عوام کیسے کرپشن کرتے ہیں؟ عمارہ حسن

کرپشن کا لفظ ذہن میں آتے ہی عموما خیال فورا سیاست دانوں کی طرف جاتا ہے، جی ہاں! غربت کی چکّی میں پسی ہوئی عوام کو سیاست دانوں سے بہت شکوے ہیں، جنھیں عوام کی ذرا برابر فکر نہیں ہے، وہ اپنے ہی بنک بھرنے کے چکروں میں مصروف عمل ہیں.

بلا شبہ عوام کا یہ شکوہ بجا ہے،ہماری تاریخ اسلام ان خشیت الہی رکھنے والے درخشاں ستاروں سے بھری پڑی ہے، جو خود کو عوام کے سامنے کٹہرے میں کھڑا کر دیا کرتے تھے کہ اگر میرے کسی فیصلے کو ٹھیک نہ پاؤ تو میں بھی تم لوگوں کو جواب دہ ہوں، کیونکہ وہ جانتے تھے کہ اس دنیا کی عدالت میں معاملہ صاف کر دینا اللہ کی عدالت میں پکڑے جانے سے کہیں بہتر ہے. آج صورتحال مختلف ہے، ہمارے حکمرانوں کو صرف اس سے غرض ہے کہ جمع تفریق کر کے ان کے خزانوں میں کیا کچھ بچتا ہے.

ایک مرتبہ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے ایک بدو سے گھوڑے کا سودا کرنا چاہا. گھوڑا پسند کرنے کے لیے گھوڑے پر سوار ہوئے. گھوڑے نے ٹھوکر کھائی اور لنگڑا ہو گیا. آپ نے بدو سے کہا ”اپنا گھوڑا لے لو، میں یہ نہیں خریدنا چاہتا“ اس نے کہا ”نہیں، اب میں اسے نہیں لیتا“. حضرت عمر رضی اللہ عنہ) نے کہا ”اچھا ہم کسی ثالث سے فیصلہ کرا لیتے ہیں“ اس نے کہا ”ٹھیک ہے. شریح سے فیصلہ کرا لو“ چنانچہ معاملہ شریح کے سامنے پیش کیا گیا، اور انھوں نے کیس سنننے کے بعد کہا ”امیرالمؤمنین جو گھوڑا آپ نے خریدا ہے، اسے لے لیں وگرنہ جس حال میں اس کے ہاتھ سے لیا تھا، اس حال میں اسے واپس کریں.“ حضرت عمر رضی اللہ عنہ نے فیصلہ سنا تو اش اش کر اٹھے اور فرمایا، عدل ہو تو ایسا ہو. اس کے بعد آپ نے شریح کو قاضی مقرر کیا جو کئی خلفاء کے دور میں قاضی القضات کے فرائض سرانجام دیتے رہے اور قضات کی تاریخ میں صف اول میں ان کا شمار ہوتا ہے.

کس قدر مضبوط رشتہ نظر آتا ہے اس واقعہ سے حاکم اور رعایا کے درمیان. اس بدو نے کتنی دلیری سے امیرالمؤمنین سے انصاف کا مطلبہ کیا، وہیں ہمیں عادل و انصاف پسند شریح کا رویہ نظر آتا ہے کہ اس نے غیر جانبداری کے ساتھ انصاف کے مطابق فیصلہ کیا، امیرالمؤمنین کو سامنے پا کر ان کے حق میں فیصلہ نہیں کیا بلکہ بدو کو انصاف دلایا. اور قربان جائیے خلیفہ وقت کے احترم قانون پر، کہ انھوں نے فورا سے بیش تر نہ صرف فیصلے کو قبول فرمایا بلکہ شریح کو قاضی کا منصب عطا کیا. اس واقعہ سے ثابت ہوتا ہے کہ جس ملک کی رعایا کی جڑوں میں ایمانی طاقت ہوتی ہے، اس ملک کو اللہ بہترین قیادت عطا فرماتا ہے.

