مسلمانوں کی تاریخ کا ایک بھولابسرا ورق - غوث سیوانی

خلافت کی ابتدا عربوں سے ہوئی تھی اور عباسی عہد تک نہ صرف عربوں میں برقرار رہی بلکہ قریش کے اندر رہی۔ اسپین میں جو خلافت قائم ہوئی وہ بھی عربوں نے قائم کی تھی اور ان کا تعلق بنو امیہ سے تھا۔ خلافت عثمانیہ پہلی اورآخری خلافت تھی جو غیر عرب لوگوں میں آئی۔ عثمانیوں کے آباء واجداد ترکوں کے ان آوارہ گرد قبائل سے تعلق رکھتے تھے جو سرسبز وشاداب چراگاہوں کی تلاش میں اپنے پالتو جانوروں کے ساتھ گھومتے پھرتے تھے۔انھوں نے مغلوں کے عروج سے قبل اسلام قبول کرلیا تھا جب کہ اس عہد تک مغل ہی اسلام کے سب سے بڑے دشمن سمجھے جاتے تھے۔ جس دور میں ترکوں اور یوروپی عیسائیوں کے درمیان اکثر جنگیں ہواکرتی تھیں، اسی زمانے میں سلیمان نامی ایک ترک نے اپنے بیٹے ارطغرل اور اپنی مختصر سی فوج کے ساتھ قونیہ کے سلجوقی سلطان علاء الدین کیقباد کی مدد کی تھی اور قونیہ کو عیسائیوں کے قبضہ میں جانے سے بچا لیا تھا۔

انعام کے طور پر سلطان نے سلیمان خاں کواپنی فوج کا سپہ سالار بنا دیا اورار طغرل کو انگورہ کی جاگیر عطاکی۔ یہ علاقہ ایسے مقام پر تھا جہاں رومیوں کی طرف سے اکثر حملے ہوتے رہتے تھے مگر طغرل ان حملوں کو نہ صرف ناکام کرتا رہا بلکہ رومی سلطنت کے خطوں پر قبضہ کر کے اپنی جاگیر میں شامل کرتا رہا۔علاء الدین کیقباد کے بعد اس کا بیٹا غیاث الدین کیخسروتخت نشیں ہوا جسے مغل حملوں نے اس قدرپریشان کیا کہ مجبوراً اسے انھیں خراج دینا پڑا۔ کیخسرو کی صرف ایک بیٹی تھی جس کی شادی اس نے ارطغرل کے بیٹے عثمان خاں سے کردی جو کہ اپنے باپ کی موت کے بعد اس کی جگہ جاگیر کا والی قرار دیا گیا۔ سلطان کو کوئی بیٹا نہ تھا لہٰذا اس کی موت کے بعد حکومت کے اہل کاروں اور امیروں نے عثمان خان کو ہی پورے ملک کا سلطان بنادیا۔ یہی وہ شخص تھا جو سلطنت عثمانیہ کا بانی تھا اور اسی کے نام پر اس خلافت کا نام پڑا۔ سلطنت عثمانیہ 1453ء میں قائم ہوکر1924ء تک چلی اور اس کا خاتمہ خود مسلمانوں کے ہاتھوں ہوا مگر ایک بات قابل ذکر ہے کہ ابتدا میں یہ صرف ایک سلطنت تھی ۔ جب 1517ء میں مصر کی عباسی خلافت ختم ہوئی تو عثمانی سلطنت کو خلافت کا نام دیا گیا۔

