جب مجھے بیٹی پر فخر ہوا - زارا مظہر

مام دیکھیں آ پ کے شوز مجھے بالکل پورے ہیں کبھی کبھی پہن لیا کروں لاڈلی بیٹی نے گلے میں بانہیں اور پیروں میں جوتے ڈالتے ہوئے پوچھا

میں نے اس کے بےتحاشہ خوبصورت معصوم چہرے پر نظر ڈالی اور لگ جانے کے ڈر سے فوراً ہٹا لی ہاں جانی بس کبھی کبھار ۔ ۔ ۔ ۔ ۔میں نے ہنستے ہوئے کہا آ ج کل کے بچوں کے پاؤں کتنی جلدی بڑے ہو جاتے ہیں نا میں نے اپنے دل سے تائید چاہی ۔

اور دل تو جیسے منتظر ہی بیٹھا تھا خواہ مخواہ ہی اس کی پیدائش سے لیکر آ ج تک کے واقعات ریل کی مانند چلنے لگے شائد دماغ کو بہت فرصت تھی کیا ضرورت ہے ایک بچہ اور پیدا کرنے کی ہم دونوں میں اکثر جھگڑا ہو جاتا میں بہت چڑ چڑاہٹ پن سے کہتی اور بچہ نہیں چاہیے مجھے مگر شاید اسکا اس دنیا میں آ نا بہت ضروری تھا میرا دل زمانۂ حال میں تال میل ملانے لگا ۔ پورا پریڈ انتہائی غصے میں گزارا مجھے نہیں چاہئیے پہلے ہی دو بچے ہیں فیملی کمپلیٹ ہے دل میں دو بیٹوں کا غرور بھی تھا کہ بیٹوں کے بعد سسرال میں بڑی پذیرائی ہوتی تھی شاید دل میں ڈر تھا کہ اب کے بیٹی نا ہو جائے مگر ہونی کو کون روک سکا ہے مجازی خدا راضی برضا تھے میرے ناز اٹھائے جاتے میں احتجاجاً سارا سارا دن بھوکی رہتی فولک ایسڈ اور کیلشیم سب اٹھا کر پھینک دیتی سوچتی شاید اسطرح جان چھوٹ جائے گی چچا کی بہو کا ابارشن ہو گیا میں نے پوچھا ۔ ۔ ۔ یار دو اسٹیپ چڑھ گئی تھی وہ رُندھی ہوئی افسردگی سے بولی میں نے بات ذہن میں رکھ لی خوب اونچی اونچی چھلانگیں لگاتی دن میں دس بار سیڑھیاں اترتی چڑھتی مگر کچھ نا ہوا البتہ دن پورے ہو گئے وقت پہ بہت غصے سے ہسپتال گئی بڑی صحت مند بچی تھی گڑیا کی مانند ۔ غنودگی میں ڈاکٹر کی آ واز سنی نرس سے کہہ رہی تھی اتنے خوبصورت بےبی کم دیکھے ہیں مگر میں سمجھی میری غیر دلچسپی دیکھ کر دل رکھ رہی ہے نظر تک نہیں ڈالی مجھے سارا قصور گڑیا اور اسکے باپ کا لگتا رہا اگر وقت پہ کچھ کر لیتے تو ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تین سال کے لئیے پھر باؤنڈ ہو گئی ہوں اللہ پریپ کا سلیبس پھر سے پڑھانا پڑے گا شدید کوفت سے سوچا ۔ گھر آ کر دونوں بچوں کے کاموں میں جُت گئی اگرچہ امی انکے پاس تھیں مگر بچوں کو ایک دفعہ نہلا دھلا کر خود کو فارغ سمجھ رہی تھیں گھر آ تے آ تے شام ہو گئی تھی بچوں کے کپڑے کچھ مسلے ہوئے لگ رہے تھے میں نے وارڈروب کھول لی آ رام سے بیٹھ جاؤ امی ڈانٹنے لگیں بچے صاف ستھرے ہیں تم اب آ رام کرو مگر میں خاموشی سے لگی رہی گڑیا کے رونے کی آ واز سنی تو دل میں ذمہ داری کا بوجھ بڑھ گیا مجھ سے چھوٹی مدیحہ دیکھنے آ ئی بھائی جان کے ساتھ تو لپک کر اٹھا لیا اللہ بجّوکتنی خوبصورت ہے بالکل گڑیا سی ماتھے پر سنہرے بالوں کا گھونگھر تو دیکھیں مجھے بہن کے بہلانے پہ پیار آ گیا کہ ساری پریگینینسی کے دوران اسکے کان کھاتی رہی تھی ان وانٹیڈ بےبی کہہ کہہ کے دو بچوں کی ذمہ داریوں میں پہلے ہی پھنسی ہوئی تھی جھنجھلائی سی رہنے لگی مارے باندھے اسکے کام کر لیتی مانو میرے اوپر فرض ہی نہیں اللہ نے گڑیا میں کچھ ایسا صبر رکھا تھا کہ گھنٹوں نا دیکھتی تو بھی پڑی رہتی البتہ طبیعت میں نفاست کے سبب اسکے بھی سارے کام ہو جاتے اب کچھ مہینوں کی ہو رہی تھی دونوں بیٹوں کے لئیے الّم غلّم بناتی اور کھلاتی رہتی اور اسے یکسر بھول جاتی کبھی کبھار تو مجازی خدا کا صبر بھی جواب دے جاتا ایک دن بچوں کو ہاف بوائل انڈے کِھلا رہی تھی لاؤ اپنی گڑیا کو آ ج ہم کِھلاتے ہیں مگر اسکے لئیے تو بوائل ہی نہیں کیا تھا کہاں سے لاتی تب وہ کندھوں سے پکڑ کر چیخ پڑے تم اسے گھر کا فرد کب سمجھنا شروع کرو گی بری طرح سے شرمندگی ہوئی کمی تو نہیں تھی بس دھیان میں نہیں رہتا تھا ۔ شاید دونوں بیٹے ڈیڑھ سال کے فرق سے آ گئے تھے تو زیادہ ہی پھنس گئی تھی میں نے پھر خود کو رعایت دی۔

