دین و دنیا میں کامیابی کی کنجی - مفتی شاکر اللہ چترالی

ربّ ِکائنات اس جہانِ ہست و بود کو اپنی قدرتِ کاملہ سے عدم سے وجود میں لایا۔ پھر جس مخلوق کے لیے یہ بزم آرائی کی گئی اس کو اس کی بساط پر بسایا گیا ۔ مقصدِ کائنات ہونے کی بدولت ان کے رہن سہن کے لئے ایک مربوط نظام وضع گیا۔ اس کی کامیابی و ناکامی کے لیے ایک باقاعدہ نظام وضع کرکے دیا گیا۔ یہ ربوی نظام دو حصوں میں منقسم ہےـ: (۱) ظاہری نظام (۲) باطنی نظام۔

ظاہری نظام: ہر ذی بصارت کو دکھائی دینے والا اسباب کا نظام ہے۔ اللہ تعالیٰ مختلف اسباب سے اپنی قدرتِ کاملہ کے ذریعے مختلف نتائج پیدا فرما دیتے ہیں۔ ان کی آپس میں مناسبت بھی واضح تر ہوتی ہے۔ زمین میں کاشت کرنے سے اناج عطا فرما دیتے ہیں۔ تجارت مال و زر کے ملنے کا سبب ہے۔ اجارہ کی صورت میں نوکری و ملازمت بھی آمدنی کا سبب و ذریعہ ہے۔ یہ ظاہری اور اسباب کا نظام ہےاور اس کی کچھ مثالیں ۔ اس کو سمجھنے اور جاننے کی خاص بصیرت اور عمیق علم کی ضرورت نہیں ہر خاص و عام اس سے واقف ہے۔

باطنی نظام: صرف بصیرت سے بہرہ وراشخاص کو نظر آنے والا اعمال کا نظام ہے۔ یہاں بھی اللہ تعالیٰ مختلف اعمال سے جزا و سزا کے فلسفے سے ہٹ کرایسے مختلف نتائج پیدا فرمادیتے ہیں، جن کی ان اعمال سے مناسبت کو ظاہری آنکھوں سے دیکھا اور عقلِ معاش سے سمجھا نہیں جا سکتا۔

جب بات باطن کی ہوئی تو ظاہر سی بات ہے کہ اس کو آسانی سے ہر کوئی ہضم نہیں کر سکتا اور معمولی فکر وتدبّر سے اس کو سمجھنا شاید ممکن نہ ہو اس لیے ضرورت محسوس ہورہی ہے کہ عقلی مثالوں اور مشاہداتی دلیلوں سے اس نظام کو پہلے ثابت کیا جائے ۔اس کے بعد پھر مثالوں کی باری آجائے گی انشاء اللہ الرحمن۔

پہلی حسی دلیل: ظاہری نظام کا تقاضہ یہ ہے کہ کسی بھی انسان کو کھانے ، پینے، پہننے اور کسی بھی طرح کے استعمال کے لیے وہی چیز ملے جو اس کی محنت کا ثمرہ ہے اور اس کی تدبیر کا نتیجہ ہو ۔ میری محنت کا پھل آپ کو ملے اور آپ کی کاوشوں کا حاصل مجھے ملے ۔یہ اس ظاہری نظام کے قوانین کے سراسر خلاف ہے ۔

بایں ہمہ اس مشاہداتی حقیقت سے انکار و فرار کسی انسان کے لیے ممکن نہیں ہے کہ ایک نہیں سینکڑوں بار ایک فرد کا نہیں ہزاروں انسانوں کا ایک تجربہ نہیں روزمرہ کے متعدد تجربات اس قانون کا منہ چڑاتے ہیں۔ جی ہاں! ایک انسان اپنی ذات کے لیے کماتا ہے اسکے بعد بعض مرتبہ اس کمائی کوچھپا کر استعمال کرنے کے ہزار جتن کرتا ہے مگر وہ ایسے شخص کو ملتی ہے جو اس کے وہم وگماں میں نہیں ہوتا ہے۔ کبھی اس کے بالکل برعکس دوسروں کی کمائی سے اتفاقاً مستفید ہو جاتا ہے۔ ایسا کیوں ہے؟ جواب واضح اور اٹل ہے کہ اس مشاہداتی نظام کے سنگ بلکہ اس پر حاوی ایک اور غیبی نظام بصارت کی آنکھوںسے اوجھل چل رہا ہے۔

