گداگری پیشہ یا ضرورت - حفصہ محمد فیصل

ایک ہوتا ہےفقیر جو بے حد غریب ہوتا ہے اور غیرت مند غریب کی تو ہادی عالم صلی اللہ عليہ وسلم نے بھی تعریف فرمائی ہے بلکہ امت کے فقراء کے ساتھ حشر تک مانگا، لیکن آج کل جو ہر گلی، نکڑ اور علاقے میں فقیر غریب نظر آتے ہیں، کیا وہ صحیح معنوں میں فقیر ہیں؟

نہیں بلکہ وہ گداگر ہیں، پیشہ ور بھکاری ہیں، یعنی مانگنا بطور پیشہ انہوں اپنایا ہوا ہے. کبھی اپنی مجبوریوں کا دکھڑا رو کر تو کبھی اپنی معذوری کا عذر بتا کر وہ لوگوں سے پیسے اور ہمدردی بٹورتے ہیں، آپ بازار جائیں یا دفتر کی سڑک پر ہوں، سگنل پر رکیں یا بیکری پر، کلینک کی طرف اپنے بچے کو لیے جا رہے ہوں یا باغ کی سیر کو، آپ کو یہ پیشہ ور گداگر مخصوص انداز میں ٹون کریں گے، کبھی آپ کو نوکری میں ترقی کی دعا دیں گے، تو کبھی بیماری سے نجات کی، کبھی بچے جئیں تو کبھی شادی ہونے کی خوشخبری سنادیں گے،.اسی طرح بعض جگہوں پر مفلوک الحال یا معذور افراد بس اسٹینڈ یا بس کے سفر میں بھی ملیں گے جو اپنی اور گھر والو کی پرشانیاں سنا کر رقم اینٹھنے کا حربہ آزمائیں گے. کبھی گاؤں سے آتے ہوئے جیب کٹنے کی داستان ہوگی تو کبھی سول ہسپتال میں تڑپتی بچی یا ماں کی دکھی فریاد ہوگی.

اس کے ساتھ ساتھ مخصوص مہینوں جیسے رمضان، محرم ، ذوالحجہ وغیرہ میں ان گداگروں کی تعداد یکدم بڑھ جاتی ہے، بہت سے لوگو نے اسے خاندانی پیشہ کے طور پر اپنایا ہوا ہے، اپنی حمیت اور غیرت کو پس پشت ڈال کر ہاتھ پھیلانے اور سوال کرنے کو ٹھیک سمجھتے ہیں حالانکہ ایک بار ایک صحابی کو آپ صلی اللہ عليه وسلم نے اسی سوال کرنے سے روکا اور اس کو محنت کرکے کما نے کا حکم دیا کہ سوال کرنے والے کے روز محشر چہرے پہ داغ ہوں گے.

آج اس پیشے کو سب سے آسان اور کثیر المال پیشہ گردانا جاتا ہے. یہ لوگ کاروباری ذہن رکھتے ہیں اور اپنی اسی روش کی وجہ سے حق داروں کے حق پر ڈاکہ مار کر دوہرے گناہ کے مرتکب ہوتے ہیں، کئی لوگ اپنے حلیے کو مذہبی پیرہن اور ذومعنی لفاظی کا استعمال کرکے لوگو کے عقیدوں کو بھی خراب کرتے ہیں. آج کل گداگری کے روپ میں ڈاکے اور مجرمانہ کارروائیاں بھی عام ہیں، ہیپنا ٹائیز اور دیگر غلط علوم بھی سیکھ کر لوگو کو لوٹا جاتا ہے، اور ان چیزوں میں سب سے زیادہ نفسیاتی حربے آزما کر جیبیں خالی کی جاتی ہیں.

اگر تجزیہ کیا جائے تو آج یہ گداگر عرف عام میں جسے فقیر کہتے ہیں، بڑے امیر ہیں، سڑکیں، مارکیٹیں، ہسپتال، پارک اور مزارات پر باقاعدہ تقرریاں ہوتی ہیں، نئے آنے والے فقیر سے باقاعدہ اس کا چارج لیا جاتا ہے، اس کے پیچھے پورا مافیا کام کرتا ہے، گود کے بچے بھی کرایوں پر دیے جاتے ہیں تاکہ ان کی معصوم اور ترستی شکلوں کے ذریعے زیادہ رقم بھیک میں مل سکے. بلوچ کالونی کے پل کے نیچے سے پچھلے دنوں گزرنا ہوا،گداگروں کی پوری بستی اس پل کے نیچے آباد نظر آئی، اسی طرح کئی جگہوں پر یہ آباد ہیں، رب کا احسان ہے لیکن انھی گداگروں کے ہاتھ میں ٹچ اور اسمارٹ فون دیکھ کر رشک بھی آیا... ایک فقیرنی صدا لگاتی گلی سے گزر رہی تھی، ہاتھ میں گود کی بچی بھی تھی، اتفاق کسی کے انتظار میں، میں وہاں کھڑی تھی کہ ہلکی سی بیپ ہوئی اور فقیرنی صاحبہ اپنی بوسیدہ چادر کے پلو سے چھپاتے ہوئے ہیلو کہنے لگیں..

گداگری کے مکروہ فعل کی روک تھام کے لیے حکومت کو اقدامات کرنے چاہییں، اور عوام کو بھی صحیح معنوں میں غریب اور مستحق لوگو تک اپنی خیرات وصدقات پہنچانے چاہییں، نہ کہ ان پیشہ وروں کو اپنا پیسہ دے کر ان کی حوصلہ افزائی کریں اور مستحقین کا حق ماریں. اگر ہم، اپنے اطراف میں نگاہ دوڑائیں تو ایسے کتنے ہی سفید پوش نظر آئیں گے جو واقعتا ہماری امداد کے مستحق ہیں. سوال صرف توجہ کا ہے. اس طرح نہ صرف ان گداگروں کی حوصلہ شکنی ہوگی بلکہ ان سے نجات کا باعث بھی بنے گی.