سانحہ لاہور و سیہون، ذمے دار کون؟ مولانا محمد جہان یعقوب

نیکٹا نے سات دن قبل متنبّہ کیا تھا، سیکورٹی ادارے اس وارننگ سے باخبر بھی تھے، پھر بھی سیکورٹی کو مزید بہتر بنانے کی جانب توجہ کیوں نہ دی گئی؟ اس قدر عوامی اہمیت کی جگہ پر سیکورٹی اس قدر ناقص اور اس کی جانب سے اداروں کی غفلت، سوال تو ہونا چاہیے۔ اداروں سے پوچھا جانا چاہیے، آخر وارننگ کو کیوں سنجیدگی سے نہیں لیا گیا؟ آنے جانے والوں پر نظر کیوں نہ رکھی جاسکی؟ اس قدر ناکے ہیں، ان سے گزر کر حملہ آور اور اس کا سہولت کار یہاں تک پہنچنے میں کامیاب کیسے ہوگئے؟ وہ آپس میں رابطے میں تھے تو ان کے یہ رابطے سیکورٹی کی نظر سے کیسے اوجھل رہے؟ ان کی پلاننگ سے ادارے کیوں غافل رہے؟ وزیراعظم کا سوال اٹھانا بجا ہے اور ملک بھر میں جہاں بھی دہشت گردانہ کارووائیاں ہوئی ہیں، وہاں سیکورٹی کی ناقص صورت حال ایک مشترکہ سبب رہی ہے۔ اس کے اسباب و محرکات سامنے لانے کے لیے فوری قدم اٹھانے کی اشد ضرورت ہے۔ صرف کمیٹیاں بنا دینا اور لوگوں کے اذہان سے سانحات کی یادیں محو ہونے تک ”نشستند،گفتند، برخواستند“ یعنی اجلاس در اجلاس کی روایتی وقت گزاری پالیسی پر عمل اور اس کے بعد مٹی پاؤفارمولے کو بروئے کار لانا کافی نہیں، خادم اعلیٰ پنجاب کو اس مرتبہ فوری قدم اٹھانا ہوگا۔

آرمی چیف نے کہا ہے کہ جنوبی پنجاب سے دہشت گردی ہو رہی ہے۔ دہشت گردوں کے ساتھ ساتھ ان کے سہولت کاروں کا خاتمہ ضروری ہے۔ نام بدل کر کام کرنے والی جماعتوں کے خلاف آپریشن تیز کیا جائے گا۔ نیشنل ایکشن پلان کے تحت کارروائیوں میں مزید تیزی لائی جائے گی۔ ان کی بات سر آنکھوں پر، انھوں نے اپنی پیشہ ورانہ مہارت کی بنیاد پر یقیناً مرض کی درست تشخیص کی ہوگی، کہ ان سے زیادہ ملکی حالات سے کون باخبر ہو سکتا ہے۔ جنوبی پنجاب میں دہشت گرد اگر پناہ لے رہے ہیں تو ان کے ٹھکانوں کا خاتمہ ضرور کیا جانا چاہیے۔ دہشت گردوں کے آخری فرد کے خاتمے تک یہ آپریشن جاری رہنا چاہیے۔ عمران خان نے اس مقصد کے لیے رینجرز کی خدمات لینے کی صلاح دی ہے۔

یہ آپریشن فوج کرے یا رینجرز، بہرحال درست معلومات اور شواہد کی بنیاد پر ہوگا تو ضرور مؤثر اور کارگر ہوگا۔ ورنہ تو صرف خانہ پری ہوگی۔ فائلوں کا پیٹ بھرا جائے گا۔کورم پورا کرنے کے لیے پرامن مدارس پر چھاپے مارے جائیں گے۔ اندھا دھند ہر داڑھی اور پگڑی والے کو گرفتار کرکے اسے دہشت گرد اور فسادی باور کرانا پولیس کے بائیں ہاتھ کا کھیل ہے۔ یوں جیلیں بھی بھر جائیں گی، فائلوں کے پیٹ بھی اور جیبیں بھی… لیکن معاف کیجیے گا، اصل ہدف کی طرف کوئی پیش قدمی نہیں ہوگی۔ وہ یوں صاف بچ نکلے گا جیسے آٹے میں سے بال نکال دیا جاتا ہے۔ ماضی میں اس نوع کی جتنی بھی کارروائیاں ہوئی ہیں، ان سے ایسے ہی نتائج برآمد ہوئے ہیں۔ حال ہی میں جیلوں کا سروے کیا گیا تو صرف اڈیالہ جیل کے حوالے سے یہ چشم کشا حقیقت سامنے آئی کہ اس میں موجود قیدیوں کی اکثریت اعلیٰ تعلیم یافتہ لوگوں پر مشتمل ہے، جن میں انتالیس افراد ماسٹرز، دو سو نواسی افراد گریجویشن اور چھیاسٹھ افراد ایف اے کی ڈگری کے حامل ہیں۔ یہی صورت حال ان جیلوں میں دینی تعلیم یافتہ قیدیوں کی بھی ہے۔

