مجھ سے شادی کر لو - نصرت یوسف

بادامی رنگ کے ٹائیگر پرنٹ سوٹ کے ساتھ اسے بڑی تلاش کے بعد اپنا من پسند ہینڈ بیگ مل سکا تھا۔ پورے ہزار روپے کے اخراجات اور گھنٹوں کی محنت کے بعد جب وہ گھر پہنچی تو بجلی غائب تھی۔ اپنی کی گئی شاپنگ دونوں بہنوں کی طرف بڑھاتے ہوئے اس نے اپنے تھکے ہوئے وجود کو بستر پر گرا دیا۔
’’بانو چائے!‘‘ گوہر، اس کی بہن چائے کا مگ تھامے کھڑی تھی،
’’دروازہ بند کر دو صحن کا‘‘ اس نے صحن کے کھلے دروازے کو دیکھ کر کہا جو چچا اور ان کے گھر کے درمیان کھلتا تھا،
’’کاکا بہت شور مچاتا ہے اب‘‘ اس نے چائے کا مگ تھامتے ہوئے ہلکی ناگواری دکھائی دی۔
’’رہنے دو، دروازہ بند ہوجانے سے گھر میں سناٹا سا ہوجاتا ہے۔ کاکے کی آواز سے زندگی جاگتی ہوئی لگتی ہے۔‘‘
بانو نے ٹرنک میں رکھے جمع شدہ قیمتی کپڑوں کے ساتھ مصروف ماں کی بات سن کر لب بھینچ لیے۔
’’اللہ جانے امی واقعی مصروف ہیں یا اپنے آپ کو مصروف رکھنے کی کوشش میں ہیں‘‘
سوچ تو آئی مگر اس نے کچھ بولا نہیں۔ چائے کے گھونٹ لیتے ہوئے وہ ان کو دیکھنے لگی۔ایک ایک کپڑے کو بڑی احتیاط سے نکالتیں۔اس کی تہہ درست کرکے واپس ٹرنک میں رکھ دیتیں۔
’’نہ جانے کیا سوچ رہی ہیں‘‘ ماں کو دیکھتے ہوئے وہ ان کے ماتھے پر ابھرنے والی لکیروں پر غور کرنے لگی۔
*****
’آپا بینک سے واپسی پر میرے لیے بادامی رنگ کی کوئی چپل لیتی آنا۔ اسی شیڈ میں جو تمہارے نئے بیگ کا ہے، میرے سوٹ کے ساتھ تمہارا بیگ تو فٹ ہے لیکن تمہاری چپل نہیں جچے گی۔تمہیں پتہ نہیں ہے نا کالج میں فنکشن کا، اسی کا بندوبست کرنا ہے۔‘‘
سب سے چھوٹی شاداب نے سویرے کالج کے لیے نکلتے ہوئے امی سے کرایہ لیتے ہوئے کہا تو امی نے اسے خاصی کڑی نظروں سے دیکھا۔
’’ آنکھ کھولتے ہی کپڑوں جوتوں کی لگ گئی، نہیں دیکھ رہی کہ مصروف ہے بہن‘‘ شاداب کو ٹوکتے ہوئے ان کی نظریں انداز بانو کو تلاش کرنے لگیں جو اسٹور میں رکھے اسٹینڈ پر کپڑے پھیلائے استری میں مصروف تھی۔
’’انداز بانو!‘‘ ابو ہمیشہ بیٹیوں کو اسی طرح پکارتے تھے۔
’’انداز بانو! گوہر بانو! شاداب بانو! ‘‘ بھلا یہ ’انداز‘ کس انداز کا نام ہے؟ وہ اکثر جھنجھلا کر سوچتی۔ ’یہ بھی کوئی رکھنے کا نام ہے، فرناز ہی رکھ دیتے‘۔ اپنا نام بتاتے وقت اسے ہمیشہ سے ہی خفت کا احساس ہوتا تھا۔ اس لیے اس نے وقت کے ساتھ ساتھ نئے مقام پر نئے انسانوں کے ساتھ اپنا تعارف بانو بنتِ نواب ممتاز کرایا۔
اب بھی حسبِ معمول انہوں نے اسے اس کے پورے نام سے مخاطب کیا۔
’’جی ابو جی آئی‘‘ اس کے بجائے چھوٹی گوہر نے جواب دیا تو وہ چونک کر بہن کو دیکھنے لگی جو کمرے میں رکھے صوفوں کے سیٹ کور تیزی سے اتار کر دھونے کے لے ڈھیر کررہی تھی۔ پرانے اسٹائل کے صوفوں کی یہی خوبی ہے کہ سیٹ کشن فکس نہ ہونے کی بنا پر جب چاہو ان کو دھو دھلا کر چمکا لو۔گھر بھی اجلا اور چیز کا ضیاع بھی نہیں، جو نئے اسٹائل کا مقدر ہے۔ جب تک کپڑا تبدیل نہ کراؤ، اس وقت تک فرنیچر پر میل کچیل ہی جما رہتا ہے۔
’’انداز بانو کو آواز دی ہے میں نے‘‘ ابو نے گوہر کو جتایا۔
’’ابو جی بانو تیاری میں مصروف ہے، میں آتی ہوں بس دو منٹ میں‘‘۔ انداز بانو نے محبت سے بہن کو دیکھا جو ہمیشہ سب گھر والوں کے کام بنا جتائے اس طرح کر دیتی تھی کہ انداز بانو کو یقین ہوجاتا کہ نام کا اثر انسانوں پر ضرور آتا ہے۔
’’گوہر تم واقعی گوہر نایاب ہو!‘‘ وہ بہن کو کہنا نہ بھولتی۔ جب جاب پر جاتے وقت اسے ٹفن میں کچھ نہ کچھ ضرور دیتی، اس کے لائے کپڑوں کو بنا کہے سی کر اس کی الماری میں رکھ دیتی، آفس سے واپسی پر گرم گرم چائے حاضر کرتی یا اس جیسے کئی اور کام گوہر اس طرح کرتی جیسے یہ سب اس کا فرض عین ہو۔
گھڑی کا اسٹرپ بند کرتی جب وہ باہر آئی تو گوہر ابو کو ناشتہ دے رہی تھی۔ ابو کو ڈبل روٹی کا ناشتہ کبھی پسند نہ تھا، انداز بانوکے ہاتھ کے پراٹھے ان کا مرغوب ناشتہ تھا۔ آج وہ ڈبل روٹی کا ناشتہ کر رہے تھے۔ انداز بانو کے پاس احساس کرنے کا وقت بھی نہ بچاتھا۔ بجلی کی غیر متوقع لمبے دورانیے کی غیر حاضری نے سارا شیڈول چوپٹ کردیا تھا۔
