حدیث کا انکار نہ کیجیے - ابوبکر قدوسی

.زمانہ بدلا، دنیا ایک ہوگئی، ہوائی کے جزیروں میں پتہ جو کھڑکتا ہے آواز سائبیریا کے برف زاروں اور ہمالہ کے کوہساروں میں آتی ہے. روشن خیالی نے کچھ اذہان کو اپنے مذہب پر شرمندہ کرنا جو شروع کیا تو ازالہ تشکیک کے واسطے متجددین سامنے آ گئے. وہی سرسید والا رویہ اختیار کیا، پہلے تو حدیث کو مشکوک کیا، پھر سنت اور حدیث کی تقسیم کی، صحیح حدیث کو بھی قرآن ، اور ”عقل“ پر پرکھنا شروع کیا، جو حدیث پسند نہ آئی اسے قران سے متصادم قرار دے کر جان چھڑائی، پھر بھی گزارہ نہ ہوا تو اپنی عقل کو معیار بنا لیا.

اس غیر علمی انداز کا نتیجہ یہ نکلا کہ لوگوں کے لیے انکار حدیث کا مشکل مرحلہ آسان ہو گیا. وقت آئے گا کہ یہ انکار خود ان کے گلے کو آئے گا. جو لوگ آج حدیث کا انکار کرتے ہیں، کل کو قران کا بھی ایسے ہی انکار کریں گے.

حدیث کے انکار کا سب سے بڑا ”وقتی فائدہ“ یہی ہے نا کہ بہت سی پابندیوں سے جان چھوٹ جاتی ہے. ایک صاحب سے کل ہلکی پھلکی گفتگو دیکھی کہ قربانی اور عید کا قرآن میں کوئی ذکر نہیں، سو اسلام سے اس کا کوئی تعلق نہیں. جتنے کنکر اتنے شنکر. ہر طرف متجددین اور مفکر بکھرے پڑے ہیں. کتنے چنیں؟
ان سے سوال ہے کہ قرآن میں ہے
[pullquote]فَانْ تَنَازَعْتُمْ فِی شَیْءٍ فَرُدُّوْہ الی اللّٰہِ وَالرَّسُوْلِ[/pullquote]

چلیے قرآن کی مان لیجیے کہ اگر اختلاف ہو جائے تو اللہ اور اس کے رسول کی طرف پلٹو..
...اختلاف ہو گیا..ٹھیک؟..اب اللہ سے ملنے چلیں گے کہ فیصلہ کروائیں؟...ظاہر ہے ممکن نہیں .. تو یہاں آپ اور ہم اس سے مراد کتاب اللہ لیتے ہیں کہ اللہ کی کتاب کی طرف رجوع کیا جائے، وہاں سے راہنمائی لی جائے ... تب ہمارا اور آپ کا یعنی انکار حدیث والوں کا ترجمہ ایک ہی ہو جاتا ہے، اگلے ہی لفظ پر پہنچتے ترجمہ بھی بدل جاتا ہے، فہم بھی ... رسول کی ذات سے مراد حدیث کیوں نہیں...؟
صحابہ اس آیت کے مفہوم میں یکسو بھی تھے اور عامل بھی کہ ان میں نبی کریم کی ذات بابرکات موجود تھی ... سو وہ کتاب اللہ کو دیکھتے، اس سے راہنمائی لیتے تشریح کے لیے نبی کی طرف پلٹتے،
اب ہمارا زمانہ آیا، نہ اللہ کی ذات تک ظاہری رسائی، نہ رسول ہم میں موجود...
اب اللہ نے قرآن میں اختلافات کا حل بتا دیا ... اللہ سے رجوع کر لیا قرآن کی صورت ... رسول سے کیسے رجوع کریں؟
قرآن کی یہ آیت بذات خود حجیت حدیث کا اعلان ہے کوئی نا مانے تو کیا علاج؟
ورنہ رسول کی طرف پلٹنے کا مطلب بتا دیجیے؟
اور اسی آیت میں اشارہ ہے محدثین کی محنت ، حدیث کی تصحیح اور تضعیف کی طرف..آپ حیران ہوں گے..یہ کیا؟

یہ بھی پڑھیں:   “نہیں، قرآن نہ سنو” عابدہ بانو

دیکھیے جو عقل حدیث کو پرکھنے کے لیے تو لنگوٹ کس کے میدان میں آ جاتی ہے .. اس عقل کو یہ سمجھ نہیں آتی کہ رب نے جب اپنی یعنی اللہ طرف رسول کی طرف پلٹنے کا حکم دیا تو معلوم تھا کہ میری ذات تک رسائی ممکن نہیں اور نبی بھی ان میں نہیں ہوں گےتب کیا ہو گا ... سو اپنے قران کی حفاظت کا اہتمام تو کر لیا... ساتھ حدیث کی حفاظت کا بھی اہتمام کیا ... سو اب امت بے فکر ہو ”فردوہ“ کے حکم پر عمل کر سکتی ہے...