سلطنت عثمانیہ
عثمان خاں ایک بہادر،جنگ جو، ذی شعور اور باتدبیر حکمراں تھا۔ اس نے یوروپ پر کئی حملے کئے اور عیسائیوں کو گھٹنے ٹیکنے پر مجبور کیا۔ اس کے جانشینوں نے بھی اپنا دبدبہ قائم کیا اور مغربی طاقتوں کو زیر نگیں رکھا نیز فتوحات کا سلسلہ بھی جاری رکھا۔ اس کے جانشینوں میں ارخان اور مرادخاں اول بھی اچھے حکمراں اور فاتح ثابت ہوئے مگر سلطان بایزید یلدرم نے تو یوروپ پر پے درپے کئی حملے کئے اور رومی سلطنت کے ایک بڑے حصہ کو اپنے ماتحت لایا۔وہ مغرب کے لئے کسی دیو سے کم نہ تھا جس کے خوف سے پورا خطہ کانپتا تھا۔ عثمانی سلاطین عام طور پر دیندار تھے اور ان کی پالیسی یہ تھی کہ مسلم حکمرانوں کے مقبوضات پر قبضہ جمانے کے بجائے یوروپ کے عیسائیوں سے جنگ کی جائے اور اس خطے کو اسلامی تہذیب کے سائے میں لایا جائے۔ اسے فرانس، انگلستان، آسٹریا، ہنگری، پولینڈ، جرمنی،بوسنیا اور اٹلی کی مشترکہ فوجوں کا مقابلہ کرنا پڑا۔عیسائیوں نے اس کے خلاف صلیبی جنگ چھیڑ رکھا تھا اور پوپ نے اعلان کردیا تھا کہ جو لوگ بھی اس جنگ میں مارے جائیں گے وہ جنتی ہونگے۔بایزید پورے یوروپ کی مشترکہ فوج سے برسرِپیکار تھا۔اسے تیزی سے فتوحات حاصل ہورہی تھیں اورایسا لگتا تھا کہ پورا براعظم یوروپ سلطنت عثمانیہ کے ماتحت آجائے گاکہ اسی دوران تیمور خان کا حملہ ہوا۔ بایزید کو مغرب کامحاذ چھوڑ کر تیمور کا مقابلہ کرنے کے لئے آنا پڑا، جس میں بایزیدکو شکست ہوئی اور وہ تیمور کے ہاتھوں گرفتار ہوا۔ تیمور نے اسے ایک آہنی پنجرے میں قید کردیا جو سفر کی حالت میں بھی اس کے ساتھ ہوتا تھا۔ اس ذلت کو وہ برداشت نہ کرپایا اور آٹھ مہینے اس حالت میں گزارنے کے بعد موت کا شکار ہوگیاحالانکہ تیمور کو بعد میں اس بات کا افسوس بھی ہوا کہ اس نے ایک عظیم الشان بادشاہ کے ساتھ برا برتاؤ کیا۔ اگر بایزید یلدرم کو تھوڑا سا اورموقع مل گیا ہوتا تو شاید دنیا کی تاریخ مختلف ہوتی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

عثمانیوں نے خود کودوبارہ سنبھالا
ترکوں پر تیمور کا حملہ اور سلطان بایزید یلدرم کی بربادی سلطنت عثمانیہ کے لئے کسی طوفان جیسی تھی مگر جس طرح طوفان گزر جانے کے بعد حالات معمول پر آجاتے ہیں اور سب کچھ پہلے ہی کی طرح ہوجاتا ہے، ٹھیک ایسا ہی عثمانی سلطنت کے ساتھ بھی ہوا۔ اس کی اولاد نے دوبارہ کاروبار حکومت سنبھال لیا،حالانکہ اب وہ پہلے والی شان و شوکت نہ رہی تھی۔ اس کے بیشتر جانشینوں نے یوروپ کی عیسائی ریاستوں کے ساتھ اچھے تعلقات رکھے مگر سلطان محمد خان ثانی کی یوروپ کے ساتھ کئی لڑائیاں ہوئیں ۔ اس نے قسطنطنیہ کو فتح کرلیا تھا۔ اس نے بایزید یلدرم کی روح کو زندہ کردیا تھا ۔ اس نے صرف 53 سال کی عمر پائی اور اس بیچ نہ صرف فتوحات کے ذریعے اپنے ملک کو وسیع کیا بلکہ اس نے علمی کام بھی انجام دیئے۔ اس کے دور میں مدرسے قائم ہوئے، کتابیں لکھی گئیں اور پوری سلطنت میں قرآن و احادیث کے مطابق احکامات جاری کئے گئے۔ وہ دیندار ہونے کے ساتھ ساتھ اعتدال پسند بھی تھا اور کسی بھی معاملے میں مذہبی سخت گیری کو جگہ نہ دیتا تھا۔ وہ کٹھ ملائیت کو پسند نہیں کرتا تھا لہٰذا جس کام کی اسلام میں ذرہ برابر بھی گنجائش تھی اس سے لوگوں کو نہیں روکتا تھا۔ اس کے دور میں مصوری کی جاتی تھی اور وہ خود اسے ایک نقاد کی طرح دیکھتا تھا۔ اسی عہد میں ترکوں نے توپ کا استعمال شروع کیا،جسے ایک یوروپی نومسلم نے بنایا تھا۔یہ ہندوستانی حکمراں سلطان بہلول لودھی کا ہم عصر تھا۔