لیلیٰ کچھ مہینوں کی ہوئی تو آ تے جاتوں کی توجہ کھینچنے لگی اچھا مدیحہ کچھ ایسا غلط بھی نہیں کہتی تھی میں نے بہن کو سوچا بس یونہی الجھتے سلجھتے سال بھر کی ہو گئی قدم لینے لگی توتلا سا بولتی انوکھی انوکھی شرارتیں کرتی جو بیٹوں نے کبھی کی ہی نا تھیں گود میں چھپ کر ہا ئیڈ اینڈ سیک کھیلتی ۔ چمکتا رنگ روپ اور سنہرے کرلی بال شانوں پہ پڑے رہتے دل میں کب جگہ بنا گئی پتا ہی نہیں چلا چھوٹے چھوٹے دوپٹے اوڑھ لیتی لمبے گھونگھر والے بالوں میں عین درمیان میں ماتھے پہ چٹکی والی پِنیں لٹکا لیتی جو ماتھے پہ جھولتی رہتیں مگر گِرتی نہیں اور ۔ ۔ ۔ ۔ ۔اور جب اُلٹی چپلیں پہن کر چلتی تو کائنات کی ساری خوبصورتی اس ننھے وجود میں سما جاتی باقی سارے منظر پسِ منظر چلے جاتے تب میری ساری لاپروائی پر محبت غالب آ نے لگتی میں بے ساختہ گود میں بھر لیتی چٹاخ پٹاخ کر کے سنہرے گال گلال کر دیتی سرتاج کنکھیوں سے دیکھتے اور مسکرائے جاتے ۔ کچھ وقت بڑھا تو اسکول جانے لگی بے مثال خوبصورتی کی وجہ سے نمایاں نظر آ تی یا شاید میری ممتا اسکی محبت سے معمور ہوچکی تھی سب بچوں سے الگ دِکھ رہی ہوتی خدا داد ذہانت سے ٹیچرز کے دلوں میں گھر کر گئی کوئی پروگرام اسکی شمولیت کے بغیر ترتیب نا پاتا اسپورٹس ڈے ، سالانہ تہوار یا کسی بھی موقع پر مہمانِ خصوصی کو گلدستہ وہی پیش کرتی سوہنی ،سسی ، ماروی ، ہیر کیا کیا سوانگ نہیں بھرے اور ہر گیٹ اپ میں نگینے کی طرح فٹ محسوس ہوتی سندھی ،بلوچی ، پنجابی حتیٰ کے جولیٹ ، سینڈریلا اور لیڈی ڈیانا کے روپ میں بھی اصل سے بڑھ کر لگی یا ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ شاید میری محبت مجھے ایسا دکھاتی اب میں بیٹوں کے کام اور ضروریات بھول جاتی ۔ دیکھتے ہی دیکھتے میرے شانوں تک آ نے لگی میرے سارے دوپٹوں کی شامت آ ئی رہتی میں گھر میں موجود نا ہوتی تو سارے جوتے نکال لیتی اور لائن سے لگا کر باری باری پہنتی مما میں ٹک ٹک والے جوتے کب پہنوں گی عائشہ مریم فریال ماہم سب پہنتی ہیں ۔ مگر مجھے بچیوں پہ ہیل والے جوتے کبھی پسند نہیں تھے سو لیکر ہی نا دیتی اور نتیجے میں وہ موقعہ پاتے ہی میرے جوتوں پہ شوق پورے کرتی ہائی ہیل کے جوتے درمیان سے بیٹھ جاتے ہیں میں اسکی ناک غصے سے دبا دیتی وہ بسور کر رہ جاتی۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا کی پیاری _ بریرہ صدیقی

