DNA کے بارے میں چشم کشا حقائق - پروفیسر مفتی منیب الرحمن

گزشتہ سال اسلامی نظریاتی کونسل پاکستان نے قرار دیا کہ DNA کی فارنزک لیبارٹری رپورٹ کو حدِّزنا جاری کرنے کے لیے حتمی اور قطعی شہادت (Absolute Evidence) کے طور پر تسلیم نہیں کیا جا سکتا، اس کے لیے عینی شہادت (Eye Witness) کا مطلوبہ شرعی معیار لازمی ہے، البتہ اسے ظنّی شہادت، قرائن کی شہادت اور تائیدی شہادت کے طور پر لیا جا سکتا ہے، اور عینی شہادت کی عدم دستیابی کی صورت میں عدالت مطمئن ہو تو تعزیرا سزا دے سکتی ہے۔ اس پر ہمارے آزاد الیکٹرانک میڈیا، لبرل عناصر نے کہرام مچا دیا، ان میں حقوق نسواں اور حقوق انسانی کے نام پر تنظیمیں چلانے والی NGOs اور دیگر فعال عناصر سب شامل ہیں۔ چونکہ مغربی ممالک کی اقدار کے پرچارک ان طبقات کو زنا بالرضا (Adultery) پرکوئی اعتراض نہیں ہے، اس لیے ان کا اصرار ہے کہ زنا بالجبر (Rape) کے ثبوت کے لیے DNA کا لیبارٹری ٹیسٹ اگر مثبت آجائے تواسے حتمی اور قطعی شہادت قرار دے کر اس جرم کے مرتکب پر سزائے موت جاری کر دی جائے۔

میں 12 تا 30 جنوری امریکہ کے دورے پر تھا اور مختلف ریاستوں میں دوستوں نے دینی پروگرام ترتیب دے رکھے تھے. نیو جرسی اسٹیٹ سے جماعت اہلسنت نارتھ امریکا کے رہنما علامہ مقصود احمد قادری یہ پروگرام ترتیب دیتے ہیں، ان میں ایک پروگرام ٹینیسی اسٹیٹ کے شہر نیو جانسن سٹی میں جناب ڈاکٹر شہرام ملک کے مکان پر ہوتا ہے، جو دین دار، علم دوست اور مہمان نواز شخص ہیں۔ یہ ڈاکٹر صاحبان اور اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کا ایک حلقہ احباب ہے جو کافی دور دور سے سفر کر کے یکجا ہوتے ہیں۔ چونکہ تعلیم و تعلّم ہمارا مشن ہے، اس لیے اعلیٰ تعلیم یافتہ حضرات کے ساتھ مجلس کا انعقاد اور تبادلۂ خیال بےحد مفید ثابت ہوتا ہے. ان میں کئی احباب میاں بیوی دونوں ڈاکٹر ہوتے ہیں۔ ممتاز عالمی شہرت یافتہ آئی سرجن جناب ڈاکٹر خالد اعوان اس حلقۂ احباب کا نقطۂ اتصال ہیں۔ ڈاکٹرصاحب کا قرآن و حدیث کا وسیع مطالعہ، یادداشت اور استدلال قابل رشک ہے۔ وہ راسخ العقیدہ ہیں، محض روایتی اور نسلی مسلمان نہیں ہیں کہ مسلم گھرانے میں پیدا ہوئے اور وراثت میں اسلام کی نعمت بھی مل گئی، بلکہ اُس خوش نصیب طبقے سے تعلق رکھتے ہیں جنھوں نے اسلام کو پڑھا، سمجھا اور شعوری طور پر قبول کیا اور عمل بھی کیا۔ ان کے اپنے شعبۂ طب Opthalmology میں ان کے 250 سے زیادہ ریسرچ پیپرز معتبر عالمی طبی جرائد میں طبع ہو چکے ہیں۔ امراضِ چشم کے علاج کے حوالے سے ان کی ایک تحقیق ’’Awan Syndrome‘‘ کے عنوان سے ان کے نام سے منسوب ہے اور بلاشبہ یہ ایک بڑا اعزاز ہے. اسی طرح لیزر ٹیکنالوجی سے جو آنکھوں کا علاج ہوتا ہے، ان میں سے بھی ایک خاص’’لیزر‘‘ کے موجد چونکہ ڈاکٹرخالد اعوان ہیں، اس لیے یہ بھی ان کے نام سے منسوب ہے۔ امریکا اور دیارِمغرب میں مقیم قابل فخر کارنامے انجام دینے والے ایسے پاکستانیوں کو قومی اعزاز کے لیے منتخب کیا جانا چاہیے اور امریکا میں مقیم پاکستانی صحافیوں کو ایسے لوگوں کی نشاندہی کرنی چاہیے۔