دوسری حسی دلیل:اگر کوئی شخص بیمار ہو جاتا ہے تو ظاہری نظام کہتا ہے کہ کسی ڈاکٹر یا حکیم کے پاس لے جاؤ ! بالکل معقول بات ہے لیکن یہ بھی صدیوں کا تجربہ ہے جس کوکوئی شخص عناداً ہی رد کر سکتا ہے کہ ڈاکٹروں والا کام دم و دعا کے ذریعے بھی ہو جاتا ہے۔ظاہری نظام میں اس کی کوئی گنجائش نہیں بنتی ہے جس سے صاف پتہ چلتا ہے کہ درِپردہ سسٹم اور بھی ہے۔

تیسری حسی مگر دلچسپ دلیل:نظامِ ظاہری کے قوانین کے تحت ایک صحت مند آدمی بغیر کھائے پیے دنوں میں نہیں گھٹنوں میں بے حال ہو جاتا ہے ۔ اگر بات گھنٹوںسے نکل کر دنوں پر محیط ہونے لگے تو سانس ہی اکھڑنے لگ جائے گی ۔ یہ عام مشاہدے کی چیز ہے۔ انسان بیمار ہو تو اور بھی کمزور ہو جاتا ہے تو مذکورہ قوانین کے تحت اس کو اور بھی جان بلب ہونا چاہیے مگر کرے کیا ؟ یہاں مشاہداتی حقائق بالکل برعکس ہیں ۔ ایک بیمار باوجود شدید نقاہت کئی کئی دن بغیر کھائے پیے زندہ رہتا ہے۔ آخر ایسا کیوں ہے؟ غور کرنے سے یہاں بھی یہی پتہ چلتا ہےکہ در پردہ کوئی نظام طاقتور کارفرما ہے۔

یہاں تک بات عام مشاہدات کی تھی ۔ اب ذرا ا حادیث کی طرف رجوع کرتے ہیں تو مسئلہ نہایت بے غبار نظر آتا ہے چنانچہ ایک حدیث میں آتاہے کہ ’’اپنے بیماروں کو کھانے پر زیادہ مجبور نہ کرو ! کیونکہ ان کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلایا پلایا جاتا ہے‘‘۔(ترمذی)

حضورﷺکی عادت شریفہ تھی کہ ’’ بغیر کھائے پیے کئی دن کئی دن روزہ رکھتے تھے جن کو ’’صومِ وصال‘‘ کہتے ہیں آپ ﷺکی دیکھا دیکھی صحابہ کرام ؓبھی صوم وصال کا اہتمام کرنے لگے تو آپ ﷺ نے منع فرمادیا کہ مجھے تو اللہ تعالیٰ کی طرف سے کھلایا پلایا جاتا ہے لہذا تم میری اتباع (اس بات میں ) میں کہاں کر سکتے ہو؟۔
ایک اور حدیث میں ہے کہ قربِ قیامت میں یاجوج ماجوج کے خروج کے موقعے پر مسلمان حضرت عیسیؑ کی معیت میں ایک پہاڑ میں کئی دنوں تک پناہ گزیں رہیں گے ان دنوں ان کا کھانا پینا’’ ذکر اللہ ‘‘ ہوگا۔
ان روایات سے بھی نظروں سے اوجھل غیبی نظام کا پتہ چلتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   چمکتی ہوئی دوکان سیاست - ام عمار

انسان جو کامیابی اور کامرانی کا متمنی ہے اس کو زندگی کا لائحہ عمل ان دونوں نظاموں کو سامنے رکھ کر ترتیب دینا چاہیے۔ یہی دین و دنیا میں کامیابی کی کنجی ہے۔ اسی سے تلاشِ منزل کی جدوجہد میں بے سود آبلہ پائی اور تھکادینے والی محنت سے حفاظت ہوگی۔ نسبتاً کم وقت میں اور کم محنت سے تقدیر آڑے نہ آئے تو کامیابی سے انسان ہم کنار ہوگا۔ تقدیر کی بات ہم نے اس لیے کی ہے کہ خداوندی دستور اورفطری قانون یہی ہےلیکن بسااوقت ایسا ہوتا ہے کہ ایک انسان کے پاس مواقع ہوتے ہیں، صلاحیت ہوتی ہے ، سارے اسباب موافق ہوتے ہیں ایسا لگتا ہے جیسا کہ اس کے اٹھنے کی دیر ہے اس کی طرف تو منزل خود چل کر آئے گی مگر وہ ان سب باتوں کو سمجھنے اور دوسروں کے لاکھ سمجھانے کے باوجود بھی اپنے آپ کو اس کام پر آمادہ نہیں کر پاتا یا دو قدم چل کر پھر بیٹھ جاتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہےکہ لب بام پہنچ کر کمند ٹوٹ جاتا ہے جس کو فارسی میں ’’ تدبیر کند بندہ تقدیر کند خندہ ‘‘ سے تعبیر کیا جاتا ہے۔ ان زمینی حقائق کی تشریح و توجیہ کے لیے ہم تقدیر اور قسمت جیسے الفاظ کا سہارا لینے پر مجبور ہوتے ہیں۔