جونئیر سیکشن سے اوورآل پوزیشن لیکر پاس آ ؤٹ ہوئی تو پرنسپل نے اسے اپنے اسکول کا فخر قرار دیااور میں اپنا مان اور استحقاق چہرے پہ سجائے مبارک بادیں وصول کرتی رہی
امی کی طبیعت میں کافی تیزی تھی گھر میں بھتیجا بھتیجی کی شرارتوں سے تنگ رہتیں مگر ہماری رانی تو جب بھی جاتی خوب لاڈ اٹھاتیں مجھے کہتیں بہت ٹھنڈے اور دھیمے مزاج کی ہے لیلیٰ اسکا مزاج مجھ پہ پڑا ہے گھّٹی جو میں نے دی تھی میں اور بھابھی بے ساختہ ہنس پڑتے ۔ میں گرمی کی لمبی ،امسائی دوپہروں میں گھٹن سے گھبرا کر لیٹ جاتی تو اٹھنے پر پورا کچن صاف ستھرا ملتا تب بے ساختہ پیار آ جاتا میں تجاہلِ عارفانہ سے کام لیتی اور پوچھتی جانی کچن کون سمیٹ گیا وہ دھیمے دھیمے مسکاتی اور بولتی پتہ نہیں مام شاید کوئی پری ، کوئی سینڈریلا آ ئی تھی سب کر گئی میں سرشار سی گلے سے لگا لیتی ۔ اب گھر میں اسکی سہیلیوں کا میلہ لگا رہتا کبھی مل کر خوب پڑھتیں کبھی خوب اودھم مچاتیں ، پوری کالونی میں رنگ برنگی سائکلیں دوڑاتیں پھرتیں کبھی ایک کے گھر کبھی دوسری کے گھر ۔ ایک دفعہ امی آ ئیں تو گرمی کی چھٹیاں تھیں کہنے لگیں سب بچے ننھیال جاتے ہیں اب کےلیلیٰ میرے ساتھ جائے گی مجھے پتہ تھا سرتاج پسند نہیں کریں گے مگر امی کے اصرار پر بھیج دیا اف ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ ۔ تب پتہ چلا وہ تو ہمارے گھر کی بولتی چڑیا تھی چہکتی رہتی تھی اڑتی خوشبو تھی تو مہکتی رہتی تھی زندگی کا احساس اسکے دم سے تھا ہر دم ہنگامہ مچائے رکھتی چوتھے روز یہ امی کی ناراضگی کے باوجود جا کر لے آ ئےکہ سونا گھر کاٹنے کو دوڑ رہا ہے میں سوچتی خدایا یہ وہی بچی ہے جسکے پیدا ہونے پہ میں ناخوش تھی مگر اللہ کتنا مہربان ہے کہ اسنے میرے دامن میں اپنی رحمت بھر دی ۔

