وہ کوئی بڑا فیصلہ کر چکی ہے - اسری غوری

آؤ میں تمھیں بتاتی ہوں کہ حجاب کس کو کہتے ہیں؟
تم نے کہا کہ یہ ڈیڑھ گز کا کپڑے کا ٹکڑا حجاب ہے.
اچھا یہ بتاؤ تم کیک بہت اچھا بناتی ہو نا، کبھی اسے بیک کر کے کھلا چھوڑ کے دیکھنا کہ کس قدر مکھیوں کا جھمگٹا اس پر چمٹا ہوگا.
قصور کس کا ہوگا تمھارا یا ان مکھیوں کا؟ ان کا تو کام یہی ہے۔ اس لیے قصور بھی تمہارا ہوا نا کہ تمھیں اسے ڈھانپ کر رکھنا چاہیے تھا نہ کہ اب مکھیوں سے جھگڑنا شروع کردو۔
بس ایسے ہی اگر ہم بے ہودہ فیشن زدہ لباس میں ملبوس باہر نکلیں گے تو ہم کسی کی نگاہوں پر پابندی لگانے کے مجاز نہیں ہیں کہ کسی نے ہمیں کس نگاہ سے کیوں دیکھا؟ پھر آپ نے خود کو پبلک کے لیے اوپن کردیا، اب ان کی حرکتوں پر چیخ و پکار کیسی؟

اچھا یہ بتاؤ کبھی تم نے آرٹیفیشل جیولری کو دیکھا ہے جو ہر دکان پر بالکل سامنے ہی پڑی ہوتی ہے. جس نے نہیں خریدنی ہوتی، وہ بھی چھوتا جاتا ہے، بس یونہی گزرتےگزرتے، اس لیے کے وہ سامنے ہی پڑی ہوتی ہے، ہر ایک کی پہنچ میں ہوتی ہے۔
مگر کیا کبھی گولڈ اور ڈائمنڈ کی شاپ پر دیکھا کہ ہر ایک جا کر وہاں سے کچھ اٹھا لے، کسی چیز کو چھو لے؟
نہیں نا، بلکہ وہاں صرف وہ جاتا ہے جو اس کا حقییقی حقدار اور لینے والا ہوتا ہے.
کیا تم نے دیکھا ہے کہ گولڈ اور ڈائمنڈ جس میں رکھا جاتا ہے، وہ غلاف کیسا ہوتا ہے ؟؟
۔۔۔۔۔ کس قدر نرم و ملائم!

اچھا یہ بتاؤ تم اپنی قیمتی چیزوں کو کہاں رکھتی ہو؟
کیا تم انھیں سبنھال کر کسی محفوظ جگہ میں نہیں رکھتیں؟
اسی لیے نا کہ باہر کی گرد و غبار انھیں میلا نہ کر دے۔

یہ بھی پڑھیں:   نقاب ہٹاؤ چہروں سے! - سائرہ نعیم

بات صرف ڈیرھ گز کے حجاب اور چار گز کےعبایا کے اس ٹکڑے کی نہیں ہے۔
بات تو اس محبت کی ہے جو تمھارے رب کو تم سے ہے،
بات تو اس فکر کی ہے جو وہ پیارا رب تمھارے لیے کرتا ہے، اور اسی وجہ سے اس نے اس حجاب کو تمھارے لیے چنا،
اور بات تو اس احسان کی ہے جو اس عظمتوں والے رب نے تم پر کیا. اور تمھیں ایک محفوظ حصار عطا کر دیا اور اس کی محبتوں کا ذرا سا تصور اس کی اس ایک بات سے لگاؤ کہ وہ یہ نہیں کہتا کہ تم قید ہوجاؤ بلکہ وہ تو کہتا ہے کہ میں نے اس حجاب کو تمھاری پہچان بنادیا ہے، اب لوگ تمھیں دور سے پہچان لیا کریں گے اور پھر تم ستائی نہیں جاؤگی ۔

کیا تمھیں نہیں لگتا اس ایک آیت سے کہ جیسے اس محبتوں والے رب نے تمھیں اپنے ہاتھوں کے پیچھے چھپالیا ہو کہ اب کوئی اس کی جانب دیکھنا بھی چاہے تو کامیاب نہیں ہوسکتا!
کیا تمھیں نہیں لگتا کہ اس نے تمھیں اس دنیا کی سب سے قیمتی شے بنایا، اتنی قیمتی کہ جس تک ہر ایک کی پہنچ نہیں، جس کا اصل حقدار ہی صرف اس تک رسائی حاصل کرسکتا ہے۔
سوچو اس نے تو تمھیں کسی بھی ہیرے سے زیادہ قیمتی بنایا جسے غلافوں میں محفوظ رکھا جاتا ہے تو کیا یہ اس ہیرے کے ساتھ ظلم ہوتا ہے کہ اس کی حفاظت کی جائے؟
اگر کہیں اس ہیرے کو کھلا پھینک دیا جائے تو تمھارے خیال میں کتنے دن وہ اپنی اصل حالت پر رہ پائے گا؟

اسے ثمرہ کے پاس سے نکلے ہوئے ایک گھنٹہ ہونے کو آیا تھا، مگر اب بھی اس کے ذہن میں اسی کے لفظوں کی گونج تھی جو اسے ایک لمحے کے لیے چین نہیں لینے دے رہی تھی. وہ راستہ بھر انھی نظروں کا سامنا کرتی آئی تھی جس کا احساس اسے آج دلایا گیا تھا۔ کہیں ہوس بھری نگاہیں تھیں تو کہیں اسے کچھ اور طرح کی لڑکی سمجھ کر کچھ تقاضے کرتی نگاہیں۔
اسے اپنا وجود مکھیوں میں گھرا ہوا محسوس ہو رہا تھا، اسے اس سے کراہت ہو رہی تھی۔
غیر محسوس طریقے سے اس کے ہاتھ دوپٹے کا نام پر کاندھوں پر پڑے اس مفلر پر چلے گئے تھے اور وہ اس سے اپنے وجود کو ڈھانپنے کی کوشش کر رہی تھی مگر ناکام۔
اس کے چہرے کے تاثرات بتا رہے تھے کہ وہ کوئی بڑا فیصلہ کر چکی ہے۔

Comments

اسری غوری

اسری غوری

اسری غوری معروف بلاگر اور سوشل میڈیا ایکٹوسٹ ہیں، نوک قلم بلاگ کی مدیرہ ہیں، حرمین کی زیارت ترجیح اول ہے، اسلام اور مسلمانوں کا درد رکھتی ہیں اور اپنی تحاریر کے ذریعے ترجمانی کرتی ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.