میں ایک عرصے سے متلاشی تھا کہ آیا امریکا اور یورپی ممالک میں DNA ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کو ایسے جرائم کے ثبوت کے لیے، جن کی سزا موت ہے، قطعی اور حتمی شہادت کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے یا اسے زیادہ سے زیادہ ہمارے فقہائے کرام کے اقوال کے مطابق ایک ظنّی اور مشتبہ شہادت یا تائیدی شہادت کے طور پر ہی لیا جا سکتا ہے۔

رسول اللہ ﷺ نے اپنے عہد مبارک میں مختلف مواقع پر قرائن کی شہادت کو اپنے قیاس کی بنیاد بھی بنایا اور اسے تائیدی شہادت کے طور پر استعمال بھی فرمایا، لیکن اسے کسی بھی وقوعے کے بارے میں قطعی اور حتمی شہادت کا درجہ نہیں دیا کہ اس کی بنا پر شرعی حد جاری کی جاسکتی ہے، ذیل میں ہم اس کی مثالیں پیش کر رہے ہیں:
ابورافع سَلَّام بن ابوالحُقَیق ایک مشہور دشمنِ رسول تھا، وہ آپ کو ایذا پہنچاتا تھا۔ آپ ﷺ نے عبداللہ بن عَتِیْک کی قیادت میں انصار کے پانچ افراد کو اُسے قتل کرنے کے لیے بھیجا۔ عبداللہ بن اُنَیس بیان کرتے ہیں کہ ہم نے واپس آ کر رسول اللہ ﷺ کو اُس کے قتل کی خبر دی۔ ہم میں اختلاف پیدا ہوا کہ وہ شخص کس کی ضرب سے قتل ہوا ہے، کیونکہ ہم میں سے ہر ایک اس اِعزاز کا دعوے دار تھا، پس رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’سب اپنی تلواریں لے آؤ‘‘، چنانچہ ہم اپنی اپنی تلواریں لے آئے۔ آپ ﷺ نے سب تلواروں کو دیکھا اور عبداللہ بن اُنَیس کی تلوار کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: ’’وہ اِس تلوار سے قتل ہوا ہے، کیونکہ مجھے اس پر خوراک کے ذرّات نظر آرہے ہیں. ( سیرتِ ابن ہشام، ج:2،ص:275،روایت کا خلاصہ)‘‘۔
آپ ﷺ کے اس ارشاد کا مطلب یہ تھا کہ عبداللہ بن اُنیس کی تلوار ابن ابوالحُقیق کے بدن میں زیادہ گہرائی یعنی معدے تک گئی ہے اور اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس پر لگے ہوئے خون کے دھبوں میں خوراک کے ذرات کی آمیزش نظر آتی ہے۔ لہٰذا معلوم ہوا کہ ان کا وار زیادہ گہرائی تک گیا اور جان لیوا ثابت ہوا۔ یہ فراستِ نبوت کا فیضان تھا کہ آپ ﷺنے قرائن کی شہادت (Circumstantial Evidence) کا اعتبار کیا اور اسے کسی وقوعے کے ثبوت کے لیے تائیدی شہادت اور قرینے کے طورپراستعمال فرمایا۔

