ویلنٹائن ڈے زدگان سے ایک اپیل - نوشابہ عبدالواجد

اس سال بھی ویلنٹائن ڈے کی دھوم نے نوجوانوں کے دل میں جذبات کی گدگدی کرنا شروع کر دی ہے۔ جولڑکیاں اور لڑکےگرل فرینڈ اور بوائے فرینڈ رکھتے ہیں وہ عشق کی کروٹوں میں خواب بن رہے ہیں اور جو نوجوان لڑکیاں اور لڑکے بےچارگی کی حالت میں ہیں، اُن کی نظریں اپنے ساتھی کی تلاش ایسے کر رہی ہیں جیسے گدھ کی نظر اپنے شکار کو ڈھونڈھتی ہے، تاکہ وہ بھی ویلنٹائن ڈے بوائے فرینڈ اور گرل فرینڈ کے ساتھ گزار سکیں۔ اب سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ آخر مغرب کے اس تہوار نے ہمارے ملک میں اپنی جڑیں اتنی گہری کیسے کر لیں؟ کیا اس میں مغربی معاشرے کا قصور ہے؟ کیا اس میں میڈیا کا قصور ہے کہ وہ ہر مغربی تہوار کا چرچا ایسے کرتا ہے جیسے وہ ہمارے مذہب اور ثقافت کا حصہ ہو۔

سمجھنے کی بات یہ ہے کہ اگر ہم اپنے مذہب کے تہواروں اور ثقافت کا چرچا کریں تو کیا ہمارا یہ عمل غلط ہوگا؟ مغربی معاشرہ اپنی اقدار کو قائم رکھنے کے لیے جو بھی کر رہا ہے وہ اُس کا حق ہے، اس میں غلط کیا ہے؟ پاکستانی میڈیا اپنے آپ کو دنیا بھر میں نمبر ون بنانے کے لیے برابری کا رویہ اخیتار کیے ہوئے ہے۔ دنیا میں کچھ بھی ہو، میڈیا اُن کا مارکیٹینگ ایجنٹ بن کر فری میں پرموشن کرنا شروع کر دیتا ہے۔ اس میں غلط کیا ہے؟ سوال پھر وہیں آ کر رک جاتا ہے کہ آخر مغربی معاشرے کے اس تہوار نے ہمارے ملک میں اپنی جڑیں اتنی مضبوط کیسے کر لی ہیں؟

حقیقت ذرا تلخ ہے، دراصل ہمارے مذہبی علما فرقے بندی کے جھگڑوں میں مشغول ہیں، اور اپنے مذہبی گروہ کو مضبوط اور صحیح ثابت کرنے میں اپنے دن رات صرف کر رہے ہیں۔ سوشل میڈیا کو علما بھی فین فالونگ بڑھانے کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔ ہماری قوم اپنے دین سے زیادہ دوسرے مذاہب کے بارے میں معلومات رکھتی ہے۔ مذہبی پیشواؤں کی جو ذمہ داری معاشرتی تعمیر میں ہونی چاہیے، وہ آٹے میں نمک کے برابر ہے۔ سب کچھ دیکھ کر بھی ان دیکھا کیا جا رہا ہے۔ معاشرے میں بگاڑ پیدا کرنے والے عناصر کو شتر بےمہار کی طرح چھوڑ دیا گیا ہے۔ اپنے اپنے فرقوں کی بقا کے لیے خون ریزی ہو سکتی ہے مگر اسلامی اور معاشرتی اقدار کی بقا کے لیے ہماری دینی جماعتوں سے زیادہ کمزور کوئی نہیں ہے۔

