انٹرنیٹ کے رشتے - قدسیہ ملک

بچپن میں پائپ پائیپر کی کہانی سنی تھی. سارے بچے ایک بین بجانے والے کے ساتھ ساتھ چلتے ہوئے ایک غار میں چلے جاتے اور غار کا دروازہ بند ہو جاتا.
بڑی ہوئی تو انٹرنیٹ میں ایسی مہارت تھی کہ بآسانی دوسروں کو انٹرنیٹ کی معلومات سے مستفید کیا کرتی تھی لیکن اس دور میں انٹرنیٹ تک سب کی رسائی کے باعث یہ کوئی بڑی بات نہ تھی.
تعلیم کے بعد شادی ہوگئی، بچوں کے بعد تمام نئے رشتے بنتےچلےگئے، پرانے تقریباً تمام دوست احباب چھوٹ گئے، لیکن انٹرنیٹ سے رابطہ رفتہ رفتہ مضبوط ہوتا چلا گیا.
بہت آسانی تھی، پرانے دوست احباب کی خیر خیریت بھی پتہ چلتی رہتی. بس اس کے پاس وقت ہی نہ تھا، اور تھا تو صرف واٹس اپ، ایمو، میسنجر، وائبر، انسٹاگرام، فیس بک، لائن اور ای میلز کے لیے.
عمر رفتہ چلتی گئی، بالآخر عمر پوری ہوئی. مرحومہ بہت اچھی خاتون تھی، اللہ مغفرت کرے. اس کی بیٹی واٹس اپ پر اس کی تعزیت کے پیغامات وصول کر رہی تھی.

Comments

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک

قدسیہ ملک شعبہ ابلاغ عامہ جامعہ کراچی میں ایم فل سال اوّل کی طالبہ ہیں۔ مختلف رسائل، اخبارات اور بلاگز میں لکھتی ہیں۔ سائنس، تعلیم، سماجی علوم، مذہب و نظریات دلچسپی کے ایسے موضوعات ہیں جن پر آپ قلم اٹھاتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.