کیا خواتین کا پردہ کرنا قید ہے؟ عادل لطیف

ہم عصر کی نماز پڑھ کر نکل رہے تھے کہ پیچھے سے آتی ”ملاجی ملاجی“ کی ایک مانوس آواز نے ہمارے قدم روک لیے. پیچھے مڑ کر دیکھا تو ہمارے دیرینہ ہمدم وکیل اختر صاحب کھڑے تھے. موصوف کی سانس پھولی ہوئی تھی، شلوار کا ایک پائنچہ کچھ زیادہ ہی اوپر اور دوسرا بالکل ہی نیچے تھا، دونوں ہاتھوں میں جوتے تھام رکھے تھے. ہم نے ازراہ مذاق کہا حکہ ضور آپ کے چھکے کیوں چھوٹے ہوئے ہیں، حضور کے چھکے ہی نہیں چھوٹے بلکہ طوطے بھی اڑے ہوئے ہیں؟ وکیل اختر صاحب نے اپنی اکھڑی ہوئی سانسوں کو ترتیب دے کر کہنے لگے کہ ہونا کیا ہے، وہ آپ کے دوست ہیں نا مسٹر ہونو لولو، ہم نے وکیل اختر صاحب کی بات کاٹتے ہوئے پوچھا کہ کیا ہوا مسٹر ہونو لولو کو، کسی لڑکی کو ویلنٹائن ڈے کا تحفہ دیتے ہوئے کہیں مار تو نہیں پڑ گئی، کہنے لگے نہیں ملا جی! آپ کو تو پتہ ہی ہے کہ لبرل لوگ 14 فروری کو ویلنٹائن ڈے کے نام سے محبت کا عالمی دن مناتے ہیں، میں ابھی عصر کی نماز کے لیے آرہا تھا، دیکھا کہ آپ کے دوست مسٹر ہونو لولو سر راہ نوجوانوں کو ویلنٹائن ڈے منانے کا درس دیتے ہوئے کہہ رہے تھے کہ آپ لوگ نوجوان ہیں، زندگی کو انجوائے کریں، جوانی ہے ہی انجوائے کرنے کے لیے، یہ ملا لوگ نہ تو خود زندگی سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور نہ ہی کسی دوسرے کو ہونے دیتے ہیں، لہذا آپ جیسے نوجوانوں کو ملاؤں کی باتوں میں آنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے. پردہ کے نام پر خواتین کو قید کر کے ان کی زندگی اجیرن کرنے والے یہی ملا ہیں، مجھے نماز کے لیے دیر ہو رہی تھی اس لیے میں مسٹر ہونو لولو کی تقریر ادھوری چھوڑ کر آیا ہوں. خدا کی قسم مسٹر ہونو لولو کی اسلام بیزار گفتگو سن کر میرا تو خون کھول اٹھا ہے. اگر آپ کی دوستی کا خیال نہ ہوتا تو وہیں بیچ چوراہے پر مسٹر ہونو لولو کے چھکے چھڑا دیتا، طوطے اڑا دیتا. اب آپ بتائیں کہ کیا اسلام نے عورت کی آزادی سلب کی ہے؟ کیا اسلام نے پردہ کا حکم دے کر خواتین کی زندگی اجیرن کر رکھی ہے؟ کیا خواتین کے لیے پردہ قید ہے؟

