بنیادی حقوق اور پنجاب حکومت - محمد عمیر

حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ کوئی معاشرہ کفر اور ظلم کی بنیاد پر تو قائم رہ سکتا ہے مگر بےانصافی کی بنیاد پر ہرگز قائم نہیں رہ سکتا۔ ہماری زبوں حالی، لڑائی جھگڑوں اور عدم برداشت کی وجہ بھی یہی ہے۔ رحیم یار خان کے دو سگے بھائیوں کی رہائی کے احکامات ملے تو معلوم ہوا کہ ان دونوں کو تختہ دار پر لٹکایا جاچکا ہے۔ اسلام آباد کے رہائشی مظہر کو دو دہائیوں بعد رہائی کے احکامات ملے مگر تب تک وہ زندگی کی قید سے آزاد ہوچکا تھا۔ قصور میں ایک شخص 19 سال جیل کاٹنے کے بعد باعزت رہائی ہوا۔ انصاف، صحت، تعلیم کسی بھی معاشرے میں شہریوں کا بنیادی حق ہوتے ہیں۔ عوام کو ان کی دہلیز پر ان کی رسائی حکومت وقت کا فرض ہوتا ہے مگر فی الحال یہ تینوں چیزیں ہمارے معاشرے میں ناپید ہیں۔

پاکستان مسلم لیگ ن گزشتہ 8سالوں سے پنجاب میں برسراقتدار ہے اور مجموعی طور پر ن لیگ پانچویں بار پنجاب پر حکومت کررہی ہے۔ پنجاب کے بجٹ کا بیشتر حصہ لاہور میں خرچ ہوتا ہے۔ میٹرو، اورنج ٹرین سمیت ایسے منصوبے صرف لاہور والوں کی قسمت میں ہیں۔ پنجاب کے 36اضلاع میں صحت کی صورتحال یہ ہے کہ علاج کے لیے سب کو لاہور کا رخ کرنا پڑتا ہے۔ کچھ لاہور پہنچنے سے قبل دم توڑ جاتے ہیں تو کچھ کو پہنچنے کے بعد ہسپتال میں بیڈ ہی نہیں ملتا۔ زہرہ بی بی بھی ان چند بدنصیبوں میں سے تھی جس کو قصور سے علاج معالجے کے لیے لاہور لایا گیا۔ ورثاء اسے پنجاب کے سب سے بڑے دل کے ہسپتال پنجاب انسٹی ٹیوٹ آف کارڈیالوجی لے کر گئے جہاں سے اسے سروسز ہسپتال منتقل کردیا گیا، سروسز ہسپتال میں بھی جگہ نہ ملی تو معمر خاتون کو جناح ہسپتال بھجوادیا گیا جہاں اسے بیڈ نہ مل سکا تو ڈاکٹرز نے ٹھنڈے فرش پر لٹا دیا، جہاں وہ کچھ دیر بعد چل بسی۔ اس افسوسناک واقعہ سے چند روز قبل کمسن بچی میو ہسپتال میں طبی امداد نہ ملنے کے باعث دم توڑ گئی تھی تو حکومت نے الزام لگایا کہ ڈاکٹرز کی ہڑتال کے باعث بچی دم توڑ گئی، بچی کی ہلاکت کے ذمے دار ڈاکٹر ہیں تو اب اس خاتون کو بیڈ نہ ملنے کا ذمہ دار کون سا وزیر مشیر ہے؟ کاغذی کارروائی کے طور پر ہسپتال کے ایم ایس کو معطل کردیا گیا ہے۔ اب ان کی جگہ جو ایم ایس آئے گا وہ بھی وزیراعلی کے ہاتھوں کبھی نہ کبھی ضرور معطل ہوا ہوگا، اور جو اب معطل ہوا ہے یہ بھی چند روز کے وقفے سے کسی اور ہسپتال میں ایم ایس لگ جائے گا۔

