مفتی حنیف قریشی اور ممتاز قادریؒ، ایک شبہ کا ازالہ - محمد جہان یعقوب

الحمدللہ! تحریر سے رشتہ آج کا نہیں بہت پرانا ہے اور اس دشت کی سیاحی ہمیشہ ہر قسم کے مفادات سے بالاتر ہو کر کی ہے ۔جوبھی لکھاہے اس میں ذاتی مفاد کے بجائے قومی ،دینی ،عوامی اور علمی فائدہ ہی مدنظر رکھا ہے۔نہ روایات کی جکڑ بندیوں کا قائل ہوں اور نہ ہی مسلکی تعصب کی بناء پراپنے مسلک والوں کے ہر غلط کو صحیح یا مخالف مسلک والوں کے ہر صحیح کو غلط کہنے کو کسی قسم کی مسلکی خدمت سمجھتا ہوں۔ہاں!مسلک کے نام سے زہر پھیلانے والوں کی ہمیشہ راہ روکنے کی کوشش کی ہے چاہے اس کے لیے ارمانوں کا خون کرنا پڑے یا قلم کو خوں فشانی پر مجبور،یہی قلم کی عظمت کا تقاضا ہے اور یہی قلم کی حرمت کا اہل قلم سے مطالبہ…!

واللہ!جس قلم کی اللہ نے قسم کھائی ہے اسے ذاتی مفادات کے حصول یا مخالفتوں کے اظہار کا وسیلہ اور پروپیگنڈے کا ذریعہ بنانا قلم کی تقدیس کے بھی خلاف ہے اورجس طرح اہل قلم کی سیاہی کا میزان پر وزن ہو گا ،میرا وجدان کہت اہے کہ اسی طرح قلم فروشوں سے بھی سوال ہو گا کہ تم نے اس صلاحیت کا غلط استعمال کیوں کیا؟وہ عدالت اس احکم الحاکمین کی ہوگی جہاں نہ جعلی وکالت نامے چلیں گے اور نہ ہی دھونس دھاندلی،رشوت وسفارش اور تعلقات کام آئیں گے۔ہر شخص کواپنے کیے کا خود ہی حساب دینا ہوگا۔اہل قلم کو اس احکم الحاکمین کے دربار میں حاضری کو ہر وقت ملحوظ خاطر اورپیش نظر رکھنا چاہیے!

آمدم بر سر مطلب ۔گزشتہ سے پیوستہ کالم بعنوان’’عمران خان کا جامعہ فاروقیہ کا تعزیتی دورہ ‘‘میں ضمناًایک چند سطریں مفتی محمد حنیف قریشی کے حوالے سے آگئی تھی، جس کے الفاظ یہ تھے:’’…اب یہ عناصر شہید ممتاز قادری ؒ کی برسی کی تیاریوں میں مصروف ہیں ،تو خان کی کچھ جان چھوٹی ہے ،ورنہ ممتاز قادری ؒ کی زندگی میں انھیں قانون کا باغی قرار دینے والے پیر افضل قادری اور ممتاز قادری ؒ سے اعلان لاتعلقی کرنے والے مفتی حنیف قریشی،جو شہادت کے بعد سب سے پہلے ممتاز قادری ؒ کا جنازہ پڑھانے بھی پہنچ گئے تھے،انھیں یوں آسانی سے شاید معاف نہ کرتے!‘‘

اس میں مفتی محمد حنیف قریشی صاحب کے حوالے سے دو باتیں تھیں ،ایک تو یہ کہ انھوں نے ممتاز قادری ؒ سے اعلان لاتعلقی کیا تھا اور دوسری یہ کہ ان کی شہادت کے بعد موصوف سب سے پہلے ان کا جنازہ پڑھانے پہنچ گئے تھے۔ یہ دونوں باتیں اپنی معلومات کی بنیاد پر سپرد قلم کی گئی تھیں اور ان کی تہہ میں کسی قسم کا مسلکی تعصب کارفرما نہیں تھا۔ کالم کی اشاعت کے کئی روز بعد محترم مفتی محمد حنیف قریشی صاحب کی کال موصول ہوئی، جس میں انھوں نے ان دونوں باتوں کے ریکارڈ پر ایک کالم کی شکل میں آنے پر اپنا احتجاج ریکارڈ کراتے ہوئے کہا کہ اگر اس حوالے سے آپ کے کوئی سورسز یعنی ذرائع ہیں تو وہ پیش کریں ،کیوں کہ اسلامی قانون کے مطابق گواہ پیش کرنے کی ذمے داری دعویٰ کرنے والے پر ہوتی ہے اور آپ نے میرے حوالے سے یہ دو دعوے کیے ہیں، جن کے آپ سے شواہد مطلوب ہیں۔ ان کی بات میں کوئی ایسی بات نہیں تھی جو قابل اعتراض ہو، نہ ہمارے دعوے کی تہہ میں کسی قسم کا کوئی ذاتی یا مسلکی تعصب کارفرما تھا، سو ہم نے ان سے بصد ادب عرض کیا کہ اس کالم کو لکھتے وقت اس حوالے سے کوئی مستقل مطالعہ نہیں کیا گیا تھا، کیوں کہ موضوع یہ تھا بھی نہیں، وہ توضمناًایک بات آگئی، اس لیے ہمیں نہ اس بات پر اصرار ہے اور نہ ہی ہم اس حوالے سے آپ سے کوئی ’’ٹاکرا‘‘ کرنے کے موڈ میں ہیں، اگرآپ اس دعوے کی تغلیط پر ہمیں شواہد ارسال کردیں جو تسلی وطمینان بخش ہوں، تو ہم اس دعوے کی تردید میں لمحہ بھر کی تاخیر نہیں کریں گے۔

