محبت اور ہماری روایات - زینی سحر

بہت عرصہ پہلے انگریزی ادب سے ایک ناول پڑھا تھا. یوں تو بےشمار ناول اردو ادب سے بھی پڑھے ہیں، بہت ساری محبت کی لازول داستانیں بھی پڑھیں، لیکن جو نقوش اس ناول نے چھوڑے یا جتنا اس کو یاد رکھا، وہ اور کوئی محبت کی کہانی چھوڑ پائی نہ یاد رہ پائی. اس کی بنیادی وجہ شاید یہ ہو کہ ہمارے يہاں ادب میں حقائق کو لفاظی کا پہناوا پہنا کر مسخ کر دیا جاتا ہے.

یوں تو وہ ایک کہانی ہی تھی جس میں ایک پچاس پچپن سالہ شادی شدہ مرد کو اپنے سے بیس سال چھوٹی لڑکی سے محبت ہو جاتی ہے، دوسری طرف لڑکی کا بھی یہی حال ہوتا ہے، لیکن چونکہ دونوں شادی شدہ ہوتے ہیں تو کھل کر اپنے جذبے کا اظہار نہیں کر پاتے. وہ شخص اپنی بالکونی میں بيٹھ کر اکثر اس لڑکی کو آتے جاتے دیکھتا ہے، اس سے اس کی بیوی کو شک ہو جاتا ہے. کہانی کا اختتام اس پر ہوتا ہے کہ اس کی بیوی اسے اس لڑکی کے ساتھ گھر میں بنے ہوئے تہہ خانے میں قید کر دیتی ہے، جہاں بھوک پیاس کی شدت سے دونوں مر جاتے ہیں، پھر وہ ان دونوں کی گمشدگی کا الزام لڑکی کے شوہر پر لگا دیتی ہے.

يوں تو یہ کہانی بظاہر بہت سیدھی سادھی ہے لیکن اس میں قابل ذکر بات یہ ہے کہ انسان کو خواہ وہ مرد ہو یا عورت، زندگی کے کسی موڑ پر محبت ہو سکتی ہے، عمر یا چھوٹے بڑے ہونے کی اس میں کوئی قید نہیں ہے. ہمارے یہاں عموما یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مرض صرف نوجوانوں کو ہی لاحق ہوتا ہے، لیکن ایسا نہیں ہے. سچ یہ ہے کہ آج کل شادی شدہ لوگ نوجوانوں کی بنسبت زیادہ اس ”محبت“ نامی کھیل میں ملوث ہیں، جہاں مرد پہلی شادی تو ماں باپ کی مرضی سے کسی کزن سے کر لیتے ہیں لیکن شادی کے کچھ سال بعد انھیں اپنی زندگی میں خالی پن محسوس ہوتا ہے، اور وہ محبت کی تلاش میں سرگرداں ہو جاتے ہیں، پھر آتی جاتی ہر لڑکی سے انہیں محبت ہونے لگتی ہے، محبت کی کمی روز بروز زیادہ محسوس ہوتی اور بڑھتی جاتی ہے، کمی زیادہ ستاتی ہے تو پھر وہ لڑکیوں سے فلرٹ کرنے لگتے ہیں، بات فلرٹ تک نہیں رہتی، اور لڑکی سیریس ہو جاتی ہے کہ اس کے پیش نظر فلرٹ نہیں ہوتا، وہ تو کسی کی زندگی کا حصہ بننا چاہتی ہے، اس مرد حضرات اس کو وہاں سے گراتے ہیں کہ جہاں سے اس کے بچنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی.

ہمارے یہاں مردوں کی محبت کا ایک ہی فلسفہ ہے، دوستی کر لو چاہے جیسی مرضی، لیکن شادی کا نام نہ لینا، بہت سے مرد ایسے ہیں جو دیدہ دلیری سے کہتے ہیں کہ جو لڑکی ان سے دوستی کرتی ہے اسے تو وہ ویلکم کرتے ہیں، لیکن جو محبت کی بات کرے، اس کے لیے ان کے ہاں کوئی گنجائش نہیں ہے. حالانکہ سب سے قابل توجہ شخص تو وہی ہوتا ہے، جو آپ سے محبت کرتا ہے، اپنی انا کو مار کر کسی سے محبت کرنا کوئی آسان کام تھوڑا ہی ہوتا ہے.

یہ بھی پڑھیں:   ایک شادی کی داستان: شریعت کے حساب سے بالغ، قانونی اعتبار سے نابالغ

دوسری طرف خواتین پہلے تو کسی دولت مند سے شادی کی خواہاں ہوتی ہیں، اور ایسے میں کسی توند والے انکل سے شادی کر لیتی ہیں، مگر شادی کے کچھ سالوں بعد انھیں احساس ہوتا ہے کہ دولت تو مل گئی لیکن سچا پیار نہیں ملا، پھر وہ سچا پیار ڈھونڈھتی ہیں، اور جب وہ انھیں مل جاتا ہے تو اس کے لیے وہ سب کچھ کرنے کے تیار ہوتی ہیں، سوائے اپنے دولت مند شوہر کو چھوڑنے کے، حالانکہ مذہب انھیں اس بات کی اجازت دیتا ہے کہ وہ اپنے پہلے شوہر سے خلع لے کر دوسری شادی کر سکتی ہیں، لیکن ایسی صورت میں دولت ہاتھ سے جاتی ہوئی نظر آتی ہے، جو انھیں قبول نہیں ہوتا، انھیں دونوں چیزیں اکٹھی چاہیے ہوتی ہیں.