’’امی آج واپسی پر مجھے دیر ہوجائے گی۔‘‘ عجلت بھرے انداز کے ساتھ کہتی ہوئی وہ باہر نکل گئی۔
*****
تنگ سی گلی کے سرے پر کھڑی سرمئی ایف ایکس کا انجن اسٹارٹ کرتے ہی سیل فون کی مخصوص رنگ ٹون نے اس کے چہرے پر مسکرہٹ بکھیر دی۔’’ہاں شام کو ملیں گے‘‘ اس نے فون ریسیوکرتے ہوئے مختصر سی بات کی اور گاڑی کی اسپیڈ بڑھا دی۔
انداز بانو نے بنک کی نوکری کے 4سال بسوں میں سفر کرکے ہی پورے کیے تھے۔ نوکری کرنا طبقہ امراء کی خواتین کی طرح اس کا شوق نہیں تھا، مگر پھر وہ پھر بھی نوکری کرتی تھی۔ ابو کسی سپر مارکیٹ میں سالہا سال سے کیشیئر تھے۔ کیش ان کی انگلیوں کے درمیان سے ڈھیروں گزرتا تھا لیکن ان کے اپنے ہاتھ میں بس اتنا ہی رکتا تھا جس سے وہ گھر کا کھانا پینا، سال بھر کے دوچار جوڑے اور ایک آدھ یوٹیلٹی بل ادا کرسکیں۔ بیٹا کوئی تھا نہیں، بس تین بیٹیاں تھیں، بیٹا ہوتا بھی تو کیا ضروری تھا کہ گھر میں ہُن برستا۔ لڑکیوں کو ان کی بیوی کوثر نے سلائی میں مہارت کا استعمال کرتے ہوئے کس طرح محلے کے اسکولوں میں پڑھایا، وہ بہ خوبی جانتے تھے۔ بےخبر نہ تھے مگر باخبر ہونا ظاہر نہ کرتے تھے۔ جس بوجھ کو اٹھا نہیں پاتے تھے، اس کا ذکر بھی تکلیف دہ تھا۔ اس لیے جب کوثر نے انداز بانو کی اپنی بہن کے بیٹے سے نسبت طے کرنا چاہی تو وہ خاموش رہے، ’’اور بھلا میں بولوں بھی تو کس بنا پر، بچوں کی ساری محنت تو یہ نیک بخت ہی کرتی ہے، اب اس کی خوشی میں کیا رخنہ ڈالنا‘‘ نواب ممتاز نے بیوی کے بڑی قدردانی سے سوچا۔
*****
18سالہ انداز بانو کو سکھر والی خالہ نے بڑے ارمان کے ساتھ اپنے اکلوتے بیٹے کے نام کی انگوٹھی پہنائی تو کوثر ممتاز کو عرصے بعد آسودگی کا احساس ہوا۔ سچ ہے ماں باپ کی خوشیاں اور غم تو جیسے بچوں سے بڑے ہوتے ہیں۔ وہ خوش تو ہم خوش وہ افسردہ تو ہم افسردہ۔ نواب ممتاز نے آف وائٹ سوٹ میں گجرے پہنی بیٹی کو دیکھا جو دلہن سی بنی کسی بات پر مسکراتی گڑیا لگ رہی تھی۔
انداز بانو کے انداز واقعی مختلف ہی تھے جبھی سپر مارکیٹ میں آنے والے لگے بندھے گاہکوں میں سے ایک خاتون بینک آفیسر کی نگاہ اس پر پڑی۔ کالج یونیفارم میں شیشے کے دروازے کے قریب کھڑی مسلسل باپ کو دیکھ رہی تھی۔ کالی چادر میں لپٹی وہ اس جگہ سے قطعاً میچ نہیں کررہی تھی۔ اس کے چہرے پر چھایا تاثر اسے ماحول ہم آہنگ نہیں ہونے دے رہا تھا۔
نواب صاحب یہ لڑکی آپ کی بیٹی ہے کیا؟ خاتون نے بل بنوانے کے بعد شائستگی سے اس کی طرف غیر محسوس انداز میں اشارہ کیا۔ ہزار کا نوٹ بل کے ساتھ بڑھاتے ہوئے انہوں نے گردن گھما کر دیکھا ’’ نوہزار ایک سو روپے کا بل ہے، سو کھُلا دیجیے‘‘ نواب ممتاز نے نگاہ ہٹا کر ان سے کہا۔
’’ کیا کرتی ہے آپ کی بیٹی؟‘‘ ایک اور سوال۔ حالانکہ ابھی یہ جواب بھی نہ ملا تھا کہ کھڑی ہوئی لڑکی کون ہے لیکن جس اپنائیت بھری نگاہ سے دیکھا گیا تھا، وہ ایک باپ ہی کی نگاہ تھی۔
چادر اور چاردیواری سے باہر عورت ایک ایسی مٹھاس کی مانند بن جاتی ہے جس کا ذائقہ کتنی ہی نگاہیں اپنے اپنے انداز سے جانچتی ہیں۔ مختلف پیمانے، مختلف باٹ، مول لگائے جاتے ہیں، سرعام بھی اور آڑ لے کر بھی۔
خاتون نے نواب ممتاز کو پیسے دیتے ہوئے اپنے سامان کی ٹرالی ریمپ کی طرف دھکیلی۔ انداز بانو کے پاس سے گزرتے ہوئے ان کے چہرے پر دوستانہ مسکراہٹ آگئی۔
’’فائل کا رخ بدلو۔تمہارا نیم ٹیگ نظر نہیں آنا چاہئے انداز بانو‘‘ ٹھٹک کر اس کو مخاطب کیا گیا جس کی نگاہ بدستور باپ پر تھی۔
’’شکریہ جی!‘‘ نگاہیں ممنون اور دھیمی آواز
’’تمہارا نام بہت پیارا ہے بالکل تمہاری آواز کی طرح‘‘ انہوں نے اس کی نگاہوں کے رُخ پر سرسری نظر ڈالی اور بیگ سے نکالے کارڈ پر کچھ نمبر لکھ کر اس کی طرف بڑھادیا ’’یہ میرا کارڈ ہے۔ہوسکتا ہے کبھی تمہیں ضرورت پڑ جائے۔‘‘ اس نے حیرت سے انہیں اور کارڈ کو دیکھا تو وہ آگے بڑھ گئیں۔