انھوں نے کافی تفصیل سے ممتاز قادری ؒ کیس میں انھیں ملوث کیے جانے پر گفتگو کی، جس کا لب لباب یہ تھا کہ ممتاز قادری ؒ کو میں سلمان تاثیر کے قتل سے پہلے جانتا بھی نہیں تھا، ایک خطیب کو سننے اور اس سے متاثر ہونے والوں کی تعداد سینکڑوں، ہزاروں میں ہوسکتی ہے، جن کا خطیب کو علم نہیں ہوتا اور نہ ہی علم ہونا ضروری ہے۔ مجھے تو اخبارات کے ذریعے معلوم ہوا کہ سلمان تاثیر کا قاتل ایک فورس کا ملازم ہے اور اس نے یہ اقدام میری کوئی تقریر سن کر کیا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس بنیاد پر میرے خلاف کیس دائر ہوئے، میری گرفتاری ہوئی،میں نے ہر جگہ یہ وضاحت پیش کی، تاہم میں نے ممتاز قادری ؒ سے لاتعلقی کا کوئی اعلان نہیں کیا، بلکہ میں نے ہی اس کے حق میں سب سے پہلی ریلی نکالی تھی ،پیشیوں میں ممتاز قادری ؒ کے متعلقین کے ساتھ میں ہی عدالتوں میں پیش ہوتا رہا ،میں نے اس کے کیس کے حوالے سے اس کے ورثاء سے مکمل تعاون کیا۔ ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ انھوں نے اس حوالے سے ایک کتاب بھی لکھی ہے جس میں اس جدوجہد کی مکمل تفصیلات موجود ہیں۔

ان کی اس وضاحت کے بعد ہمیں اس حقیقت کے اعتراف میں کوئی باق نہیں کہ ہم پوری دیانت داری سے اپنی بات کی تردید کرتے ہیں، جس کی وجہ مفتی صاحب موصوف کا رابطہ کر کے تمام حقائق سے آگاہ کرنا ہے، ویب سائٹس اور کالموں میں بکھری تصدیقی وتردیدی، تحسینی وتنقیدی اور تعریفی و مذمتی باتوں کے مقابلے میں ہمارے لیے مفتی صاحب موصوف کی وضاحت زیادہ معتبر ہے، ہم گڑے مردے اکھاڑ کر کوئی نیا پنڈورا باکس بھی نہیں کھولنا چاہتے اور اس سوشل میڈیا کے دور میں کسی سے حقائق چھپائے بھی نہیں جا سکتے، اب وقت کی گرد بھی حقائق کو دھندلانہیں سکتی، جب چاہیں انٹرنیٹ کے ذریعے سالوں پرانے معمے کو کھوجا جا سکتا ہے. ہم ایک بار پھر عرض کر رہے ہیں کہ ہماری نظر میں مفتی صاحب کی وضاحت سے بڑھ کر کوئی چیز معتبر نہیں، کسی کو مزید کھود کرید کا شوق ہو تو وہ مفتی صاحب کی کتاب خرید کر پڑھ لے یا ویب سائٹس سے استفادہ کرے۔

Comments

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب

مولانا محمد جہان یعقوب فاضل درس نظامی ہیں، گزشتہ بارہ سال سے جامعہ بنوریہ عالمیہ سے شائع ہونے والے اخبارکے ادارتی صفحے کی نگرانی کے ساتھ ساتھ تفسیر روح القرآن کے تالیفی بورڈ کے رکن رکین اور تخصص فی التفسیر کے انچارج ہیں، مختلف اداروں کے تحت صحافت کا کورس بھی کراتے رہے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.