ویلنٹائن ڈے یا یوم بےحیائی - تنزیلہ یوسف

فروری کے مہینے کا آغاز ہوتے ہی ہر طرف ویلنٹائن ڈے سے متعلق گہما گہمی بڑھ جاتی ہے، اور اس دن کو منانے یا نہ منانے کے بارے میں مذہبی اور لبرل طبقے میں مختلف رائے سامنے آنے لگتی ہے۔ مذہبی طبقے کے خیال میں یہ مغرب کا تہوار ہے اور دین میں ایسی خرافات کی گنجائش نہیں اسی لیے اسے منانا نہیں چاہیے، جبکہ لبرل طبقہ اس کے برعکس رائے رکھتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ چونکہ خوشیاں ناپید ہوتی جارہی ہیں، اس لیے خوشی کے مواقع جہاں سے بھی ملیں، ان سے مستفید ہونا چاہیے۔ اس کا تعلق کسی مذہب، قوم یا معاشرے سے نہیں بلکہ خوشیاں سانجھی ہوتی ہیں۔

ویلنٹائن ڈے کے حق میں دلائل دینے والے ایسے خواتین و حضرات کی خدمت میں عرض ہے کہ جناب خوشی تو شراب نوشی یا منشیات کے استعمال سے بھی ملتی ہے کہ ان کا عادی خود کو کسی خیالی دنیا کا راجہ مہاراجہ تصور کرتا ہے۔ مذہبی احکامات بالائے طاق رکھ کر آپ اپنا یہ شوق بھی پورا کیجیے کہ خوشی جہاں سے بھی ملے حاصل کرو، کہیں دیر نہ ہوجائے۔ بھلے کسی کے احساسات و جذبات پر ڈاکے ڈال کر ہی کیوں نہ حاصل ہو۔

ہمارے تو اپنے دین میں خوشی کے اتنے مواقع ہیں کہ انگلیوں پر گننا مشکل ہے۔ عیدین کے علاوہ اسلامی سال کا آغاز، رجب اور شعبان میں خوشی کے مواقع، رمضان کے روزوں کی آمد کی خوشی، اس کے علاوہ ہر اسلامی مہینے کے وسط میں ایام بیض کے تین روزوں کا اہتمام، نیز زکوۃ، صدقات و فطرانہ کی ادائیگی سے حاصل ہونے والا دلی سکون جو ایک راست باز مؤمن کے لیے خوشی اور اطمینان کا باعث بھی ہوتا ہے۔ بجائے اس کے کہ ہم بحیثیت مسلمان اپنے بچوں کی تربیت اسلامی خطوط پر کریں، دیسی لبرلز چاہتے ہیں کہ ہم اپنے بچوں کو ان بے حیائی والے خود ساختہ مغربی تہواروں سے آشنائی دلائیں۔

پاکستان میں آبادی کی اکثریت مڈل اور لوئر طبقے پر مشتمل ہے، کروڑوں خط غربت سے نیچے زندگی گزارتے ہیں. مگر دیسی لبرلز ان کی مدد کرنے کے بجائے اس بے حیائی والے تہوار کو منانے کے لیے کروڑوں، اربوں روپیہ برباد کر ڈالتے ہیں، کسی غریب کی مدد کرتے ہوئے انھیں اپنی جیبیں خالی نظر آتی ہیں۔ حالانکہ یہی طبقہ مسلمانوں کے لیے حقیقی خوشی کے تہوار یعنی عیدین پر غربت کی کہانیاں سناتا ہے. اس طبقے کی کوئی سمت ہے نہ کوئی مرکز، اس کا کام بس مغربی آقاؤں کو خوش کرنا اور ان کے ایجنڈے کو آگے بڑھانا ہے، اپنی کوئی مرضی نہیں کہ عقل و شعور کے گھوڑے دوڑا کر ہی جان سکے کہ اس کی زندگی کا مقصد کیا ہے؟

Comments

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف

تنزیلہ یوسف نے پنجاب یونیورسٹی سے اسلامک اسٹدیز میں ایم اے کیا ہے۔ ہاؤس وائف ہیں۔ دلیل سے لکھنے آغاز کیا۔ شعر کہتی ہیں، اور ادب کے سمندر میں قطرے کی مانند گم ہونے کے بجائے اپنی پہچان بنانا چاہتی ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.