*****
کالج سے بی اے اکنامکس کے بعد پورے تین سال اس نے محلے کے اسکول میں نوکری کی، مجال ہے کہ خالہ نے شادی کا کوئی ہلکا سا اشارہ بھی کیا ہو۔ ہاں ہر ماہ آنے والے فون پر وہ یہ پوچھنا نہ بھولتیں کہ انداز کی نوکری کیسی چل رہی ہے۔
’’کوثر! کیوں یہ لڑکی اپنے آپ کو ان چھوٹی موٹی جگہوں پر ضائع کر رہی ہے۔‘‘ تو کوثر کا دل چاہتا کہ وہ بہن سے پوچھیں کہ آپا آپ کو اصل میں غم کیا ہے؟ میری بیٹی کے ضائع ہونے کا، یا اس کو کم تنخواہ ملنے، اگر وہ اسی طرح منگنی کے نام پر ٹنگی رہی تو اس کا ضائع ہونا یقینی ہے‘‘۔ وہ سوچ کر رہ جاتی مگر پوچھنے کی ہمت کبھی نہ کرسکیں۔ ’’نادر بھی کہہ رہا تھا کہ انداز کو اپنا بی اے اکنامکس ان گلی محلوں میں رُل کر ضائع نہیں کرنا چاہیے‘‘. آپا کے پاس ہمیشہ ہی کوثر کی بیٹی کے متعلق نصیحت کے لیے بہت کچھ ہوتا، اب تو انہوں نے ہونے والے داماد کا نام لے کر احساس دلانا شروع کردیا تھا۔
’’نواب ممتاز تمہارا اور تمہاری اولاد کے نام نرالے ہیں، کیا فائدہ ایسے ناموں کا؟‘‘ ماں کو سکھر سے آپا کے فون سننے کے بعد دھیرے دھرے بڑبڑاتے ہوئے سر کو دونوں ہاتھوں سے دباتے دیکھ کر کاپیاں چیک کرتی ہوئی انداز بانو نے سر اٹھایا۔ ماں اسی کو دیکھ رہی تھیں۔
’’کیوں ان چند پیسوں کے لئے ہلکان ہوتی ہو، اور کوئی اچھی سی نوکری کرو، کسی کمپنی میں یا کسی بینک میں، یہ اسکول والے تو تمہیں تو نچوڑ ہی لیں گے بانو‘‘ ماں کی آواز میں تھکان بھری تھی۔ اس نے حیرت سے ان کو دیکھا۔
’’ہر عورت کوہِ نور ہوتی ہے میری بچیو‘‘ وہ بےتوجہی سے چادر اوڑھی بیٹیوں کو گھر سے باہر جاتا دیکھ کر ٹوکا کرتیں۔
’’رب نے اسی لئے اسے پردے میں رکھا تاکہ وہ محفوظ رہے ۔اس پر کسی ایرے غیرے کی غلط نگاہ نہ پڑے ورنہ وہ بھی کوہِ نور کی طرح اچک لی جاتی ہے، جیسے اسے اُچک کر انگلستان پہنچا دیا گیا، عورت کو بھی وہاں پہنچا دیا جاتا ہے جہاں کے لیے وہ نہیں ہوتی‘‘ تو انداز بانو کی چادر تو فوراً ہی کھسک کر ماتھے تک آجاتی اور سامنے دیوار پر بیٹھی چیل کا دھیان آجاتا جو موقع ملتے ہی کاکا کے پالے چوزے صحن سے دوچار مرتبہ نظروں کے سامنے اچک کر لے جاچکی تھی۔
اور اب وہی ماں تھیں جو اسے اچکوں اور ٹھگوں کی دنیا میں قدم بڑھانے کا کہہ رہی تھیں۔ اس نے گہری سانس لیکر ماں کی دلی کیفیت بہ خوبی محسوس کرلی تھی۔ ’’شاید کہ میری بیٹی ضائع ہونے سے بچ جائے‘‘ ان کہے الفاظ، ان سنی بات جیسے وہ جان چکی تھی۔
*****
نئی نوکری اور وہ بھی بَڑھیا نوکری کہاں اور کیسے ملتی ہے، وہ تو یہ بھی نہ جانتی تھی، کوئی بھی ایسا نہ تھا جس سے مدد ملتی۔ سب ہی انداز بانو جیسے گھرانے تھے۔ چادر اور چار دیواری میں پائی جانے والی عورتیں! ایسے میں اسکول کی نوکری کے علاوہ کہیں نوکری حاصل کرنا اس کو ناممکن ہی لگتا تھا۔
کوثر ممتاز کو ہر ماں کی طرح بیٹیوں کی شادی کا بڑاہی خیال رہتا تھا۔ اس لیے وہ انداز بانو کی تنخواہ کا بڑی احتیاط سے استعمال کرتے ہوئے اس کے لیے کچھ نہ کچھ چیزیں جوڑتی رہتی تھیں، مگر بہن کے اس قدر انجان بنے رہنے کے رویے نے ان کو دلبرداشتہ کر دیا تھا، اس کے باوجود وہ اس کے رشتے کو ختم کرنے کی ہمت اپنے اندر نہ پاتی تھیں۔ خاندان بھر میں جو فساد وہ کوثر کے لیے برپا کرسکتی تھیں، اس کا خمیازہ ان کی بیٹیوں کو بھگتنا پڑتا۔ کوئی بھی آئندہ کے لیے انداز کو کیا گوہر اور شاداب تک کو نہیں پوچھتا۔ بس یہی خدشات تھے جو ان کو کوئی بھی فیصلہ کن بات کہنے سے باز رکھتے تھے۔
*****
نوکری کی سچی طلب ہی تھی جو اس دن اپنی پرانی فائلوں میں سے اندزاز بانو کو ایک کارڈ ملا۔ کسی بینک مینجر کا کارڈ تھا۔’’سبین ضیاء‘‘ لمحہ بھر کو وہ الجھ سی گئی، اسے یاد نہ آرہا تھا کہ کیوں یہ کارڈ اس کے کالج کے کاغذات کے درمیان احتیاط کے ساتھ رکھا ہے۔ اچانک ذہن میں جھماکا ہوا۔ اور اسے ابو کے اسٹور پر برسوں پہلے کسی خاتون سے ہوئی ملاقات یاد آگئی۔ یہ کارڈ انہوں نے ہی دیا تھا جو اس نے فائل میں رکھ لیا تھا. اب چھ سال بعد وہ ایسے نکل آیا جیسے ظاہر ہونے کے لیے وقت کا انتظار کر رہا تھا۔ اس نے کارڈ کو بڑی احتیاط سے اپنے ہینڈ بیگ کی اندرونی جیب میں رکھ لیا، حفطِ ماتقدم کے طور پر تفصیلات گھر میں رکھی ڈائری میں بھی نوٹ کرلی تھیں۔ طلب خود بخود تمام مراتب سکھا دیتی ہے۔ سبین ضیاء سے وہ حاثاتی ملاقات سُود مند ثابت ہوئی۔ ان کا تبادلہ کسی اور علاقہ میں ہوچکا تھا لیکن ان کے ذاتی سیل نمبر نے ان تک رسائی کو آسان بنا دیا تھا۔
