ہیپی ویلنٹائن ڈے - رضوان اسد خان

”ہیپی ویلنٹائن ڈے“
یا
”ایکسٹارٹ ان کلینڈسٹائین وے“؟
..................

کیپٹل ازم کا سارا دارومدار مارکٹ پر ہے،
مارکٹ کا سارا دارومدار ”مارکیٹنگ“ پر ہے،
مارکیٹنگ کا سارا دارومدار تشہیر پر ہے،
تشہیر کا سارا دارومدار کشش پر ہے،
اور عورت سے زیادہ پرکشش چیز اس کائنات میں پیدا نہیں ہوئی.

اگر ویلنٹائن ڈے ختم کر دیں تو چاکلیٹس، پرفیومز، ڈریسز، بیگز، شوز، گلاسز، وغیرہ میں کشش کیسے پیدا ہو گی، کشش نہیں ہوگی تو تشہیر بےکار، تشہیر کے بغیر مارکیٹنگ بے سود، مارکیٹنگ کے بغیر مارکیٹ ڈاؤن اور مارکیٹ ڈاؤن کا مطلب ہے ”ایکسٹریم کیپٹل ازم“ یعنی ”نیو لبرل ازم“ کی موت.
(یہ محض ایک مثال ہے)

نیو لبرل ازم کی موت کا مطلب ہے سرمائے کے چند ہاتھوں میں ارتکاز میں مشکلات اور پھر ان ”چند ہاتھوں“" کا دولت کے بل بوتے پر پارلیمنٹ، عدلیہ، مقننہ اور میڈیا (نظام کے ستونوں) پر سے کنٹرول ختم. ”کنٹرول“ کا مطلب ہے طاقت اور اب تک کے مسلمہ فلسفوں کے مطابق ”طاقت“ ہی انسان کا اصل مقصود ہے.

تو دیکھا آپ نے کہ آج کے ”خفیہ ہاتھ“ نے، فرائیڈ کے”سیکس“، مارکس کے ”سرمائے“، اور نیٹشے کے ”طاقت“، کے فلسفوں کو کس طرح ملٹن فرائیڈ مین کے ”نیو لبرل ازم“ کی ایک کڑی میں پرو کر
ڈونلڈ ٹرمپ جیسے ”انٹر پرینیور“ کو دنیا کے لیے ”بلیک سوان“ بنا دیا ہے....!!!

Comments

رضوان اسد خان

رضوان اسد خان

ڈاکٹر رضوان اسد خان پیشے کے لحاظ سے چائلڈ سپیشلسٹ ہیں لیکن مذہب، سیاست، معیشت، معاشرت، سائنس و ٹیکنالوجی، ادب، مزاح میں دلچسپی رکھتے ہیں، اور ان موضوعات کے حوالے سے سوالات اٹھاتے رہتے ہیں

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.

WP2Social Auto Publish Powered By : XYZScripts.com
/* ]]> */