ہاں میں سندھ میں رہتا ہوں - نعیم الدین جمالی

ہوا کے جھونکوں میں شدت آرہی تھی، ہوا کی تیز سرسراتی آواز اسے خوفزدہ کر رہی تھی، اب بارش کی ہلکی ہلکی پھوار سے اس کا لباس بھیگ رہا تھا، روڈ پر اب اس کو چلنا کافی دشوار ہو رہا تھا، میری اچانک اس نواجون پر نظر پڑی، اس کے چہرے پر اداسی تھی، خیالات کے سمندر میں غوطہ زن تھا، کسی گہری سوچ میں مگن یہ نوجوان چھپرے کے ہوٹل میں جا بیٹھا، کھجور کی چھال سے بنی چاری میلی کچیلی تھی، گرد وغبار سے اٹی ہوئی تھی، کپڑوں کو سمیٹتے ہوئے وہ چار پائی کے کونے پر بیٹھ گیا، اس کی ہر حرکت میرے تجسس کو مزید بڑھا رہی تھی ، میں بھی اس نوجوان کے پیچھے ہولیا، ہوٹل پہنچ کر میں نے یک دم پورے ہوٹل پر ایک طائرانہ نظر دوڑائیاور چار پائی پر اس کے قریب بیٹھ گیا، اس نے میری طرف کوئی التفات نہیں کیا، میں اب اخبار اٹھا کر زبردستی اخبار کو گھورنے لگا، اسی دوران دونوں کی چائے بھی آگئی، میں نے پہل کر کے اسے سلام کہا. اس نے غصیلی آنکھوں سے نظر اٹھا کر دیکھا اور ہلکی سے آواز میں جواب دیا .
”آپ کو کوئی پریشانی ہے“ میں نے زبردستی اس سے بات کرنے کی کوشش کی.
”نہیں“ اس نے مختصر سا جواب دیا،
پھر آپ اتنے پریشان کیوں ہیں؟ گرم چائے کی چسکی لیتے اخبار میں مگن میں نے دوبارہ سوال کیا.
اس نے کہا "ہاں“ میرے دیس کے زخموں نے مجھے گھائل کردیا ہے.
میں سمجھا شاید افغانستان یا کشمیر کے کسی علاقے کا رہائشی ہوگا، جہاں دن رات ظلم وستم کی داستانیں رقم ہوتی ہیں.
” کیا آپ کشمیر سے ہیں؟“ میں نے تجسس بھری نظروں سے سوال کیا.
”نہیں“ مختصر سا جواب دے کر نوجوان دوبارہ خاموش ہوگیا.

طویل خاموشی کے بعد ایک سرد آہ بھری اور گویا ہوا
”میں ایسے دیس میں رہتا ہوں جہاں تعلیم پر جاگیردانہ تقسیم ہے، امیر وغریب کے لیے تعلیم کا الگ سسٹم ہے، غریب کا بچہ یا تو تعلیم سے محروم رہتا ہے یا پھر اسے ایسی تعلیم دی جاتی ہے جس کے بدولت وہ کبھی بھی ترقی نہیں کر سکتا، پرائیوٹ اسکولوں کے نام پر کاروبار عروج پر ہے، تعلیم کے نام پر انہیں اپنی تہذیب وثقافت سے انجان کیا جارہا ہے، رقم دے کر آپ پڑی سے ڈگری گھر بیٹھے حاصل کر سکتے ہیں، چار ہزار اسکول بند پڑے ہیں، دو ہزار اسکولوں کا وجود صرف فائلوں کی حد تک ہے، اسکول گودام اور باڑوں کے لیے استعمال ہو رہے ہیں. کہیں پر اسکول نہیں تو کہیں اساتذہ گھر بیٹھے تنخواہیں بٹور رہے ہیں. صحت کی حالت دگرگوں ہے، کروڑوں کے فنڈ ڈکار لیے جاتے ہیں، مریضوں کو پانی کے انجکشن لگائے جارہے ہیں، مریض تڑپتے واصل بحق ہوجاتے ہیں، درد زہ میں مبتلا خواتین اسپتالوں کی گیلری یا پارک میں بچوں کو جنم دیتی ہیں، غفلت سے ہزاروں بچے جان بحق ہوگئے ہیں، پیسوں کی لالچ میں عورتوں کے پیٹ چاک کرکے انہیں بانجھ کیا جارہا ہے.
غربت کا یہ حال ہے کہ غذائی قلت سے ایک سال میں چھ سو بچے دم توڑ جاتے ہیں،
وی آئی پی کلچر سے عوام اور غریب طبقے کے حقوق کی استحصالی ہورہی ہے.
ترقیاتی کام گھٹائی میں پڑے ہیں.
رسم و رواج کو دین وایمان تسلیم کیا جاتا ہے، غیرت کے نام پر ہزاروں خواتین کو کاروکاری کر کے غیرت کی بھینٹ چڑھا دیا جاتا ہے، حوا کی بیٹی کی تذلیل ہوتی ہے، جانوروں کے ساتھ اسے باندھا جاتا ہے، ان کے بال منڈوا کر گدھے پر علاقے کی سیر کرائی جاتی ہے، وٹہ سٹہ کرکے بہنوں، بیٹیوں کی خواہشات کا خون کیا جاتا ہے.
غربت کے نام پر تھوڑی رقم دے کر ووٹ خریدے جاتے ہیں. بے نظیر انکم سپورٹ کے مکروہ دھندے پر باپردہ خواتین کو گھر بدر کر دیا جاتا ہے. دو ہزار سے سات سو روپے ایجنٹ ہتھیا لیتے ہیں.
عوام کو جہالت میں رکھنے کی ہر تدبیر کی جاتی ہے،
خود کو عوام کا نمائندہ کہہ کر اپنی اولاد کی تھائی لینڈ میں شاہی خرچے پر شادیاں کی جاتی ہیں.
کروڑوں کی رقم سے گھروں کی تزئین و آرائش ہوتی ہے.
عوامی فنڈز کی لوٹ کھسوٹ جاری ہے. ہر محمکہ سیاست زدہ ہے.
قلم سے لے کر امیر کارواں تک سب بکاؤ مال ہیں.
عوام کے حقوق کا خون جاری ہے“

یہ بھی پڑھیں:   یہ بھی کرپشن ہی ہے-کرن وسیم

نوجوان مسلسل بول رہا تھا، میں اس کے دیس کے حالات سن کر بور ہوچکا تھا، وہ تھوڑا رکا ہی تھا کہ میں بیچ میں سوال کر دیا،
”کیا آپ سندھ میں رہتے ہیں“.
”جی ہاں! میں سندھ میں رہتا ہوں.“ غصہ میں لال بھبوکا نوجوان نے جواب دیا.
میں نے اخبار کو زور سے پٹخ کر چار پائی پر مارا اور اپنی راہ لی، سندھ کے مستقبل کے بارے میں سوچتا رہا، سوچتا رہا، اور سوچتا چلا گیا.

Comments

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی

نعیم الدین جمالی نے جامعہ بنوری ٹاؤن کراچی سے سند فراغت حاصل کی ہے، سندھ یونیورسٹی میں ایم اے فائنل ائیر کے طالب علم ہیں۔ تدریس اور مفتی کی خدمات سر انجام دے رہے ہیں۔ دلیل کےلیے لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.