*****
’’اوہ تم انداز بانو‘‘ ان کے پُرجوش لہجے سے انداز بانو حیران سی تھی کہ وہ کیوں سبین ضیاء کو یاد رہ گئی۔ ’’لگتا ہے کہ قسمت واقعی تم پر مہربان ہے کہ میری پرانی برانچ میں آج ہی کوئی جگہ خالی ہوئی ہے۔ کوئی بہت ہی اعلیٰ پوسٹ نہیں ہے لیکن اور جگہوں سے بہتر ہے، حالانکہ تم کو اس فیلڈ کا تجربہ نہیں لیکن میں کوشش کروں گی کہ تم کو وہاں سیٹل کراسکوں‘‘ سبین ضیاء نے اس کے سی وی پر نظر دوڑاتے ہوئے ایک امید دلائی۔ ان سے مل کر جب وہ باہر روڈ پر آئی تو چشم تصور سے اس نے اپنے آپ کو ایسی ہی کسی جگہ بڑے پرسکون انداز میں کام کرتے دیکھا اور پھر جیسے اس کے لیے راستے کھلتے ہی چلے گئے۔ بات حیران کن تھی لیکن سبین ضیاء کے توسط سے اس کو بینک میں نوکری مل ہی گئی۔
*****
’’لگتا ہے خاصی تگڑی سفارش لگی ہے اس کے لیے، ورنہ یہ سیٹ تو میں نے اپنے بھائی کے لیے سوچ رکھی تھی۔ تجربہ کار بھی ہے اور سمارٹ بھی‘‘۔
اس قدر پردے لگے ہیں تو جاب کرنے کی کیا ضرورت تھی؟‘‘ اس نے سراسیمہ نظروں سے آوازوں کے رُخ پر دیکھا جہاں اس کے آفس کولیگ رضا اور مہر اس پر دبی دبی زبان سے تبصرے کر رہے تھے مگر آوازیں بخوبی پہنچ رہی تھیں۔ خائف سی انداز بانو نے چادر کو بےاختیار ماتھے سے اور نیچے کھینچ لیا۔
وقت کے ساتھ ساتھ انداز بانو کو بھی نئی جگہ ،نئے ماحول میں ڈھلنا پڑا۔ پہلے چادر اُتری اور اسکارف آیا، اسکارف نے جگہ چھوڑی تو سوٹ کا دوپٹہ سر پر آیا اور پھر وہ بھی محض شانوں پر پھیلا رہ گیا۔ یہ تبدیلی سب ہی دیکھ رہے تھے لیکن خاموش تھے۔ اعلیٰ اور عمدہ جاب سات پردوں میں رہنے والی عورت کو کب ملتی ہے، انداز بانو کے گھر والے بھی اس کلیے سے واقف تھے۔
*****
خالہ نے بھی بہت خوشی کا اظہار کیا تھا۔ الٹا بہن کو بیٹی کے بارے میں فکرمند ہوتے سُن کر سمجھاتیں ’’ہمارا زمانہ نہیں ہے کوثر یہ کہ کمانا صرف مردوں کی ذمہ داری ہو، ماشاء اللہ پڑھی لکھی ہے ہماری انداز، آئندہ اسے نادر کے ساتھ ہی بوجھ میں شریک ہونا ہے‘‘۔
اب تو انداز کے ساتھ ہماری لگنے لگا تھا ورنہ تو ’’تمہاری بیٹی‘‘ کا صیغہ ہی استعمال ہوتا تھا۔ بہن کی بات سن کر کوثر چپ کی چپ رہ جاتیں۔ ’’آپا کیا کر رہا ہے نادر آج کل؟‘‘ بہت سنبھل کر سوال کیا۔
’’ساری ساری رات کمپیوٹر پر بیٹھا یورپ امریکہ کی کمپنیوں میں جاب تلاش کرتا رہتا ہے۔ کہتا ہے یہاں کیا رکھا ہے؟‘‘
’’کیا مطلب آپا؟ کیا وہ بھائی جی کے پولٹری فارم پر نہیں جائے گا، اپنا کاروبار ہے پھر نوکری کیوں؟‘‘
’’کیسی باتیں کرتی ہو کوثر؟ میرا شہزادہ بیٹا کیا اچھا لگے گا بدبو دار اور سڑاند والا مرغی خانہ چلاتا ہوا‘‘، خالہ کے لہجے میں فخر کا انبار کوثر کو عجیب ہی لگا، تب ہی سامنے بیٹھی شاداب کو انہوں نے بہن سے ہونے والی گفتگو من و عن سنادی ورنہ عموماً وہ سکھر سے آئے فون سننے کے بعد خاموش ہی رہتی تھیں۔
’’ہنہہ نوکریاں ڈھونڈتا پھرتا ہے ساری ساری رات! اِدھر اُدھر دل لگی کرتا ہے انٹرنیٹ پر، یوں کہنا چاہیے تھا خالہ کو کہ میرا شہزادہ راتیں کالی کرتا ہے‘‘ شاداب نے دوسرے کمرے میں باپ کی الماری ترتییب دیتی ہوئی گوہر کے پاس جا کر دل کی بھڑاس نکالی۔ ’’پچھلے سال امی کے ساتھ سکھر عیدی دینے گئی تھی تو نادر بھائی کی غیر موجودگی میں ان کا ڈیسک ٹاپ استعمال کرنا چاہا تو ’’زبردست‘‘ کے نام سے بنے کچھ فولڈرز پر کلک کر دیا۔ تم سوچ بھی نہیں سکتی چھوٹی آپا کہ اس میں کیا کیا مواد تھا۔ خالہ کی بیٹیوں زرین، فرحین نے تو خیر زندگی میں کبھی بھی کمپیوٹر کا استعمال سیکھا ہی نہیں، سوائے گھریلو سیاست کے وہ کچھ نہیں جانتیں۔ اب نادر بھائی کیا کیا گُل ساری رات کھلاتے ہیں بےچارے ’’معصوم‘‘ گھر والے کیا جانیں۔ شادی وادی مجھے نہیں لگتا کہ وہ کبھی کریں گے‘‘۔
شاداب چھپائے راز افشاء کر رہی تھی، اچانک گوہر کی نظر دروازے پر کھڑی انداز بانو پر پڑی جو سفید پڑتے چہرے کے ساتھ ہولے ہولے کپکپا رہی تھی۔ بہن سے نادر کے متعلق اتفاقیہ طور پر سننے کے بعد انداز بانو نے خاموشی سے انگوٹھی اتار کر، اگلے دن اسٹور میں رکھے کسی ٹرنک میں دبا دی تھی۔
منگنی شدہ سے شادی شدہ کا سفر اس انگوٹھی کے ساتھ وہ کرپائے گی یا نہیں، شبہ تو اسے اکثر ہونے لگا تھا مگر اب توچپ کی مہر ہی لگ گئی تھی۔
*****
سال گزر چکا تھا اسے انگوٹھی اتارے، حیرت تھی کہ اماں نے کبھی اس سے کچھ پوچھا نہیں، ہاں وہ مزید خاموش ہوگئیں، چپ چاپ اپنے ہنر کے ساتھ مصروف۔ لگتا تھا کہ جیسے برف کی طرح خاموشی سے اندر گُھل رہی ہوں۔ پوچھا تو کس نے؟ مہرالنساء نے۔ کی بورڈ پر اس کی متحرک خالی انگلیاں دیکھ کر وہ پوچھنے لگی تو انداز بانو پہلو بدل کر رہ گئی۔
’’سال بھر ہوچکا ہے مہر انگوٹھی گم ہوئے، تم نے آج غور کیا ہے۔‘‘ اس نے آواز میں شائستگی سمونے کی کوشش کی۔ ’’اونہہ! گم ہوگئی، ایسے کیسے گم ہوگئی تمہاری وہ زرقند کی انگوٹھی! سچ بتاؤ کیا بات ہے؟‘‘ کھوجتا سا لہجہ کریدتی آنکھیں ہمیشہ سے ہی انداز بانو کی ذات پر تجسس، اس کے اس انداز سے وہ خائف ہوجاتی تھی۔ مہرالنساء نے بھنویں اچکا کر اس کے چہرے پر آنے والا تناؤ واضح محسوس کیا اور ہاتھ میں پکڑی فائل اس کی میز پر رکھ کر آگے بڑھ گئی۔
*****
بینک نوکری کا تیسرا سال ختم ہوا تو انداز بانو کی پرانی جڑوں نے بھی نئے انداز قبول کرنے شروع کردیے تھے۔ جڑوں میں اترے خیالات، افکار، رجحانات راتوں رات تبدیل نہیں ہوتے۔ ان میں تبدیلی کے لیے عرصہ درکار ہوتا ہے، دونوں سطحوں پر بیک وقت کام کیا جائے تو کم وقت میں بھی تبدیلی لائی جاسکتی ہے۔ اندونی اور بیرونی سطح پر جان بوجھ کر ٹکراتے کندھے، ہاتھ، پیغام دیتی اور ذومعنی باتیں جو کبھی اس کا چہرہ سرخ کر دیا کرتی تھیں، اب وہ ان کی عادی ہوگئی تھی. وہ صبیحہ کی اس بات سے متفق ہوگئی تھی کہ ’’گھٹن سے باہر آنے کی قیمت تو دینی پڑتی ہے ‘‘۔
صبیحہ ایک شوخ سے مزاج کی لڑکی دوسری برانچ سے ٹرانسفر ہو کر آئی تھی، آتے ہی تمام اسٹاف سے گھل مل گئی تھی۔ ایک دن کسی کلائنٹ مسٹر کاکڑ کی طرف سے ڈنر کی آفر کی خبر فرصت سے بیٹھے اسٹاف کے درمیان خوش گپیاں کرتے اس نے سنائی تو اس نے انداز بانو کی آنکھوں میں آئی ناگواری بھی بھانپ لی۔ ’’دیکھو لوگو! یہ گفٹ پیک بھی دیکر گئے ہیں کاکڑ صاحب کہ ان کے گھر پہلا بیٹا ہوا ہے۔ اس میں چاکلیٹ بارز تمام اسٹاف کے لیے نہیں ‘‘ اس نے ایک خوبصورت سا گفٹ پیک سب کے سامنے چیک کیا۔ انداز بانو کے آگے ڈبہ بڑھاتے ہوئے اس نے قہقہہ لگایا ’’ کھاؤ میر ی جان! کیوں دل کو باتیں لگاتی ہو،گھٹن سے باہر آنے کی قیمت تو دینی پڑتی ہے ۔‘‘
گھٹن تو واقعی بہت ہے ‘‘ انداز بانو نے ایک رکی رکی سی سانس لیتے ہوئے زیر لب کہا جِسے مہر النسا ء نے سن لیا۔
’’یہ لو اس نمبر پر کال کرکے اپنی الجھنیں ڈسکس کرنا فائدہ ہوگا‘‘ شام کو چھٹی کے وقت مہر النساء نے خاموشی سے اس کو ایک پرچی تھمائی۔
*****
’’خیر حسین ‘‘ اس نے نام پڑھا۔ ’’ہاں خیر حسین ! بہت اچھا انسان، بہت سویٹ، بہت نائس۔ دنیا دیکھی ہے اس نے، بجلی کے محکمہ میں کام کرتا ہے اور زندگیاں بھی روشن کرتا ہے‘‘۔ مہرالنساء نے خیرحسین کا تعارف اُسے دیا جو سوالیہ اور الجھی ہوئی نظروں سے دیکھ رہی تھی۔
’’میں کیوں ایرے غیرے سے کچھ ڈسکس کروں گی۔ اور پھر میرے ساتھ کچھ ہے بھی نہیں ڈسکس کرنے کے لیے ‘‘ مہر النساء نے ہلکا سا ہاتھ اس کے کندھے پر مارا اور بِنا مزید کچھ کہے مسکراتی آگے بڑھ گئی۔
