ویلنٹائنز ڈے کی حقیقت - صبور فاطمہ

ویلنٹائنز ڈے کے حوالے سے جتنی بھی چیزیں ملتی ہیں، وہ زیادہ تر مفروضوں پر مبنی ہیں، اور معاشرے کو اخلاقیات سے گرانے کے لیے ذہنی مغالطہ دینے کی ایک کوشش ہے۔ دنیا کا کوئی بھی مہذب معاشرہ مرد و عورت کے غلط تعلقات کو قبول نہیں کرتا، اور نہ اسے اپنی طرف منسوب کرنے کی اجازتدیتا ہے۔ ویلنٹائنز ڈے بدکاری کی کُھلی دعوت دینے کاعام دن ہے، جسے صرف بدکار اور دنیا پرست لوگ ہی مناتے ہیں۔ یہ شیطانی ہتھکنڈوں میں سے ایک ہتھکنڈہ ہے، جس میں صر ف نفس پرستی کو فروغ دیا جاتا ہے۔

ویلنٹائن ایک رومی پادری تھا. سلطنتِ روما کے بادشاہ Claudius II نے اپنے سپاہیوں پر شادی کرنے کی پابندی لگادی تھی کہ ان کی عائلی مصروفیات جنگی انتظام پر اثرانداز ہوں گی اور سلطنت کمزور ہوگی لیکن ویلنٹائن نے ان سپاہیوں کی مدد کی اورا ن کی شادی کروائی جس کے جُرم میں اس کو پھانسی کی سزا سنائی گئی۔ اب یہاں اس مفروضہ تاریخ سے دو اختلافات سامنے آتے ہیں۔
1) عیسائی پادری تو رہبانیت اختیار کرتے ہیں اور عیسائیت میں مرد و عورت کے تعلقات کی حوصلہ شکنی کی جاتی ہے۔اگر ویلنٹائن نامی ایک پادری فوجیوں کو بغاوت پر اُکسا کر ان کی شادیاں کروانے میں مدد کرتا ہے تو بحیثیت راہب وہ اپنے مذہب سے انحراف کرتا ہے۔
2) عیسائیت میں بدلا نہیں ہوتا۔ ان کی تعلیمات کے مطابق اگر کوئی ایک گال پر تھپّڑمارے تو دوسرا گال بھی آگے کردیا جانا چاہیے لیکن بدلہ نہیں لینا چاہیے۔ تو اس مفروضہ واقعہ کے مطابق ویلنٹائن نامی پادری نے اپنی مذہبی تعلیمات سے انحراف کرتے ہوئے بدلے کے طور پر فوجیوں کو بغاوت اور بادشاہ کی حکم عدولی پر اُکسایا۔
ایک مفروضہ یہ بھی آتا ہے کہ Valentine کو رمیوں نے عیسائی ہونے کی وجہ سے ظلم وستم کا نشانہ بنانے کے ساتھ ساتھ زیرِ تفتیش بھی رکھا۔ Claudius II، ویلنٹائن سے بہت متاثر تھا، اور اس کی زندگی بچانے کی خاطر، اس کی کوشش یہ تھی کہ ویلنٹائن رومیوں کے مذہب کو قبول کرے اور عیسائیت ترک کردے جبکہ ویلنٹائن پادری ہونے کی حیثیت سے مذہب پر کٹّر تھا، اور اس کی خواہش تھی کہ رومی بادشاہ عیسائیت قبول کرے۔ اور یہ بھی ممکن نہ تھا اور یہی وجہ اس کی پھانسی کا سبب بنی ۔ اس مفروضہ میں تو کہیں بھی محبت اور رومانویت سے متعلق واقعہ نہیں ملتا۔

اب سوال یہ ہے کہ کس واقعہ پر یقین کیا جائے۔ یہ بھی کہا جاتا ہے کہ جیل میں قید کے دوران جیلر (Asterius) کی بیٹی (Julia) کے ساتھ زنا کا ارتکاب کیا اور اس جیلر کی بیٹی نے اس کی پھانسی کے بعد اس کی قبر پر گلابی باداموں کا درخت لگایا جو محبت اور دوستی کی لازوالیت کی علامت ہے۔ سپاہیوں نے اس کے مرنے کے بعد اس کی یاد اگلے سال منانے کا گھٹیا طریقہ یہ نکالا کہ ایک پرچی پر مرد و عورت کے نام لکھ کر ایک ڈبے میں ڈال دیے اور جس مرد کے ساتھ جس خاتون کا نام نکلتا، ان کے لیے زناکاری کی عام اجازت ہوتی۔ یہ تمام باتیں اور واقعات اخلاقی گراوٹ، بدکرداری اور زنا کاری کی طرف اشارہ کر رہا ہے۔ایک مضحکہ خیز بات یہ بھی ملتی ہے کہ برطانیہ میں فروری کے مہینے میں چڑیا چڑے کی نسل بڑھنے کا وقت آتا ہے، اور موسم بہار کی بھی آمد ہوتی ہے۔ غور طلب بات یہ ہے کہ انسان اشرف المخلوقات ہے تو کیا وہ اپنی زندگی گزارنے کے لیے چڑیا چڑوں کی پیروی کرے گا۔ یہ تمام تر واقعات اس بات کی وضاحت کر رہے ہیں کہ Valentine's Day کا کوئی ثبوت نہیں ہے۔ بہت سے انگریزوں کے نام Valentine گزرے ہیں اور اگر اسے Valentine of Rome کی جانب منسوب بھی کردیا جائے تو اس کے حالات ِ زندگی کے واقعات اختلافات کا شکار ہیں اور اس کا تعلق تیسری عیسوی سے ہے جو عیسائیوں کے لیے Dark ages کا دور کہلاتا ہے۔