ہرکام کے حوالے سے دونوں نظاموں کے قوانین کو بیان کرنا پھر ان کو اس مختصر سی تحریر میں سمانا ناممکن سی بات ہے ۔اس مجبوری کے تحت صرف ایک چیز کو بطورِ مثال بیان کرنے پر اکتفاء کیا جائے گا ۔وہ ’’روزی‘‘ اور ’’معاش‘‘کا مسئلہ ہے۔ظاہر ہے کہ یہ عالمگیر اور تمام مسائل کو تقریباً محیط ہے۔ ہر انسان کا بھر پور ااور پہلا واسطہ اسی سے پڑتا ہے باقی چیزیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں۔

معاش کے لیے ظاہری نظام کے تحت زراعت، تجارت اور اجارہ کو بطورِ اسباب اختیار کیا جاتا ہے،جس سے معاش کا یہ مسئلہ حل ہو جاتا ہے۔ غیبی نظام کے تحت اس انسانی ضرورت کے لیے قرآن و حدیث میں مختلف اعمال کو سبب قرار دیا گیا ۔ عقلِ معاش اور بصارت کی آنکھیں جس کے ادارک سے ضرور قاصر ہیںمگر اصحابِ بصیرت کیلئےیہ کھلے مشاہدے کی چیز ہے۔

اب ذرا ایک نظر ان اعمال پر ڈالتے ہیں جن کوحلِّ معاش کا ذریعہ بتایا گیا ہے ۔یہ بات ان اعمال کے مقاصد میں ہر گز داخل نہیں ان کے ضمنی اور ثانوی فائدے کی حیثیت رکھتی ہے۔ وہ اعمال (۱) نماز(۲) شکر(۳) استغفار(۴) تقوی(۵) توکل(۶) انفاق و صدقات اور(۷)نصرتِ دین ۔
1۔ نماز
نماز ایک عظیم عبادت ہے ۔عبادت کے لئے اپنے کو فارغ کرنے والوں کے ساتھ تمام ضروریات پوری کرنے کا اللہ کا خاص وعدہ ہے چنانچہ رسول اللہﷺ نے فرمایا:’’اللہ تعالیٰ فرماتےہیں: اے ابن آدم تو میری عبادت کے لئے اپنے آپ کو فارغ کر لے تو میں تیرے سینے کو غناء و استغنا سے بھر دوں گا۔ اور تیری محتاجی کو دور کر دوں گا اور اگر تو نے ایسا نہ کیا تو تیرا سینہ فکر اور شغل سے بھر دوں گا اور محتاجی دور نہ کروں گا‘‘۔
قرآن مجید میں اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں:
’’اپنے گھر والوں کو نماز کا حکم دو، اور خود بھی اس پر ثابت قدم رہو۔ ہم تم سے رزق نہیں چاہتے ۔رزق تو ہم تمہیں دیں گے ۔(طہ)

