دہشت گردی کے خاتمے کا سری لنکن ماڈل - محمد عمیر

تامل ٹائیگرز سری لنکا کا باغی گروپ تھا۔ اس کی کارروائیوں میں ہزاروں سری لنکن شہریوں نے اپنی جانیں گنوائیں۔ پاکستان سفیر سمیت سری لنکا کی اہمیت حکومتی شخصیات پر اس باغی گروپ نے حملے کیے۔ اس باغی گروپ نے خواتین کے ذریعے خودکش حملے کرنے شروع کیے، ان کے پاس ہیلی کاپٹر موجود تھے جن کو یہ محدود پیمانے پر کارروائی کے لیے استعمال کرتے تھے۔ سری لنکا میں اس باغی گروپ نے 1983ء میں اپنی کاررائیوں کا آغاز کیا اور 2009ء میں سری لنکن صدر مہندا راجہ پاکسہ کے دور میں اس باغی گروپ کا خاتمہ ہوا۔ اس گروپ کو بھارت کی حمایت حاصل تھی۔ بھارت ان کو اسلحہ فراہم کرتا تھا، تامل ٹائیگرز کے کارکنوں کو بھارت میں ٹریننگ دی جاتی تھی۔ ایک وقت تھا کہ سری لنکا بھی پاکستان کی مانند دو ٹکڑے ہونے کے حقیقی خطرات سے دوچار تھا۔ مگر سری لنکن لوگوں نے اپنے عزم وہمت، بہتر پالیسیوں اور پاکستان کی مدد سے اس باغی گروپ پر قابو پالیا۔ اس مدد پر سری لنکا کی حکومت اور لوگ آج بھی پاکستان کے شکر گزار ہیں۔ سری لنکن ٹیم پر حملے کے باوجود سری لنکا حکومت نے پاکستان سے تعلقات ختم نہیں کیے۔ اگر پاکستان کی مدد سے سری لنکا ایک ایسے باغی گروپ پر قابو پاسکتا ہے جن کے پاس اپنی آرمی تھی، اپنے جہاز، اسلحے کی بہتات تھی اور ہر قسم کی مدد کے لیے بھارت جیسا ملک موجود تھا تو پاکستان گزشتہ کئی سالوں سے اسی قسم کے مسئلے پر کیوں قابو نہیں پاسکا؟

دونوں ملکوں کے حالات کا تجزیہ بتاتا ہے کہ اس کی صرف ایک وجہ ہے، کمٹمنٹ۔ پوری سری لنکن قوم تامل ٹائیگرز کو ملک کے لیے خطرہ سمجھتی تھی، وہ ان کی کارروائیوں کے خلاف تھی۔ تامل ٹائیگر ز کے خاتمے کے حوالے سے سری لنکن قوم تقسیم نہیں تھی۔ اس بات پر پوری قوم کا اتفاق تھا کہ ملک کی ترقی،خوشحالی اور بہتر مستقبل کے لیے تامل ٹائیگرز کا خاتمہ ضروری ہے، مگر ہم پاکستانی 60 ہزار انسانی جانوں کا نذرانہ دینے کے باوجود یہ اتفاق رائے پیدا نہیں کرسکے۔ گزشتہ 20 سالوں سے اس مسئلے کا شکار ہیں۔ ہر سانحے کے بعد نئے عہد و پیماں کرتے ہیں اور چند روز بعد کسی نہ کسی مصلحت کا شکار ہوجاتے ہیں۔ کہیں شعیہ سنی کی تقسیم تو کہیں پنجابی اور پٹھان کی۔ کوئی کہتا ہے پنجاب میں آپریشن ہونا چاہیے کوئی کہتا نہیں۔ کسی کے لیے طالبان اچھے ہیں تو کسی کے لیے برے۔ کے پی کے میں آپریشن تب ہوا جب دہشت گردی کا کینسر پورے صوبے میں پھیل گیا تھا۔ سوات سمیت دیگر اضلاع طالبان کے قبضے میں آچکے تھے۔ کراچی میں جب ہر گلی گلی میں ٹارگٹ کلر پیدا ہوئے تو آپریشن کیا گیا۔ چھوٹو گینگ کے خاتمے کے بعد سے پنجاب اور خصوصی طور پر جنوبی پنجاب میں کومبنگ آپریشن کا فیصلہ کیا جارہا ہے، مگر ہر دفعہ یہ فیصلہ مصلحت کا شکار ہوجاتا ہے، نیشنل ایکشن پلان پر تمام سیاسی جماعتوں کے اتفاق کے باوجود اس پر عمل نہیں ہوسکا۔ سانحہ گلشن راوی ہو یا چئیرنگ کراس، ہر سانحے کے بعد یہی بیانیہ دہرایا جاتا ہے کہ بڑے فیصلے ہوگئے۔ پنجاب میں دہشت گردوں کے ٹھکانوں اور ان کے سہولت کاروں کے خاتمے کے لیے آپریشن ہوگا مگر پھر کوئی نہ کوئی مصلحت آڑے آجاتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں:   بھارت نے پاکستان سے جنگ کو دعوت دی ہے - نیویارک ٹائمز ایڈیٹوریل بورڈ

کیا پنجاب میں آپریشن کے لیے ان حالات کا انتظار کیا جارہا ہے جن کا سامنا کے پی کے اور کراچی کے شہری کرچکے؟ جب میں آپ غلط نہیں ہیں تو تلاشی دینے میں کیا حرج ہے؟ اگر انگوٹھا کٹوا کر ہاتھ بچ جائے تو یہ عقلمندی ہے ورنہ پورا ہاتھ کٹوانا پڑے گا۔ اگر سری لنکا ہماری مدد سے تامل ٹائیگرز کے مسئلے پر قابو پا سکتا ہے تو ہم بھی دہشت گردی کے مسئلے پر قابو پاسکتے ہیں۔ مگر اس کے لیے ہمیں اسی اتحاد کی ضرورت ہے جس کا مظاہرہ ہمارے ہمسایہ ملک نے کیا تھا۔ پنجاب میں آپریشن اب ناگزیر ہوچکا ہے۔ ہمیں یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ سہولت کاروں کی مدد کے بغیر کوئی بھی دہشت گردی کی کارروائی کامیاب نہیں ہوسکتی۔ل اہور کے گلشن راوی پارک میں دھماکے کی تحقیقات اس بات کی شاہد ہیں کہ خودکش بمبار کو رہائش دینے، ریکی کروانے، سامان فراہم اور جائے وقوعہ تک چھوڑ کر آنے والے لاہور کے ہی رہائشی تھے۔گلشن راوی بم دھماکے کی طرح مال روڈ پر دہشت گردی کی کارروائی کرنے والا دہشت گرد بھی لاہور میں کسی کے گھر رہا ہوگا؟ کسی نے ریکی کروائی ہوگی؟ کسی نے سامان دیا ہوگا؟ کسی نے مال روڈ تک چھوڑا ہوگا؟ یہ دہشت گرد تو چلیں انڈیا نے بھیجا ہوگا مگر باقی کردار ہم میں سے ہی ہیں. جب تک یہ نہیں پکڑے جاےے تب تک دہشت گردی کا خاتمہ ایک دیوانے کا خواب رہے گا۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.