آج ہم اپنے حکمرانوں کی بےحسی پر کڑھتے ہیں لیکن خود اپنے قول و فعل سے یکسر لا علم ہیں. حکمرانوں کو کرپٹ کہتے ہیں مگر خود اپنی زندگی پر نظر نہیں دوڑاتے. دودھ والا دودھ میں پانی ملا کر بیچتا ہے، لیکن ہم اس کو غیر اہم تصور کر کے خاموش بیٹھے رہ جاتے ہیں. پھل اور سبزی فروش جان بوجھ کر گلے سڑے پھل پیچھے کی طرف رکھتے ہیں اور اچھے اور صاف ستھرے پھل اور سبزیاں سامنے کی طرف سجا کر رکھتے ہیں، تاکہ دیکھنے والوں کو سب خوشنما لگے اور موقع ملتے ہی گلے سڑے پھل صاف ستھرے پھلوں میں ملا کر بیچ دیتے ہیں. انھیں تو محض اپنے پھل اور سبزیاں فروخت کرنی ہوتی ہیں اب چاہے جس بھی طرح وہ فروخت ہوں!!

آئیے کچھ اور مناظر دیکھتے چلیں.
وقت کے ساتھ ساتھ زمانہ ترقی کرتا جا رہا ہے، اس ترقی شدہ معاشرے میں جہاں بہت کچھ بدلا ہے وہیں ہمارے کھانوں میں بھی تبدیلی آئی ہے، جنک فوڈ عام ہو گیا ہے، اب حال یہ ہے کہ ایک اسلامی ملک میں رہتے ہوئے بھی ہمیں دیکھنا پڑتا ہے کہ ہم حلال کھا رہے ہیں یا حرام؟ اور یہ کوئی اور نہیں ہمارے ہی تاجر ہیں حضرات ہمیں جو ہمیں حلال کے بجائے حرام کھلا رہے ہیں، محض چند روپوں کی خاطر!!
س
رکاری دفتروں میں کام کرنے والے افراد وہاں پر موجود دفتری اشیاء کو اپنا مال سمجھ کر استمعال کرتے ہیں، چاہے وہ دفتر کا قلم ہو، کاغذ ہو یا پھر سرکاری گاڑی، فہرست بنانا شروع کریں تو چھوٹی اشیاء سے شروع کرتے کرتے کہانی بڑی بڑی اشیاء تک پہنچ جائے گی. مگر افسوس اس چیز کا شعور ہی ختم ہوگیا ہے کہ یہ مال جو ہم مزے سے اپنی ملکیت سمجھ بیٹھے ہیں، دراصل ہمارا نہیں، یہاں نہیں تو کل بارگاہ الہی میں جواب دینا ہوگا.

اسکول، کالج اور یونیورسٹیز میں تعلیمی نظام درہم برہم نظر آتا ہے. اساتذہ جنھیں بچوں کا روحانی ماں باپ کہا جاتا ہے، 3گھنٹے کا لیکچر ایک گھنٹے میں ختم کر کے اپنا فرض پورا سمجھتے ہیں. بعض تعلیمی اداروں میں اساتذہ کئی کئی دن تک آتے ہی نہیں ہیں، مگر اپنی تنخواہ پر گہری نظر رکھتے ہیں. اس ہی طرح غریب بچوں کے والدین کو سخت پریشانی کا سامنا ہے کیوں کہ بچے کا ایڈمشن کروانے جائیں تو ان سے سفارش طلب کی جاتی ہے. غریب بیچارہ کہاں سے سفارش ڈھونڈ کر لائے؟

باہرنکل کر ذرا سڑکوں کا جائزہ لیتے ہیں، جی ہاں! یہاں بھی لوٹ مار کا بازار گرم ہے. بعض ٹیکسی ڈرائیورز کئی گنا زیادہ کرایہ مانگتے ہیں. پٹرول، CNG کی قیمت کم ہو یا زیادہ ان کے کرایوں میں اضافہ ہی ہوتا ہے. ٹھیکے دار عمارتوں کے ٹھیکے لے کر ناقص مٹیریل کا استمعال کرتے ہیں. پھر چاہے کسی کی زندگی ہی کیوں نہ خطرے میں پڑ جائے ان کی بلا سے! تھانوں کے حال سے ہم سب ہی واقف ہیں، کوئی غریب شکایات لے کر جائے تو اس سے صحیح طرح بات بھی نہیں کی جاتی، اور رشوت الگ طلب کی جاتی ہے. پولیس کے نام سے ہی عام بندے کے ذہن میں خوف و ہراس پیدا ہو جاتا ہے. سرکاری ہسپتالوں کی حالت بھی دگرگوں ہے، مریض بیچارے ہسپتالوں کا رخ کرتے ہیں تو ان کو بہت سی پریشانیوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے. سٹاف صحیح طرح تعاون نہیں کرتا، دوسری طرف جعلی دوائیاں بنا اور بیچ کر انسانی جانوں کے خون سے ہاتھ رنگین کیے جا رہے ہیں،خوف خدا دور دور تک نہیں.