یہ بھی پڑھیں:   اپوزیشن صادق سنجرانی کے خلاف کیوں ہے؟ عامر ہزاروی

تعلم کی صورتحال یہ ہے کہ وزیرتعلیم ایک ایسا شخص جس کی کرپشن کی ویڈیو سامنے آنے کے باوجود اس کے خلاف کوئی ایکشن نہیں ہوسکا۔ تمام حکومتی دعووں کے باوجود 100 فیصد داخلے کی شرح ممکن نہیں ہوسکی۔ صرف لاہور میں پانچویں اور آٹھویں کلاس میں داخلہ لینے والے بچوں کی تعداد میں 2400 کی کمی دیکھنے میں آئی ہے۔ دیہی علاقوں میں سرکاری سکولوں کا معیار بہتر بنانے کے بجائے ان کو پرائیوٹائز کیا جارہا ہے۔ آئے روز NTS کے ذریعے استاتدہ کی بھرتی کے لیے ٹیسٹ لیے جاتے۔ فیس ادا کرنے اور ٹیسٹ دینے کے بعد معلوم ہوتا کہ جس گریڈ کا ٹیسٹ دیا ہے کہ اس کی تو علاقے میں سیٹ ہی نہیں ہے۔ ٹیسٹوں کی مد میں این ٹی ایس کروڑوں روپے بٹور رہا ہے مگر ٹیسٹ ایسے گریڈ کا ہوتا ہے جس کی سیٹ ہی موجود نہیں ہوتی۔ عام طور پر ٹیسٹ سے قبل سیٹوں کی نشاندہی کی جاتی مگر اساتذہ کی بھرتی کیس میں سیٹوں کا پتہ ٹیسٹ کے بعد چلتا ہے۔

تعلیم، صحت اور انصاف جو حکومت کی اولین ترجیح ہونی چاہیے تھی، وہ حکومت کی آخری ترجیح ہے۔ میٹرو جیسے منصوبے کو رواں رکھنے کے لیے حکومت سالانہ ایک ارب سے زائد کی سبسڈی دیتی ہے۔ میٹرو کے بعد اب اورنج ٹرین کا منصوبہ زیر تعمیر ہے جس پر میٹرو سے بھی زیادہ سبسڈی دینی پڑے گی۔ ان منصوبوں کے بجائے اگر عوام کی بنیادی ضروریات پر توجہ دی جائے تو زیادہ بہتر نتائج سامنے آتے۔ مگر حکومتی خیال ہے کہ میٹرو، لیپ ٹاپ، دانش سکول جیسے منصوبے عوام کو زیادہ متوجہ کرتے ہیں، اسی وجہ سے ن لیگ کے دور میں تعلیم، صحت اور انصاف کے بجائے سڑکوں، پلوں، انڈرپاسز، موٹرویز، لیپ ٹاپ، ٹیکسی سکیم پر زیادہ توجہ دی جاتی ہے۔ شہباز شریف کی تمام حکومتیں سرکاری افسران کی معطلی، نوٹس لینے اور پیسے دینے سے عبارت ہیں، نظام کو بہتر کرنے کی کبھی کوشش تک نہیں کی گئی اور نہ ہی مستقبل میں اس کی امید ہے۔ایک شخص کی جان چلی جانے سے بڑی خبر یہ ہے کہ وزیراعلی نے نوٹس لے لیا۔ اس نوٹس سے نہ پہلے کچھ بدلا ہے نہ اب بدلے گا۔ قوم کو اپنی سوچ بدلنی ہوگی ورنہ مزید تباہی اور بگاڑ ہی ہمارا مقدر ہے۔

Comments

محمد عمیر

محمد عمیر

محمد عمیر کا تعلق لاہور سے ہے۔ روزنامہ اہکسپریس لاہور سے بطور رپورٹر وابستہ ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی شعیہ ابلاغیات سے جرنلزم میں ماسڑ ڈگری کی ہوئی ہے۔ سیاست او حالات حاضرہ سے متعلق لکھتے ہیں۔

تبصرہ کرنے کے لیے کلک کریں

This site uses Akismet to reduce spam. Learn how your comment data is processed.