دن چٹکیوں میں اڑے اتنے ماہ و سال اتنی جلدی گزر گئے میں نے اسکی فرنچ ٹیل باندھتے ہوئے سوچا قد کاٹھ میں میرے برابر ہو رہی تھی میٹرک کے پیپرز دے کر فارغ ہوئی تو میرا خیال تھا اسکے لئیے ڈاکٹری بہترین لائن ہے اور وہ بابا کی طرح انجئنرنگ کرنا چاہتی تھی مگر میری شدید خواہش کو دیکھتے ہوئے ارادہ بدل دیا اور پری میڈیکل پڑھنے لگی ماشااللہ کتنی فرما بردار ہے میں اسکے ملیح جہرے کو دیکھتے ہوئے سوچتی اپنے ٹائٹ شیڈول میں بھی میرا خیال رکھتی رات کو کچن میں سمیٹ لوں گی میرے چہرے پہ تھکاوٹ کے آ ثار پاتے ہی مجھے فکر سے آ زاد کر دیتی گھر میں ملازمہ اور ہیلپر ہمیشہ ہی سے موجود تھے مگر مجھے کچن کبھی بھی ملازمین کے حوالے کرنا پسند نہیں رہا۔

جان توڑ کر محنت کی کہ میڈیکل میں کمپیٹیشن بہت ہے اور میں ریپیٹ نہیں کروں گی پہلی بار میں ہی کلئیر کرنا ہے مجھے انٹری ٹیسٹ بڑے عزم سے کہتی ۔ مما کلئیر کر لوں گی نا بہت دعائیں کیجئے گا بس مصّلے سے اٹھا ہی نا کریں پڑھتے پڑھتے رک کر ایڈوائس کرتی ۔ میں حوصلہ بندھانے کو کہتی میری بیٹی کا نہیں ہوگا تو سمجھو اس سال کسی کا بھی نہیں ہو گا میری بیٹی سے ذیادہ کون ذہین ہو گااور وہ حوصلہ پکڑ لیتی آ خر اسکی محنت رنگ لے آ ئی وہ کلئیر کر گئی اور جب کے ۔ ای میں جا رہی تھی تو مارے تفاخر اور اللہ کے کرم کے میں بات کرتے کرتے اکثر گلوگیر ہو جاتی اس نے میرا وہ خواب بھی پورا کیا تھا جو میں نے کبھی اپنے لیے دیکھا تھا۔

