عجیب سی بات نہیں لگتی؟ رضوان الرحمن رضی

جیسے ہی اسلام آباد میں ایک جج صاحب کے گھر میں کام کرنے والی بچی طیبہ پرتشدد کے مقدمے کی بات سامنے آئی یا لائی گئی تواسکے ساتھ ہی اس کی ایک جوابی تھیوری بھی سوشل میڈیا کے ذریعے پھیلا دی گئی، جس کے مطابق چوں کہ جج موصوف نے کچھ دن پہلے ہی ملک کے بڑے پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف ایک عدد عدالتی فیصلہ دیا تھا اس لئے اس لئے ان کو سبق سکھانے کے لئے اس انتقام کا نشانہ بنایا گیا۔الیکشن کمیشن کے سابق سیکرٹری صاحب کی صاحبزادی جو جج صاحب کے گھر سے کچھ دور ہی رہائش پذیر ہیں ، انہوں نے اس بچی کو دو دن پہلے اغوا کرلیا تھا، جہاں پر وہ سیڑھیوں سے گر گئی یا اسے گرادیا گیااور پھر میڈیا ان جج صاحب پر چھوڑ دیا گیا۔

اگر ہم یقین کر لیں کہ واقعی ایسا ہی تھا، تو جج صاحب کہ جنہوں نے بچی کی تصویر کے پہلی مرتبہ سوشل میڈیا پر لانے پر فوری رد عمل دیتے ہوئے، اُس صحافی کو سنگین نتائج کی دھمکیاں (بلکہ گالیاں) آن لائن عنائت فرمائی تھیں، اور سوشل میڈیا پر خود کو بدنام کرنے کے واقعے کو فوراً پی ٹی اے کو اپنے سرکاری پیڈ پر رپورٹ کرنا بھی ضروری خیال تھا، انہوں نے اس بچی کے غائب ہو جانے کی رپورٹ اس واقعے کے سوشل میڈیا پرآ جانے کے کئی دن بعد کیوں مقامی پولیس تھانے میں کیوں درج کروائی؟ مزے کی بات تو یہ ہے کہ پولیس کو پچھلی تاریخوں میں درخواست جناب جج صاحب کی طرف سے ہاتھ سے لکھی ہوئی درخواست ایک سادہ کاغذ پر دی جب کہ صحافی کے خلاف درخواست باقاعدہ (سرکاری) کمپیوٹر کے ذریعے اپنے سرکاری پیڈ پر دینا ضروری خیال کیا۔ عجیب سی بات نہیں لگتی؟

ویسے یہ بھی کمال ہے کہ موصوف پراپرٹی ٹائیکون کا سارا کاروبارِ زندگی تو چل ہی اسلام آباد کی عدلیہ کے ایک حکمِ امتناعی کی بنا پر ہے۔ تقریباً سولہ سال بعد اسی اسلام آبادی عدلیہ نے یہ فیصلہ دیا تھا کہ موصوف ایک دفاعی ادارے (یعنی بحریہ) کا لفظ اپنے کاروباری مقاصد کے لئے استعمال نہیں کر سکتے کیوں کہ وہ امیرِ بحر، جن کے ساتھ مل کر موصوف نے یہ بداعمالی کی تھی، ان کو اس جرم میں سزا دے ہوچکی ہے اگرچہ وہ اس سزا کے باوجود (انتہائی احترام کے ساتھ) کچھ رقم واپس دے کر باقی زندگی سکون کے ساتھ باعزت شہری کے طور پر گذاررہے ہیں اور لوٹی گئی باقی رقم پر عیش کرنے اور گالف کھیلنے کا شغل فرما رہے ہیں ،تو ایسے میں یہ عدلیہ اس پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف کیسے فیصلہ دے سکتی تھی؟ ویسے بھی سولہ سال بعد جو فیصلہ دیا گیا ، اُس میں اس قدر سقم رکھے گئے کہ اس کے خلاف اگلے ہی دن اسی عدلیہ نے پھر ایک عدد اور حکمِ امتناعی جاری کر دیا تھا جو ابھی تک رو بہ عمل ہے۔ لیکن واقفانِ حال کا کہنا ہے کہ جج موصوف اس عدلیہ کی تاریخ میں پہلے شخص تھے جنہوں نے پراپرٹی ٹائیکون کے خلاف ایف آئی آر نہ صرف درج کرانے کا حکم صادر کیا بلکہ اس بات کو یقینی بنایا کہ یہ مقدمہ درج ہو اور پولیس حکام اس حکم کو ہوا میں نہ اٹھا سکیں۔ یہ بھی عجیب سے بات نہیں لگتی ؟

یہ بھی پڑھیں:   حکومت آرمی چیف کے معاملے میں غلطیاں کیوں کر رہی ہے؟ ڈاکٹر محمد مشتاق احمد