حدیث پاک میں ہے: ’’ایک شخص رسول اللہ ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی: یارسول اللہ! (صلی اللہ علیک وسلم)، میرے ہاں ایک سیاہ فام بیٹے نے جنم لیا ہے، (غالباً وہ شخص سفید رنگ کا تھا اور اس بنا پر اُسے اپنے بیٹے کے نسب کے بارے میں شبہ لاحق ہوا)، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تمہارے پاس اونٹ ہیں؟، اُس نے جواب دیا: جی ہاں!، آپ ﷺ نے پوچھا: اُن کے رنگ کیسے ہیں؟، اُس نے عرض کی: سرخ، آپ ﷺ نے فرمایا: کیا اُن میں کوئی خاکستری رنگ کا بھی ہے؟، اُس نے عرض کی: جی ہاں!، آپ ﷺ نے فرمایا: تو وہ (یعنی سرخ اونٹوں میں خاکستری رنگ کا اونٹ) کہاں سے آگیا؟، اُس نے عرض کی: شاید (اُس کے نسبی آباء میں سے) کسی کی رگ نے اُسے کھینچ لیا ہو، آپ ﷺ نے فرمایا: شاید تمہارے بیٹے کو بھی (تمہارے آباء کی) کسی رگ نے کھینچ لیا ہو. (بخاری: 5305)‘‘۔ یہاں رسول اللہ ﷺ نے قیاس کو صحیح نسب کے لیے تائید کے طور پر استعمال فرمایا، اس کومندرجہ ذیل حدیث سے مزید تقویت ملتی ہے:
علی بن ابی رباح اپنی سند کے ساتھ اپنے دادا سے روایت کرتے ہیں: رسول اللہ ﷺ نے اُن سے پوچھا: تمہارے ہاں کیا پیدا ہوا؟، اُس نے جواب دیا: میرے ہاں جو بھی پیدا ہوگا بیٹاہوگا یا بیٹی، آپ ﷺ نے پوچھا: وہ بچہ (صورت میں) کس سے مشابہ ہوگا؟، اُس نے عرض کی: یارسول اللہ! (صلی اللہ علیک وسلم)، یقینا اپنے باپ یا ماں میں سے کسی کے مشابہ ہوگا، آپ ﷺ نے فرمایا: ذرا رکو، اس طرح نہ کہو، (بات یہ ہے کہ) جب نطفہ ماں کے رحم میں قرار پاتا ہے، تو اللہ تعالیٰ (اپنی قدرت سے) اُس کے اور آدم علیہ السلام کے درمیان تمام رشتوں (یعنی اُن کی صورتوں) کو حاضر فرما دیتا ہے (اور وہ اُن میں سے کسی سے مشابہت اختیار کرلیتا ہے) پھر آپ ﷺ نے فرمایا: کیا تم نے اللہ تعالیٰ کا یہ ارشاد نہیں پڑھا: ’’وہ جس صورت میں چاہتا ہے، تمہارے وجود کی تشکیل فرما دیتا ہے. (المعجم الکبیر للطبرانی: 4624)‘‘۔ اس کی مزید تائید اس حدیث پاک سے ہوتی ہے:
ام المومنین عائشہ صدیقہ رضی اللہ تعالیٰ عنہا بیان کرتی ہیں: ایک دن رسول اللہ ﷺ میرے پاس اس حال میں تشریف لائے کہ آپ بہت خوش تھے۔ آپ ﷺ نے فرمایا: (عائشہ!) تمہیں معلوم ہے کیا ہوا؟، مُجَزِّز مُدْلِجی میرے پاس داخل ہوا، اُس نے دو اشخاص (زید بن حارثہ اور اسامہ بن زیدرضی اللہ عنہما) کو چادر اوڑھ کر لیٹے ہوئے اس طرح دیکھا کہ اُن کے سر (اور بدن کا بالائی حصہ) ڈھکا ہوا تھا اور پاؤں کھلے تھے۔ اُس نے کہا: یہ پاؤں ایک دوسرے سے ہیں (یعنی یہ دونوں اشخاص آپس میں باپ بیٹا ہیں) (صحیح بخاری:6771)‘‘۔ حضرت اسامہ بن زید کا نسب اپنے باپ زید بن حارثہ سے ثابت تھا، لیکن باپ بیٹے کے رنگ میں تفاوُت کی وجہ سے کسی منافق نے اُن کے نسب پر طعن کیا تھا، تو رسول اللہ ﷺ نے قیافے کے ماہر مُجَزِّزمُدلِجی کے اس مشاہدے کو تائیدی شہادت کے طور پر لیا اور خوشی کا اظہار فرمایا کہ ایک غیرجانبدار ماہر شخص نے ان دونوں کے حقیقی باپ بیٹا ہونے کی تصدیق کر دی۔