اور پھر سب کو اداس چھوڑ کر ہاسٹل چلی گئی پورا گھر سائیں سائیں کرتا رہتا نا گھنٹیاں بجتیں نا دروازے کھلتے نا گول گپوں کی فرمائش نا چاٹ نا آ ئس کریم ، چاکلیٹ کے ریپر دِکھتے بیٹے تو پہلے ہی جا چکے تھے ہم دونوں سادہ سا کھانا کھاتے اور بس کام ہی ختم ہو گئے سارے نا کہیں کتابیں بکھری نظر آ تیں نا جلدی میں ادھر ادھر ڈالے کپڑے سارے کام ہی ختم ہو گئے میں بوریت کا شکار رہنے لگی تو اسی نے توجہ دِلائی مام اپ جِم جائین کر لیں کلب جایا کریں کِٹی پارٹیز کیا کریں ایف بی پہ اکاؤنٹ بنائیں اس طرح تو آ پ ڈل ہو جائیں گی آ پ میں بہت ٹیلنٹ ہے اسے ضائع نا کریں اور سب سے بڑی بات آ پ ایک کوئین کی مدر بننے جا رہی ہیں تو مدر کوئین تو لگنا چاہیئے نا وہ شرارت سے ہنستی واقعی ایک پیدائشی نبّاض ہے میں سوچتی کیسے منٹوں میں حل سامنے رکھ دیتی ہے ۔ ہاسٹل سے آ تی تو جیسے زندگی جاگ جاتی ہنگامے ، فرمائشی پروگرام سہیلیوں کا تانتا ، ڈریسنگ ٹیبل کی شامت سب سے زیادہ آ تی سب مل کے ایک دوسری کو تیار کرتیں اور سیلفیاں لیتیں اور جاتے سمے وہ ساری سیلفیاں میری گیلری میں ڈالتی اور میک اپ کی چیزیں اپنے سفری بیگ میں ۔ بوقتِ ضرورت مجھے بڑی کوفت ہوتی فون کھڑکاتی مسکارا کہاں پھینک گئی ہو لائنر نہیں مل رہا ، پنک لپ اسٹک کا لائیٹ والا شیڈ کدھر گیا ۔ مام وہ تو میں لے آ ئی آ پ اور لے آ ئیں نا میں کب سے یہ شیڈ لینا چاہ رہی تھی ٹائم نہیں مل رہا تھا ویسے بھی لینے جاتی تو کافی ہرج ہوتا پڑھائی کا اور میں قائل ہو جاتی کہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی ہے اوپر سے بدستور ناراض رہتی۔

اب کے ویک اینڈ پہ آ ئی تو گھر میں پھیلی کشمکش کو فوراً بھانپ گئی جھجکتے ہوئے بولی مما آ پ میں ایک خامی ہے آ پ وقت کے حساب سے نہیں چلتیں اور میں جو پہلے ہی کچھ غیر معمولی سے احساسات کے تحت دل پہ بوجھ لیۓ بیٹھی تھی بہت برا لگا مجھے میں خاموش سی ہو گئی اور بے دلی سے اٹھ گئی اس نے محسوس کر لیا میرا ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لیکر نادم سی بیٹھی سوری کرتی رہی مگر میرا احساس جگا چکی تھی۔

,, رحمتِ حق بہانہ جویَد ,, میں نے دل سوچا ۔ مجھے اکثر بزرگوں سے شکایت رہتی تھی کہ بات کو سمجھتے ہی نہیں ہر بات میں مین میخ نکالتے ہیں میں جلتے کُڑھتے سوچتی مگر اسکے احساس دلانے پہ پتہ چلاکہ ہم اپنے بزرگوں سے بات کرتے نہ ان کے پاس بیٹھتے ہیں، انہیں ریٹائر سمجھ کر کوئی بات شیئر ہی نہیں کرتے، وہ ہماری بات کیسے سمجھیں گے ۔ ایسے ہی ایک دن ابا جی کی شکایت کر رہی تھی اس سے کہ اب وہ بیٹی کم اور دوست زیادہ لگتی تھی۔ مما آپ ددّا کے ساتھ کچھ ٹائم گزارا کریں تو انہیں آپ کی بات سمجھنے میں آ سانی ہوگی، اس نے بڑے رسان سے بات کی۔ وقت کی ضرورت کو دیکھنا ہوتا ہے نا۔ اس نے میری جھنجھلاہٹ کو محسوس کر لیا اسی لیے بڑے معتدل لہجے میں بولی آ پ انکے ساتھ تبادلۂ خیالات کریں گی تو وہ بھی آ پکی بات آ سانی سے سمجھیں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   بابا کی پیاری _ بریرہ صدیقی

