سرداراں ـــ محمد مبین امجد

اوئے رہنے دے رہنے دے اسے، یہ نہیں اب جانے کا۔ یہ تو بالکل ہی مولوی ہو گیا۔۔۔ جانے اسے کیا ہوگیا ہے۔۔؟؟؟ اب تو ایسا زاہد خشک ہوا ہے کہ اس کی کمپنی میں اب بوریت ہوتی ہے۔۔۔ یہ میرے یار تھے جو مجھے بازار حسن لے جانا چاہتے تھے مگر میں نےجانے سے انکار کر دیا۔۔۔ اور کرتا بھی کیا کہ جو مجھ پر بیتی تھی میں کسی کو بتا نہیں سکتا تھا، میرا دکھ کوئی جان ہی نہیں سکتا تھا اس لیے خاموش ہو رہتا۔۔ اور ان کے بار بار کہنے کے باوجود ان کے ساتھ نہ جاتا۔۔۔

میں نیا نیا گاؤں سے شہر آیا تھا، میرا باپ گاؤں کا ایک بہت بڑا جاگیردار تھا اسے یہ جاگیر اپنے باپ کی طرف سے وراثت میں ملی تھی اور اسے یہ جاگیر انگریز سرکار نے اس کی وفاداری کے عوض عنایت کی تھی۔۔۔ انگریز اسے بہت چاہتے تھے اور لاٹ گورنر صاحب کے دربار میں اسے کرسی ملتی تھی، اس کی خدمات اور چاکری کے عوض انگریز سرکار نے اسے مجسٹریٹی بھی بخشی ہوئی تھی، اس کا اپنے وقتوں میں بڑا رعب اور دبدبہ تھا، خیر سن سنتالی کے غدر میں انگریز تو یہاں سے چلا گیا پر یہاں جاگیرداروں کی صورت میں اپنی نشانی چھوڑ گیا۔۔۔ میرا دادا مرا تو یہ جاگیر میرے باپ کو مل گئی اور اب وہ وہاں کے سیاہ و سفید کا مالک تھا۔۔۔ اسے سیاست میں بھی دل چسپی تھی اور وہ چاہتا تھا میں سیاست میں اس ہاتھ بٹاؤں اس لیے اس نے مجھے شہر پڑھنے کیلیے بھیج دیا۔

میں نیا نیا گاؤں سے شہر آیا تھا، مگر یہاں کے تو رنگ روپ ہی نرالے تھے، یہاں کی چکا چوند نے تو میری آنکھیں ہی چندھیا دیں، نئی نئی آزادی ملی تھی اور روک ٹوک کرنے والا بھی کوئی نہ تھا اس لیے کھل کر موج کرنے لگا۔ اور جوانی میں تو گناہ ویسے بھی ایک پر کشش مٹیار کی طرح دکھتا ہے۔۔ مگر جوں جوں عمر بڑھتی ہے تو پتہ چلتا ہے کہ یہ ماجھے کی جٹی دراصل ایک چڑیل ہے، جو اپنے خون آشام پنجے کھولے منتظر ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سیاست کیا جس میں دھڑکتا ہوا دل ہو- محمد عنصر عثمانی

خیر میں بتا رہا تھا کہ میں نیا نیا گاؤں سے شہر آیا تھا، جوان تھا مستی میں ڈوبا تھا اور ایک دن یاروں کے ساتھ گناہ کی اس بستی میں چلا گیا۔۔۔ عجیب سی بستی تھی جہاں پھولوں کی مہک کے ساتھ ساتھ جلتے گوشت کی سی سرانڈ بھی تھی، اونچے مکان، تنگ دروازے اور تاریک سیڑھیاں اور دروازوں کے باہر کھڑے بوسکی کے کرتوں میں ملبوس، باریک مونچھوں کو تاؤ دیتے دلال۔۔۔ میں نے آس پاس دیکھا ایک ہجوم تھا جو گناہوں کے میلے میں شرکت کے لئے ٹوٹا پڑتا تھا۔۔۔ اس ہجوم میں امیر غریب دونوں برابر تھے، اس دن ٹھیک اسی لمحے میں نے یہ جانا کہ اس دنیا میں امیر اور غریب بس خوشیاں اور خواہشیں خریدنے ہی کو اکٹھے ہوتے ہیں چاہے وہ مسجد ہو یا بازار حسن۔۔۔