2۔ شکر
اللہ تعالیٰ کا اعلان عام ہے کہ وہ نعمتوں کا شکر ادا کرنےپر ان میں اضافہ فرمائیں گےلہذا شکر بھی روزی کا سبب ہے چنانچہ قرآن پاک میں ہے:
’’ وہ وقت بھی جب تمہارے پروردگار نے اعلان فرما دیا تھا کہ اگر تم نے واقعی شکر ادا کیا تو میں تمہیں اور زیادہ دوں گا‘‘۔(ابراہیم)
یہ زیادتی نعمتوں کی مقدار میں بھی ہو سکتی ہے، اور ان کی بقاء ودوام میں بھی
رسول کریم ﷺنے فرمایا کہ جس شخص کو شکر ادا کرنے کی توفیق ہو گئی وہ کبھی نعمتوں میں برکت اور زیادت سے محروم نہ ہوگا (مظہری) ۔
3۔ استغفار
تاریخ کی نامور شخصیت مشہور ترین تابعی حضرت حسن بصری ؒکے پاس یکے بعد دیگرے تین آدمی حاضر ہوئے ایک نے نرینہ اولاد، دوسرے نے غربت وافلاس کی شکایت کی اور تیسرا بارش کی دعا کروانے کے لیے حاضر ہوا۔ آپ نے تینوں حضرات کو کثرت کے ساتھ توبہ استغفار کرنے کا حکم فرمایا۔ بعد ازاں ان کے ایک عزیز نے پوچھا کہ آپ نے مختلف حاجات اور مشکلات کے حل کے لیے صرف ایک ہی وظیفہ بتایا ہے حضرت بصری ؒنے سورہ نوح کی چندآیات تلاوت کیں ،جن کا ترجمہ یہ ہے:
’’ میں نے کہا کہ : اپنے پروردگار سے مغفرت مانگو! یقین جانو وہ بہت بخشنے والا ہے ۔وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا۔اور تمہارے مال اور اولاد میں ترقی دے گا، اور تمہارے لیے باغات پیدا کرے گا، اور تمہاری خاطر نہریں مہیا کردے گا‘‘۔

4۔ تقوی
تقوی وپرہیزگاری پر تو رزقِ بےگماں کی بشارت ہے۔روایات میں وارد ہے کہ حضرت عوف بن مالک الاشجعی ؓنے نبی کریمﷺ کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ دشمن ان کے بیٹے سالم کو پکڑ کر لے گئے ہیں جس سے ان کی اہلیہ یعنی سالم کی والدہ کا برا حال ہو رہا ہے نیز انہوں نے نبی ﷺکی خدمت میں اپنے اس فقر وفاقہ کی بھی شکایت کی جس سے وہ اس وقت دو چار تھے اس پر نبی نے ان کو اسی ہدایت وتعلیم کی راہنمائی فرمائی جو کہ اس آیت کریمہ میں ارشاد فرمائی گئی ہے کہ تم دونوں میاں بیوی تقوی کو لازم پکڑو صبر سے کام لو اور’’ لا حول ولا قوۃالا باللہ‘‘کی کثرت رکھو چنانچہ حضرت عوفؓنے گھر جا کر جب اپنی بیوی کو نبی کریم ﷺکا یہ ارشاد سنایا تو انہوں نے کہا کہ بہت بہتر تعلیم ہے جو نبی کریم ﷺنے ہمیں ارشاد فرمائی ہے اور اس کے بعد انہوں نے اس وظیفہ کی کثرت رکھی جس کے کچھ ہی دنوں کے بعد ان کے بیٹے نے اچانک گھر پہنچ کر ان کا دروازہ کھٹکھٹایا دروازہ کھولا تو دیکھا کہ ان کا بیٹا سالم کھڑا ہے اور اس کے ساتھ ایک سو اونٹوں اور بکریوں کا ریوڑ بھی ہے پھر اس نے بتایا کہ اس نے اپنے دشمنوں کو غفلت میں پایا تو اپنی قید کے بندھنوں کو توڑ کر ان کے مال مویشی کو ساتھ لے کر وہاں سے بھاگ نکلنے میں کامیاب ہو گیا تو اس پر یہ آیت نازل ہوئی:
’’جو کوئی اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کے لیے مشکل سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کردے گا۔اور اسے ایسی جگہ سے رزق عطا کرے گا جہاں سے اسے گمان بھی نہیں ہوگا‘‘۔(الطلاق)
مگریہ حکم بہرحال عام ہے ۔ (ابن جریر ابن کثیر، قرطبی )

یہ بھی پڑھیں:   شکست یتیم ہوتی ہے، کامیابی کے ہزار باب پیداہو جاتے ہیں - حسین اصغر