انہیں ہر طرح کے فیصلوں میں شامل کیا کریں مرضی تو اپنی ہی کرنی ہے بس ان کے سامنے آ پ اور بابا بات ڈسکس کر لیا کریں تو فیصلے کو انکی تائید مل جایا کرے گی ۔ مگر وہ تو ہر بات میں مین میخ ہی نکالتے ہیں میں نے نِروٹھے پن سے حواب دیا اگر آ پ انکے سامنے بیٹھ کر بات کریں گی تو آ پکے خیالات اور وضاحت ان تک خود ہی پہنچ جائے گی اور جب وہ معاملے سے شروع سے آ گاہ ہوں گے تو انکی مرضی لازماً شامل ہو جائے گی ۔ اف کتنی سامنے کی بات تھی میں نے کبھی غور ہی نہیں کیا ددّا سارا دن آ پکی مصروفیت میں ذرا سی فرصت تلاشتے رہتے ہیں کہ کب آ پ فارغ ہوں اور کب ان سے بات کریں بیٹی کی نرم ، مہربان آ واز پھر سنائی دی۔

ابا جی کی وہی زمیں داروں والی سوچ تھی میں نے بڑی مشکل سے زمینیں بنائی ہیں بچوں نے ایک مرلہ بھی شامل نہیں کیا وہ اونچا اونچا بول رہے تھے اگر آ ج بانٹ دوں تو سب بیچ باچ کھا جائیں ۔ اب انہیں کون سمجھائے کہ ہمیں زمینوں میں اضافے کی ضرورت ہے نا فرصت ۔ جاب ہے ، بچوں کی ذمہ داریاں ہیں کاشتکاری کے رولے کون دیکھے گا ہنہ میں اکتا کر بڑبڑائی مگر دل کی بات ان سے کبھی نہیں کی لیلیٰ نے احساس دلوایا تو سمجھ آ ئی کہ یہ بات کبھی ابا جی کے پاس بیٹھ کر سہولت سے بتائی ہی نہیں بلکہ میں تو پہلے دن سے ہی کترائی کترائی رہتی تھی مجازی خدا اپنے بکھیڑوں میں مصروف رہتے مگر میرے پاس کافی وقت ہوتا تھا، بالجبر ہی سہی تھوڑا تھوڑا ابا جی کے پاس بیٹھنے لگی تو شادی کے اتنے سالوں بعد عقدہ کھلا کہ ابا جی جو اپنی سخت مزاجی کے لئیے پورے خاندان میں مشہور تھے اندر سے بالکل بادام اور اخروٹ کی مانند نرم تھے ۔ رفتہ رفتہ اندازہ ہونے لگا کہ زندگی کوئی بہت آ سان نہیں تھی ان کے لیے بڑی تگ و دو کے ساتھ بچوں کو پڑھایا تھا اور ساتھ ساتھ بچت کر کے زمینوں کے ٹکڑے بھی خریدتے رہے تھے ۔

ریٹائرمنٹ تک بچوں کے فرائض سے سبک دوش ہو چکے تھے انکی سوچ کا اپنا ایک انداز تھا انہیں واقعی بہت پیار تھا اپنی زمینوں سے جنکو انہوں نے اپنی بہت سی ضروریات اور تعیّشات کی قربانی دے کر خریدا تھا بعینہِ ایسے جیسے میں نے اپنا گھر اور اسکی آ رائش اپنی مرضی سے کی تھی کوئی ڈیکوریشن پیس کہاں سے خریدا تھا کوئی کہاں سے ، لیگج اور احتیاط کے سو بکھیڑے اور وسوسے سہے تھے کن دقتّوں سے پردے بنے تھے کچھ آ رائشی اشیاء ملتان اور سرگودھا سے آ ئیں تھیں انکا ٹرانسفر ہوتا رہتا تھا تو ہر شہر کی خاص سوغاتیں میرے پاس جمع تھیں اور بڑی احتیاط کے ساتھ سنبھال کر رکھا کرتی تھی، کبھی سالانہ صفائی کے دوران چیزیں کُھلتیں تو ان کے ساتھ وابستہ ساری جِزیات بھی یاد آ جاتیں واقعی چیزوں کی وقعت نہیں ہوتی انکے ساتھ جڑی یادوں کی اہمیت ہوتی ہے چیزیں دھیان میں آ ئیں تو وہ یادیں بھی در آ تی ہیں اور وہ یادیں پرانی ہو کر سنہری رنگت اختیار کر جاتی ہیں جو آ نکھوں میں جُگنو اور دل میں گداز بھر دیتی ہیں کتنے ہی نرم گرم لمحے گرفت میں آ تے ہیں اور اگر ہمارے دامن لمحوں کی جکڑن سے آ زاد ہو جائیں تو باقی کیا رہ جائے زندگی میں۔

