لاہور دھماکہ - رضوان الرحمن رضی

جیسے ہی یہ اعلان ہوا کہ پاکستان سپر کرکٹ لیگ کا فائنل لاہور میں ہوگا تو مشرقی سرحد کے دونوں اطراف میں مختلف مختلف قسم کی آوازیں اٹھنا شروع ہو گئیں۔ سرحد کے اس طرف تو بات سمجھ میں آتی تھی لیکن سرحد کے پار یہ تکلیف کیوں تھی، یہ بات سمجھ میں نہیں آتی تھی۔ اس اعلان کے بعد تو بھارت کے میں سٹریم میڈیا اور سوشل میڈیا کے مختلف بلاگز میں باقاعدہ صفِ ماتم جیسی فضا دیکھی گئی۔ یہ امر ہم جیسے کم عقل لوگوں کے لیے ناقابلِ فہم تھا کیوں کہ یہ ٹورنامنٹ پاکستانیوں کا تھا، ہونے بھی پاکستان میں جا رہا تھا، اس میں کوئی بھارتی کھلاڑی بھی نہیں کھیل رہا تھا تو ایسے میں بھارتی عوام کا اس پر چیں بہ جبیں ہونا ، بات کچھ سمجھ نہیں آرہی تھی، کئی بھارتیوں نے تو دھمکی بھی دے ڈالی کہ ’’اچھا پھر کر کے دکھاؤ‘‘۔ اور یہی کچھ ہو گیا۔

اس طرح کے بلاگز پڑھنے کے بعد سرحد کے اس طرف ہم جیسوں کو خدشہ تھا کہ جب بھی پاکستان میں کوئی قومی یا بین الاقوامی واقعے کا وقوع ہونا ہوتا ہے تو اس سے عین پہلے اس کو ملتوی کروانے کے بم دھماکے کروانے یا دھرنے دلوا دیے جاتے ہیں جس کے نتیجے میں یہ اہم ایونٹس متحدہ عرب امارات، ملائیشیا اور بھارت منتقل ہوجاتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ نہ تو بنیا ہمسائے میں ایک اور دکان کھلنے کا رسک لے سکتا ہے اور نہ ہی ہمارے عرب بھائی اتنے بڑے کاروبار کی اپنے ہاں سے منتقلی کی اجازت دینے کو تیار ہیں۔

ویسے بھی ہماری یہ رائے ہے کہ فوجی آپریشن کے ’سٹیرائیڈ‘ کے بےجا اور بار بار استعمال کے نتیجے میں دہشت گردی کے جراثیم مزید سخت جان ہو چکے ہیں، اس لیے ایسی کسی بھی بڑھک کے نتیجے میں اور کچھ ہو نہ ہو دہشت گرد انگڑائی لے کر بیدار ہو جائیں گے، اور ساری قوم کے مرکزِنگاہ اس اہم واقعے کو نشانِ عبرت بنانے کی کوشش کرتے ہیں۔ اس لیے عقل مندی کا تقاضا تو یہی تھا کہ اگر اس پی ایس ایل فائنل کو لاہور میں ہونا بھی تھا تو پھر بھی اس کو حتی الوسع تک خفیہ رکھا جاتا اور پھر عین وقت پر ہشت گردوں کو سرپرائز دے دیا جاتا۔ لیکن آج کل ملک میں گورننس ، عدلیہ اور حکومت سمیت تمام اہم ملی اور قومی معاملات رات سات بجے سے بارہ بجے تک ٹی وی سکرینوں پر بیٹھ کر طے ہوتے ہیں ، اس لئے ’سب سے پہلے‘ کے بخار میں مبتلا میڈیا کے سرخیل کے ملازم نے اپنے آجر ادارے پر بیٹھ کر ’سب سے پہلے‘ یہ خبر پھوڑنا ضروری خیال کیا، اور یوں اس معاملے کو بھی ٹی وی پر بیٹھ کر ہی نپٹانا ضروری ہوگیا۔

یہ بھی پڑھیں:   ایک اور اسرائیل بسانے کی سازش - ایم سرور صدیقی

حالیہ دنوں میں امریکہ میں سینٹ کام کے انچارج جرنیل نے امریکی سینیٹ کے سامنے سوالوں کا جواب دیتے ہوئے افغانستان اور پاکستان کے سرحدی علاقوں میں شدید غربت کا رونا رویا ہے اور اس کا خیال ہے کہ جب تک اس علاقے میں غربت پر قابو نہیں پایا جاتا افغانستان میں بد امنی کو ختم نہیں کیا جا سکتا۔ اس جرنیل کی بات کو یوں بھی آگے بڑھایا جاسکتا ہے کہ ان علاقوں میں دستیاب واحد نوکری پتھر توڑنے کی ہوتی ہے جس کی ماہانہ اجرت چند سو روپے سے زیادہ نہیں ہوتی۔ ایسے میں اگر کسی خاندان کو پچاس لاکھ مل جائے اور ساتھ میں مولوی صاحب جنت میں داخلے کا سرٹیفیکیٹ بھی جاری فرما دیں تو وہ اپنا بچہ دینے کو تیار ہو جاتے ہیں۔ پاکستان سے اربوں روپے کی معیشت چھیننے کے لئے ، لاکھوں روپے کی یہ سرمایہ کاری کوئی گھاٹے کا سودا تو نہیں ہے، جو ہمارے دوست اور دشمن دونوں کر تے پائے جاتے ہیں۔