اِس کے بعد سے انداز بانوکے سیل نمبر پر خیر حسین کے نمبر سے ایس ایم ایس آنے شروع ہوگئے، لگتا تھا مہر نے اس کا نمبر بھی خیر حسین کو دیا تھا۔ ایس ایم ایس کیا تھے؟ امید دِلاتے اور زندگی پر بھروسہ سکھاتے الفاظ، جیسے کوئی بہت ہی شفیق سی ہستی اپنی نرم باتوں کا پھایہ رکھتی کسی کمزور اور دل شکستہ کو توانا اور خوش و خرم بنانا چاہتی ہو۔ آخر میں وہ اپنا نام ’’خیر حسین‘‘ لکھنا کبھی نہیں بھولتا۔ انداز بانو تو جیسے اِن الفاظ کی اسیر ہوتی چلی گئی۔ اُڑے اُڑے زندگی کے رنگوں میں کالی کالی سی نادر کی تصویر جیسے کہیں تحلیل ہوگئی تھی۔ پھر خیر حسین کی کالز آنی شروع ہوگئیں۔ ناپسندیدگی کا تاثر اُس پر چھانے لگا تو اُس نے مہرالنساء کو شکایتی لہجے میں بتایا ’’مہر اُس کو کہو مجھے کالز نہ کیا کرے۔ مجھے اس طرح باتیں کرنا پسند نہیں‘‘۔ اوہ ! اوہ! ’’وہ تمہیں کالز بھی کرنے لگا ہے‘‘ مہر النساء نے رشک بھری آواز میں کہا ’’وہ تو کسی کسی کو کال کرتا ہے، لوگ ہی اسے کال کرتے ہیں، لگتا ہے تمہارے ایس ایم ایس کے ذریعے جوابات اس کو بہت ہی متاثر کرگئے ہیں‘‘ انداز بانو اِس بات پر اُس کی شکل دیکھ کر رہ گئی۔’’مگر میں بات کیوں کروں آخر ؟‘‘
’’کرلو گی تو کیا فرق پڑ جائے گا۔ آواز ہی تو ہے صرف‘‘ اِصرار بھرے انداز میں کہتے ہوئے اس نے پُرسوچ نظروں سے دیکھا اور اپنے کام میں لگ گئی۔ خیر حسین کی کالز آتی رہیں اور وہ انہیں سرخ بٹن دبا کر منقطع کر دیتی۔ ہر روز کئی مرتبہ ایس ایم ایس بھی بدستور آ رہے تھے۔ جگنو بھرے راستے دکھاتے ہوئے۔ ہاتھ بڑھا کر مدد کرتے ہوئے، کال ریسیو نہ کرنے پر کوئی شکوہ نہیں، کوئی ناراضگی نہیں۔
کب تک ایسے چلتا، سارے بند ایک دن جیسے ٹوٹ سے گئے اور اُس نے خیر حسین کی پہلی کال ریسیو کرلی، وہ ایسا قدم تھا جیسے وہ چکنے پتھروں پر چلنا چاہ رہی ہو۔ فوری طور پر تو ایسا لگا تھا کہ وہ منہ کے بل گرجائے گی، مگر اتار چڑھاؤ کے ساتھ بات کرنے پر قادر اُس شخص کی باتیں جیسے ٹھنڈا میٹھا جھرنا بن کر اُس کو بھگونے لگیں، اُسے لگا برسوں سے جمع شدہ کثافتیں دھل رہی ہوں۔’’شاید تمہیں بنایا گیا ہے کسی خاص کے لیے‘‘ وہ سن رہی تھی، وہ کہہ رہاتھا۔
خیر حسین کی کالز انداز بانو کی زندگی میں تازہ خون بن کر دوڑ گئی تھیں۔ یہ کون سا نقطہ آغاز تھا، اُس نے یہ سوچنا چاہا نہ سمجھنا چاہا۔ وہ تو ایسی پناہ گاہ میں آگئی تھی جو اُس کے دل کی تمام تر افسردگیوں کو اس طرح مٹاتا جیسے کی بورڈ کی مخصوص ’’کی‘‘ غیر مطلوبہ لفظ مٹا ڈالتی ہے۔ ایسے جیسے وہ کبھی تھا ہی نہیں۔
*****
انھی دنوں نادر کسی جاب کے سلسلے میں انٹرویو دینے کراچی آیا تو خالہ کے ہی گھر ٹھہرا۔ وہ بےتاثر چہرے اور دل کے ساتھ شب و روز گزارتی رہی۔گوہر اور شاداب بھی لے دیے سی رہتیں۔ بس ابو امی تھے جو ہونے والے داماد کی آؤ بھگت میں مصروف رہتے تھے۔ ’’لاعلمی بھی نعمت ہے‘‘ وہ ماں باپ کو خاطر مدارت کرتا دیکھ کر سوچتی۔ اُس نے تو اپنے طور پر انگوٹھی کے ساتھ نادر کو بھی اپنی زندگی سے نکال پھینکا تھا۔ آدھی رات کے وقت خیر حسین کے فون جو وہ کوٹھڑی میں جا کر سنا کرتی تھی، نادر کی موجودگی میں اُس نے بند کردیے تھے۔ اس کی کالز سُنے بنا اُسے لگ رہا تھا کہ صحرا میں ریت اور تیز ہوا کا طوفان ہے اور تنہا وہ۔ پورے چار دن کے بعد نادر سکھر کے لیے روانہ ہوا تو تینوں بہنوں نے سکھ کی سانس لی۔
*****
’’اپنا خیال رکھا کرو انداز بانو، مجھے تمہاری بڑی ہی پرواہ ہے‘‘ خیر حسین کی آواز اتنے دن کے بعد سنی تو جیسے اُس کا رواں رواں جھوم اٹھا۔
’’لگتا ہے تم میرا کوئی گمشدہ حصہ ہو ‘‘۔ کیا فقرے تھے، اُسے لگتا جیسے بارش کے قطرے جو شیشے پر تواتر سے گرتے ہیں تو خوبصورت دھاریاں بناتے ہیں۔ وہ بھی اپنی انگلی فرش پر دھاریوں کے انداز میں بے اختیار پھیر رہی تھی۔ بیضوی قطروں کی لمبی قطاریں اس کے آئینہ دل پر بارش کی طرح گرتے ہوئے الفاظوں کے خوبصورت نمونے بنا رہی تھیں۔
’’آپا بہت دیر ہوگئی ہے۔ فجر کا وقت ہونے والا ہے‘‘ وہ جو مگن تھی، گم تھی، اچانک شاداب کی آواز نے اس کو سُن سا کر دیا۔ اس نے دیکھا وہ فوراً ہی واپس مڑ گئی تھی۔
