حنا جیت گئی، سماج کا مرد ہارگیا - فردوس جمال

یہ حنا شاہنواز ہیں ،یہ اب اس دنیا میں نہیں ہیں، حنا کا معنی مہندی ہے، ہر لڑکی کے کچھ ارمان اور کچھ خواب ہوتے ہیں جو وہ اپنی حنا بندی سے متعلق پلکوں پر سجا رکھتی ہے. حنا شاہ نواز کے بھی خواب ہوں گے مگر بکھر گئے، حنا شاہنواز کے ہاتھ بھی پیلے ہوئے مگر مہندی سے نہیں خون سے.

حنا کا تعلق کوہاٹ استرزئی سے تھا، والد ایک کامیاب تاجر تھے، ان کا اپنا کوئلے کا کاروبار تھا، گھر میں آسودگی تھی، حنا ناز و نعم میں پلی تھی، چھوٹا سا کنبہ خوش و خرم اور خوشحال تھا، پھر حالات نے کروٹ لیا، حنا کے والد کینسر میں مبتلا ہو کر چل بسے، کچھ عرصہ بعد والدہ بھی بیمار ہو کر وفات پا گئیں، بھائی گاؤں میں کسی جھگڑے میں مارا گیا، یوں مردوں کی اس دنیا میں حنا تنہا رہ گئی، مگر اس نے ہمت نہیں ہاری. وہ ایک بہادر خاتون تھی، ایم فل اس حال میں مکمل کیا کہ گھر میں فاقے چل رہے تھے. مقتول بھائی کی بیوہ اور دو یتیم بچے، چھوٹی بیوہ بہن اور اس کا ایک یتیم بچہ بھی حنا کے گھر رہنے لگے تھے، ان سب کی کفالت کی ذمہ داری حنا کے سر تھی. حنا نے کافی جگہ جاب اپلائی کی لیکن نہیں ملی، سرکاری اداروں کی بھی خاک چھانی مگر دروازے خود پر بند پائے کہ اس کے پاس سفارش اور رشوت جو نہ تھی، بالآخر اس نے ایک این جی او میں نوکری شروع کر دی، دن پھر سے بدلنے لگے، اسے معقول تنخواہ ملنا شروع ہوئی تھی،گھر میں موجود مقتول بھائی اور بیوہ بہن کے یتیم بچوں کی زندگیوں میں بھی شرارتیں اور خوشیاں لوٹ آئی تھیں، حنا ان کے لیے کھلونے بھی خرید کر لائی تھی، گھر میں چہل پہل تھی. حنا اب اپنا بھی گھر بسانا چاہتی تھی، وہ پڑھی لکھی ذہین و بہادر لڑکی تھی، وہ شکل سے بھی اچھی تھی، اسے اچھا رشتہ بھی مل سکتا تھا کہ حنا کے چاچا کو اچانک سے رشتہ داری یاد آگئی، اپنے ان پڑھ اور نالائق بیٹے محبوب عالم کو آگے کیا کہ اس سے شادی کرو. حنا اس سے پہلے چاچا سے اپنے مقتول بھائی اور اپنا حق جائیداد مانگ چکی تھی، چاچا اس شادی سے زن اور زمین دونوں ہتھیانا چاہتا تھا، ادھر حنا نے اپنے ان پڑھ کزن محبوب عالم سے شادی کرنے سے انکار کیا، ادھر خاندان کی غیرت نے جوش مارا کہ یہ لڑکی ہمارے خاندان کی روایات اور اقدار کو مٹی میں ملائے گی،گھر سے باہر جا کر نوکری کرے گی، بدبخت محبوب عالم نے چار گولیاں حنا کے بدن میں اتاریں اور اس ”بغاوت“ کو ہمیشہ کے لیے کچل دیا! انا للہ وانا الیہ راجعون .

یہ بھی پڑھیں:   گھر تو مرد بساتا ہے - عفیفہ ورک

جب سے حنا کے قتل کی خبر پڑھی ہے، یقین کیجیے میرا جگر مجروح، قلب ٹکڑے اور احساس زخمی زخمی ہے. ان یتیم بچوں کے بارے میں سوچ کر دل بیٹھ جاتا ہے جن کی واحد کفیل حنا تھی. کیا ہمارا معاشرہ اور ہمارا سماج اس قدر تنزل اور گراوٹ کا شکار ہوا ہے کہ کوئی بھی بدبخت غیرت کے نام پر اٹھ کر حناؤں کا خون کرتا پھرے؟ حنا کے قتل کا ذمہ دار صرف اس کا کزن نہیں ہے، ہم سب شریک قتل ہیں، جی ہاں! ہم سب. اس قتل کا ذمہ دار وہ سیاستدان بھی ہے جو گاؤں کی کچی سڑکوں کو پکی کرنے کی کوشش تو کرتا ہے مگر گاؤں کی فرسودہ روایات کو بدلنے کے لیے کوئی کوشش نہیں کرتا، اس قتل کا ذمہ دار مسجد کا وہ مولوی بھی ہے جو جمعہ کے جمعہ منبر پر چڑھ کر امریکہ کی جوڑ توڑ میں لگا ہوتا ہے یا مخالف فرقے کو فتح کرنے کے مقدس مشن پر، اس کے موضوعات خطبات میں کہیں بھی سماج کے سلگتے معاشرتی مسائل اور ان کا حل شامل نہیں ہوتا، ذمہ دار ہمارا نظام انصاف بھی ہے، ذمہ دار ہمارا محکمہ پولیس بھی ہے کہ جو دیہی علاقوں میں موجود وڈیرہ اور چودھری کلچر کا محافظ ہے. جب تک ہم سب مل کر اپنے سماج سے اس دور جاہلیت کو رخصت نہیں کریں گے تب تک معاشرے میں نام نہاد غیرت کے نام پر حناؤں کا خون ہوتا رہے گا. اسلام تو صنف نازک کو آبگینوں سے تشبیہ دیتا ہے کہ انہیں کوئی ٹھیس نہ پہنچے، کہیں سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ کی غیرت پر تنبیہ کرتے ہوئے رسول خدا نے فرمایا کہ میں آپ سے زیادہ غیرت مند ہوں اور اللہ تعالی مجھ سے بڑھ کر غیرت کا پاس رکھنے والا مگر شریعت تو گواہ اور دلیل پر یقین رکھتی ہے. ہمارے سماج میں جاہلانہ کلچر اور نام نہاد غیرت کو اسلام کے لبادے میں لپیٹ کر پیش کرنے کی جو گھناؤنی روایت ہے اسے ختم کرنا ہوگا۔

یہ بھی پڑھیں:   مرد و عورت کی تفریق اور ہمارا معاشرہ - سید وجاہت

حنا! میری بہن! میں اس سماج کا ایک بےبس فرد تجھ سے شرمندہ ہوں، میں دل سوختہ اور رنجیدہ ہوں، ہاں آج تو جیت گئی اور میرے معاشرے کا مرد ہار گیا ہے!

Comments

فردوس جمال

فردوس جمال

فردوس جمال مدینہ منورہ میں مقیم اور مدینہ یونیورسٹی میں زیرتعلیم ہیں۔ گلگت بلتستان ورلڈ فورم سعودی عرب کے صدر ہیں۔ معاشرتی، سیاسی اور دینی موضوعات پر لکھتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.