اس سانحے کی ایک اہم بات جہاں یہ تھی کہ اس کا دُکھ سارے ملک میں محسوس کیا گیا وہیں پر ہم نے لائیو دیکھا کہ حال ہی میں امریکی دباو پر گرفتار کر کے نظر بند کیے گئے حافظ سعید کی زیر کمان کرنے والی ’فلاحِ انسانیت فاؤنڈیشن‘ کے لوگ سب سے پہلے اس حادثے کا شکار ہونے والوں کی امداد کو پہنچے۔ حال ہی میں ہمارے میڈیا نے حافظ صاحب پر جو تبریٰ کیا ہے اس کے باوجود یہ لوگ اس قدر بے لوث طریقے سے در آئے کہ سرکاری ادارے ریسکیو 1122کو بھی مات دے گئے۔ لیکن اس پر بھی لوگ سوشل میڈیا پر پھبتیاں کسنے سے باز نہیں آئے۔ کسی نے حافظ سعید پر تبریٰ کیا اور کسی نے تو ان کو ہی اس سانحے کا ذمہ دار قرار دے ڈالا، ان سب کی خدمت میں بس اتنا ہی عرض کیا کہ حیرت انگیز طور پر آپ جو کچھ فرما رہے ہیں وہی کچھ بھارتی میڈیا بھی (زی ٹی وی کی سربراہی میں) بھونک رہا ہے۔ جب آپ کا بیانیہ دشمن کے بیانیے سے مل جائے تو پھر آپ کو اپنی زبان پر غور کرنا چاہیے، کہ آپ کہاں کھڑے ہیں۔ اپنی قوم کے ساتھ یا اپنے ازلی دشمن کے ساتھ؟

کچھ لوگوں نے یہ موقع غنیمت جانا اور اپنے مسلقی ، سیاسی اور علاقائی اختلافات کے گندے کپڑے بیچ چوراہے میں دھونا شروع کر دئیے۔ کچھ کو اس موقع پر نیشنل ایکش پلان نامی صحیفہ یاد آ گیا اور کچھ لوگوں فوجی عدالتوں کی درد جاگ اُٹھی۔ لیکن ان میں سے سب بڑے نابغے وہ تھے جن کو پنجاب میں رینجرز آپریشن کا نہ ہونا اس کی وجہ لگا۔
مسلقی اختلافات کی گندی بنیان دھونے والوں سے عرض کیا کہ یہ ذرا شام میں لڑنے والی زینبیون بریگیڈ کے مجاہدین کو واپس آ لینے دیں (اگرچہ ان میں سے کچھ عناصر واپس آ بھی چکے اور کل بھوشن کے نیٹ ورک میں پکڑے جانے والے یہی لوگ تھے) پھر آپ سے بات کریں گے۔

یہ بھی پڑھیں:   احمد شاہ ابدالی افغانستان کے ہیرو یا انڈیا کے وِلن

جہاں تک نیشنل ایکشن پلان نامی آسمانی صحیفے کی بات ہے جو آپ کے بقول ہر درد کا درماں ہے، تو ہمیں بتایا جائے کہ اب تک اس کے تحت ایک فکر کے علمائے کرام اور ان کے مدارس کی گدڑ کٹ لگانے کے علاوہ اس نام نہاد پالیسی کے کون سا کارنامہ سر انجام دیا گیا ہے؟ کیا این جی او ز کی غیر ملکی امداد کے ذرائع کو چیک کرنے کا اختیار اس میں سے نکال کر مغربی قوتوں کو ہمارے معاشرے کھل کھیلنے کا لائسنس نہیں دے دیا گیا؟

اور جہاں تک پنجاب میں رینجرز آپریشن کی بات ہے تو ایسا مطالبہ کوئی گمراہ شخص ہی کر سکتا ہے، کیوں کہ کراچی اور پورے بلوچستان میں نیم فوجی اداروں ، رینجرز اور لیوی کے کئی دہائیوں پر محیط آپریشن کے نتیجے کیا امن لوٹ آیاہے؟ کیا کراچی میں مشرف اور زرداری دور میں ہونے والی ساری قتل و غارت گری رینجرز کی موجودگی (اور کسی حد تک نگرانی) میں نہیں ہوئے؟ کیا ان علاقوں میں تخریب کاروں کے مراکز راتوں رات بن گئے ہیں؟

پاکستان کا کوئی دشمن ہی یہ خواہش کر سکتا ہے کہ سرحدوں کا دفاع کرنے والوں کو اندرونِ ملک زیادہ سے زیادہ الجھایا جائے تا کہ پاک فوج کی افرادی قوت کو پھیلا کر اسے کمزور کیا جا سکے۔ یہ دشمن بظاہر تو سوات، فاٹا، وزیرستان ، کراچی اور بلوچستان کی حد تک کامیاب رہاہے۔ جہاں تک فوجی عدالتوں کا سوال ہے تو یہ عارضی انتظام وجود میں ہی اس لئے لایاگیا تھا، کہ ادارے جو لوگ امریکیوں کو نہیں بیچ پائے اب ان کو ان عدالتوں میں سے سزائے موت دے کر اس قضیئے کو دفن کر لیں۔ فوجی عدالتوں سے سزائے موت پانے والوں کی فہرست میں پانچ مسنگ افراد کی موجودگی ، اس امر کی غمازی کرتی ہے کہ کسی حد تک یہ کام کر بھی لیا گیا ہے۔ لیکن یہ کوئی مستقل صورت تو پہلے دن سے نہیں تھی، اسی لئے اس قانون کو بناتے وقت ہی اس میں دو سال کی مدت لکھ دی گئی تھی۔ اب اس بلیک میلنگ اور بازو مروڑنے کی پالیسی کا خاتمہ ہونا چاہیے۔