’’کون تھا، کیا ہوا؟ سب ٹھیک تو ہے نا؟ ‘‘ فون کے دوسری طرف سے آوازیں ابھر رہی تھیں۔ لگتا ہے کچھ گڑ بڑ ہے۔ او کے میں بند کر رہا ہوں لیکن جاتے جاتے ’’ہیپی ویلنٹائن ڈے‘‘ کل ہماری پہلی ملاقات ہوگی بانو۔ اس نے بانو کی الجھن محسوس کرتے ہی فون بند کرنے سے پہلے اتنی غیر متوقع بات کی، جس نے اُس کو مزید الجھا دیا۔ فون بند ہوچکا تھا، بِنا اس کی رضا سنے اور جواب جانے ۔ جیسے یقین ہی تھا کہ کچے دھاگے سے بندھی چلی آئے گی۔
*****
یہ شاداب کی آنکھ کیسی کھل گئی؟ وہ سوچوں میں گم، پریشان سی اپنے بستر تک آگئی جہاں برابر والے پلنگ پر شاداب بظاہر سوتی نظر آرہی تھی۔
نہ جانے انداز بانو اس غلط فہمی میں کیوں تھی کہ گھر والے اُس کی گھر میں ہونے والی کسی بھی سرگرمی سے لاعِلم رہ سکتے ہیں۔ وہ اُس کو بخوبی جانتے تھے، آخر وہ اُن کا حصہ تھی، ہاں ایک ابو تھے جو رات تھک کر آکر سوتے تھے تو بس صبح کے الارم سے ہی آنکھ کھلتی تھی۔ ماں، بہنیں اگر خاموش تھیں تو سب کے پاس جواز تھے جن کی تہہ میں بس ایک ہی بات تھی کہ ’’آواز کی دلہن شاید سچ مچ کی اصل دلہن بھی بن جائے‘‘ ’’شاید پرچھائیاں روشنی میں بدل جائیں‘‘ ’’شاید شاید‘‘۔
اگلی صبح حسب معمول تھی۔ شاداب بالکل اس طرح تھی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو جبکہ خود ساری رات بے آرام سوچوں کی بناء پر ابھی تک آرامی محسوس کررہی تھی۔
*****
’’اداس لیلیٰ کیا حال ہیں ؟ سنا ہے چکور چاند تک پہنچ گیا ہے‘‘۔
بینک میں مہر النساء نے اس کی مضمحل سی شکل دیکھ کر آنکھیں گُھماتے ہوئے معنی خیز انداز میں حال چال پوچھا تو وہ جیسے اپنے خول میں سمٹ سی گئی۔
’’ایک دم فِٹ یار‘‘ اس نے خوش دلی سے کہنے کی کوشش کی اور اس کے الفاظ ’’چاند ‘‘ ’’چکور ‘‘ کو سوچنے لگی۔’’یہ کیا اور کس حد تک میرے اور خیر حسین کے بارے میں جانتی ہے‘‘ انداز بانو نے تشویش سے سوچا۔ انہی سوچوں میں گم اس کی نگاہ غیر اختیاری طور پر سامنے لگے ٹی وی اسکرین پر ٹک گئی جہاں ویلنٹائن ڈے کی مناسبت سے ڈرامہ آرہا تھا۔

یہ بھی پڑھیں:   شادی "زدہ" لوگ - محمودفیاض

ہیرو کو دل کی شکل کی سرخ مخملی ڈبیا کھولتے دیکھ کر سرخ کپڑوں میں ملبوس لڑکی کی آنکھیں ہیروں کی کنّی کی مانند جَگمگا اُٹھی تھیں۔ سیلو لیس شرٹ سے باہر اس کے عُریاں بازو پر ایک سرخ دل کا ٹیٹو بنا تھا۔ خوبصورت مینی کیور ہوئے ہاتھوں میں انگوٹھی پہناتے ہوئے وہ مردانہ ہاتھ اس کو یکلخت کسی اور ہی دنیا میں لے گئے، جہاں وہ تھی اور ایسے ہی محبت بھرے ماحول میں ایسی ہی انگوٹھی پہناتا ہوا اس کا مسیحا۔

’’ ہیپی ویلنٹائن ڈے، بانو آج آپ نے ریڈ کلر نہیں پہنا لیکن گلاب ضرور سجا لیے‘‘ قریب سے گزرتے کسی مرد کولیگ نے شوخی دکھاتے ہوئے اس کے سوٹ پرنٹ پر تبصرہ کیا تو اس کی سوچوں کا سلسلہ ایک دم سے ٹوٹ گیا۔ بےاختیار اس نے نگاہ اپنے کپڑوں پر ڈالی۔ ٹی پنک کلر کے جارجٹ سوٹ پر چھوٹے چھوٹے سے سرخ گلاب۔گلاب جیسے لمحات کا تصور کرتے ہی اس کے آس پاس جیسے دھیمی دھیمی خوشبو پھیلتی ہوئی اس کے گرد گھیرا ڈالنے لگی۔ آس پاس جیسے ایک دم اجالا سا ہوگیا ہو اور کانٹوں سے بھرا کوئی خیال بھی نہ پھٹکا۔ ایس ایم ایس سے کال ریسیو کرنے میں اس نے خاصی مزاحمت کی تھی لیکن کال کے بعد ملاقات کا مرحلہ کچھ ایسا مشکل نہ ہوا، یہ ایسے ہوا جیسے یہ تو ہونا ہی تھا۔ پوش کالونی کے اعلیٰ ریسٹورنٹ میں ویلنٹائن ڈے کے لیے اہتمام سے بنایا گیا ماحول انسانوں کے سنگین اقدام کو رنگین بنانے کے لیے ترتیب دیا گیا تھا۔ آتش نفسانی کو بھڑکانے کے تمام تر لوازمات اور اس پر انداز بانو کی خیر حسین سے پہلی ملاقات، سب کچھ جیسے خوابناک سا تھا۔ انداز بانو نے ارد گرد بیٹھے تمام بےخود ہوتے انسانوں پر نظر ڈالی اور ہاتھ میں پکڑی گلاب کی ٹہنی کو احتیاط سے بیگ کی سائیڈ میں اٹکا لیا۔ تجدید محبت کے ان خوبصورت لمحات کا انجام بھی یقیناً اسی طرح حسین ہوتا ہوگا جیسے گلاب کی یہ دلکش کلی، اس نے گھر آکر جسے بڑی احتیاط سے اپنی کتابوں کے درمیان رکھ دی تھی۔ ویلنٹائن ڈے نے خیر حسین سے رابطے کو بڑا ہی مختلف موڑ دے دیا تھا۔ پہلی ملاقات، دوسری ملاقات، پھر تیسری اور پھر ملاقاتیں جیسے معمول میں شامل ہوتی گئیں، جیسے آدھی رات کی کالز۔ مگر خیر حسین کو انداز بانو سے شکایت تھی کہ وہ ملتے وقت بھی دل کے جذبات غالب نہیں آنے دیتی تھی۔ نہ کوئی شوخی نہ شرارت نہ من کو چھوتی کوئی ادا نہ ترنگ۔
