خالی کتنا بادل ہے - سمیرا غزل

عشق کے فسانے میں
حسن زہر قاتل ہے

پھر قیاس ہے مجنوں
لیلی غیر عامل ہے

کس قدر گرجتا ہے
خالی کتنا بادل ہے

روح بھی ہے شرمندہ
جسم کتنا کاہل ہے

پیار کا بس اک لمحہ
زندگی کا حاصل ہے

بالکل سرمد جیسا ہے
دل بھی خود سے غافل ہے

جذبہ کتنا سچا ہے
دعوی کتنا باطل ہے

پربت پربت پھرتا ہے
دل فطرت کا سائل ہے

سکہ کی باتیں کرتا ہے
تو بھی لگتا گھائل ہے

میرامن بھی منصوری
اناالحق کا قائل ہے

سولی پہ چڑھائے گا
یہ نظام عادل ہے

ٹیگز