سارے کیسز میں اگرچہ ایسا نہیں ہوتا، مگر چونکہ موضوع نوجوانی کی محبت نہیں ہے اس لیے ہم اس کی بات نہیں کر رہے، موضوع بحث وہ لوگ ہیں جنھیں شادی کے بعد محبت ہوتی ہے، یا وہ اس کی کمی فلرٹ سے دور کرتے ہیں. آئے روز ایسی کئی کہانیاں سامنے آتی ہیں.

کئی لوگ سوال تے ہیں کہ محبت کیا ہے؟
میں تو ابھی خود طیفل مکتب ہوں، محبت کی رمزوں کو نہیں جان پائی لیکن اتنا ضرورت جانتی ہوں کہ یہ ہو جاتی ہے، دنیا کے ہر انسان کو کبھی نہ کبھی کسی نہ کسی سے، عمر کی قید نہ مذہب کی، سرحدیں رکاوٹ بنتی ہیں نہ زبان، یہ ایک ایسا احساس ہے جو ساری دنیا کو چھوڑ کر کسی ایک انسان کے لیے آپ کے دل میں پیدا ہوتا ہے.

محبت کا تجربہ ہر شخص کا ذاتی ہوتا ہے لیکن یہ بات بالکل واضح ہے کہ محبت کے قرینوں میں عزت پہلا قرینہ ہے. اگر آپ عزت نہیں کرتے تو کبھی محبت نہیں کر سکتے.
محبت کیا ہے؟
ایک احساس،
ایک دعا،
ایک بندھن،
جو کسی سے بندھ جاتا ہے، ضروری نہیں کہ وہ شخص آپ کے پاس ہو یا دور فون پہ گھنٹوں باتیں کرے یا ٹیکسٹ میسجز سے ساتھ ہونے کا احساس دلائے. وہ شخص کہیں بھی ہو بس خوش ہو، یہ دعا محبت ہے.

اور عزت کیا ہے؟
جب محبوب فرط جذبات میں کندھے سے سر ٹکائے تو تب بھی حدود معلوم ہوں، اور وہ کراس نہ ہونے پائیں.

یہ بھی پڑھیں:   شادی "زدہ" لوگ - محمودفیاض

لوگ پوچھتے ہیں کہ کیا محبت جسم سے ماروا ہوتی ہے؟
ایسا نہیں ہے، لیکن صرف جسم کی خواہش کو ہوس کہتے ہیں، محبت نہیں.

یہ جو فون پر، انٹرنیٹ پر، پارکوں میں محبت ہو رہی ہے، یہ محبت نہیں ہے، وقتی اٹریکشن کو محبت کا نام دے دیا گیا ہے، لمحاتی ابال کو محبت مانا جانے لگا ہے، جو جب چھلک جاتا ہے تو اس کے ساتھ ہی محبت ختم، اور کسی نئی محبت کی تلاش شروع ہو جاتی ہے.

حقیقی محبت تو محبوب کی مرضی کے بغیر اس کو چھونے کی بھی اجازت نہیں دیتی. محبت تو عزت سے مشروط ہے، وہ لطیف احساس جس کے ساتھ برس ہا برس بن دیکھے بن ملے بتائے جا سکتے ہیں.
یہ تو نہیں کہا جا سکتا کہ جس سے محبت ہو، اسے پانے کی کوشس مت کی جائے، محبت پانے کے لیے آخری حد تک بھی جانا پڑے تو جائیں لیکن جائز طریقے سے، محبت کو کبھی رسوا مت کريں.

محبت تو بہت سینچ سینچ کر رکھنے کی چیز ہے، اور محبوب دنیا کا سب سے قیمتی شخص ہے. اگر خوشی اس میں ہے کہ محبوب کو ایک گلاب کا پھول، چاکلیٹ یا گفٹ ديا جائے تو اس سے پہلے اسے عزت دیں، اسے اپنی عزت بنائیں. ایسا نہیں ہو سکتا کہ دعوی تو بےشمار محبت کا ہو لیکن شادی نہ کریں، یا شادی کے بعد محبت کا دعوی کریں لیکن اپنانے سے دور رہیں، اگر کسی سے محبت کر سکتے ہیں تو مرد بن کر اس سے شادی بھی کیجیے، ایسا نہیں کر سکتے تو پھر ایسی محبت کو اندر ہی دبا کر رکھیے، اظہار مت کیجیے.

خواتین کو بھی سوچنا چاہیے کہ ایسا نہیں ہو سکتا کہ ایک ٹکٹ میں دو دو مزے ملیں، دولت بھی اور محبت بھی. اگر زندگی چننے کی گنجائش دے تو محبت کو چنیے ورنہ ماں باپ کی رضا کو رب کی رضا مان کر قبول کر لیجیے، ایسا نہیں ہو سکتا کہ شادی کہیں اور ہو، اور آپ محبت کے لیے کوئی اور راستہ تلاش کريں.

مردوں کے اس ایکسکیوز کو نہیں مانا جا سکتا کہ وہ اپنی پسند سے شادی نہیں کر سکتے یا نہ کر سکے، یہ محض ایک بہانہ ہے، محبت پانے کا صرف ایک راستہ ہے، اور وہ ہے صرف اور صرف شادی، اگر نہیں کرسکتے تو کسی کی زندگی خراب مت کریں. محبت صرف آئی لو یو آئی لو یو بولنے کا نام نہیں ہے بلکہ ایک دوسرے کو سمجھنے اور احساس کرنے کا نام ہے، اگر یہ احساس موجود ہو تو مشکل سے مشکل وقت سے بھی ایک دوسرے کے ساتھ گزارا جا سکتا ہے.

Comments

زینی سحر

زینی سحر

زینی سحر میرپور آزاد کشمیر سے ہیں۔ حساس دل کی مالک ہیں، شاعری سے شغف رکھتی ہیں۔ خواتین اور بچوں سے متعلقہ مسائل پر لکھتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.