جب سلطنت کی جگہ خلافت نے لی
1517ء میں سلطان سلیم عثمانی مصر پر حملہ کر کے قابض ہوگیا۔ یہاں مملوک بادشاہوں کی سلطنت چلی آتی تھی جہاں عباسی خلیفہ بھی شان و شوکت کے ساتھ رہتا تھا مگر اس کی حیثیت محض ایک مذہبی پیشو اکی تھی جس کا احترام ساری دنیا کے مسلم عوام کرتے تھے اوربادشاہان وقت اس سے سند حکومت لیتے تھے۔ سلطان سلیم کو اس عہدے کی اہمیت کا اندازہ تھا لہٰذا اس نے خلیفہ کو اس بات کے لئے تیار کیا کہ وہ سلطان سلیم کے حق میں دستبردار ہوجائے۔ چنانچہ اس نے وہ تبرکات جو عباسی خلیفہ کے پاس تھے سلطان کے حوالے کئے اور اس کے حق میں دست بردار ہوگیا۔ وہ پہلے صرف سلطان سلیم تھا اور اب خلیفہ سلطان سلیم ہوچکا تھا۔ اس نے دور اندیشی اور چالاکی سے کام کرتے ہوئے خود کو ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا تھا جہاں عالم اسلام اس کا احترام کر رہا تھا۔ اسی کے ساتھ سلطنت عثمانیہ کو خلافتِ عثمانیہ کہا جانے لگا اور خلافت و سلطنت کا فرق ختم ہوگیا۔اس کی کوشش سے ایران، عراق اور عرب سے افریقہ تک کے ممالک اس کی سلطنت کا حصہ بنے۔ سلطان سلیم ایک مذہبی انسان تھا اس لحاظ سے اس نے علمی اور دینی کام کئے مگر اسی کے ساتھ وہ حالات زمانہ پر نظر رکھتا تھا اور سائنس و ٹیکنالوجی پر بھی اس کی نظر تھی۔ اس نے اپنے ملک میں جہاز کے کارخانے بنوائے تھے جن میں جنگی جہاز تیار ہوا کرتے تھے۔ اس نے اس قسم کے ڈیڑھ سو جہاز بنوائے تھے جن میں ہر ایک کا وزن سات سو ٹن ہواکرتا تھا۔اس نے توپوں، بندوقوں اور بارود کے کارخانے قائم کئے اوراپنی فوجی طاقت کو مضبوط کیا۔ اسی زمانے میں جیب گھڑی ایجاد ہوئی تھی۔ وہ اپنی حکومت کے اہل کاروں کے ساتھ سخت رویہ رکھتا تھا مگر علماء اور دینی شخصیات کا بے حد احترام کرتا تھا۔
اول عثمانی خلیفہ سلطان سلیم کا دور مذہبی لحاظ سے اہم تھا۔ اس نے خود مذہب کی جانب توجہ دی اور عثمانیوں کے اثر سے یوروپ میں مذہبی اصلاح کی تحریک شروع ہوئی۔ لوتھر نے عیسائی مذہب میں اصلاح اور عقائد کی ترمیم و تنسیخ کا کام شروع کیا۔ عثمانی خلافت کے حدود میں بڑی تعداد میں چرچ تھے جنھیں اس نے مسجد میں تبدیل کرنے کا فیصلہ کیا جس کے خلاف عیسائیوں نے آواز بلند کی اور مسلم علماء نے بھی ان کی تائید کی تو اسے اپنے ارادے سے باز رہنا پڑا۔اس نے 1520ء میں وفات پائی۔

یہ بھی پڑھیں:   حکومت وفاق کی ہے یا وفاق المدارس کی - آصف محمود

عثمانی سلطنت کا خاتمہ
ترکی کی عثمانی خلافت کا کردار تاریخ میں بہت اہم رہا ہے۔ اس نے یوروپ کو ایشیا کی طرف بڑھنے سے روکنے کا کام کیا ہے۔ اصل میں ترکی دنیا کا تنہا ملک ہے جس کا ایک حصہ ایشیا میں ہے تو دوسرا حصہ یوروپ میں ہے۔ اس کے محل وقوع کی وجہ سے اسے اکثر جنگی میدان بننا پڑا اور آج بھی اس کے ساتھ کئی ایسے مسائل جڑے ہوئے ہیں جو اس کے محل وقوع کی وجہ سے ہیں۔ یہاں 1924ء تک خلافت قائم رہی اور یوروپ کا جو حصہ اس کے حکمرانوں نے فتح کرلیا تھا اور جہاں کے باشندوں نے اسلام قبول کرلیا تھا وہ اب بھی ترکی کا حصہ ہے۔ عثمانی خلافت مغربی طاقتوں کی آنکھوں میں ہمیشہ کھٹکتی رہی اور انھوں نے اسے ختم کرنے کی ہر ممکن کوشش کی مگر اس کی سازشیں تب کامیاب ہوئیں جب بعض مسلمان نما منافقوں نے ان کاآلۂ کار بننا پسند کیا۔ اس کے بعد سے اب تک خلافت قائم نہیں ہوسکی ہے اور مسلمانوں کی طرف سے ہونے والی کوئی بھی کوشش کامیاب نہیں ہوسکی ہے۔