اگر دوسری طرف دیکھا جائے تو یہ بات واقعی دلچسپی کا باعث ہے کہ ریٹائرڈ بیوروکریٹ اشتیاق صاحب کی صاحبزادی کی جس این جی او ، نے یہ سارا گند ڈالا تھا، وہ اس پورے میڈیائی یدھ میں کہیں بھی سامنے نہیں آئیں۔ اسلام آباد کی این جی اوز کس قدر مضبوط اور سرکاری اعمال میں دخیل ہیں، اس کی ایک چھوٹی سی مثال سوات میں فوجی آپریشن سے پہلے ایک خاتون کو کوڑے مارے جانے کی ویڈیو ہے جو کہ اسی طرح کی ایک این جی او کے ذریعے میڈیا کو فراہم کی گئی تھی۔ یہ ویڈیو بعد میں جعلی اور بودی بھی ثابت ہو گئی تھی لیکن یہ اور ان جیسی بہت سی این جی اوز اتنی طاقتور ہیں کہ ان کو کوئی نہیں پوچھ سکتا ہے۔ انہوں نے یہ واردات کس کے کہنے پر ڈالی تھی اس کے بارے میں کوئی دوسری رائے نہیں ہو سکتی لیکن اس کے نتیجے میں اہلِ سوات پر جو قیامت ٹوٹی اس کا نتیجہ یہ ہے کہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک 2800 خواتین ’آدھی بیواوں‘ کی زندگی گذار رہی ہیں جن کے خاوند سوات آپریشن میں غائب کر دئیے گئے تھے۔ اور جن کا ابھی تک کوئی سراغ جسٹس جاوید اقبال کی سربراہی میں کام کرنے والے (اندھے گونگے بہرے اور بد نیت) مسنگ پرسن کمیشن کو نہیں مل پایا۔ ادارے بڑے دھڑلے سے بتاتے ہیں کہ ان میں سے کوئی ان کے قبضے میں نہیں لیکن فوجی عدالتوں میں چپکے سے ان میں پانچ کو موت کی سزا سنا بھی دے ڈالتے ہیں۔ اس پر مستزاد یہ کہ وہ این جی او مافیا خاتون جس نے یہ جعلی ویڈیو جاری کر کے پورے سوات پر قیامتِ صغریٰ مسلط کی تھی، اس کی مدرالمہام خاتون کے بھائی جان کو اسلام آباد ہائی کورٹ کا جج مقرر کر کے انعام سے نواز دیا گیا۔ عجیب سے بات نہیں لگتی؟

اگر تھوڑا سا پیچھے جائیں تو اس بچی طیبہ کو پہلی مرتبہ انہی اسلام آبادی ججوں کے سامنے پیش کر کے اور (ملزم ) جج صاحب کو معاف کر نے والا بیان دلوانے کے فوراً بعد اس کوپورے خاندان سمیت غائب کر دیا گیا تھا۔ جب سپریم کورٹ کے چیف جسٹس نے خود کو اس بچی کا ’سرپرست‘ قرار دیتے ہوئے اس بچی کے غائب ہونے کا نوٹس لیا تو عدالت کو بتایا گیا کہ وہ خاندان غائب ہو گیا ہے اور نہیں مل پا رہا ۔ تاہم جب جج صاحب نے پولیس حکام کو آنکھیں دکھائیں تو جو بیان بچی کے باپ نے ملک کی سب سے بڑی عدالت کے سامنے دیا اس میں یہ بات کہی گئی تھی (ملزم) جج موصوف کے وکیل صاحب نے اس پورے خاندان سے ایک سفید کاغذ پر انگوٹھے لگوا کے کہا تھا کہ اگر وہ بچی واپس لینا چاہتے ہیں تو انگوٹھے لگوانا پڑیں گے جس کے بعد ان سفید کاغذوں پر صلح نامہ اور معافی نامہ بنا کر عدالت میں پیش کروا کے جج اور ان کی اہلیہ کی ضمانت کروا دی گئی اور بچی والدین کے حوالے تو کردی گئی۔ بچی کے والدین نے یہ بھی بتایا کہ (ملزم) جج صاحب کے وکیل نے ان کو اسلام آباد کے نواح میں ایک گھر میں لے جا کر یہ کہہ کر محبوس کر دیا تھا کہ ان کی جان کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اور وکیل موصوف اس دوران پولیس سے جھوٹ بھی بولتے رہے ۔قانون کی تھوڑی سی شدھ بدھ ہمیں بھی ہے، ہمارا خیال تو یہ ہے اس حرکت پر عدالت کو وکیل موصوف کے خلاف پیشہ ورانہ بددیانتی کی بنا پر کارروائی کر نی چاہیے تھی لیکن وہ کیا ہے کہ ملک کی سب کم عمر (اسلام آباد) کی عدلیہ کے اپنے چونچلے ہیں اور اس پر کوئی بات ہی نہیں کی جاتی ،نہ سپریم کورٹ نے نہ ہی ماتحت عدلیہ کے جج صاحب نے۔ یہاں پر سکیورٹی گارڈ پر تشدد کرنے والے سینیٹ کے سابق چئیرمین کا معافی نامہ بھی فوراً تیار ہو کر قبول و منظور ہوجاتا ہے۔عجیب سے بات نہیں لگتی؟

یہ بھی پڑھیں:   ہاں میں جذباتی ہوں - نیلم اسلم

پنجابی محاورے کے ایک مصداق ’سالی آدھے گھر والی ‘ ہوتی ہے اور ’سالی کا چرخہ تو ریچھ بھی کات دیتا ہے‘ یعنی کوئی بھی جیجا جی اپنی سالی کا کام کرنے میں اعزاز محسوس کرتے ہیں۔ اسی طرح جو بھی جج یا وکیل کسی بھی فورم پر تقریر کرنے کھڑا ہو تو وہ یہ ضرور کہتا ہے کہ ’بار اور بنچ عدلیہ کے دو برابر کے پہیے ہیں‘ اس ناطے تو وکلاء بھی ’آدھی عدلیہ ‘ ہی ہوئے تو آدھی عدلیہ کے خلاف ایکشن لینے کی بات کون کر سکتا ہے؟
عجیب سے بات نہیں لگتی؟