میں پُراُمید ہوں کہ ایسی تمام حرکات بالآخر ناکام ہوجائیں گی۔ ہم ایک رہیں گے اور ایک بننے کی جانب بڑھتے رہیں گے۔ لیکن سوال تو آپ سے ضرور کروں گا کہ ایسے لوگوں کو لگام کون ڈالے گا اور کیا یہ دہشت گردی کا علاج ہے؟

Comments

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان

رضوان اللہ خان کالم نگار، فیچر رائٹر، مصنف اور تربیت کار ہیں۔ اسلام و پاکستان سے محبت ان کا نظریہ اور اپنی بنیادوں سے جُڑے رہتے ہوئے مثبت و متحرک معاشرہ ان کا خواب ہے۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.