ہمیں تو سب کچھ بنا بنایا مل گیا تھا اور ہم نے اپنی زندگی بغیر کسی جدوجہد کے بڑے ٹھاٹ کے ساتھ شروع کی تھی بنیادوں میں کتنا خون اور پسینہ ڈلا تھا کبھی سوچنے کی زحمت ہی نہیں کی۔ اب اندازہ ہوا کہ ابا جی بھاگ بھاگ کر گاؤں کیوں جاتے ہیں اور سکت نہ ہونے کے باوجود پوری زمینوں کے چکر کیوں لگاتے ہیں اپنی یادیں ہی تو تازہ کرتے ہوں گے ورنہ زمین تو وہی ہے جس پہ انکی ملکیت مسلّم ہے ۔ میں نے جس دن اس نقطے کو پا لیا زندگی بہت آ سان ہو گئی اب ان کے اور میرے بیچ باپ بیٹی والا رشتہ قائم ہو چکا ہے یہ نہیں کہ یکسر موم ہو گئے ہیں ابا جی یا بدل گئے ہیں میں نے سمجھوتہ کر لیا ہے میرے اپنے ابا بھی تو یونہی غصے میں آ جایا کرتے ہیں تب تو مجھے انکی عمر کا تقاضا لگتا ہے تو یہاں بھی یہی رعایت میں سوچ لیتی ہوں یوں گھر کی کتنی بڑی ضروریات ابا جی از خود اپنے ذمہ سمجھتے ہیں کالج کی سالانہ فیس بھرنی ہو یا ہاسٹل ڈیوز ہمیں فکر نہیں ہوتی۔

مضمون لکھنے کا مقصد یہ تھا کہ آ پ سب کے پاس بھی یقیناً ایسی رحمت اسی صورت میں موجود ہو گی۔ نعمتوں کا شکر ادا کیجیے اور رحمتوں کے لیے دل و دامن کشادہ رکھیے رحمت کا حساب نہیں نعمت کا حساب دینا ہوگا کسی جگہ پڑھا تھا۔ جیسا کہ شروع میں لکھا تھا، شاید اس کا اس دنیا میں آ نا بہت ضروری تھا، میں جو اپنی پختہ سوچ کو واقعی میں اہمیت دیا کرتی تھی، اسے میری پیدا کی ہوئی بیٹی نے نامحسوس طریق پر بدل دیا، اسی لیے یہ رحمت مجھے بہت عزیز ہوگئی ہے، میں نے ابھی بھی تصّور میں بڑے تفّاخر سے اپنی بیٹی کو سوچا، مجھے اس کی چمکیلی آ نکھوں میں دنیا کو فتح کر لینے کا عزم جھانکتا نظر آتا ہے تو احساس ہوتا ہے کہ میری دنیا شاید اسی کے لیے تخلیق کی گئی ہے، میرے مولا تو کتنا غفور الرحیم ہے تو بہتر سمجھتا ہے کہ انسان کے لیے کیا بہتر ہے، شکر گزاری کے احساس سے میری آ نکھیں بھیگنے لگیں، پتہ نہیں کب میری آنکھوں سے آ نسو بہنے لگے، روانی نے احساس دلایا کہ کافی دیر سے رو رہی تھی۔

ٹیگز

Comments

زارا مظہر

زارا مظہر

زارا مظہر نے اردو میں ماسٹرز کیا ہے، شاعری سے شغف ہے۔ دل میں چھوٹے چھوٹے محسوسات کا اژدھام ہے جو سینے جو بوجھل پن کا شکار رکھتا ہے، بڑے لوگوں کی طرح اظہاریہ ممکن نہیں، مگر اپنی کوشش کرتی ہیں۔ دلیل کی مستقل لکھاری ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.