اس دور میں عیسائیوں کی تما م تر تاریخ تباہ و برباد ہوگئی تھی، اور بعد میں از سرِنو بغیر کسی ثبوت کے مُرتّب کی گئی تو یہ نری نامعقولیت ہے۔ کوئی بھی سوسائٹی اسے اپنی طرف منسوب کرنا قبول نہیں کرے گی۔ یہی وجہ ہے کہ تاریخ کو مسخ کرنے کے ساتھ ساتھ حقیقت کو اس لیے چُھپایا جارہا ہے تاکہ انسانی اور خصوصاًمسلمانوں کی نسلوں کے خلاف ایک شیطانی ہتھکنڈے کا سلسلہ پھول اور قیمتی تحائف کی آڑ میں پُرکشش صورت کے ساتھ جاری و ساری رہے۔ اس کے جواز اور ہر خاص و عام میں اس کی ذہنی و کرداری اعتبارسے مقبولیت کے لیے میڈیا کا بھرپور سہارا لیا جارہا ہے۔ میڈیا کے نظام کو سنبھالنے والے یہودی ہیں اور یہودی اس وقت پوری دنیا کی صنعت پر حکمرانی کر رہے ہیں ۔ اب یہ Valentine's Day کے بجائے Commercial day بن گیا ہے اور اس دن کے حامی افراد پیار محبت(Love, Peace) کو اپنی سب سے بڑی دلیل بناکر لوگوں کو قائل کررہے ہیں کہ ہمارا مذہب، ہمارا مزاج تو محبت کی ترویج واشاعت ہر مبنی ہے۔
بےشک محبت سے انکار نہیں اور دنیا کا ہر انسان فطرتاً محبت کا متقاضی ہوتا ہے، لیکن جس محبت کی بات اس دن کے حامی افراد کر رہے ہیں، اس کو اختیار کرنے کے بعد ، پھر بھیڑ بکریوں اور انسانوں میں کوئی فرق نہیں رہ جاتا، (مثلاً Valentine's Dayکی ایک نسبت چڑیا چڑوں کے گھونسلے بنانے کی طرف بھی کی جاتی ہے)۔

ہمارا دین اسلام تو خود محبت، اخوت، بھائی چارگی، پیار محبت، سلامتی، عفو و درگزر، ادب احترام، حقوق کی بات کرتا ہے جس پر مسلمان پوری زندگی عمل کرتا ہے اور اس عمل کے نتیجے میں، معاشرہ کے افراد کے مابین محبت اور امن پروان چڑھتا ہے۔ اسلامی تعلیمات میں اس طرح کا کوئی دن نہیں ہے، اسلام تو مسلمان کی 24 گھنٹے، 365 دن اور پوری زندگی کا احاطہ کرنے کے ساتھ محبت کی بات کرتا ہے، مسلمانوں کے مذہبی صرف دو تہوار ہیں، (1) عید الفطر،) 2 ) عیدالاضحی ، جو کہ روحانی اور حقیقی مسرتوں سے متصل ہیں۔ حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ حیا ایمان کا شعبہ ہے۔ اور قرآن میں بھی ارشادِ باری تعالیٰ ہے کہ زنا کے بھی پا س نہ جاؤ کہ وہ بے حیائی اور بُری راہ ہے۔ ( بنی اسرائیل، 32)
درحقیقت معاشرہ کی بقا حیا کی پاسداری میں ہے اور جنگل اور انسانی معاشروں میں واضح فرق حیا کی پاسداری کی وجہ سے ہی قائم ہے۔ مسلمانوں کی اسلامی معاشرت میں مواخات نظر آتی ہے کہ ہجرت کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلّم نے انصار و مہاجرین کے مابین اخّوت کا رشتہ کیا۔ اور پھر اخوّت کے رشتہ کی پاسداری کرتے ہوئے انصار نے اپنی ازواج کو طلاق دی جس کے نتیجے میں خواتین باحیا طریقے سے مہاجرین کے نکاح میں چلی گئیں. معاشرے میں کوئی غلط رسم کی ترویج نہ ہو پائے تو پوری اسلامی تعلیمات حیا اور احترام و محبت کادرس دیتی ہیں اور ایک مسلمان کو اس سے نے حیاء اور بدکرداری کے دن کی دعوت دینا مسلمان اور اسلام کا مذاق اُڑانا ہے۔ اسی لیے حدیث مبارکہ کا مفہوم ہے کہ جب تم میں حیا نہ ہو تو جو دل چاہے کرو۔ لہذا منصفانہ فیصلہ یہی ہے کہ اس قسم کی غلط تہذیبوں سے اجتناب کیا جائے کیونکہ اس قسم کی تہذیب اور طریقے کسی بھی انسان کے لیے اختیار کرنا غیر انسانی ہے چنانچہ نوجوان نسل اپنا پیسہ، وقت، عزت، بے مقصدصرف کرنے کے بجائے بامقصد مصرف میں صرف کریں۔