جنوبی پنجاب عسکریت پسندی کے حوالے سے مشرف دور سے ہی ہیڈ لائنز میں رہا ہے۔ مغرب نے اس موضوع کو لے کر بار بار واویلا کیا ہے۔ یہاں کئی جہادی تنظیموں کے مراکز ہیں، اسی طرح یہاں ایک مخصوص مکتبہ فکر کا بڑا مضبوط ووٹ بینک بھی ہے۔ یہاں سے دینی ووٹ کے بغیر کوئی ایم پی اے اور ایم این اے تو کیا کونسلر بھی منتخب نہیں ہو سکتا اور ریکارڈ اس بات پر شاہد ہے کہ مسلم لیگ ہو یا پیپلز پارٹی یا کوئی اور سیاسی جماعت، اس کی کام یابی میں دینی ووٹ کا مرکزی کردار ہوتا ہے۔ ان حقائق کو بھی مدنظر رکھنے کی ضرورت ہے۔

حافظ محمد سعید کی نظر بندی اور جماعت الدعوۃ کے گرد کھیرا تنگ کیے جانے کے بعد سے ہی یہ تاثر سامنے آرہا تھا کہ کالعدم قرار دی جانے والی جماعتوں کے گرد گھیرا مزید تنگ کیا جائے گا۔ ان جماعتوں کے خلاف جو بھی قدم اٹھایا جائے اس میں درست معلومات اور نیک نیتی ضروری ہے۔ ماضی میں کالعدم جماعتوں کے خلاف اٹھائے جانے والے اقدامات کے کامیاب نہ ہونے کی وجوہات کو سامنے رکھ کر فیصلہ کرنا بھی ضروری ہے۔ ان عوامل کو بھی نظر میں رکھنا ہوگا جن کی وجہ سے ان جماعتوں کا عوامی اثر ورسوخ انھیں کالعدم قرار دیے جانے کے برسہا برس بعد بھی قائم ہے۔ ماضی کی طرح اگر ”بیڈ کالعدم“ اور ”گڈ کالعدم“ والا فرق روا رکھا گیا تو مقاصد و اہداف کا حصو ل ممکن نہیں ہوگا۔ وطن عزیز میں اکثر لوگ دینی ذہن اور اسلام سے جذباتی قلبی لگاؤ رکھتے ہیں۔ ایسے میں محض دہشت گردی کی آڑ لے کر مغرب کے سیکولر پاکستان والے ایجنڈے کے حصول کی راہ ہم وار کرنے کے لیے کسی دینی جماعت کے خلاف کوئی قدم اٹھایا گیا تو عوام میں مزید اشتعال پید اہوگا، دین کے نام پر اپنے مفادات یاغیروں کے ایجنڈے کی تکمیل کرنے والوں کو شہہ ملے گی اور مطلوبہ نتائج پھر بھی حاصل نہ ہوسکیں گے، جو وطن عزیز کے لیے یقیناً ایک اور المیہ ہوگا۔

آمدم برسر مطلب، کوئٹہ میں ایک دن میں دو بم دھماکے، لاہور میں درجن سے زائد انسانی جانوں کا ضیاع اور دن دھاڑے قاتلوں کا اپنے مذموم مقصد میں کام یاب ہوجانا، پشاور میں دھماکا، سیہون شریف میں خونی کھیل اور عروس البلاد کراچی میں ایک بار پھر بارود کی بو اور بساند، خطرے کی گھنٹی ہیں۔ الحمدللہ! آرمی پبلک اسکول پشاور کے بچوں کی قربانی نے اس ملک کے تمام اسٹیک ہولڈرز کو ایک پیج پر لاکھڑا کیا ہے اور ہماری عسکری، سیاسی، دینی قیادت اور عوام ملک سے دہشت گردی کو بیخ و بن سے اکھاڑنے کے یک نکاتی ایجنڈے پر متفق ومتحد ہیں، ایسے میں اس جانب اٹھایا جانے والا ہر قدم مکمل سوچ بچار بلا امتیاز اور درست انوسٹی گیشن کا متقاضی ہے، تاکہ قومی اتفاق و اتحاد بھی برقرار رہے اور مقاصد و اہداف بھی حاصل ہوسکیں، اس کے لیے ضروری ہے کہ بےگناہوں کے خلاف کوئی کارروائی نہ کی جائے، بلاامتیاز آپریشن ہو اورکسی دہشت گرد کو مظلوم بن کر عوامی ہمدردیاں سمیٹنے کا موقع نہ دیا جائے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.