اب جا کر سائنس اور جدید علم نے اس کی توثیق کی ہے۔ چنانچہ اب فارنزک لیبارٹری کی مثبت رپورٹ اور وڈیو ریکارڈنگ یعنی مُتحرک تصاویر کو کسی جرم کے ثبوت کے لیے ایک حد تک قبول کیا جا رہا ہے۔ لیکن کسی سنگین نوعیت کے جرم، جس کی قانون اور شریعت میں سزا موت مقرر ہے، کے ثبوت کے لیے ڈی این اے کی مثبت لیبارٹری رپورٹ اور ویڈیو ریکارڈنگ کو، خواہ وہ کتنی ہی معیاری ہو، واحد حتمی اور قطعی ثبوت مان کر سزائے موت کا فیصلہ نہیں دیا جا سکتا۔ یعنی محض اس مثبت فارنزک رپورٹ کی بنا پر شریعت کی مقرر کی ہوئی ’’حَدِّ زنا‘‘ جاری نہیں کی جاسکتی، کیونکہ اس میں ملاوٹ اور کسی چیز کی آمیزش کا امکان موجود ہے۔ اسی طرح وڈیو ریکارڈنگ اور متحرک تصاویر میں بھی ایڈیٹنگ کے امکان کو کلی طور پر مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ یہ تو ہمارے ہاں روزمرہ کا مشاہدہ ہے کہ ٹیلی ویژن کوریج کرنے والے اپنے کسی من پسند سیاسی رہنما یا پارٹی کے جلسے کو بڑا کر کے دکھاتے ہیں اور ناپسندیدہ لیڈر یا پارٹی کے اُتنے ہی یا اُس سے بھی بڑے اجتماع کو چھوٹا کر کے دکھاتے ہیں، اِسے ہمارے مُحاورے میں کیمرے یا ہاتھ کا کمال کہتے ہیں۔ یعنی ذاتی پسند و ناپسند، ترغیب و تحریص، دباؤ اور تعصُّب کی بنا پر حقائق و واقعات میں تَغیُّر و تبدُّل یا کمی بیشی یا مؤثر یا غیر مؤثر بنا کر پیش کرنا ممکن ہے۔ اسی طرح تمام تر دیانت اور نیک نیتی کے باوجود بشری خطا کے امکان کو بھی کلی طورپر رَد نہیں کیا جا سکتا. یہ ضروری نہیں کہ ہر کیس میں ایساہو، لیکن خطا کا امکان قطعیت کی نفی کے لیے کافی ہے۔ ہمارے ہاں میڈیکولیگل رپورٹ اور میّت کے پوسٹ مارٹم میں ردّ و بدل کے شواہد بہت ہیں۔

الغرض ان اسباب کی بناپر ڈی این اے کی مثبت رپورٹ یا فارنزک شواہد ظنّی اور مشتبہ (Doubtful) قرار پاسکتے ہیں، قطعی ہرگز نہیں ہوسکتے، جبکہ حد زنا جاری کرنے یا قتل کی سزا نافذ کرنے کے لیے ثبوت کا قطعی اور لاریب ہونا ضروری ہے اور وہ مطلوبہ عینی شہادت ہی سے ممکن ہے۔ خون کے دھبے، بندوق کی گولیاں اور انسانی دانت سے کاٹنا اسی زمرے میں آتا ہے، تاہم ان شواہد کی بناپر جج یا قاضی اگر مطمئن ہو تو تعزیر کے طور پر سزا دے سکتا ہے اور اس سے کسی کو اختلاف نہیں ہے۔

امریکہ کے حالیہ سفر میں ڈاکٹر خالد اعوان صاحب نے امریکہ اور جرمنی کی عدالتوں اور تفتیشی اداروں کے حوالے سے ڈی این اے رپورٹ کے غیر یقینی ہونے کے بارے میں وہاں کے اخبارات کے حوالوں سے ہمیں یہ شواہد فراہم کیے، جو ہمارے لبرل عناصر کے لیے یقینا حجت ہوں گے:
امریکہ کے نہایت مشہور ایتھلیٹ اوجے سمپسن پر اپنی بیوی اور اس کے آشنا کے دُہرے قتل کا الزام تھا، وکیل صفائی نے مؤقف اختیار کیا کہ ڈی این اے کے حاصل کیے ہوئے نمونے میں لیبارٹری میں کسی آمیزش کے امکان کو رَد نہیں کیا جا سکتا ۔اسی طرح 2009ء میں ایک واضح ابہام رپورٹ کیاگیا۔ اس کی رُو سے محض ڈی این اے کی مثبت رپورٹ پر اس حد تک انحصار کو شک کی نظر سے دیکھاگیا کہ اسے قطعی شہادت مان کر مجرم پر سزائے موت نافذ کر دی جائے۔

پندرہ سال تک جرمنی کی ایک اسٹیٹ کی پولیس ایک عادی قاتلہ خاتون کو شدت سے تلاش کرتی رہی، جس کی ڈی این اے کے مثبت شواہد چالیس جرائم کے وقوعوں میں پائے گئے، ان میں سے چھ قتل کے جرائم تھے۔ 2007ء میں انہوں نے متبادل امکانات پر غور شروع کیا، پھر مارچ 2009ء میں اسٹیٹ منسٹر نے اعلان کیا کہ کیس کو حل کر لیاگیا ہے، وہ یہ کہ جس فیکٹری سے نمونہ لینے کے لیے روئی کا پھایا لیا جا رہا تھا، وہاں ایک خاتون ورکر کی لاپرواہی سے آمیزش (Contamination) ہو رہی تھی. (Kingport Times-News,Monday, May11 ,2009)‘‘۔
ٕ
اسی طرح Amanda knox نامی ایک امریکی خاتون کو اٹلی میں اپنے ساتھ کمرے میں رہنے والی دوسری خاتون کو قتل کرنے کے الزام میں 25 سال کی سزا سنائی گئی۔ اس پر الزام ثابت کرنے کے لیے ڈی این اے لیبارٹری رپورٹ کو بطور ثبوت پیش کیاگیا۔ تقریباً ایک سال بعد اس فیصلے کو چیلنج کر دیا گیا اور امریکہ کے ایک اخبار میں رپورٹ شائع ہوئی:’’ Amanda knox- Rome کوایک فیصلہ کن فتح حاصل ہوئی۔ ایک غیرجانبدار فارنزک رپورٹ نے بتایا کہ اس امریکی طالب علم اور اس کی ساتھی کے مقدمے میں جو ڈی این اے رپورٹ بطورشہادت استعمال کی گئی، وہ قابل اعتماد نہیں تھی اور اس میں آمیزش تھی۔ اس رپورٹ سے معلوم ہوا کہ پہلے ٹرائل میں جو ڈی این اے ٹیسٹ استعمال کیاگیا، وہ بین الاقوامی معیار سے کم تر درجے کا تھا اور اس کے سبب اَمنڈا ناکس کی سزا کو ختم کرنے کے امکانات بڑھ گئے ہیں، (Bristol Herald Courier,Thursday,June 30,2011)‘‘۔ پس شرعی حد جاری کرنے کے لیے ڈی این اے ٹیسٹ کو حتمی اور قطعی ثبوت ماننے والوں کو اس رپورٹ کا مطالعہ ضرور کرنا چاہیے۔

اسی طرح امریکی ریاست ٹیکساس میں فوجداری عدالتِ مُرافعہ نے 16جولائی کو Clifton Williams کی سزائے موت کو نفاذ سے محض چند گھنٹے قبل ملتوی کر دیا، کیونکہ استغاثہ کے وکلاء نے یہ مؤقف اختیار کیا کہ Williams نامی ایک اور سیاہ فام شخص کے ڈین این اے پروفائل سے اس کے مشابہ ہونے کا امکان ہے اوراس امکان کا تناسب ایک کے مقابلے میں 43 Sextilion ہے، یعنی 43 کے آگے اکیس صفر لگانے سے جو عدد بنتا ہے، اس کے برابر ہے یا اسے ایک بہ نسبت 43 بلین ٹریلین سے تعبیر کرسکتے ہیں۔ ٹیکساس کی انتظامیہ نے حال ہی میں ایف بی آئی کے تیار کردہ ڈیٹابیس پر انحصار کر کے نتیجہ اخذ کیا کہ ایک اور سیاہ فام ولیم نامی شخص کے ڈی این اے پروفائل سے اس نمونے کے ملنے کے امکانات One in 40 Billions Trillion ہیں، (Kingsport Times-News,Monday,August 10,2015)‘‘۔

ہمارے ہاں بعض لوگ قتل یا آبروریزی کے مقدمات (یعنی ایسے جرائم جن کی سزا موت یا عمر قید ہے) میں صرف ڈی این اے کی مثبت لیبارٹری رپورٹ کو حتمی اور قطعی شہادت کے طور پر قبول کرنے پر مُصر ہیں اور اِسے حتمی اور قطعی ثبوت نہ ماننے والوں کو دقیانوسی فکر کا حامل قرار دیتے ہیں۔ ایسے تمام لبرل حضرات سے گزارش ہے کہ وہ آبروریزی کے مقدمات میں ڈی این اے کی شہادت کو قطعی ثبوت نہ ماننے کی بابت Univercity of Michigans Innocene Clinic کے 56سالہ کارل ونسن کے مقدمے کا مطالعہ کریں، جسے جبری آبروریزی کے مقدمے میں25 سال کی جیل گزارنے کے بعد اس بنا پر رہا کر دیاگیا کہ جج ایزن براؤن نے کہا: ’’عدالت سائنسی شواہد کے بجائے عینی شہادت پر انحصار کرے گی،(Kingport Times-News,Monday,July16,2011)‘‘۔

الغرض ڈی این اے ٹیسٹ کی مثبت رپورٹ کے قطعی ثبوت نہ ہونے کے بارے میں امریکہ اور مغربی ممالک کی عدالتیں یک آواز نہیں ہیں، بعض اسے حتمی اور قطعی ثبوت مانتے ہیں اور بعض عدالتوں اور ایف بی آئی نے اسے تسلیم نہیں کیا۔ اسی حقیقت کو علمِ نبوت نے چند الفاظ میں بیان فرما دیا:’’جس قدر ہوسکے مسلمانوں سے حدود کو ساقط کردو. (سنن ترمذی:1424)‘‘۔ امام ابن ماجہ نے اپنی سُنَن میں باب باندھا: ’’مؤمن کی پردہ پوشی اور حدود کو شبہات کے سبب دور کرنے کا بیان‘‘۔ امید ہے میری یہ عاجزانہ کاوش ان شاء اللہ جج صاحبان، مفتیانِ کرام، وکلاء حضرات اور قانون کے طلبہ کے لیے مفید ثابت ہوگی۔