دوسری طرف ہمارے خاندانی نظام پر بھی نظرثانی کرنے کی ضرورت ہے۔ والدین بچپن سے ہی اپنی اُولاد کو زندگی گزارنے اور زندگی میں کیا کچھ حاصل کرنا ہے، اُس کی چارج شیٹ دے دیتے ہیں، مگر اس میں شادی کہیں بھی نہیں آتی۔ انسان کی جذباتی ضرورتوں کو سمجھنے کے باوجود اُن کو ان دیکھا کیا جاتا ہے۔ زندگی کا ہر مقصد شادی کے راستے میں رکاوٹ بنا ہوا ہے۔ اب اس حقیقت سے تو کوئی انکار نہیں کر سکتا کہ نواجون لڑکے اور لڑکیاں جذبات کا ایٹم بم ہوتے ہیں جن کا پھٹنا یقینی ہے۔ اگر نواجون نسل کو اپنے جذبات کا اظہار کرنے کے لیے صحیح راستہ، صحیح وقت پر نہیں دیا جائے گا تو وہ جذبات کے اظہار کا غلط راستہ اخیتارکر لیں گے اور ویلنٹائن ڈے اُن غلط راستوں کی ایک سیڑھی ہے جس نے ہمارے نوجوان لڑکے اور لڑکیوں کو آشنائی اور جذباتی تسکین کا موقع فراہم کیا ہے۔

اگر والدین اپنی اولادکا قرآن و حدیث کے مطابق صحیح وقت پر نکاح کا انتظام کر دیں تو ہمارے معاشرے سے خود بخود ویلنٹائن ڈے اور اس جیسے کئی اور تہواروں کا خاتمہ ہونا شروع ہو جائے گا۔ قرآنی ہدایت بھی یہی ہے: نکاح کرنے والے بنو، نہ کہ بدکاری کرنے والے اور چھپی آشنائی رکھنے والے (سورہ المائدہ5). مسلمانوں کی عزت اور بقا اسی میں ہے کہ وہ اللہ تعالی کے احکامات کے مطابق اپنا خاندانی نظام اور معاشرہ بنائیں۔

جب سے یہ دنیا بنی ہے، انسان نے ہمیشہ اللہ تعالی کے بنائے نظام سے بغاوت کی ہے اور اپنی نفسی خواہشات کے مطابق نئے نظام متعارف کرائے ہیں۔ ہمیشہ سے اللہ تعالی کے احکامات اور نظام سے بغاوت کرنے والوں کی تعداد زیادہ رہی ہے۔ اسی لیے اللہ تعالی فرماتےہیں کہ: اکثر لوگ جو زمین پر آباد ہیں، گمراہ ہیں، اگر تم ان کا کہا مان لو گے تو وہ تمھیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں گے. (سورۃانعام 116)

اگر ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری حکومت، میڈیا، دینی پیشوا، والدین اللہ تعالی کے دین کو نافذ کرنے میں اپنا کردار ٹھیک سے ادا نہیں کر رہے ہیں جو کہ اُن کو کرنا چاہیے تو پھر آخری انگلی ہماری طرف اُٹھتی ہے کہ ہم خود اپنے دین پر چلنے اور اس کی بقا کے لیے کیا کر رہے ہیں۔ ہم آزاد ہیں کہ ہم کسی کے ویلنٹائن بنیں یا نہ بنیں، ہم اللہ تعالی کے نظام سے بغاوت کرنے والے بنیں یا فرماں برداری کرنے والے۔

زمین میں آباد گمراہ لوگوں کی چکنی چپڑی باتوں میں آ کر اُن کے رنگ میں ڈھل جائیں یا اُن چند اللہ کے نیک بندوں میں شامل ہونے کی کوشش کریں اور دوسرے معاشروں اور غیر اسلامی مذاہب کی چیزوں سے بائیکاٹ کر لیں۔ جس طرح ہماری قوم ملک کی بقا کے لیے آئے دن دھرنا دینے کے لیے تیار ہو جاتی ہے، اسلامی اقدار کی بقا کے لیے بھی دھرنا دے تاکہ ہمارے ملک میں جو مغربی اقدار اور ثقافت جڑیں پکڑ چکی ہے، اُس کے چنگل سے ہم اپنی نئی نسل کو بچا سکیں اور پاکستان کے اسلامی تشخص کو دوبارہ سے زندہ کرسکیں۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی. (سورۃ الرعد11)