خٰیر میں پہلی بار یہاں آیا تھا اس لیے پہلے تو مجرا دیکھا اور پھر رات بسر کرنے کیلیے ایک کمرے میں پہنچ گیا وہاں ریشم و اطلس کے پردے پھڑپھڑا رہے تھے، ایک عمدہ بیڈ پہ مسہری لگی تھی اور لائٹوں سے کمرے کے ماحول کو پر فسوں بنایا گیا تھا۔۔۔ میں ابھی کمرے کے وسط میں کھڑا گھوم گھوم کر سیٹنگ ہی دیکھ رہا تھا کہ وہ کمرے میں داخل ہوئی، جانے کیا نام تھا اس کا مگر مجھے وہ دیکھی دیکھی لگی۔۔۔ اسے دیکھ کر میں پریشان ہو گیا اور اسے تکے گیا۔۔۔ اور کرتا بھی کیا کہ پہلی بار یہاں آن پھنسا تھا۔۔۔

وہ بولی ایسے کیا تک رہا ہے۔۔؟؟ کیا کبھی خوبصورت لڑکی نہیں دیکھی۔۔؟؟
مجھے زور کا ٹھسکا لگا۔۔۔ اور میں نے اسے غور سے دیکھا، سن یہی کوئی تیس پینتیس کا رہا ہوگا، چٹا گورا رنگ، لمبے گھنے بال جنہیں گولڈن کلر میں ڈائی کیا گیا تھا، کانوں میں موتیے کی ادھ کھلی کلیاں اور ہونٹوں پہ کپڑوں کی مناسبت سے لال رنگ کی سرخی، جسم قدرے فربہی مائل اور پھٹی ایڑیوں والے ننگے پاؤں والی یہ عورت مجھے کہیں سے بھی لڑکی نہیں لگی تھی،۔۔۔ مگر وہ خود کو ابھی بھی لڑکی ہی سمجھتی تھی۔۔۔

یہ بھی پڑھیں:   وہ سیاست کیا جس میں دھڑکتا ہوا دل ہو- محمد عنصر عثمانی

وہ بھی بڑی معنی خیز نظروں سے مجھے دیکھ رہی تھی، اس کی آنکھوں میں شناسی کی رمق تھی۔۔۔ کچھ دیر مجھے دیکھتی رہی اور پھر کہنے لگی مجھے لگتا میں نے تجھے کہیں دیکھا ہے۔۔۔ میں اس قدر کنفیوز ہوا کہ مجھ سے کوئی بات ہی نہ بن پائی۔
پھر میں نے بڑی مشکل سے پوچھا کہ ت ت تتم، آپ یہاں تک کیسے آئی۔۔؟؟؟ کہنے لگی کیا کرو گے جان کر چھوڑو۔۔۔ مگر میں اصرار کرنے لگا تب وہ بولی کہ۔۔۔
خریف کی واڈھی کے بعد میرا پرنا (شادی) تھا، مگر جگیردار (جاگیر دار، زمین دار) نے مجھے پھٹی (کپاس) کی چوگی (چنائی) کرتے دیکھا تو اٹھوالیا اور اپنی حویلی میں لے گیا، پہلے خود نوچتا کھسوٹتا رہا اور پھر اپنے یاروں کے سامنے ضیافت کے طور پہ پیش کرتا رہا، جب دل بھر گیا تو بیچ دیا اور یوں میں بکتی بکاتی یہاں تک پہنچی۔

مجھ پہ تو مانو گھڑوں پانی پڑ گیا، اور میں خاموشی سے وہاں سے نکل آیا۔۔ کیونکہ میں اسے پہچان چکا تھا وہ ہمارے ہی علاقے کے دینو لوہار کی لڑکی سرداراں تھی۔۔۔ اور یہ بھی غنیمت تھا کہ اس نے مجھے نہیں پہچانا۔۔۔
اس کے بعد بھی کئی بار میرے یاروں نے کہا مگر میں وہاں کبھی نہیں گیا۔۔۔
کیا کروں گا جا کر۔۔؟؟؟

Comments

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد

محمد مبین امجد انگریزی ادب کے طالب علم ہیں۔ مختلف اخبارات میں ہفتہ وار کالم اور فیچر لکھتے ہیں۔اسلامی و معاشرتی موضوعات میں خاص دلچسپی ہے۔ کہانی و افسانہ نگاری کا شوق رکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.