فیصلہ کن گھڑی - محمد بلال خان

وطنِ عزیز میں چھ دن میں 7 دھماکے ہوئے ہیں، ایک ہفتے میں لگ بھگ ایک سو جانیں ضائع ہوئیں، چاروں صوبوں کو نشانہ بنایا گیا، اور واضح پیغام دیا گیا کہ یہ قاتلان، ظالمان اور درندگان جب چاہیں، جہاں چاہیں آپ کو نشانہ بنا سکتے ہیں، جنرل راحیل شریف کی رخصتی اور ضربِ عضب کی کامیابیوں کی نویدیں سنانے کے آغاز میں ہی حوصلہ شکن حملے کرنا، یہ ظاہر کرتا ہے کہ انہوں نے دو سال کس قدر خطرناک پلاننگ کی ہوگی، جب انھیںضربِ عضب کے دوران وزیرستان اور قبائلی علاقوں سے بھگایا گیا تو وہ افغانستان چلے گئے، اور آج افغانستان میں بیٹھ کر بھارت اور افغانستان کی ملی بھگت سے جماعت الاحرار اور دیگر گروپس پاکستان کا خون بہانے کے لیے کمربستہ ہیں. جماعت الاحرار کے رہنماء احسان اللہ احسان نے دو تین دن قبل سوشل میڈیا پر اعلانیہ کہا کہ ان کا ہدف سرکاری املاک، سرکاری افسران، میڈیا، حکومتی اہلکار، ادارے اور وہ لوگ ہیں جو ان کی آئیڈیالوجی سے متفق نہیں، اور ٹی ٹی پی کا سابقہ ریکارڈ یہ ہے کہ وہ اپنے نقطۂ نظر سے مخالفت رکھنے والے مدارس اور علمائے کرام کو بھی نشانہ بنانے میں کوئی جھجھک محسوس نہیں کرتے۔

تحریک طالبان حکیم اللہ محسود کو نشانہ بنائے جانے تک متحد تھی، اس کے بعد عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی اور احسان اللہ احسان کو بہانہ مل گیا، اور انہوں نے بھارت سے ناطہ جوڑ لیا، جس کا ثبوت حکیم اللہ محسود کے دست راست لطف اللہ محسود اور سابق ترجمان حکیم اللہ محسود ، کمانڈر اعظم طارق تھے، ان دونوں نے جماعت الاحرار کے بھارت سے تعلقات کی تصدیق کی، اور یہ واضح کیا کہ حکیم اللہ محسود کے بعد جماعت دھڑوں میں تقسیم ہوگئی، اور اسے قیادت کے لیے کوئی طاقتور شخصیت نہ ملی، ملا فضل اللہ عرف ملا ریڈیو اور عبدالولی عرف عمر خالد خراسانی میں اختلافات ہوئے، دو بڑے دھڑے بن گئے، فضل اللہ گروپ افغان انٹیلی جنس کے سہارے چلنے لگا، جبکہ جماعت الاحرار کو را نے مدد فراہم کرنی شروع کردی، پناہ افغان حکومت نے دی.

یوں یہ دونوں بڑے دھڑے آپریشن ضربِ عضب کے دوران یہاں سے فرار ہوکر نئی حکمت عملی کے تحت افغانستان میں بیٹھ کر ضربِ عضب کے اختتام کا انتظار کرتے رہے، اور جیسے ہی معاملہ اختتام کی جانب بڑھا، انہوں نے ایک ہفتے میں پورے پاکستان میں اپنی موجودگی کا احساس دلایا ہی نہیں، ظالموں نے دھرتی کو ہلا کر رکھ دیا، لیکن اب کیا ہوگا؟ کیا کرنا ہے؟ کون کون ذمہ دار ہے؟ امریکہ و بھارت اور افغانستان کا کردار کیا ہے؟ کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا؟

قوم ہر صورت اس خون ریزی کا تدارک چاہتی ہے۔ خون کی ندیاں بہنی اب بند ہونی چاہییں؟ حکمران نہیں سمجھتے کہ اس کا آخری حل تلاش کرلیا جائے۔ میری بلا سے ملیا میٹ بھی کردیں انہیں، لیکن جائزہ لیں کہ ہمارے آنگن میں آگ جلانے والے کون ہیں؟ ہماری مسجد و محراب سے لیکر ہسپتال اور کھیل کے میدان تک خون کی ہولی کھیلنے کے اصل محرکات کیا ہیں۔ خدارا سوچیے اور غور کیجیے کہ کہیں ان خونخواروں کو درندگی سے روکنے کا طریقہ کیا ہے؟

ہمیں نہیں چاہییں جذباتی بیانات، نہیں چاہییں خوش فہم نعرے اور کھوکھلے دعوے۔ دلاسہ نہیں، اب عملی جواب چاہیے، امن چاہیے۔ ہمیں مزید خون، بارود، گولی، بم اور لاشوں کا تعفن نہیں چاہیے۔ ہمیں اس خزاں رسیدہ چمن میں گلستان چاہیے۔ واسطہ ہے خدا کا، اس دھرتی کا، جان و مال کا، خشک ہوگئے آنسو روتے روتے، آنکھیں پتھرا گئیں، دل سنگین تر ہوگیا، احساس مرچکا ہے، ضمیر منوں مٹی تلے دفن ہے. واسطہ ہے ان پالیسی سازوں سے، ہاتھ جوڑ رہے ہیں ہم کہ اب خدارا اس کشت و خون سے نجات دلائیے. کب تک عوام کے لاشے گرتے رہیں گے، مائیں ترستی رہیں گی، بیویوں کے سہاگ اجڑیں گے، بچوں کے والدین کھوجائیں گے، بوڑھے سسکتے بلکتے رہیں گے۔ پشاور اے پی ایس، باچا خان یونیورسٹی حملہ، واہگہ بارڈر حملہ، کلبھوشن یادیو، لاہور دھماکہ، کوئٹہ میں حملہ اور اب سہیون شریف میں خون آشام رات، خدارا حقیقی معنوں میں کچھ کیجیے !

Comments

محمد بلال خان

محمد بلال خان

محمد بلال خان نوجوان شاعر و قلم کار اور سیاسیات کے طالب علم ہیں، مختلف اخبارات میں لکھنے کے ساتھ ریڈیو پاکستان ایبٹ آباد میں بچوں کے پروگرام کا حصہ رہے، مقامی چینلز میں بطور سکرپٹ رائٹر کام کیا، آج کل عالمی ابلاغی ادارے سے بطور ریسرچر، سکرپٹ رائٹر وابستگی رکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */