کیا حیا کا دل میں ہونا کافی ہے؟ آفاق احمد

جملہ: حیا دل میں ہونا کافی ہے
جواب:
ایک جگہ قبر کھودی جارہی تھی، اس دوران کچھ جڑیں بھی زمین کے اندر موجود تھیں۔۔۔
مضبوط جڑیں، توانا جڑیں بل کھاتی زمین کے اندر پھیلی ہوئیں۔۔۔
گورکن نے کلہاڑا منگوایا اور ان جڑوں کو بھی کاٹ دیا۔۔۔
یہ جڑیں کہاں سے آرہی تھیں، قبر کے قریب تو کوئی درخت نہیں تھا؟؟؟
ہوسکتا ہے کہ محض جڑیں موجود ہوں اور درخت نہ ہو؟؟؟
اچھا، سوری ایسا بھلا کیسا ہوسکتا ہے ?
انسان ہوں نا ، غلط بات کہہ دی۔۔۔
اردگرد نظر دوڑائی، بیس فٹ کے فاصلے پر ایک گھنا، پرانا، موٹا تازہ درخت موجود تھا۔۔۔
اف اللہ، اُس درخت کی جڑیں اتنی دُور تک پھیلی ہوئی ہیں۔۔۔
کہاں درخت اور کہاں تک جڑیں۔۔۔
یعنی توانا جڑوں کا مطلب ہے کہ آس پاس کہیں نہ کہیں توانا درخت بھی ہوگا۔۔۔
.........................
حیا دل میں ہونی چاہیے۔
کتنا پیارا اور دلکش جملہ ہے۔
بالکل درست، حیا دل میں ہونی چاہیے۔
حیا جڑ ہے اور حیا کا پھیلاو تو دل میں ہی ہوسکتا ہے جیسے جڑ زمین کے نیچے پھیلی ہوتی ہے۔
لیکن جس طرح توانا جڑ کا درخت باہر نمایاں نظر آتا ہے بالکل ایسے جیسا کہ سورج کا نظرآنا۔
اسی طرح حیا کا دل میں ہونا انسان کے بدن پر، انسان کے عادات و اطوار میں بھی نظر آنا چاہیے۔
لباس سے واضح ہونا چاہیے، اس کی چال ڈھال میں نمایاں ہونا چاہیے، اس کے طرزِ کلام میں چھلکنا چاہیے، اس کے الفاظ میں حیا کا رنگ ہونا چاہیے۔
جتنا یہ واضح اُتنی حیا کی جڑیں دل میں توانا۔
شاباش! میرے پیارے بہن بھائیوں کے دل میں حیا یقیناً موجود ہے۔
بس اسے اپنی شخصیت پر بھی نمایاں کیجیے۔
.........................
ایک اور انداز میں دیکھتے ہیں:
سخت سردی کا موسم ہو، مسافرسردی سے ٹھٹھررہا ہو، بیگ میں گرم چادر ہو تو مسافر کو کیا کرنا چاہیے؟؟؟
جی بالکل، بیگ سے چادر نکال کر لپیٹ لینی چاہیے۔
گھر میں رات کو سوتے وقت کسی کو سردی لگے تو الماری میں سے کمبل نکال کر اوڑھ لینا چاہیے۔
اگر کوئی ایسے میں بیگ سے چادر نہ نکالے اورالماری سے کمبل نہ نکالے تو یقیناً بیمار ہوجائے گا۔
اسی طرح کسی کے پاس پیسے ہیں، تجوری میں ہیں یا بینک میں ہیں، اب اس کو ضرورت ہو، کوئی بیماری ہویا کوئی بھی خرچہ تو آپ اسے کیا مشورہ دیں گے؟؟؟
یقیناً یہی کہ دوستً! پیسے تجوری یا بینک میں سے نکلواو، پیسے اسی لیے ہوتے ہیں۔
اگر وہ ضد کرے کہ نہیں، بس یہی کافی ہے کہ بینک یا تجوری میں پیسے ہیں تو آپ اسے سمجھائیں گے ضرور۔
یعنی مادی اشیاء پاس ہونے کا مقصد ان کا بروقت اور برمحل استعمال ہے۔
.........................
اسی طرح ہمارے دل میں اچھی اچھی صفات موجود ہوں جیسے سخاوت، مہمان نوازی، تواضع ، شرم وحیا وغیرہ تو ان کا بھی بروقت اورموقع محل کی نسبت سے استعمال ضروری ہے۔
اگر میرے دل میں حیا ہے اور اسے میں ضروری جگہ استعمال نہیں کروں گا تو یہ تو غلط بات ہوگئی نا۔
سامنے نامحرم آرہی ہے اور میں نظر نہ جھکاوں۔
میں نماز میں جاوں اور سجدے میں میرا لباس ساتر نہ ہو، پردے والا نہ ہو۔
یا ایسا لباس ہو کہ جسم کی بناوٹ واضح ہو جائے۔
پھر میرے لیے بھی یہی مشورہ ہوگا کہ بیگ میں چادر، الماری میں کمبل ، تجوری میں پیسہ کی طرح دل میں حیا تب ہی فائدہ مند ہے جب اس کا ضروری اور بروقت استعمال ہو۔
اور مزے کی بات یہ ہے کہ دل کی صفات جتنی استعمال کی جائیں، اُتنا ہی بڑھتی جاتی ہیں اور ساتھ ساتھ دل کا سکون اور حلاوت بھی بڑھاتی جاتی ہیں۔