گڈ مارننگ پاکستان یا طوفان بدتمیزی - افسانہ مہر

نیا دن ہماری زندگی میں تازگی اور چاق و چوبندی کے ساتھ شروع ہوتا ہے۔ اچھی صحت کے لیے ضروری ہے کہ انسان جلدی سوئے اور علی الصبح جاگ جائے۔ بطور مسلمان اللہ بھی ہم پہ فرض کرتا ہے کہ ہم منہ اندھیرے اٹھیں اور اللہ کا زکر ( نماز ) پڑھیں اور پھر رزق حلال کی مشقت میں لگیں۔ احادیث بتاتی ہیں کہ اللہ اپنے بندو ں کو ہر روز صبح رزق تقسیم کرتا ہے۔ جو شخص اس وقت اللہ کے حضور حاضر ہو جاتا ہے وہ جلد رزق اور رحمت پا لیتا ہے لیکن جو اس وقت موجود نہیں ہوتا، اس کا رزق اس سے دور ہو جاتا ہے، پھر اس رزق کو پانے میں اس غافل کو سخت مشقت اٹھا نی پڑتی ہے۔ رزق تو پھر مل جاتا ہے لیکن اللہ کی رحمت سے محروم رہ جاتاہے۔

ہم اپنے طرز عمل اور اپنی حالت پہ غور کریں تو نظر یہ آتا ہے کہ ہماری صبح اللہ کی یاد سے نہیں بلکہ ٹی وی اور موبائل کی یاد سے ہونے لگی ہے۔ ٹی وی مارننگ شوز کے ساتھ کی جا رہی ہے۔ تقریبا تمام ہی چینلز مارننگ شوز پیش کرنے لگے ہیں ۔ چند سالوں قبل تک یہ شوز اللہ کا کلام، اچھی بات اور صحت بخش و فکر انگیز پروگرامات کے ساتھ پیش کییے جاتے تھے اور اسی وجہ سے عوام میں پسند بھی کیے جاتے تھے۔ لیکن آج مارننگ شوز کے نام پر تقریبا تمام ہی چینلز صحت، حسن اور شادی رسومات کے کہہ کر عوام کو بے حیائی، ہوس اور خرافات سے لدی رسومات دکھا رہے ہیں۔ اور صرف دکھانے پر اکتفا نہیں ایسے جملے بولے اور سنائے جا تے ہیں جو چند سال قبل تک ایک شریف آدمی سوچتا بھی نہیں تھا۔ استغفراللہ ۔ الفاظ و انداز کی یہ مسلسل پیش کی جانے والی بے حیائی معاشرے پر منفی اثرات ڈالنے کا سبب بن رہی ہے۔

ہمارا ماننا ہے کہ اسلامی تعلیمات سے زیادہ کسی تعلیم نے انسانیت کی فلاح کے اقدامات نہیں کیے، آپ خود اس کے گواہ ہیں کہ مسواک سے بہتر کچھ دوسری شے آج تک ایجاد نہیں ہوئی جو دانتوں کی صفائی ہی نہیں کرتی بلکہ معدے کے 20 سے زائد بنیادی امراض پیدا ہونے ہی نہیں دیتی۔ پھر روزہ سے بڑھ کر کوئی ڈائٹ پلان نہیں۔ جو لوگ حدیث کے مطابق ہر ماہ تین روزے رکھتے ہیں وہ اس بات کی گواہی ضرور دیں گے کہ ان کا جسم کتنا چاق و چوبند اور مضبوط رہتا ہے۔ اور سادگی سے زیادہ کسی انداز زندگی میں خوشی اور سکون نہیں۔ یہ تمام کام عین فطرت انسانی سے مطابقت رکھتے ہیں اور آج ان ہی تمام کو ترک کیا جارہا ہے۔

آج کل پیش کیے جانے والے مارننگ شوز فطرت انسانی کے خلاف لوگوں کو ضرورت سے زیادہ آرائش و زیبائش، من مانی و موج مستی اور رسومات میں الجھا رہے ہیں، جن کے زیر اثر کم علم افراد حسرت و کمتری کے احساس کا شکار ہو رہے ہیں۔ یہی احساس انسان کو جرائم پر اکساتا ہے۔ کاش یہ لوگ جان سکتے کہ اسلام اور اسلام کا طریقہ زندگی خود ان کے لیے رحمت ہے اور اس کو چھوڑنے کے سبب ہی ہم بے سکونی، بیماری اورذلت و پستی میں گر رہے ہیں.
پہلے کبھی پڑھتے تھے کہ پاکستان ایک ترقی پذیر ملک ہے اس لیے اس کو ترقی یافتہ ممالک کی صف میں کھڑا کرنے کے لیے مثبت منصوبہ بندی اور لگاتار محنت کی ضرورت ہے لیکن بد قسمتی ہی کہیے کہ غلط پالیسیوں کی ضرب کھا کھا کر آج ہم مزید پستی میں آ چکے ہیں ۔اس لیے ماضی سے زیادہ آج اس امر کی ضرورت ہے کہ نسل نو کوصحت مند اور مثبت سوچ کی طرف راغب کیا جا ئے، اس لیے تمام چینلز زمہ داران اور مارننگ شو ایڈیٹر حضرات سے ہماری اپیل ہے کہ اپنے شو میں ان باہمت افراد کو بطور ہیرو پیش کیا جائے جنھوں نے وسائل نہ ہونے کے باوجود محظ اپنی محنت وشوق کے بل پہ تعلیمی میدان میں کامیابی لی ۔ عشقیہ اور بے تکے گانوں کے بجائے ملک سے محبت اور ملکی ترقی کا عزم بڑھانے والے ترانے اور نغمے سنوائے جائیں. اس کے علاوہ صحت بخش تفریحی کھیل یا بیت بازی یا کوئز مقابلے و مباحثے پیش کیے جائیں تاکہ میرے ملک کی ہر صبح امید نو کی کلیاں بکھیر کر ہر پاکستانی کے لئے خوشی کا سماں تعمیر کر سکے. اورہم فخر سے کہیں گڈ مارننگ پاکستان ۔