میرے دورۂ امریکہ کا ایک سبب ٹیکساس اسٹیٹ کے شہر ہیوسٹن میں ’’النور اسلامک سنٹر آف گریٹر ہیوسٹن ‘‘ میں دینی علوم کا نصاب مکمل کرنے والے مقامی طلبہ کے گریجویشن یعنی دستارِ فضیلت اور تقسیمِ اسناد کی تقریب میں مہمانِ خصوصی کی حیثیت سے شرکت تھی، اس میں برطانیہ سے علامہ قمر الزماں اعظمی اور انڈیا سے مولانا بہاء المصطفیٰ بھی تشریف لائے۔ اس مرکز کی انتظامیہ نے میری تحریک پر یہ ادارہ قائم کیا تاکہ امریکہ کی ضروریات کے لیے مقامی علماء تیار ہوں، کیونکہ وہ انگریزی زبان میں بہتر انداز میں اِبلاغِ دین کا فریضہ انجام دے سکیں گے۔ علامہ مفتی قمر الحسن، علامہ ضیاء المصطفیٰ، علامہ غلام زرقانی اور دیگر مقامی علماء تدریس کے فرائض انجام دیتے ہیں۔ جنابِ ظفر ہاشمی، جنابِ اختر عبداللہ، جنابِ ڈاکٹر سلیم گوپلانی، جنابِ عمادالدین، جنابِ مارفانی اور دیگر حضرات اس ادارے کی انتظامیہ میں شامل ہیں۔ اس کے علاوہ ڈیلس میں جنابِ الطاف نور کی دعوت پر مکہ مسجد اور ادارۂ برکات القرآن میں مسلمانوں کے اجتماعات سے خطابات کا موقع ملا ۔اِن شاء اللہ عنقریب وسیع قطعہ ٔ اراضی پراس ادارے کی مستقل عمارت کی تعمیر کا سلسلہ شروع ہوجائےگا، چند قانونی مراحل باقی ہیں۔ ڈیلس ہی میں اسلامک ایسوسی ایشن آف کولن کاؤنٹی کے زیرِاہتمام ایک شاندار مسجد اور تعلیمی مرکز کے دورے کا موقع ملا۔ وہاں الجزائر کے عالم ڈاکٹر شیخ مختار مغروئی اور دیگر علمائے کرام و ذمے داران سے تبادلۂ خیال کی نشست ہوئی۔ یہ مرکز پاکستان و عرب ممالک کے ڈاکٹر صاحبان و دیگر اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمانوں کے زیرِانتظام چل رہا ہے۔ جنابِ شیخ مختار سے پاکستان کے نظامِ رؤیتِ ہلال کے بارے میں گفتگو ہوئی، اِسے انہوں نے بہترین نظام قرار دیا اور انگریزی زبان میں اس موضوع پر اپنا تحریر کیا ہوا ایک مقالہ بھی مجھے دیا، اُن کا مؤقف ہمارے نظام سے مطابقت رکھتا ہے۔ فرمانے لگے:’’مجھے آپ اجازت لکھ دیں کہ میرا یہاں اس پر عمل درست ہے‘‘۔ پاکستان کے علامہ محمد اصیل اور قاری خالد محمود الازہری بھی اس مرکز سے وابستہ ہیں، وہاں میں نے شیخ کے اصرار پر نمازِ ظہر کی امامت کی اور نماز کے بعد انگریزی میں مختصر خطاب کیا۔

نیویارک میں میرا قیام سیالکوٹ کے جناب افضل باجوہ کے ہاں ہوتا ہے اور جنابِ خاور بیگ بھی مستقل خدمت میں رہتے ہیں، یہ مخلص احباب کا ایک اچھا حلقہ ہے۔ نیو یارک میں اہلسنت کی سب سے بڑی جامع مسجد مکی میں جمعہ پڑھانے کا موقع ملا اور اس کے علاوہ مولانا مدثر حسین کی مسجد نورالہدیٰ، علامہ شہباز احمد چشتی کی مسجدِ ضیاء القرآن اور جناب اصغر بھٹہ کی مسجدِ مصطفی میں خطابات ہوئے۔ اس بار مِلواکی شہر میں جنابِ سلیم میمن، جنابِ فاروق سیفی اور جنابِ عارف میمن کی قائم کردہ نئی مسجد و اسلامی مرکز کے افتتاح اور وہاں خطاب کا موقع ملا۔ اسی طرح شکاگو میں ایک صوفی بزرگ سید شاہ تاج الدین قادری الگیلانی کے زیرِاہتمام ہال میں ایک بڑے اجتماع سے خطاب کا موقع ملا، جن میں بڑی تعداد میں ہندوستانی اعلیٰ تعلیم یافتہ مسلمان بھی شامل تھے۔ کیلی فورنیا اسٹیٹ کے شہر وُڈ لینڈ میں مولانا قاری عامر حسین نے ایک مجلس کا اہتمام کیا اور اُس میں خطاب کے لیے مجھے مدعو کیا اور اس طرح وہاں پاکستانی مسلمانوں کے ساتھ تبادلۂ خیال کا موقع ملا۔

بعض مقامات پر اہلِ فکر و نظر کے ساتھ پاکستان، امتِ مسلمہ اور امریکہ میں مسلمانوں کے احوال سے متعلق سوال و جواب کی نشستیں منعقد ہوئیں، یہ ایک مفید تجربہ ثابت ہوا۔ پاکستانی الیکٹرانک میڈیا اپنے جارحانہ پن، سنسنی خیزی اور ریٹنگ کی مجبوری کے باعث بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کو ہمیشہ مضطرب رکھتا ہے اور وہ اپنے وطن عزیز کے بارے میں غیر یقینی کیفیت سے دوچار رہتے ہیں۔ میں نے اُن سے کہا: ’’آپ حضرات خاطر جمع رکھیں، الحمد للہ علیٰ اِحسانہٖ پاکستان بیس کروڑ مسلمانوں کا ملک ہے، یہ مسلم دنیا کی واحد ایٹمی طاقت ہے، اِن شاء اللہ العزیز! یہ ہمارے رہنماؤں کی کمزوریوں کے باوجود قائم و دائم رہے گا اور ایک وقت آئے گا کہ ہم ان کمزوریوں پر قابو پانے میں کامیاب ہوجائیں گے‘‘۔

امریکہ میں مقیم پاکستانیوں کی ایک مُعتَدبہ تعداد ہے جو ایک عرصے سے وہاں کامیابی کے ساتھ کاروبار کر رہے ہیں، حکومت کو ٹیکس بھی دیتے ہیں، نیو یارک میں سیالکوٹ اور اُس سے ملحق علاقوں سے تعلق رکھنے والے پاکستانی کافی تعداد میں مکانات کی تعمیر و مرمت کے شعبے سے وابستہ ہیں۔ ان لوگوں کے پاس قانونی دستاویزات نہیں ہیں اور اس کی بنا پر دس دس اور پندرہ پندرہ سال سے پاکستان میں اپنے خاندانوں سے بچھڑے ہوئے ہیں۔ اگر ہمارا سفارت خانہ امریکی پالیسی سازوں سے رابطہ کرکے کوئی ایسی صورت نکالے کہ فی کس دس ہزار ڈالر دے کر ان لوگوں کو ورک پرمٹ یا قانونی اقامت مل جائے، تو بڑی تعداد میں لوگ اس سے استفادہ کرسکیں گے اور امریکی حکومت کو ایک بڑی رقم بھی مل جائے گی۔

Comments

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن

مفتی منیب الرحمن، چیئرمین مرکزی رؤیت ہلال کمیٹی پاکستان، صدر تنظیم المدارس اہلسنت پاکستان، سیکرٹری جنرل اتحاد تنظیمات مدارس دینیہ پاکستان، مہتمم دارالعلوم نعیمیہ اہلسنت پاکستان

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.