5۔ توکل
اللہ تعالیٰ نے اپنا کام بہر حال کرکے رہنا ہے اس کے لیے نہ کوئی رکاوٹ ہوسکتی ہے اور نہ مزاحمت۔ وہ ہر چیز پر پوری قدرت رکھتا ہے ۔اس قادر مطلق اور واہب مطلق پر توکل اور سچا اعتماد ایسی شاہ کلید ہے کہ اس سے مشکلات سے نکلنے کے لیے بند دروازے خود بخود کھلتے چلے جاتے ہیںوعدہ ربی ہے:
’’ جو کوئی اللہ پر بھروسہ کرے، تو اللہ اس (کا کام بنانے) کے لیے کافی ہے ۔ یقین رکھو کہ اللہ اپنا کام پورا کر کے رہتا ہے ۔ (البتہ) اللہ نے ہر چیز کا ایک اندازہ مقرر کر رکھا ہے‘‘ ۔ (الطلاق)
نبی کریم ﷺنے ارشاد فرمایا :’’ اگر تم لوگ اللہ پر ایسا توکل اور بھروسہ رکھو جیسا کہ اس پر توکل اور بھروسہ کرنے کا حق ہے تو وہ تم کو ایسے روزی دے جیسا کہ پرندوں کو دیتا ہے کہ وہ صبح کو خالی پیٹ نکلتے ہیں اور شام کو پیٹ بھر کر واپس لوٹتے ہیں‘‘۔(ترمذی

6۔ انفاق وصدقات
ظاہر کی آنکھوں کا دھوکہ کچھ بھی ہے حقیقت یہی ہے انفاق اور صدقات سے مال گھٹتا نہیں بڑھتا ہی ہے چنانچہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’ہر دن صبح کو دو فرشتے نازل ہوتے ہیں، ان میں سے ایک اس طرح کہتا ہے، اے اللہ! خرچ کرنے والے کو اور دے اور دوسرا اس طرح کہتا ہے، اے اللہ! روکنے والے کے مال کو تلف کر دے‘‘۔ ( بخاری)
ایسا کیوں نہیں ہوگا ؟جب مالک الارض و السماء کا وعدہ ہے:
’’اللہ سود کو مٹاتا ہے اور صدقات کو بڑھاتا ہے ۔‘‘(البقرہ)
7۔ نصرتِ دین
دین کی نصرت و امداد ایک ایسی عظیم الشان سعادت ہے جو انسان کو دارین کی سعادت و سرخروئی سے سرفراز و بہرہ مند کرنے والی ہےارشادِربی ہے:
’’اے ایمان والو! اگر تم اللہ ( کے دین) کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا، اور تمہارے قدم جما دے گا‘‘۔(محمد)
یہ نصرت اور ثابت قدم رکھنے کا وعدہ عام ہے ہر شعبہ زندگی کے لٰیے، محض میدان جنگ کے ساتھ مخصوص ومحدود نہیں۔ اللہ کے دین کی نصرت کرنے والوں کے ساتھ نصرت الہی کار گاہ زندگی کے ہر لمحہ اور ہر شعبہ میںمیں موجود رہے گی ۔

اب ہمارے پاس تین راستےہیں:
(1) صرف غیبی نظام کو اپنے حق میں کرنے کی کوشش کریں.
(2) دونوں نظاموں کے مطابق اپنے لائحہ عمل مرتب کرنے کی کوشش کریں
(3) صرف ظاہری نظام پر اعتمادِ کلّی ہو۔

پہلا راستہ: بلا شبہ کامیابی کا راستہ ہے لیکن یہ شاہراہ عام نہیں ہے یہ صدیق اکبرؓجیسےمتوکلین کے لیے خاص ہے ۔
دوسرا راستہ: یہ شاہراہِ عام ہے ۔اسلام نے زراعت، تجارت اور ملازمت وغیرہ کے لیے ہدایات دے کر اس کی تعلیم دی ہے کہ ابناءِاسلام نے اس راستے پر چلنا ہے ورنہ ان احکام کی ضرورت کیا تھی؟
تیسراراستہ: یہ وہ راستہ ہے جس کے بارے رسول اللہ ﷺ یہ فرمایا:’’جو شخص اپنی ساری فکروں کو ایک فکر یعنی آخرت کی فکر بنا دے تو اللہ تعالیٰ اس کی دنیا کی فکروں کی خود کفالت کر لیتا ہے اور جس کی فکر دنیا کے مختلف کاموں میں لگی رہے تو اللہ تعالیٰ کو کوئی پرواہ نہیں کہ وہ ان فکروں کے کسی جنگل میں ہلاک ہو جائے‘‘۔(ابن ماجہ)