*****
’’تم تو ایسے ملتی ہو جیسے میں تمھارے بینک کا کوئی ’عام‘ سا کلائنٹ ہوں‘‘۔ خیر حسین کے لفظ عام پر زور دینے سے وہ چونکی ضرور لیکن چپ رہی۔ دسویں ملاقات میں انداز بانو اُس کی کسی جسارت پر ایسے بِدک کر پیچھے ہوئی جیسے کوئی خوفزدہ ہرنی شکاری کو دیکھ کر فرار کی راہیں تلاش کرتی ہے۔ اس وقت پارک خاصا سنسان ہو چلا تھا اور خیر حسین بدمزہ۔
’’تم مجھ سے شادی کرلو خیر حسین‘‘
’’کیا؟‘‘ اب وہ بِدک کر بولا۔
’’ہاں خیر حسین شادی کرلو۔ خفیہ ہی کرلو‘‘۔ وہ رو سی پڑی تھی۔
’’کیوں میرے اِرد گِرد شعلے جلاتے ہو؟‘‘ انداز بانو جیسے لگتا تھا گِڑ گِڑا رہی ہے۔ آنسو اس کے گال سے بہتے زمین میں گِر کر جذب ہو رہے تھے۔ سوکھی زمین میں پھر بھی نمی کے آثار نہیں تھے۔ خیر حسین نے ہمدردی سے اس روتے وجود کو دیکھا مگر اس کی درخواست کو ذرّہ برابر بھی اہمیت نہ دی۔ وہ بالکل اس زمین کی طرح بن چکا تھا جس پر گِرتے آنسو زمین پر کوئی اثر ڈالے بِنا غائب ہو رہے تھے۔
*****
اِس ملاقات کے بعد وہ گھر لوٹی تو شاداب کو ماسک لگائے پلنگ پر لیٹا دیکھ کر اُسے یاد آیا کہ چچا کے ہاں شادی میں جانا ہے۔گوہر نے الماری کے نچلے خانے سے نازک سی کالے اسٹریپ کی چپل نکالتے ہوئے گردن موڑ کر بہن کو دیکھا جو نہایت نڈھال لگ رہی تھی۔’’کیا ہوا انداز؟ کیا آج پھر گاڑی رش میں پھنس گئی؟ تم بہت تھکی ہوئی لگ رہی ہو۔ کیا دھواں بہت تھا؟ تمہارا آئی لائنز پھیل گیا ہے‘‘ ماں کا دل تھا، بیٹی کا شکستہ وجود دیکھ کر تڑپ اٹھا۔ اس کا دل یکدم جیسے سُکڑ گیا۔ بَدقّت مسکراتے ہوئے اُس نے دیوار پر لگے آئینے میں اپنا عکس دیکھا۔
لمحے بھر خود وہ تھم سی گئی۔ کیا واقعی یہ وہ تھی جو ملاقات سے پہلے اِتنی روشن تھی جیسے ہر خلیہ روشن بلب، رَوم رَوم گنگناتا ہوا اور اب اسی چہرے پر، اسی وجود پر روشنیوں کے بجائے سائے، گہرے سائے چھائے لگ رہے تھے۔
اس نے ماں کو کتنا بھی مطمئن کرنا چاہا مگر اُن کی آنکھوں میں جمی افسردگی، درد کے ساتھ بےیقینی کی کیفیت اسے مزید توڑ رہی تھی۔
اپنے مخصوص وقت پر اِس رات بھی خیر حسین کی کال۔ فون اُس کے تکیے کے نیچے وائبریٹ ہوتا رہا مگر اُس نے ریسیو نہ کیا۔ آج پھر وہ تھی، صحرا تھا، ریت کا طوفان، تیز ہوا اور اس کی بےبسی۔
’’شادی محبت فنا کر دیتی ہے۔ مجھے تمہاری اور اپنی محبت امر دیکھنا پسند ہے.‘‘
’’تم خود غرض بن رہی ہو انداز بانو۔ صرف اپنا مستقبل محفوظ کرنے کے لیے شادی کرنا چاہتی ہو، کیا ہوئی تمہاری محبت!‘‘ آواز میں تاسّف لپیٹے وہ اُس کو خود غرض کہہ رہا تھا۔
’’خود غرض اور میں!‘‘ وہ جیسے سکتے میں تھی۔
’’کیا ضروری ہے کہ ہم علم بغاوت بلند کر کے ایک ایسا معاہدہ کریں جس کا نام شادی ہے.‘‘ اُس کے جملے تھے یا ڈائنامائٹ جو اُس کا وجود ذرّہ ذرّہ کر کے بکھیر رہے تھے۔ وہ درد سے بے حال ہو رہی تھی۔
’’وہ محبت کی برستی رِم جِھم کیا تھی آخر؟‘‘ کرب سے اس نے سوچا۔’’وہ قوس و قزح، وہ بدلیاں!‘‘ دل نے سِسکاری بھری۔
’’واہمہ تھا صرف واہمہ! اصل میں تو وہ خاردار راستہ تھا پگلی‘‘ وجود کی گہرائیاں بول اٹھیں۔ وہ بِکھر رہی تھی، ٹوٹ رہی تھی۔ طوفان کو کنارہ سمجھنے کی غلطی کر بیٹھی تھی۔ کوہِ نور جیسے جوہر سے جوہڑ تک کا سفر تکلیف دہ بھی تھا اور لاحاصل بھی۔

Comments

نصرت یوسف

نصرت یوسف

نصرت یوسف جامعہ کراچی سے فارغ التحصیل ہیں. تنقیدی اور تجزیاتی ذہن پایا ہے. سماج کو آئینہ دکھانے کے لیے فکشن لکھتی ہیں مگر حقیقت سے قریب تر. ادب اور صحافت کی تربیت کے لیے قائم ادارے پرورش لوح قلم کی جنرل سیکریٹری ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.