یہ بھی پڑھیں:   توہماتی خیالات اور ہمارے عامل بابے - فارینہ الماس

ہم نے جوابا عرض کیا کہ سب سے پہلے قید کی تعریف کرنے کی ضرورت ہے کہ قید کہتے کسے ہیں؟ دیسی لبرلز کی جہالت کا یہ عالم ہے کہ انہیں اردو کے معمولی سے لفظ قید کا معنی بھی نہیں پتہ، قید خلاف طبع (طبیعت کی چاہت کے خلاف) کو کہتے ہیں، اور جو قید خلاف طبع نہ ہو اس کو قید ہرگز نہیں کہیں گے. اعتراض کرنے والوں کو پہلے اس کی تحقیق کرنے کی ضرورت ہے کہ مسلمان عورتیں جو پردے میں رہتی ہیں، وہ ان کی طبیعت کے موافق ہے یا خلاف؟ اس قید کو مسلمان عورتوں کی طبیعت چاہتی ہے یا نہیں؟ اس کے بعد ان کو ایسا کہنے کا حق ہے۔ سب جانتے ہیں کہ پردہ مسلمان عورتوں کے لیے خلاف طبع نہیں ہے، کیونکہ مسلمان عورتوں کے لیے حیا امر طبعی ہے، لہذا پردہ ان کی طبیعت کے مطابق ہوا اور اس کو قید کہنا غلط ہے، بلکہ اگر ان کو بےپردہ رہنے پر مجبور کیا جائے، ان کے حجاب پر پابندی لگادی جائے جیسے آزادی کے چئمپین اپنے ممالک میں لگارہے ہیں تو یہ خلاف طبع بات ہوگی۔ قید اس کو کہنا چاہیے لیکن ہمارے لبرلز کے لیے ایسا کہنا نقصان دہ ہے۔ اس پابندی کے خلاف دو جملے بولنے سے بھی ان روشن خیالوں کی زبان پر چھالے پڑ جاتے ہیں. وکیل اختر صاحب یہ عقلی دلیل تو مسٹر ہونو لولو کے لیے تھی جن کا قبلہ و کعبہ عقل ہی ہے، آپ کے اطمینان کے لیے ایک نقلی دلیل بھی ذکر کر دیتا ہوں.

قرآن کریم کی سورۃ الكہف سورۃ نمبر 18 آیت نمبر 34 میں اللہ تعالی نے لڑکوں کو دنیا کی زندگی کی زینت فرمایا ہے. سوال یہ ہے کہ لڑکیوں کو دنیا کی زینت کیوں نہیں کہا، اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیاں دنیا کی زینت نہیں ہیں کیونکہ عرف عام میں دنیا کی زینت وہ چیز سمجھی جاتی ہے جو منظر عام پر زینت بخش ہو، اور لڑکیاں ایسی زینت نہیں ہیں کہ کوئی ان کو ساتھ لے کر پھرے اور سب دیکھیں کہ اس کی اتنی لڑکیاں ہیں اور ایسی آراستہ و پیراستہ ہیں بلکہ وہ تو گھر کی زینت ہیں. قرآن پاک میں اللہ تعالی نے عورت کو پردہ کا حکم دے کر اس کو قید نہیں کیا بلکہ پردے کے ذریعہ سے اس کی عزت و عصمت کی حفاظت کا انتظام فرمایا ہے. اور علمائے کرام نے منبر و محراب سے اس حکم کو بیان کیا ہے، اور اس حکم کے سامنے سرتسلیم خم نہ کرنے والوں کو اس کے عواقب اور نتائج بد سے آگاہ کیا ہے. علمائے کرام کی مثال معالج کی سی ہے، معالج کی مہارت پر شک کرنے والا کوئی احمق جاہل ہی ہو سکتا ہے اور اس پر پردہ ڈالنے والا منافق، بلکہ ابلیس
ملاجی آپ کے دلائل نے تو چھکے چھڑا دیے، طوطے اڑا دیے، آج اس مسٹر ہونو لولو کی دانشوری کی ہنڈیا بیچ چوراہے پر پھوٹے گی، وکیل اختر صاحب پرجوش لہجے میں کہتے ہوئے اٹھ کھڑے ہوئے. ارے کہاں اتنی بھی جلدی کیا ہے؟ چائے تو پیتے جائیے، مگر اپنی دھن کا پکا وکیل اختر کہاں رکنے والا ہے، مسٹر ہونو لولو کے چھکے چھڑانے اور طوطے اڑانے کے لیے یہ جا اور وہ جا