کہاں تک سنیں گے، کہاں تک سناؤں !!!
ہماری جاننے والی ایک خاتون ہیں، پچھلے دنوں جاپان گئی تھیں وہ، کہتی ہیں کہ ایک دن میں خریداری کے لیے دکان گئی، میرا بیٹا اپنا DAPI وہیں دکان پر بھول آیا. میں پریشان ہوگئی، بیٹا مطمئن انداز میں اندر گیا، باہرآیا تو اس کے ہاتھ میں DAPI تھا. پوچھنے پر کہنے لگا کہ یہاں پر کوئی کسی کی چیز نہیں اٹھاتا، جس جگہ میں DAPI چھوڑ کر گیا تھا، ٹھیک اسی جگہ سے مجھے مل گیا. پھر آگے بتاتے ہوئے کہنے لگیں کہ میرا بیٹا مجھے ائیرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا، ذرا جلدی پہنچنا تھا تو وہ تیز رفتاری میں گاڑی چلا رہا تھا. اچانک جاپانی پولیس نے ہمیں روک لیا، پتا چلا کہ ہم مقررہ رفتار سے تھوڑا تیز جا رہے تھے، جاپانی ڈرائیونگ رولز کے مطابق کچھ لیولز پورے کرنے کے بعد کہیں جا کر ڈرائیونگ ecnecsil دیا جاتا ہے، جاپانی پولیس نے ان کے بیٹے کا ایک لیول کم کر دیا، اب انھیں پھر سے اس لیول تک پہنچنے کے لیے محنت کرنا پڑتی لہٰذا انہوں نے کوشش کی کہ جاپانی بھائی سے کوئی ڈیل وغیرہ کر لی جائے لیکن یہاں ان کی ترقی کا راز سمجھ آتا ہے کہ انہوں نے کسی بھی قسم کے پیسے لینے سے صاف انکار کر دیا.

یہ ہیں وہ زریں روایات جو کہ دراصل ہماری ہیں، ہمارے آباؤ اجداد ان سے بھی زیادہ پاسدار تھے ان اصولوں کے، مگر افسوس کہ ہم ہی ان کے نقش قدم پر نہ چل سکے اور غیر ان کو اپنا کر ہم سے آگے نکل گئے. اقبال نے کیا خوب کہا تھا:
گنوا دی ہم نے اسلاف سے جو میراث پائی تھی
ثریا سے زمین پر آسمان نے ہم کو دے مارا

آج ہم کرپشن اور بد عنوانی کا رونا روتے ہیں، لیکن اس کی وجوہات پر سرے سے غور نہیں کرتے. ہم خود جگہ جگہ روز مرہ زندگی میں کرپشن کرتے ہیں لیکن اس کو کسی خاطر میں ہی نہیں لاتے. حکمرانوں کی کرپشن کا رونا روتے ہیں اور اپنی کرپشن کا مزہ لیتے ہیں، جو کہ حقیقتا وقتی مزہ ہے. یاد رکھیں قطرہ قطرہ کر کے ہی دریا بنتا ہے. آپ کی یہ چھوٹی چھوٹی غلطیاں معاشرے کو تباہ کرنے کا باعث بنتی ہیں. آج اپ اپنے آپ کو تبدیل کریں، کل آپ کو معاشرے میں تبدیلی نظر آئے گی.
کیونکہ
خدا نے آج تک اس قوم کی حالت نہیں بدلی
نہ ہو جس کو خیال آپ اپنی حالت کے بدلنے کا

Comments

عمارہ حسن

عمارہ حسن

عمارہ حسن نے سوفٹ وئیرانجینرنگ میں بی ایس کیا ہے. بچپن سے ہی کتابیں پڑھنے اور لکھنے لکھانے کا شوق رہا ہے. پرورش لوح و قلم کی ممبر ہیں.

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */